اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۟اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
So for Our punishment are they impatient?
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz
اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۟اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
So for Our punishment are they impatient?
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟
تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیں،
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔
کیا یہ ہمارا عذاب جلد طلب کرتے ہیں۔
کیا وہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں !
کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟
یہ لوگ ہمارے عذاب (کوسن کر اس) کی کیا جلدی چاہتے ہیں۔
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں۔
Do they really want Our chastisement to be expedited?
Is it then Our punishment that they are trying to hasten up?
Is it then Our punishment that they are trying to hasten up?
Would they then wish for Our torment to be hastened on
Would they (now) hasten on Our doom?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So for Our punishment are they impatient?
Do they want to hasten Our torment?
What! do they still seek to hasten on Our punishment?
Seek haste then they with our torment?
Do they then ask for Our Penalty to be hastened on?
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 200–209
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
سورة الشُّعَرَآء 128 اس فقرے اور اس سے پہلے کے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے سامع کا ذہن تھوڑا سا غور کر کے خود بھر سکتا ہے۔ عذاب کے لیے ان کے جلدی مچانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عذاب کے آنے کا کوئی اندیشہ نہ رکھتے تھے۔ انہیں بھروسا تھا کہ جیسی چین کی بنسری آج تک ہم بجاتے رہے ہیں اسی طرح ہمیشہ بجاتے رہیں گے۔ اسی اعتماد پر وہ رسول اللہ ﷺ کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر واقعی تم خدا کے رسول ہو اور ہم تمہیں جھٹلا کر عذاب الٰہی کے مستحق ہو رہے ہیں تو لو ہم نے تمہیں جھٹلا دیا، اب لے آؤ اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے، اچھا اگر بالفرض ان کا یہ بھروسا صحیح ہی ہو، اگر ان پر فوراً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
آیت 207-204) سوال اظہار تعجب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ جو چیز شدنی ہے وہ بہرحال شدنی یہ۔ اگر اس میں کچھ دیر ہو رہی ہے تو اس کے منی یہ نہیں ہیں کہ اب یہ اس سے مامون ہوگئے۔ اگر ہم نے ان چند سال اور کھانے بلسنے کی مہلت دے دی تو اسے کیا فرق پیدا ہوجائے بالآخر تو ان کو اسی چیز سے سابقہ پیش آنا ہے جس سے ان کو آگاہ کیا جاسکے۔ رہا ہے ! ان کے اندر رسول کی بعثت نے اب یہ فیصلہ کن مرحلہ ان کے سامنے کردیا ہے۔ اس میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو یہ مصلحت الٰہی سے ہو رہی ہے۔ اس تاخیر کے سبب سے اگر یہ اس سے نچنت ہو کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو یہ ان کی بدبختی ہے۔
Read the full tafseer →24-1یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو عذاب لے آ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–206
47: اوپر عذاب کا جو ذکر آیا، اس کو سن کر کافر لوگ مذاق اڑانے کے انداز میں یہ کہتے تھے کہ اگر ہم پر عذاب ہونا ہے تو ابھی جلدی ہوجائے۔ یہ آیات اس کا جواب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے فوراً کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا، بلکہ اس کے پاس ایسے رہنما بھیجتا ہے جو اسے خبر دار کریں، اور پھر اسے مہلت دیتا ہے کہ وہ اگر حق کو قبول کرنا چاہے تو کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
افبعذابنا ……یمتعون (208) ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔ ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
9 یعنی سالہا سال کی ڈھیل اور مہلت بھی جو دی گئی تھی اس وقت کچھ کام نہ آئے گی۔ اس وقت یہ برسوں کی مہلت کا لعدم معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ واقعی بہت ہی جلدی پکڑے گئے۔ (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا) 79 ۔ النازعات :46)
