Explained with ayahs 200–209
کفر و انکار
تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
سورة الشُّعَرَآء 128
اس فقرے اور اس سے پہلے کے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے سامع کا ذہن تھوڑا سا غور کر کے خود بھر سکتا ہے۔ عذاب کے لیے ان کے جلدی مچانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عذاب کے آنے کا کوئی اندیشہ نہ رکھتے تھے۔ انہیں بھروسا تھا کہ جیسی چین کی بنسری آج تک ہم بجاتے رہے ہیں اسی طرح ہمیشہ بجاتے رہیں گے۔ اسی اعتماد پر وہ رسول اللہ ﷺ کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر واقعی تم خدا کے رسول ہو اور ہم تمہیں جھٹلا کر عذاب الٰہی کے مستحق ہو رہے ہیں تو لو ہم نے تمہیں جھٹلا دیا، اب لے آؤ اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے، اچھا اگر بالفرض ان کا یہ بھروسا صحیح ہی ہو، اگر ان پر فوراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
آیت 207-204)
سوال اظہار تعجب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جو چیز شدنی ہے وہ بہرحال شدنی یہ۔ اگر اس میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کے منی یہ نہیں ہیں کہ اب یہ اس سے مامون ہوگئے۔ اگر ہم نے ان چند سال اور کھانے بلسنے کی مہلت دے دی تو اسے کیا فرق پیدا ہوجائے بالآخر تو ان کو اسی چیز سے سابقہ پیش آنا ہے جس سے ان کو آگاہ کیا جاسکے۔ رہا ہے ! ان کے اندر رسول کی بعثت نے اب یہ فیصلہ کن مرحلہ ان کے سامنے کردیا ہے۔ اس میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو یہ مصلحت الٰہی سے ہو رہی ہے۔ اس تاخیر کے سبب سے اگر یہ اس سے نچنت ہو کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو یہ ان کی بدبختی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
27-1یعنی اگر ہم نے انھیں مہلت دے دیں اور پھر انھیں اپنے عذاب کی گرفت میں لیں، تو کیا دنیا کا مال و متاع ان کے کچھ کام آئے گا ؟ یعنی انھیں عذاب سے بچا سکے گا ؟ نہیں یقینا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
47: اوپر عذاب کا جو ذکر آیا، اس کو سن کر کافر لوگ مذاق اڑانے کے انداز میں یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر عذاب ہونا ہے تو ابھی جلدی ہوجائے۔ یہ آیات اس کا جواب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فوراً کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا، بلکہ اس کے پاس ایسے رہنما بھیجتا ہے جو اسے خبر دار کریں، اور پھر اسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اگر حق کو قبول کرنا چاہے تو کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
افبعذابنا ……یمتعون (208)
ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔
ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
9 یعنی سالہا سال کی ڈھیل اور مہلت بھی جو دی گئی تھی اس وقت کچھ کام نہ آئے گی۔ اس وقت یہ برسوں کی مہلت کا لعدم معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ واقعی بہت ہی جلدی پکڑے گئے۔ (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا) 79 ۔ النازعات :46)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
آیت 207 مَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ”
دنیا کا مال و متاع جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں وہ انہیں اس عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
121 یہ کافروں کے مہلت کے مطالبہ کا دوسرا جواب ہے یعنی ہم نے انھیں دنیا میں سال ہا سال تک مہلت دی تو کیا اس مہلت سے انہوں نے کچھ فائدہ اٹھایا ؟ اور اگر ہم انھیں دوبارہ مہلت دے بھی دیں۔ پھر بھی یہ لوگ اس مہلت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھائیں گے جب بڑی ہوئی مہلت میں ان کا سامان عیش و عشرت ان کے کسی کام نہ آئے گا تو اس سالہا سال تک دی ہوئی مہلت کو وہ بالکل تھوڑی مدت سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ ہم بہت جلد پکڑے لئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
108۔ تو اگر انہیں مہلت مل بھی جائے تو اس سے حاصل کیا ؟ جب عذاب ان پر آنا ہی ہے، اور انہیں ایمان نہ لانا ہی ہے، تو جیسے آج ویسے چند سال بعد، عارضی مہلت والتوا سے کچھ جان تو ان کی بچ نہ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →ثم جآء ہم ما کانوا یوعدون۔ پھر مدت کے بعد ان پر وہ عذاب آٍائے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 206–208
