Ash-Shu'araa 26:202

Ash-Shu'araa · from ayah 202

26:202

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟ۙفَيَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَۙ‏

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it will come to them suddenly while they perceive [it] not.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:202

پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس وه عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ ان کے پاس اس طرح اچانک آکھڑا ہو کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ اچانک ان پر آجائے گا اور انہیں خبر نہ ہوگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس وہ ان پر اچانک آپڑے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اچانک ان پر دردناک عذاب آجائے گا اور انھیں خبر تک نہ ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس وہ ان پر اچانک آدھمکے گا اور وہ اس سے باخبر نہ ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو وہ ان پر ایسے اچانک آپڑے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی،

— مولانا اسحاق مدنی

جو اچانک ان کے سامنے آکھڑا ہوگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو وہ ان پر اچانک آجائے گا اور انہیں گمان بھی نہیں ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ ان پر ناگہاں آواقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when it comes upon them suddenly, taking them unawares,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and it will come to them suddenly while they will not be anticipating (it),

— Muhammad Taqi Usmani

and it will come to them suddenly while they will not be anticipating (it),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It shall come to them of a sudden, while they perceive it not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So that it will come upon them suddenly, when they perceive not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it will come to them suddenly while they perceive [it] not.

— Saheeh International

The torment will strike them suddenly without their knowledge.

— Muhammad Sarwar

And it shall come to them all of a sudden, while they shall not perceive;

— Muhammad Habib Shakir

It shall come unto them on a sudden, and they shall not perceive.

— Abdul Majid Daryabadi

But the (Penalty) will come to them of a sudden, while they perceive it not;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:202

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 200–209

کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 202–203

سورة الشُّعَرَآء 127 یعنی عذاب سامنے دیکھ کر ہی مجرموں کو یقین آیا کرتا ہے کہ واقعی پیغمبر نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ ہاتھ مل مل کر کہتے ہیں کہ کاش اب ہمیں کچھ مہلت مل جائے، حالانکہ مہلت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 193–204

معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 200–203

آیت 203-200) سلک کے معنی کسی چیز کو کسی چیز کے اندر داخل کرنے کے بھی آتے ہیں۔ یہاں یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مخالفین قرآن کی اصل بیماری یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ قرآن سے جو بدک رہے ہیں اس کا سبب قرآن کی کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں کی خرابی ہے۔ مسلسل مجرمانہ زندگی بسر کرنے کے سبب سے ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر اب کوئی صحیح چیز قبول کرنے کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہ گئی۔ ایک غلط روش پر پختہ ہوجانے کے باعث ان کے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے قرآن کی سیدھی باتیں ان کے دلوں کو چیری ہوئی داخل ہوتی ہیں اور ان کی طبیعتیں اس کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ جس کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 201–203

23-1لیکن مشاہدہ عذاب کے بعد مہلت نہیں دی جاتی، نہ اس وقت کی توبہ ہی مقبول ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 200–203

46: مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم اگرچہ ہدایت کی کتاب ہے اور جو لوگ حق کے طلب گار ہوں، ان کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی ہدایت کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے ضد کا راستہ اپنا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کے دلوں میں قرآن اس طرح داخل کرتے ہیں کہ اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 202–203

فیقولوا ھل نحن منظرون (204) یعنی کیا ہمیں دنیا میں ایک اور مہلت دے دی جائے گی تاکہ ہم اصلاح کرسکیں۔ اے کاش کہ ایسا ہوجائے۔ کفار مکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ تم جو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو اور اس کے قصے سناتے ہو ، لائو وہ عذاب کہ دیکھیں یہ مذہب کا مذاق اڑاتے تھے کیا یہ لوگ اس قدر بےباک اور مغرور ہوگئے ہیں اس لئے کہ یہ خوشحال ہیں۔ عیاشیوں نے ان کو غبی بنا دیا ہے اور یہ خدا کے عذاب کو بعید الوقوع قرار دیتے ہیں۔ ان کی حالت ہمیشہ کے کھاتے پیتے لوگوں کی سی ہے۔ ایسے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہ حالات کے بدلنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ یہاں ان کو ایسی غفلت سے جگایا جاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 202–203

8 یعنی جب عذاب الٰہی ایک دم سر پر پہنچ جائے گا اس وقت کہیں گے کیا ہمیں تھوڑی سی مہلت دی جاسکتی ہے کہ اب توبہ کر کے اپنا چال چلن درست کرلیں اور پیغمبروں کا اتباع کر کے دکھلائیں۔ دنیا میں تو عذاب کی جلدی مچا رہے تھے اب مہلت طلب کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 201–203