Read the full tafseer →آیت 204 اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ” اِس وقت تو یہ لوگ آپ ﷺ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس سے ہمیں آپ ﷺ ڈراتے ہیں۔ ہم تو آپ کی روز روز کی تنبیہات سے تنگ آگئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–204
120 یعنی آج انھیں مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پھر جب عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت مہلت کا مطالبہ کریں گے۔ حالانکہ نہ ان کا پہلا مطالبہ درست تھا اور نہ دوسرا درست ہوگا اس لئے کہ عذاب الٰہی کے لئے بھی ایک ضابطہ مقرر ہے اس کا دارو مدار کسی کے مطالبہ کرنے یا نہ کرنے پر نہیں ہے۔ پھر جب معین وقت پر عذاب آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی۔ نہ کسی کے مطالبہ پر مزید مہلت مل سکتی ہے۔
Read the full tafseer →107۔ (بہ راہ انکار) کفار معاندین عذاب کی وعیدسن سن کر کہتے ہیں، کہ اگر یہ خبر سچ ہے، تو عذاب آخر آ کیوں نہیں جاتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →افبعذابنا یستعجلون۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے جلد آپہنچنے کے خواستگار ہیں یعنی نزول عذاب کے وقت تو یہ مہلت ملنے کے طلبگار ہوں گے اور اب فوری عذاب کے خواستگار ہیں۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ یہ آیت کافروں کے ان اقوال کی طرف اشارہ ہے جن میں بعض کافروں نے کہا تھا اَنْزِلْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِاءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍاور یوں بھی کہا تھا فاتِنَا بِمَا تُعِدُنَا۔ حقیقت میں کافروں کا عقیدہ تھا کہ عذاب ہرگز نہیں آئے گا اور ہم امن چین اور سلامتی کے ساتھ طویل مدتوں تک چلیں گے اور مزے اڑاتے رہیں گے اسی لئے وہ عذاب آنے کی جلدی مچاتے تھے اور فوری عذاب کے خواستگار بنتے تھے اللہ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–205
(203 تا 105) پھر اس وقت کہیں گے کیا کسی طرح اس عذاب سے ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے اور اس وقت تو یہ لوگ ہمارے عذاب کو جلد لانا چاہتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ افرئیت ان متعنہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابی جہضم سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ پریشان دیکھا تو آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا آپ نے فرمایا میرے دشمن کو کیوں چھپا دیا جو میری امت میں میرے بعد ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی چناچہ آپ خوش ہوگئے۔
Read the full tafseer →اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ : یعنی عذاب آئے گا تو مہلت کا مطالبہ کریں گے اور آج مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں : (فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ الأنفال : 32 ] ”تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔“ کبھی کہتے ہیں : (فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ الشعراء : 187 ] ”سو ہم پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دے۔“ کبھی کہتے ہیں : (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 92 ] ”یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔“ کبھی کہتے ہیں : (وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ یونس : 48 ] ”یہ وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–209
(افبعذابنا یستعجلون۔۔۔۔۔ ) افبعذابنا یستعجلون مقاتل نے کہا : مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اے محمد ! کب تک آپ ہمیں عذاب کی دعوت دیتے رہیں گے اور اس کو لائیں گے نہیں ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : افبعذابنا یستعجلون۔ افریت ان متعنھم سنین یعنی دنیا میں ہم لطف اندوزہوتے رہیں۔ ضحاک اور دوسرے علماء کے نزدیک مراد اہل مکہ ہیں۔ ثم جاء ھم ما کانو یوعدون عذاب اور ہلاکت جس کی انہیں دھمکی دی جاتی تھی۔ ما اغنی عنھم ماکانوا یمثعون پہلا ما استفہامیہ ہے اس کا معنی تقریر ہے اغنی کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے۔ دوسرا ما محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دوسرا ما نافیہ ہو اس کا کوئی محل اعراب نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →اَفَبِعَذَابِنَا [ تو کیا ہمارے عذاب کی ] يَسْتَعْجِلُوْنَ [ یہ لوگ جلدی مچاتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–204
پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–204