(206 تا 108) اے محمد ﷺ بتائیے تو سہی اگر ہم ان کو چند سال تک ان کے اسی کفر میں رہنے دیں پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ ہے وہ ان کے سر پر آپڑے تو جس مہلت کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ مہلت عذاب الہی کے سامنے ان کے کس کام آسکتی ہے اور جتنے بستی والوں کو ہم نے غارت کیا ہے سب میں عذاب الہی کو یاد دلانے والے اور ڈرانے والے رسول آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ۔۔ : ان کا عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے اور بہت دیر تک زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں، اسی لیے وہ اسے جلدی طلب کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ فرمایا، یہ بتاؤ کہ اگر ہم ان کی توقع کے مطابق کچھ سال انھیں زندہ رہنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دے دیں، پھر ان پر عذاب آئے یا موت ہی آجائے جس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے، تو جتنے سال انھیں زندہ رہنے کا اور زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا رہا وہ عذاب سے بچانے میں ان کے کس کام آئے گا ؟ (دیکھیے بقرہ : 96) وہ گزرا ہوا سارا عرصہ تو ایک ساعت سے زیادہ معلوم نہیں ہوگا۔ (دیکھیے روم :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–209
(افبعذابنا یستعجلون۔۔۔۔۔ )
افبعذابنا یستعجلون مقاتل نے کہا : مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اے محمد ! کب تک آپ ہمیں عذاب کی دعوت دیتے رہیں گے اور اس کو لائیں گے نہیں ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : افبعذابنا یستعجلون۔
افریت ان متعنھم سنین یعنی دنیا میں ہم لطف اندوزہوتے رہیں۔ ضحاک اور دوسرے علماء کے نزدیک مراد اہل مکہ ہیں۔ ثم جاء ھم ما کانو یوعدون عذاب اور ہلاکت جس کی انہیں دھمکی دی جاتی تھی۔ ما اغنی عنھم ماکانوا یمثعون پہلا ما استفہامیہ ہے اس کا معنی تقریر ہے اغنی کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے۔ دوسرا ما محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دوسرا ما نافیہ ہو اس کا کوئی محل اعراب نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَاۗءَهُمْ [ پھر آئے ان کے پاس ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ [ ان سے وعدہ کیا گیا تھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 206–208
اس کے بعد فرمایا (وَمَا اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِِلَّا لَہَا مُنْذِرُوْنَ ذِکْرٰی) (اور ہم نے جتنی بھی بستیاں ہلاک کی ہیں ان سب میں نصیحت کے طور پر ڈرانے والے تھے یعنی قرآن کے مخاطبین سے پہلے بھی امتیں گزری ہیں کسی امت کو تبلیغ اور انذار کے بغیر نہیں ہلاک کیا گیا ان کی طرف ڈرانے والے بھیجے گئے انہوں نے خیر خواہی اور نصیحت کے طور پر خوب اچھی طرح توحید کی دعوت دی حق کو واضح کیا منکرین کو ڈھیل دی گئی ان پر حجت پوری ہوگئی اور ڈھیل دینے سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کو ہلاک کردیا گیا، جو لوگ قرآن مجید کے مخاطب ہیں ان لوگوں پر بھی پوری طرح حق واضح کردیا گیا ہے اور انہیں ڈھیل بھی دی جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن
برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ
قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔
(ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–208
72:۔ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی ہم نے اپنی حجت قائم کرنے سے پہلے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا۔ ہم نے ہر قوم میں دعوت توحید پیش کرنے والے اور ہمارے عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ جب قوم نے مسلسل ان کی تکذیب کی تو ہم نے اس کو ہلاک کردیا۔ ہم نے کسی قوم پر ظلم نہیں کیا اور حجت قائم کرنے سے پہلے کسی قوم کو عذاب نہیں دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
ربط آیات
گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔
اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَاۗءَہُمْ مَّا كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 206ۙ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–210
ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔
تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ اَفَرَئَ یْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰـہُمْ سِنِیْنَ ۔ ثُمَّ جَآئَ ھُمْ مَّا کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ مَآاَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 204 تا 207)
(کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ کیا آپ نے غور کیا کہ اگر ہم ان کو چند سال تک اور بہرہ مند رکھیں۔ پھر ان کے پاس وہی چیز آجائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ تو ان کے کس کام آئے گا جس سے وہ بہرہ مند رکھے گئے تھے۔ )
عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب
قرآن کریم کا اسلوب چونکہ خطابی اسلوب ہے اور قرآن کریم کی آیات خطبے کی صورت میں آپ ﷺ پر نازل ہورہی تھیں جسے آپ ﷺ لوگوں کو پڑھ کے سناتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–210
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔
کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔
شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →206: ثُمَّ جَآئَ ھُمْ مَّاکَانُوْا یُوْعَدُوْنَ (پھر ان کے پاس وہ آچکا جس کا ان سے وعدہ کیا جاچکا) یعنی عذاب۔
Read the full tafseer →206۔ ثم جاء ھم ماکانوایوعدون، اس سے مراد عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
(204 تا 207) جس طرح اور امتوں کے لوگوں نے اپنے انبیاء سے یہ کہا تھا کہ اگر تم سچے نبی ہو تو ہم پر عذاب لے آؤاسی طرح قریش نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اگر یہ قرآن سچ ہو اور ہم اس پر ایمان نہ لانے ہوں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسیں یا اور کوئی عذاب آجاوے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پچھلی امتوں کے سرکش لوگوں پر طرح طرح کے عذاب آجانے اور ان کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر اس آیت میں قریش میں نضربن حارث اور ابوجہل کی عذاب کی دعا کا یہ جواب دیا ہے کہ اب تو دنیا کی فارغ البالی کے سبب سے اترا کے ان لوگوں کو یہ سرکشی سوجھی ہے کہ خواہشیں کر کے عذاب کے دعائیں مانگتے ہیں پہلی امتوں کی طرح دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–208
آیت 204 سے 207
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :) افبعذابنا) ” کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے۔ “ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جاسکتا ہے نہ حقیر جانا جاسکتا ہے (یستعجلون) ” جلدی مچاتے ہیں ؟ “ کسی چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے ؟ جب یہ عذاب نازل ہوجائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں۔۔۔ یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ؟ (افراء یت ان مثعنھم سنین) ” بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کر برسوں فائدے دیتے رہیں۔ “ یعنی کیا آپ نے کچھ غور کیا کہ اگر ہم ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
106 متاع دنیا عذاب الہی کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آسکے گا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیاوی مال و متاع عذاب الہی کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہیں آسکتا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان پر وہ عذاب آجائے گا تو ان کے کچھ کام نہیں آسکے گا وہ سامان عیش جو ان کو دیا جا رہا ہے "۔ سو اس وقت کچھ بھی انکے کام نہیں آسکے گا۔ نہ مال و دولت نہ جاہ و جلال اور نہ ہی پارٹی و اولاد۔ اس لئے ان فانی چیزوں پر فخر کرنے کی بجائے اس عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کرو۔ قبل اس سے کہ فرصت عمر تمام ہوجائے اور وہ عذاب الیم تمہیں آدبوچے جس نے آنے کے بعد پھر ٹلنا نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس سلسلے میں جو ڈھیل تم لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
1 ۔ یعنی کسی کام نہ آئیں گے بلکہ یوں معلوم ہوگا جیسے کبھی لطف اٹھایا ہی نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–208