آیت 203 فَیَقُوْلُوْا ہَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ” اس وقت یہ دہائی دیں گے کہ کسی طریقے سے وہ عذاب ٹل جائے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دی جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 202–204

120 یعنی آج انھیں مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پھر جب عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت مہلت کا مطالبہ کریں گے۔ حالانکہ نہ ان کا پہلا مطالبہ درست تھا اور نہ دوسرا درست ہوگا اس لئے کہ عذاب الٰہی کے لئے بھی ایک ضابطہ مقرر ہے اس کا دارو مدار کسی کے مطالبہ کرنے یا نہ کرنے پر نہیں ہے۔ پھر جب معین وقت پر عذاب آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی۔ نہ کسی کے مطالبہ پر مزید مہلت مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فیاتیہم بغتۃ وہم لا یشعرون۔ پھر ان پر عذاب اچانک آجائے گا اور ان کو احساس بھی نہ ہو پائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 201–202

(201۔ 102) یہ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ سخت عذاب کو نہ دیکھ لیں جو اچانک ان کے سامنے آکھڑا ہوگا اور پہلے سے ان کو نزول عذاب کی خبر بھی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 202–203

فَيَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔۔ : یعنی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک وہ ”عذاب الیم“ کو دیکھ لیں، جو ان پر اچانک آئے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں، پھر وہ یہ کہیں کہ کیا ہم مہلت دیے جانے والے ہیں کہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں، مگر اس وقت مہلت نہیں ملے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 198–203

ولو نزلنہ علی بعض الا عجین ایسے آدمی پر جو عربی زبان والا نہیں۔ فقراہ علیھم، لغت عرب کے بغیر ان پر پڑھتا تو وہ ایمان نہ لاتے اور کہتے ہم اسے سمجھے ہی نہیں۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا “ (فصلت : 44) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم اسے غیر عربی آدمی پر بھیجتے تو تکبر کی وجہ سے وہ ایمان نہ لاتا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ رجل اعجمی واعجم۔ جب وہ فصیح نہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو۔ رجل عجمی اگرچہ فصیح ہو اسے اپنے اصل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر فراء نے اجازت دی ہے کہ یہ کہا جائے : رجل عجمی یہ اعجمی کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری نے علی بعض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَيَاْتِيَهُمْ [ نتیجتاً وہ پہنچے گا ان کے پاس ] بَغْتَةً [ اچانک ] وَّهُمْ [ اس حال میں کہ وہ ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہ رکھتے ہوں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 194–204

پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 201–204

ٖف 71:۔ یہ مشرکین پر زجر ہے یعنی یہ ظالم ایک طرف تو مطالبہ کرتے ہیں کہ عذاب جلدی آئے اور دوسری طرف جب عذاب آجاتا ہے تو پھر مہلت مانگتے ہیں۔ ” افرایت ان متعنہم “ تا ” ما کانوا یمتعون “ یہ مشرکین کے عناد و مکابرہ کی مزید و ضاحت ہے نیز یہ بتانا مقصود ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بغیر عمر میں اضافہ انہیں عذاب خداوندی سے ہرگز نہیں بچا سکے گا۔ یعنی اگر ہم ان کو سالہا سال مزید مہلت دیدیں اور وہ عیش و عشرت کے مزے لے لیں۔ اس کے بعد ان کے مسلسل کفر و شرک کی وجہ سے موعود عذاب آجائے تو اس مہلت سے انہیں کیا فائدہ پہنچے گا۔ نہ وہ ضد وعناد کی وجہ سے کفر و انکار سے باز آئیں گے، نہ خدا کا عذاب ان سے ٹل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَيَاْتِيَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝ 202ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے بغت البَغْت : مفاجأة الشیء من حيث لا يحتسب . قال تعالی: لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187] ، وقال : بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً [ الأنبیاء/ 40] ، وقال : تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107] ( ب غ ت) البغت ( ف) کے معنی کسی چیز کا یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 199–210

ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔ تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 200–203

کَذٰلِکَ سَلَکْنٰـہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ حَتّٰی بَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ فَیَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَیَقُوْلُوْا ھَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 200 تا 203) (ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح گزارتے ہیں۔ یہ اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ پس وہ ان پر اچانک آدھمکے گا اور وہ اس سے بیخبر ہوں گے۔ اس وقت کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔ ) قرآن کریم کی دعوت قبول نہ کرنے کا سبب قرآن کریم کی حقانیت، فہم و افہام کے لیے اس کی سہولت، پہلی آسمانی کتابوں اور علماء بنی اسرائیل کی شہادت کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 199–202