ٖف 71:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے یعنی یہ ظالم ایک طرف تو مطالبہ کرتے ہیں کہ عذاب جلدی آئے اور دوسری طرف جب عذاب آجاتا ہے تو پھر مہلت مانگتے ہیں۔ ” افرایت ان متعنہم “ تا ” ما کانوا یمتعون “ یہ مشرکین کے عناد و مکابرہ کی مزید و ضاحت ہے نیز یہ بتانا مقصود ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر عمر میں اضافہ انہیں عذاب خداوندی سے ہرگز نہیں بچا سکے گا۔ یعنی اگر ہم ان کو سالہا سال مزید مہلت دیدیں اور وہ عیش و عشرت کے مزے لے لیں۔ اس کے بعد ان کے مسلسل کفر و شرک کی وجہ سے موعود عذاب آجائے تو اس مہلت سے انہیں کیا فائدہ پہنچے گا۔ نہ وہ ضد وعناد کی وجہ سے کفر و انکار سے باز آئیں گے، نہ خدا کا عذاب ان سے ٹل سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…
Read the full tafseer →اَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُوْنَ 204 عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–210
ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔ تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ۔ اَفَرَئَ یْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰـہُمْ سِنِیْنَ ۔ ثُمَّ جَآئَ ھُمْ مَّا کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ مَآاَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 204 تا 207) (کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ کیا آپ نے غور کیا کہ اگر ہم ان کو چند سال تک اور بہرہ مند رکھیں۔ پھر ان کے پاس وہی چیز آجائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ تو ان کے کس کام آئے گا جس سے وہ بہرہ مند رکھے گئے تھے۔ ) عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب قرآن کریم کا اسلوب چونکہ خطابی اسلوب ہے اور قرآن کریم کی آیات خطبے کی صورت میں آپ ﷺ پر نازل ہورہی تھیں جسے آپ ﷺ لوگوں کو پڑھ کے سناتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–210
فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔ کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔ شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →204: اَفَبِعَذَ ابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ (کیا وہ ہمارے عذاب کو جلدی مانگتے ہیں) اس میں ان کو توبیخ ہے اور ان کی بات کا انکار کیا گیا ہے جو انہوں نے کہی۔ فَاَمْطِرْ علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔] الانفال : 32[ اور اسی طرح دیگر آیات۔ بڑا غافل ‘ یحییٰ بن معاذ کا قول : لوگوں میں سب سے بڑا غافل وہ ہے جو اپنی زندگی پر مغرور ہے اور اپنی مالوفات سے اس کو سکون ملتا اور اپنے مراد پالینے سے لذت میسر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–204
203۔ فیقولوا ھل نحن منظرون، توہم ان پر ایمان لے آتے اور ان کی تصدیق کرتے تو وہ واپس لوٹنے کی تمنا کرتے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ جب اللہ نے اپنے رسول کی زبانی کافروں کو عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے کب تک عذاب سے ڈراتے رہو گے آخر عذاب کب آئے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
(204 تا 207) جس طرح اور امتوں کے لوگوں نے اپنے انبیاء سے یہ کہا تھا کہ اگر تم سچے نبی ہو تو ہم پر عذاب لے آؤاسی طرح قریش نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اگر یہ قرآن سچ ہو اور ہم اس پر ایمان نہ لانے ہوں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسیں یا اور کوئی عذاب آجاوے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پچھلی امتوں کے سرکش لوگوں پر طرح طرح کے عذاب آجانے اور ان کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر اس آیت میں قریش میں نضربن حارث اور ابوجہل کی عذاب کی دعا کا یہ جواب دیا ہے کہ اب تو دنیا کی فارغ البالی کے سبب سے اترا کے ان لوگوں کو یہ سرکشی سوجھی ہے کہ خواہشیں کر کے عذاب کے دعائیں مانگتے ہیں پہلی امتوں کی طرح دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–208