(26:205) افرأیت۔ کیا تو نے دیکھا۔ بھل اتو نے دیکھا۔ کیا تو نے غور کیا۔ ہمزہ اولیٰ بلفظ استفہام تقریر و تنبیہ کے لئے ہے محض استفہام کے لئے نہیں۔ امام راغب (رح) لکھتے ہیں کہ ارأیت عربی میں اخبرنی (تو مجھے بتا) کے قائم مقام ہے اور اس پر ک داخل ہوتا ہے اور تاء کو تثنیہ جمع اور تانیث میں اسی کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور تغیر و تبدل کاف پر ہوتا ہے تاء پر نہیں ۔ مثلا ارایتک ھذا الذی (17:62) قل ارایتکم (6:40)
متعنھم ماضی جمع متکلم ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ متع یمتع تمیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی سازوسامان دے کر بہرہ مند کیا
سنین : سنۃ کی جمع ۔ کئی سال۔ بھلا بتاؤ تو اگر ہم سالوں ان کو دنیاوی عیش و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 :
روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 :
اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
(ف 2) آگے فرمایا، کیا ہمارے عذاب کے نازل ہونے کی جلدی کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو جس عذاب سے ہم کو ڈراتے ہو اس عذاب کو ہم پر نازل کرادو کبھی کہتے ہیں کہ ہم پر پتھر برسا دے ، اے مخاطب بھلادیکھو تو سہی اگر ہم ان کو چند سال تک عیش میں رہنے دیں پھر جس عذاب کا ان کو خوف دلایاجاتا ہے وہ ان کے سر پر آجائے تو ان کا وہ عیش ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–213
[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–213
سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Read the full tafseer →(206) پھر ان پر وہ عذاب آ پہونچے جس سے ان کو ڈرایاجارہا ہے اور جس کی وعید سنائی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–207
ف 6۔ یعنی یہ عیش جو براہ امہال ہے تخفیف عذاب تک میں تو موثر نہیں، اور عدم عذاب میں تو اس کو کیا دخل ہوتا، پس ان کا یہ استدلال محض لغو ہے۔
Read the full tafseer →اب تو وہ آگیا جس کا انکو وعدہ دیا گیا تھا :
206۔ ان کو رسول ﷺ نے کس چیز سے ڈرایا تھا ؟ عذاب الہی سے جیسا کہ سارے انبیائ کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو ڈرایا لیکن پر امت نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور اس سے مذاقا کہا کہ لے آؤ جس عذاب کی تم ایک مدت سے ہم کو دھمکی دے رہے ہو حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ جس کو آنا ہے اس کو بہرحال آنا ہی ہے اگر ان کو مہلت دی گئی تھی تو اس کو وہ غنیمت جانتے اور بہتر ہوتا کہ اپنی اصلاح کرلیتے اور انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تو بہرحال اس کا وقت آگیا جس کا وہ وعدہ دیئے گئے تھے اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾
So tell me, If We give them enjoyment for years, - 26:205.
There is a hint in this verse that those who are bestowed with long life in this world by Allah Ta’ ala, it is His grace on them. But those who show ingratitude for this grace and do not submit to Islam, to them this respite and grace will not be of any avail. Imam Zuhri (رح) has related that Sayyidna ` Umar ibn ` Abdul Aziz (رح) used to recite this verse every morning by holding his beard and addressing his Self:
نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والرّدیٰ لک لازم
فلا انت فی الایقاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
128 There is a subtle gap between this and the preceding sentence, which the reader himself can fill with a little thinking. They were asking for the torment to be hastened because they were not sure that it would ever come. They were confident that they would continue living a life of ease and indulgence as they had been living till then. On account of the same confidence they challenged the Holy Prophet, as if to say, "If you are a Messenger of Allah, and we deserve to be chastised by Allah because we have treated you as a liar, then you should hasten that torment on us, with which you…
Read the full tafseer →