Explained with ayahs 165–175
ہم جنسی پرستی کا شکار
لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
سورة الشُّعَرَآء 114
اس بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گئے تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ) ، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا) ، ایک زبردست آتش فشانی انفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر سائے گئے (وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ) اور ایک طوفانی ہوا سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا ۚ فَسَاۗءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ ، اس آیت سے ثابت ہوا کہ لوطی پر دیوار گرانے یا بلند مقام سے نیچے پھینکنے کی تعزیر جائز ہے جیسے حنفیہ کا مسلک ہے کیونکہ قوم لوط اسی طرح ہلاک کی گئی تھی کہ ان کی بستیوں کو اوپر اٹھا کر الٹا زمین پر پھینک دیا گیا تھا۔ (شامی کتاب الحدود)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–173
آیت 173-170
اس کے بعد قوم لوط پر عذاب آگیا۔ اس عذاب کی نوعیت کی تفصیل ہم سورة حجر کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔
عجور سے مرا حضرت لوط کی بیوی ہے جس کی ساری ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ اس وجہ سے حضرت لوط کے اہل میں سے ہونے کے باوجود یہ عذاب کی گرفت میں آگئی۔ لفظ عجوز یہاں اس کے لئے بطور تحقیر استعمال ہوا ہے۔
قریش کو تنبیہ
فآء مطر المنذرین میں قریش کے لئے انذار و تنبیہ ہے کہ جن لوگوں کو کسی رسول کے ذریعہ سے انذار کیا جاتا ہے اگر وہ اس انذار کو خاطر میں نہیں لاتے تو ان پر اسی طرح خدا کے غضب کی بارش ہوتی ہے اور یہ بارش نہایت ہی بری بارش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
۔-1یعنی نشان زدہ کھنگر پتھروں کی بارش سے ہم نے ان کو ہلاک کیا اور ان کی بستیوں کو ان پر الٹ دیا گیا، جیسا کہ سورة ہود،8283میں بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
37: پتھروں کی بارش سے مراد ہے جو ان لوگوں پر برسائی گئی تھی، جیسا کہ سورة حجر میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–175
ثم دمرنا……المنذرین (173)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔
بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔
بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
1 یعنی ان کی بستیاں الٹ دیں اور آسمان سے پتھروں کا برساؤ کیا۔ سو ڈھیر ہو کر رہ گئے۔ ان کا قصہ مفصل بھی اعراف وغیرہ میں گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ”
”ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
103 اس بدبخت قوم پر جس طرح عذاب آیا اس کی تفصیلات پہلے سورة اعراف آیت نمبر 184 سورة توبہ آیت نمبر 70، سورة ہود آیت نمبر 83، سورة حجر آیت نمبر 73 میں گزر چکی ہیں۔ ان کے حواشی ملاحظہ کر لئے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
93۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف پ 8 اور سورة ہود پ 12 کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت نمبر 160 تا 175
ترجمہ : قوم لوط نے (بھی) نبیوں کو جھٹلایا جب کہ ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانتدار رسول ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم اہل عالم یعنی انسانوں میں سے مردوں کیساتھ شہوت رانی کرتے ہو ؟ اور تمہاری بیبیوں کی جو چیز یعنی ان کی شرمگاہیں تمہارے لئے پیدا (حلال) کی گئیں ہیں ان کو چھوڑے ہوئے ہو، اپنی بیبیوں کی شرمگاہوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، یہ تفسیر اور ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب کہ مِن کو تبعیضیہ مانا جائے اور اگر…
Read the full tafseer →وامطرنا علیہم مطرا اور ان پر (کنکریوں کی یا پتھروں کی) خوب بارش کردی۔ وہب بن منبہ نے کہا ان پر گندھک اور آگ کی بارش کی گئی۔ (بائبل میں بھی اس عذاب کی کیفیت بعینہٖ بیان کی گئی ہے)
فسآء مطر المنذرین۔ کیا برا مینہ تھا ان لوگوں کا جن کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا۔
Read the full tafseer →(173) اور ہم نے ان سب لوگوں پر پتھروں کا مینہ برسایا سو کیا برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر برسا جن کو حضرت لوط ؑ نے عذاب خداوندی سے ڈرایا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–173
3 ان آیات کی تفسیر اس مقام پر لوط ؑ کے قصے کے شروع میں دیے ہوئے حوالہ جات میں ملاحظہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
( کذبت قوم لوط المرسلین۔۔۔۔۔ )
کذبت قوم لوط المرسلین اس کا معنی اور قصہ سورة الاعراف اور سورة ہود میں مفصل گزر چکا ہے الحمد للہ۔
اتاتون الذکر ان من العٰلمین وہ ان کی دبروں میں اپنی خواہش پوری کیا کرتے تھے وہ یہ عمل اجنبی اور مسافروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جس طرح سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم یعنی عورتوں کی شرمگاہیں چھوڑ دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنہیں نکاح کے لیے پیدا کیا۔ ابراہیم بن مہاجر نے کہا : مجاہد نے مجھ سے کہا حضرت عبد اللہ اس آیت وتدرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم کو کس طرح پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا : وتذرون ما اصلح لکم ربکم من ازواجکم۔ کہا مراد شرمگاہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