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قرآن جس عذاب کا انتظار یا مطالبہ کرتے ہیں وہ عنقریب ان پر نازل ہوگا۔ منکرین قرآن ایمان لانے کی بجائے نبی کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے رہتے ہو وہ اب تک ہم پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ اس کے انھیں کئی جواب دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اچانک اور ایسے وقت تم پر نازل ہوگا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس وقت تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ تم پکار پکار کر کہہ رہے ہو گے کہ کاش ہمیں مہلت دی گئی ہوتی۔ کیا اس عذاب کے بارے میں تم جلدی کا مظاہرہ کرتے ہو ؟ اے نبی ! غور فرمائیں کہ اگر ہم انھیں مدت مدید مہلت دیئے جائیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

202: فَیَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً (پس وہ عذاب ان پر اچانک آجائے گا) ۔ وَّھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو اس کی آمد کا شعور بھی نہ ہوگا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

202۔ فیاتیھم، آئے گا ان پر عذاب، بغۃ، اچانک۔ وھم لایشعرون، دنیا میں وہ نہیں جانیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 201–203

104 منکروں کی حسرت اور بےوقت کی آرزو کا ذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " ان لوگوں نے چونکہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی سے اپنی فطرت کو مسخ کردیا ہے۔ اس لیے اب یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے "۔ یہاں تک کہ یہ اس دردناک عذاب کو دیکھ لیں جو بالآخر ایسے ہٹ دھرموں پر آ کر رہتا ہے۔ تو اس وقت یہ لوگ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ کیا ہمیں کوئی مہلت مل سکتی ہے تاکہ ہم اپنی اپنی اصلاح کرلیں۔ مگر اس وقت ایسی کوئی مہلت کہاں اور کیونکر ؟ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ہوگا۔ اور یہ لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔ جس سے گلو خلاصی اور رہائی کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ اور یہی ہے سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 201–204

9 ۔ حالانکہ جب وہ آئے گا تو مہلت کے طلب گارہوں گے اور اپنی کوتاہیوں کا تدارک کرنے کے لئے دنیا کی طرف مراجعت کی تمنا کریں گے۔ (شوکانی) حاشیہ صفحہ ہذا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:202) فیاتیہم : یاتی مضارع واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان پر آجائے یاتی میں ضمیر فاعل کا مرجع العذاب الالیم ہے (آیۃ 201) سو وہ عذاب الیم ان پر اچانک آجائے گا۔عطف کے لئے ہے اور یاتی کا عطف یروا پر ہے اور اس عمل کی وجہ سے منصوب ہے۔ بغتۃ۔ اچانک ، ایک دم ۔ یکایک۔ لا یشعرون مضارع منفی جمع مذکر غائب شعور مصدر (باب نصر) وہ شعور نہیں رکھتے ۔ وہ سمجھ نہیں پاتے۔ یعنی ان کو اس کے آنے کی خبر تک بھی نہ ہوگی !

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 200–203

مشرکین کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اسی طرح کے جھٹلانے پر مجرموں کے دل سخت ہوگئے ہیں اس لیے یہ لوگ حق بات کو اس وقت تک نہیں مانتے جب تک کہ سخت عذاب کو نہ دیکھ لیں اور جب دیکھ لیں گے عذاب ان پر اچانک آجائے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی، پھر اس وقت کہیں گے کہ اگر تھوری سی بھی مہلت دی جاوے تو ہم اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری اور بندگی کرلیں لیکن ان کا بےوقت پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے ایسے بےبسی کے وقت وہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا، چناچہ سورة یونس میں گزر چکا ہے کہ ڈوبنے کے وقت فرعون نے راہ راست پر آنے کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 201–213

[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 200–213

سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! عذاب بھی ان پر اچانک آجائے گا ان کو خبر بھی نہ ہوگی : 202۔ بلاشبہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک کام کرتا ہے اور اس کے نتیجہ سے وہ بالکل غافل ہوتا ہے لیکن وہی کام جب وہ کرلیتا ہے اور اس کے نتیجہ کو دیکھتا ہے تو اپنا ہی منہ سر پیٹ کر رہ جاتا ہے لیکن اس وقت جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو چکتا ہے اس کی بیسیوں مثالیں انسان اپنی زندگی میں تلاش کرسکتا ہے اور اگر چاہے تو پھر اپنی ہی غلطیوں سے اپنی اصلاح بھی کرسکتا ہے لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے ، اب غور کرو کہ مکہ والوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ جس کو ہم مکہ سے نکال رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 193–204

Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 202–203

127 That is, "Until the criminals are actually overtaken by the torment, they do not believe in the Prophet. Then they feel remorse and desire to be given some respite when it is too late. "

Read the full tafseer →