آیت 204 سے 207 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :) افبعذابنا) ” کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے۔ “ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جاسکتا ہے نہ حقیر جانا جاسکتا ہے (یستعجلون) ” جلدی مچاتے ہیں ؟ “ کسی چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے ؟ جب یہ عذاب نازل ہوجائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں۔۔۔ یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ؟ (افراء یت ان مثعنھم سنین) ” بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کر برسوں فائدے دیتے رہیں۔ “ یعنی کیا آپ نے کچھ غور کیا کہ اگر ہم ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →105 عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہامیہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کیلئے جلدی مچاتے ہیں ؟ "۔ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا ۔ { رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْل یَوْمِ الْحِسَابِ } ۔ (صٓ: 15) ۔ سو ایسا کرنا ان کی حماقت اور بدبختی ہے کہ یہ عافیت کی بجائے عذاب مانگ رہے ہیں۔ اور وہ عذاب ان پر اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گا۔ اور جب آجائیگا تو پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اس کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں۔ بہرکیف ایسے غافل اور بدبخت لوگوں کی تنبیہ و تذکیر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–204
9 ۔ حالانکہ جب وہ آئے گا تو مہلت کے طلب گارہوں گے اور اپنی کوتاہیوں کا تدارک کرنے کے لئے دنیا کی طرف مراجعت کی تمنا کریں گے۔ (شوکانی) حاشیہ صفحہ ہذا۔
Read the full tafseer →(26:204) افبعذابنا یستعجلون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے استعجال (استفعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے وہ جلدی مانگتے ہیں ۔ یعنی اب جو ان کو کفر وشرک پر عذاب الیم سے ڈرایا جا رہا ہے تو کبھی کہتے ہیں کہ یہ یوں ہی پچھلوں کی سی باتیں اور ڈراوے ہیں ان میں حقیقت نہیں اور بار بار اپنے رسولوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہارا یہ ڈراوا صحیح ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں لے آتے (اس کا قرآن حکیم میں اور اسی سورة میں بار بار ذکر ہے) اب ان کا یہ حال ہو رہا ہے کہ عذاب کو دیکھتے ہی پکار اٹھے ہیں کہ کیا کوئی مہلت کی صورت نکل سکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
(ف 2) آگے فرمایا، کیا ہمارے عذاب کے نازل ہونے کی جلدی کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو جس عذاب سے ہم کو ڈراتے ہو اس عذاب کو ہم پر نازل کرادو کبھی کہتے ہیں کہ ہم پر پتھر برسا دے ، اے مخاطب بھلادیکھو تو سہی اگر ہم ان کو چند سال تک عیش میں رہنے دیں پھر جس عذاب کا ان کو خوف دلایاجاتا ہے وہ ان کے سر پر آجائے تو ان کا وہ عیش ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–213
[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–213
سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Read the full tafseer →(204) کیا لوگ ہمارے عذاب کے وقوع کو جلدی چاہتے اور جلدی طلب کرتے یعنی چونکہ عذاب کی وعید کو جھوٹا اور غلط سمجھتے ہیں اس لئے بطور انکار کہتے ہیں فاتنا بما تعدنا جس چیز کا ڈراوا دیتا ہے اس کو لے آ آگے مہلت نہ دینے کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی باوجود قیام دلائل صدق کے پھر بھی انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ لوگ تو ہمارے عذاب کیلئے جلدی مچا رہے تھے : 204۔ یہ لپیٹ میں لے لیے جانے والے کون لوگ تھے ؟ فرمایا یہ وہی تو تھے جن کو بڑی جلدی تھی اور آن ہوں نے شورغوغا مچا رکھا تھا اور ہمارے رسو سے عذاب عذاب کے تقاضے جاری تھے کیا اب ان کو پتہ چلا ہے کہ دیکھنا اور سننا دونوں کبھی برابر نہیں ہوتے ، کیا اب بارہ بج چکنے کے بعد ان کو ہوش آیا ہے ہاں ! اب ہماری گرفت کا قلم چل چکا اور ہمارے وعدہ کا وقت آپہنچا اور یہ بات پہلے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہم نہ وعدہ کا خلاف کرتے ہیں اور نہ ہی ہونے دیتے ہیں اس لئے اب تو انکو اپنے کئے جانے پر صبر ہی کرنا ہے لیکن اگر صبر نہیں کریں گے تو کیا ہوگا یہی کہ چیخیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–207
128 There is a subtle gap between this and the preceding sentence, which the reader himself can fill with a little thinking. They were asking for the torment to be hastened because they were not sure that it would ever come. They were confident that they would continue living a life of ease and indulgence as they had been living till then. On account of the same confidence they challenged the Holy Prophet, as if to say, "If you are a Messenger of Allah, and we deserve to be chastised by Allah because we have treated you as a liar, then you should hasten that torment on us, with which you…
Read the full tafseer →