قوم لوط کا تذکرہ۔
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم نے چھوڑدیا ہے عورتوں کے سامنے سے اپنی خواہش کو پوری کرنے کو اور مردوں اور عورتوں کی پشت کی طرف خواہش پوری کرنے لگے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “ سے مراد ہے کہ حصہ جو تمہارے لیے من اس تھا یعنی قبل اس کو تم نے چھوڑ دیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وتذرون ما خلق لکم ربم من ازواجکم “ کے بارے میں فرمایا کہ تم نے عورتوں کے اگلے…
Read the full tafseer →وَاَمْطَرْنَا [ اور ہم نے برسائی ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مَّطَرًا ۚ [ ایک برسنے والی چیز ] فَسَاۗءَ [ تو برا تھا ] مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے ہوؤں کا برساؤ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–191
قصہ ششم حضرت لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم لوط المرسلین الی وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سدوم کی طرف بھیجے گئے سدوم شام کے جنوب اور مشرق میں واقع ہے یہاں کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ شہوت پرستی میں غرق تھے اور خاص طور پر لواطت میں مبتلا تھے لوط (علیہ السلام) نے انکو نصیحت کی مگر ان بدبختوں نے ایک نہ سنی بالآخر سب ہلاک کردیئے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ لوط کی قوم نے بھی سارے پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے رسول امین بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–176
63:۔ یہ ساتویں نقلی دلیل اور تخویف اخروی ہے۔ ” اذ قال لھم شعیب “ تا ” علی رب العلمین “ اس کی تفسیر گذر چکی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نسبی تعلق چونکہ اہل مدین سے تھا اصحاب الایکہ سے نہیں تھا اس لیے یہاں ” اخوھم شعیب “ نہیں فرمایا اور جہاں اہل مدین کی طرف ان کی بعثت کا ذکر کیا وہاں فرمایا۔ ” والی مدین اخاھم شعیبا “ (ھود رکوع 8) لم یقل ھنا اخوھم شعیب لانہ لم یکن من نسبھم بل کان من نسب اھل مدین ففی الحدیث ان شعیبا اخا مدین ارسل الیھم والی اصحاب الایکۃ (مدارک ج 3 ص 148) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔
لوط (علیہ السلام) کی بعثت
ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔…
Read the full tafseer →وَاَمْطَرْنَا عَلَيْہِمْ مَّطَرًا 0ۚ فَسَاۗءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ 173
مطر
المَطَر : الماء المنسکب، ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. أي : مَمْطُورٌ ، يقال : مَطَرَتْنَا السماءُ وأَمْطَرَتْنَا، وما مطرت منه بخیر، وقیل : إنّ «مطر» يقال في الخیر، و «أمطر» في العذاب، قال تعالی: وَأَمْطَرْنا عَلَيْهِمْ مَطَراً فَساءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ [ الشعراء/ 173]
( م ط ر ) المطر
کے معنی بارش کے ہیں اور جس دن بارش بر سی ہوا سے ويومٌ مَطِيرٌ وماطرٌ ، ومُمْطِرٌ ، ووادٍ مَطِيرٌ. کہتے ہیں واد مطیر باراں رسیدہ وادی کے معنی بارش بر سنا کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ مطر اچھی اور خوشگوار بارش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–176
1 ؎ ایکہ بن یا درختوں کا جھنڈ جو پانی اور نرم زمین پر ہوتا ہے اس سے وہ بن یا درختوں کے جھنڈ مراد میں جو مدین کے پاس تھے اور وہاں ایک بستی تھی جن کے رسول شعیب ( علیہ السلام) تھے۔ 12۔
کذب اصحاب الایکۃ یہ ساتواں قصہ بن والوں کا ہے مدین کے قریب کچھ کنوئیں آبپاشی کے لیے تھے وہاں درخت تھے وہاں کے لوگوں کو اصحاب الایکہ کہتے ہیں ان کے نبی حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یہ کمبخت بت پرست تھے اس پر کم تولتے تھے ‘ لین دین میں فریب کرتے تھے ‘ راہزن ڈاکو چور بدکار بھی تھے۔ حضرت نے ان سب باتوں سے منع کیا نہ مانے بلکہ کہنے لگے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا یہ معنی کہ سلیں برسا دے اگر تو سچا ہے۔ چناچہ انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–173
فَنَجَّیْنٰـہُ وَاَھْلَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلاَّ عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا فَسَآئَ مَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 170 تا 173)
(آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو نجات دی۔ بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا۔ پھر ان پر برسائی ایک بارش، تو کیا ہی بری تھی وہ بارش جو ان پر برسی جن کو انجام سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ )
قبولیتِ دعا اور قوم کا انجام
