Explained with ayahs 176–180
شیعب ؑ
یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
سورة الشُّعَرَآء 116
یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–181
خلاصہ تفسیر
اصحاب الائیکہ نے (بھی جن کا ذکر سورة حجر کے اخیر میں گزر چکا ہے) پیغمبروں کو جھٹلایا، جبکہ ان سے شعیب ؑ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے تم لوگ پورا ناپا کرو اور (صاحب حق کا) نقصان مت کیا کرو اور (اسی طرح تولنے کی چیزوں میں) سیدھی ترازو سے تولا کرو (یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو نہ باٹوں میں فرق کیا کرو) اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور سر زمین میں فساد مت مچایا کرو اور اس (خدائے قادر) سے ڈرو جس نے تم کو اور تمام اگلی…
Read the full tafseer →یہ آیات اوپر کی سرگزشت میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی ہر جزو کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
181-1یعنی جب تم لوگوں کو ناپ کردو تو اسی طرح پورا دو ، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کرلیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
38: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف : 85 تا 93 میں گذر گیا ہے۔ تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
درس نمبر 168 تشریح آیات
176……تا……191
کذب اصحب……رب العلمین (180)
یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔
ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
3 یعنی معاملات میں خیانت اور بےانصافی مت کرو جس طرح لینے کے وقت پورا ناپ تول کرلیتے ہو دیتے وقت بھی پورا ناپ تول کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–181
106 حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دو تجارتی شاہراہوں کے تقاطع یا چوک پر آباد تھی۔ لہذا یہ پورے کا پورا علاقہ بڑا بھاری تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ شرک اور دوسری اخلاقیوں کے علاوہ ان میں جو سب سے بڑا مرض تھا وہ تجارتی ہیرا پھیری کرنا تھا۔ ناپ تول میں ایسے استاد تھے کہ بھلے بھلوں کے کان کتر دیتے تھے۔ تولتے اس طرح تھے کہ گاہک خواہ سو دفعہ ترازو دیکھتا رہے۔ یہ اس کے دیکھتے دیکھتے ہیں تیسرا یا چوتھا حصہ اس کا حق مار جاتے اور جب تول کر یا ناپ کردینا پڑتا تو ایسی ہی ہاتھ کی صفائی دکھاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
95۔ (یعنی نہ ڈنڈی مارا کرو، نہ تولنے کے بانٹوں میں گڑبڑ کیا کرو) ہدایات قرآنی کی مخاطب یہ کوئی زراعت پیشہ، تجارت پیشہ قوم تھی۔ کاروباری بداخلاقی، بددیانتی، خیانت میں مبتلا، تعلیم انہیں تجارتی اخلاقی وستائستگی کی دی جارہی ہے۔ حاشیے سورة الاعراف پ 8 وسورۃ الحجرپ 14 وسورۂ ہود پ 12 میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت نمبر 176 تا 191
ترجمہ : ایکہ والوں نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی ایک قرأۃ میں حذف ہمزہ اور اس کی حرکت لام کو دینے اور ۃ کے فتحہ کے ساتھ ہے وہ (ایکہ) مدین کے قریب درختوں کی جھاڑی تھی جبکہ ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا (یہاں) اخوہم نہیں کہا اس لئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان میں سے نہیں تھے کیا تم کو خوف نہیں ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ بس پروردگار عالم پر ہے، ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شامل نہ ہو صحیح ترازو سے تولا کرو، ایسی ترازو جس میں پاسنگ نہ ہو لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو یعنی ان کے حق میں سے…
Read the full tafseer →وما اسلئکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ اور میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔ اللہ نے تمام انبیاء کی تبلیغ اور طرز تبلیغ کو ایک ہی عبارت میں نقل کیا کیونکہ سب نے ہی اللہ سے ڈرنے اس کی اطاعت کرنے اور اس کی عبادت میں شرک نہ کرنے کا حکم دیا سب ہی نے تبلیغ رسالت کا معاوضہ طلب نہ کرنے کا اظہار کیا اور سب نے ہی اپنی دعوت کا ثواب اللہ کے ذمہ قرار دیا۔ اسی لئے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا
اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِّیِیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ (یعنی وحی کے ذریعہ سے ہم نے جس طرح اور جو احکام نوح کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
(178 تا 180) میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور کفر سے توبہ کرو اور ایمان لاؤ اور میرا کہنا مانو میں تم سے اس بات پر کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–180
3 ان آیات کی تفسیر اسی سورت کی آیات (107 تا 109) کے تحت گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(کذب اصحب لیکۃ المرسلین۔۔۔۔۔۔۔ )
کذب اصحب لیکۃ المرسلین الایک، سے مراد گھنے کثیر درخت۔ اس کا واحد یکہ ہے۔ جس نے اصحاب الایکہ قرأت کی تو یہی غیضہ ہے اور جس نے لیکۃ پڑھا ہے تو یہ بستی کا نام ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : بکہ اور مکہ کی مثل ہے : یہ جوہری کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : ابو جعفر اور نافع نے کذب اصحاب لیکۃ المرسلین قرأت کی۔ اسی طرح سورة ص میں قرأت ہے سورة الحجر میں قراء نے جر پر اتفاق کیا ہے۔ سورة ق میں جو ہے اس میں ضروری ہے کہ مختلف کو متفق علیہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ معنی ایک ہی ہے۔ ابو عبیدہ نے جو حکایت بیان کی ہے کہ لی کہ اس بستی کا نام ہے جس میں وہ رہائش پذیر تھے اور ایکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” لی کہ “ سے مراد ہے ” الایکۃ “
2۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” کذب اصحب الئیکۃ المرسلین، کے بارے میں روایت کیا یہ لوغ غیضہ والے تھے سمندر کے ساحل سے مدین تک رہائش پذیر تھے اور تحقیق ہلاک کیے گئے ان برے اعمال کی وجہ سے و وہ کرتے تھے اور ایکہ والے شرک کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مدین والوں کے طریقے اپنا لیے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آیت ” انی لکم رسول امین، فاتقوا اللہ واطیعون، (یعنی میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈروا اور میری اطاعت کرو آیت ” وما اسئلکم “ (یعنی میں تم سے اجر طلب نہیں کرتا اس چیز پر کہ جس…
Read the full tafseer →وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ اور میں نہیں مانگتا تم سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ ۚ [ کوئی بھی اجرت ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میری اجرت ] اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ مگر تمام جہانوں کے رب پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–193
قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–181
64:۔ شرکم کے علاوہ ان لوگوں میں ایک خرابی یہ تھی کہ وہ ناپ تول میں بد دیانتی کرتے تھے۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ناپ درست رکھو اور کم ناپ کر لوگوں کی حق تلفی نہ کرو۔ ” و زنو بالقسطاس الخ “ اور صحیح ترازو سے تولا کرو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پیمانے اور باٹ کم و بیش مقدار کے بنا رکھے تھے۔ لیتے وقت زیادہ مقدار والے پیمانے اور باٹ استعمال کرتے اور دیتے وقت کم مقدار والے۔” ولا تبخسوا الناس الخ “ اس طرح بد دیانتی سے لوگوں کے حقوق غصب نہ کرو۔ ” ولا تعثوا فی الارض مفسدین “ اور قتل و غارت اور ڈکیتی سے ملک میں بد امنی اور بےچینی نہ پھیلاؤ۔ ” واتقوا اللہ الذی خلقکم الخ “ اس اللہ سے ڈرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
حضرت شعیب (علیہ السلام)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان…
Read the full tafseer →وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ 0ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 1 80ۭ
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
2 ؎ یوم الظلۃ ابر کے نمودار ہونے کے دن کو کہتے ہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–180
اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
(الشعرآء : 177 تا 180)
(یاد کرو جب شعیب (علیہ السلام) نے تم سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ )
یہ آیات اوپر انبیائے کرام کی سرگزشتوں میں گزر چکی ہیں اور وہاں ان کی وضاحت ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔
شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔
قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی…
Read the full tafseer →180: وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میر امعاوضہ تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے) ۔
Read the full tafseer →180۔ ومااسئلکم علیہ من اجر ان اجری الاعلی رب العالمین، حضرات انبیاء کرام کی دعوت کے متعلق جو بیان کیا گیا ان سب کو صیغہ واحد کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب انبیاء تقوی کی تعلیم دینے پر متفق تھے اور اسی طرح طاعات عبادت میں اخلاس اور دعوت و تبلیغ اور رسالت کی انجام دہی پر اجرت لینے کی ممانعت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیت 176 سے 191
(اصحب لئیکۃ) یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انہوں نے اپنے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ شعیب (علیہ السلام) بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء ومرسلین لے کر آئے تھے۔ (اذ قال لھم شعیب الاتتقون) ” جب شعیب نے انہیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑدو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ اور اس پر یہ چیز مرتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔
اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–184
88 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت شعیب نے ان سے فرمایا " اور ڈرو تم لوگ اس سے جس نے پیدا فرمایا تم کو بھی اور پہلوں کو بھی "۔ یہ چیز بیک وقت اس کی عظیم الشان نعمت کی دلیل بھی ہے اور بےمثال قدرت کی نشانی بھی۔ اس لئے اس سے تم لوگ اس کی وحدانیت کی دلیل بھی پکڑو اور دل و جان سے اس کا شکر بھی ادا کرو کہ حقِّ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔ جبکہ کفران نعمت عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لِشَدِیْد } ۔ (ابراہیم :7) ۔ نیز اس سے حضرت شعیب نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
آیات 176 تا 191
اسرار و معارف
بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–185
6 ۔ اس لئے تیری عقل ماری گئی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–180
(26:176) اصحب الئیکۃ۔ اہل ایکہ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 176–191
لغات القرآن : آیت نمبر 176 تا 191 :