قرآن کریم نے بعض دوسری سورتوں میں کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح نوجوان مہمانوں کی شکل میں دو فرشتے عذاب کی اطلاع دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ…
Read the full tafseer →173: وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا (اور ہم نے ان پر بارش کی بارش کرنا) ۔
قولِ قتادہ m : قوم کے منتشر لوگوں پر آسمانوں سے پتھر برسائے اور ان کو ہلاک کردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے اللہ تعالیٰ فقط پلٹ دینے پر راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش کی۔ فَسَآ ئَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ (کیا بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جن کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا) ۔
نحو : ساء کا فاعل مطر المنذرین ہے۔ اور مخصوص بالذم محذوف ہے اور وہ مطرھم ہے المنذرین سے معینہ لوگ مراد نہیں بلکہ جنس کفار مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
173۔ وامطرنا علیھم مطرا فساء مطرالمنذرین، وھب بن منبہ کا قول ہے کہ اس سے مراد بڑے بڑے پتھروں کی بارش اور آگ کی بارش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیت 160 سے 175
حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی دعوت دی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ہی جواب دیا جو ان سے پہلے لوگ اپنے رسولوں کو دیتے چلے آئے ہیں۔ چونکہ ان کے دل کفر میں ایک دوسرے کے مشابہ تھے اس لئے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوگئے۔ نیز وہ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ایسی بدکاری کا ارتکاب بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کی تھی۔ وہ اپنے اسراف اور حد سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی بیویوں کو چھوڑ کر جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخلیق فرمایا تھا، مردوں کے ساتھ مجامعت کے گندے اور خبیث فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) انہیں اس گندے کام سے روکتے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–176
86 اصحاب الایکۃ کا ذکر اور ان سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بن والوں نے بھی جھٹلایا رسولوں کو "۔ " ایکہ " درخت کو یا درختوں کے ایک جھنڈ کو کہتے ہیں۔ جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یہ اصحاب مدین ہی ہیں۔ یا کوئی دوسری قوم ؟ اس بارے میں مفسرین کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے ان کو دو علیحدہ قومیں قرار دیا۔ مگر بعض محققین کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی قوم تھے۔ مگر یہاں چونکہ ان کی نسبت ایکہ کی طرف کی گئی ہے جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے اور اس لحاظ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا چونکہ ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس لئے یہاں " اخوھم " نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
آیات 160 تا 175
اسرار و معارف
قوم لوط نے بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کیا جب ان کے قومی بھائی لوط (علیہ السلام) نے انہیں دعوت دی کہ اللہ کا خوف اختیار کرو میں تمہارے لیے اللہ کا رسول اور امین ہوں لہذا میری بات مان کر اللہ کیا طاعت اختیار کرو میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم دیں گے جو سب جہانوں کو پالنے والے ہیں۔ تم اپنے کام کی خباثت تو دیکھو کہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر مردوں اور لڑکوں سے بد فعلی کرتے ہو ایسا برا کام تو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں کرتا۔
بد فعلی حرام ہے :
یہاں سے علما کرام نے ثابت فرمایا ہے ہے کہ بدفعلی حرام ہے خواہ اپنی بیوی سے بھی کرے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
4 ۔ جیسا کہ سرہ ہود میں بصراحت فرمایا : وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منفرد۔ اور ہم نے اس پر کھڑنجے کے پتھر تہ بہ تہ (یا پے در پے) برسائے۔ (آیت 82) اولاً ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور اوپر سے مینہ بسایا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–175
(26:173) امطرنا : امطار (افعال) سے ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے برسایا۔ امطرنا علیہم مطرا۔ ہم نے ان پر بارش برسائی۔
فسائ۔ پس برا ہے۔ ساء یسوء (نصر) سوء ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔
المنذرون ۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ لوگ جو ڈرائے گئے (سرکشی اور نافرمانی کی سزا سے) انذار (افعال) سے۔ ڈرانا۔
فساء مطر المنذرین۔ سو کیسی بری بارش تھی جو ڈرائے ہوؤں پر برسی۔ یعنی بارش کا کام تو مردہ کھیتی کو زندہ کرنا ہے لیکن کیا ہی بری تھی وہ بارش جس نے زندوں کو تہس نہس کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
لغات القرآن : آیت نمبر 160 تا 175 :
اتاتون (کیا تم آتے ہو) الذکران (ذکر) مرد ‘ (تذرون) تم چھوڑتے ہو ‘(عدون) حد سے آگے بڑھنے والے ‘ المخرجین (نکالے جانے والے) ‘ القالین (نفرت کرنے والے) ‘ عجوز (بڑھیا) ‘ الغبرین (پیچھے رہ جانے والے) ‘ دمرنا (ہم نے ہلاک کردیا) ‘ امطرنا (ہم نے برسایا) ‘ المذرین (ڈرائے جانے والے۔
تشریح : آیت نمبر 160 تا 175 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے چھٹے نبی حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ کے نبی تھے سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–175
حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی نافرمانی ، اور اس نافرمانی کے سبب سے ان پر عذاب نازل ہونے کا بیان کیا جاتا ہے لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ہمارے سچے رسولوں کو جھوٹا بتایا اس لیے کہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے جیسا کہ پہلی آیتون میں گزرچکا ہے جب ان سے لوط نے کہا، کیا تم اپنے زبردست خدا سے نہیں ڈرتے میں تمہارے لیے خدا کے پاس سے امانت دار رسول بھیجا ہوا آیا ہوں غرض یہ کہ حضرت لوط نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو حضرت نوح نے اپنی امت کو کی تھی ، حضرت لوط کی امت نے نیا گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
[26] یعنی پتھروں کی بارش۔
[27] یہ قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 169–178
ف 1: حضرت لوط (علیہ السلام) نے اللہ سے پناہ مانگی ۔ اور دعا کی کہ اللہ مجھے اور میرے گھر والوں کو ان ظالموں سے مخلصی عطا فرما ۔ اور ان کی بداعمالیوں کے وبال سے نجات دے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ ان لوگوں پر پتھروں کی سخت بارش ہوئی ۔ اور یہ ہمیشہ کے حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے ۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ بداخلاقی بھی قوم کی تباہی اور ہلاکت کا باعث ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اخلاق دشمنی کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے نزدیک ۔ اس وجہ اہم ہے کہ اس کے لئے ایک خاص پیغمبر مبعوث اور مامور کیا گیا ۔
کیا مسلمانوں نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان واقعات کو کیوں بیان فرماتے ہیں ؟ آخر لوط (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →173۔ اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا سو کیا برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر برسا جن کو ڈرایا گیا تھا یعنی اس قوم پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا سو کیسا برا مینہ تھا جو اس لوط (علیہ السلام) کی قوم پر برسا جس کو پہلے ہی عذاب الٰہی سے ڈرا دیا گیا تھا مگر نہیں مانے اور آخر کار ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–182
ف 3۔ یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو، اور نہ باٹوں میں فرق کیا کرو۔
Read the full tafseer →حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت بارش کے تحت کردی گئی جو ان کے حق میں بڑی ثابت ہوئی :
173۔ الہی گرفت کے مناظر بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں کہ وہی چیز جو انسانی زندگی کے لئے ایک بہت بڑی رحمت ہوتی ہے لیکن قانون الہی کے مطابق اس کو پوری قوم کے حق میں یا افراد کے حق میں یا کبھی کسی فرد کے حق میں زحمت بنا دیا جاتا ہے ۔ وہی بارش جس کو لوگ ترس کر رہ جاتے ہیں اور دعائیں کرتے کراتے ہیں کبھی وہی قانون الہی کے مطابق انسانوں کی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے جیسے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لئے زحمت ہی نہیں بلکہ ہلاکت کا باعث ہوگئی اور اسی طرح کئی دوسری قوموں کو بھی اس نے ہلاک کیا اور آج بھی یہی بارش بعض علاقوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–181
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
and subjected them to a terrible rain. So evil was the rain of those who were warned. - 26:173
This verse has confirmed that if a man commits sodomy, he may be punished with throwing a wall on him or by throwing him down from a high place, as suggested by Hanafi scholars, because the people of Lut (علیہ السلام) were destroyed in a similar manner. Their township was lifted and thrown on the ground. (Shami Kitab Al-Hudud)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
114 This was not a rain of water but a rain of stones. According to the details given at other places in the Qur'an, when Prophet Lot had left the place along with the people of his household in the last hours of the night, there occurred a terrible explosion at dawn and a violent earthquake, which turned all their habitations upside down and rained on them stones of baked clay as a result of a volcanic eruption and a strong blast of wind.
Below we give a resume of the Biblical account and of ancient Greek and Latin writings and modern geological researches and archaeological observations…
Read the full tafseer →