اصحاب الایکۃ (بن والے۔ جنگل والے) ‘ اوفوا (تم پورا کرو) الکیل (ماپ تول۔ پیمانہ) المخسرین (نقصان دینے والے) ‘ وزنوا (تم وزن کرو) ‘ القسطاس (ترازو) ‘ لا تبخسوا (تم نہ گھٹائو) ‘ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ‘ مفسدین (فساد کرنے والے) ‘ الجبلۃ (مخلوق) ‘ اسقط (گرادے) ‘ کسفا (ٹکڑے ٹکڑے) ‘ یوم الظلۃ (سائبان والا۔ چھتری والا (دن) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 176 تا 191 :
جب کوئی قوم ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ سرکشی اور نافرمانی کو اپنا مزاج بنا لیتی ہے تو اس میں یہ احساس مٹ جاتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ‘ ناقابل اعتبار اور غلط بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کررہی ہے۔ اس کو ہر وہ شخص سخت ناگوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 180–191
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے لوگ درختوں کی پوجا کرتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم لوگ ٹھیک ٹھیک ناپا کرو، اور لوگوں کو نقصان مت دیا کرو اور اسی طرح تولنے کی چیزوں میں سیدھی ترازو سے تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، اور اللہ سے کہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمام اگلی مخلوق کو پیدا کیا اس سے ڈرو، اور اس کی رضامندی حاصل کرنے میں دوسرے کی پرواہ نہ کرنی چاہیے سب انبیاء اس ہی امر کی تاکید کرتے چلے آئے اور اسی کے نہ ماننے سے مخلوق پر عذاب الٰہی نازل ہوتے رہے حضرت شعیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–189
[29] کیونکہ ایکہ والوں نے آسمانی عذاب مانگا تھا اس لئے عذاب کے وقت ایک ابرنمودار ہوا جس میں سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ گرمی پہلے سے مسلط تھی اس لئے لوگ ٹھنڈی ہوا کے شوق میں ابر کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس وقت ابر میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل کر مرگئے۔ واضح رہے کہ شعیب (علیہ السلام) مدین کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ایکہ کی طرف بھی۔ دونوں قوموں پر عذاب دو مختلف شکلوں میں آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–181
ف 1: معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب ایکہ بادیہ پیما لوگ تھے اور ان کا کوئی مستقل مسکن نہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان کو اصحاب ایکہ سے موسوم کیا گیا ۔ ایکہ کے معنے درختوں کے اجتماع اور جھنڈ کے ہوتے ہیں ۔
دوسرے قصوں اور اس میں ایک بات امتیاز کی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ان سب قصوں میں پیغمبروں کو ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ جیسے اخوھم نوح اخوھم ھوداخوھم صالح ۔ اخوھم لوط ۔ مگر اس قصے میں کہا گیا ہے ۔ اذ قال لھم شعیب ۔ جس کی وجہ مفسرین نے یہ بیان کی ہے ۔ کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) قومیت کے اعتبار سے ان لوگوں میں سے نہیں تھے ۔ مگر اس سے زیادہ موزوں اور دقیق وجہ یہ ہے کہ اصل میں انبیاء کو اخوان قوم باعتبار…
Read the full tafseer →(18) اور میں تم سے اس رسالت کی تبلیغ پر کوئی مزدوری اور اجرت طلب نہیں کرتا میرا صلہ اور میرا اجر تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے یعنی جب دنیوی لالچ بھی کوئی نہیں ہے تب تو سمجھو کہ جو کہتا ہوں تمہارے بھلے کو کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–182
ف 3۔ یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو، اور نہ باٹوں میں فرق کیا کرو۔
Read the full tafseer →حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے :
180۔ جیسا کہ پیچھے سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے حالات میں آپ پڑھتے آرہے ہیں کہ ہر نبی ورسول نے یہ اعلان کیا کہ اس پیغام کے بدلہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بدستور اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں اپنے مقدور بھر تمہاری اصلاح کی سعی کروں اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی صداقت اور سچائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت اور دلیل بھی پیش کر رہا ہوں مگر افسوس کہ تم اس واضح حجت کو دیکھ کر بھی سرکشی ونافرمانی پر قائم ہو اور مخالفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–181
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
and subjected them to a terrible rain. So evil was the rain of those who were warned. - 26:173
This verse has confirmed that if a man commits sodomy, he may be punished with throwing a wall on him or by throwing him down from a high place, as suggested by Hanafi scholars, because the people of Lut (علیہ السلام) were destroyed in a similar manner. Their township was lifted and thrown on the ground. (Shami Kitab Al-Hudud)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–188
116 That is, "It is not in my power to bring down the torment; it is in Allah's power, and He is fully aware of your misdeeds. He will send down the torment as and when He wills." In this demand of the people of Aiykah and the answer of Prophet Shu'aib to them there was an admonition for the Quraish as well. They also demanded from the Holy Prophet to bring down the torment on them: "Or.... you cause the sky to fall down on us in fragments, as you threaten us." (Bani Isra'il: 92). As such the Quraish are being told that the people of Aiykah had also demanded a similar thing from their…
Read the full tafseer →