Explained with ayahs 146–152
صالح ؑ کی باغی قوم
حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
سورة الشُّعَرَآء 100
یعنی اپنے ان امراء و رؤساء اور ان رہنماؤں اور حاکموں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی قیادت میں تمہارا یہ فاسد نظام زندگی چل رہا ہے۔ یہ مسرف لوگ ہیں، اخلاق کی ساری حدیں پھاند کر شتر بےمہار بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ یہ جس نظام کو چلائیں گے اس میں بگاڑ ہی پھیلے گا۔ تمہارے لیے فلاح کی کوئی صورت اگر ہے تو صرف یہ کہ اپنے اندر خدا ترسی پیدا کرو اور مفسدوں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو، کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں، میری امانت و دیانت کو تم پہلے سے جانتے ہو، اور میں ایک بےغرض آدمی ہوں، اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے اصلاح کا یہ کام کرنے نہیں اٹھا ہوں۔۔۔۔۔ یہ تھا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–159
معارف و مسائل
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔
مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
آیت 152-150
وہی تنبیہ جو آیت 144 میں گزری ہے حضرت صالح ؑ نے پھر دہرائی کہ اب بھی وقت باقی ہے خدا سے ڈرو اور میری بات مانو یہاں کھل کر یہ بات بھی فرما دی کہ اپنے ان لیڈروں کے چکمے میں نہ آئو جو خدا کے حدود کو لانگ کر بہت دور نکل جا چکے ہیں۔ یہ ملک میں فساد برپا کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مدعی اصلاح کے ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی یہی تھی کہ یہ اصلاح کرتے لیکن یہ اصلاح نہیں کر رہے ہیں بلکہ اصلاح کے نام سے افساد کر رہے ہیں۔ ہم تفسیر سورة بقرہ میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ جس طرح اس کائنات کے بقاء کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کا فرما ہے اسی طرح اس زمین کی صلاح کا انحصار اس امر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
151-1مُسْرِفِیْنَ سے مراد وہ رؤسا اور سردار ہیں جو کفر و شرک کے داعی اور مخالفت میں پیش پیش تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–153
30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
فاتقوا ……یصلحون (153)
لیکن جب کسی قوم کے دل خشک ہوجاتے ہیں اور ان سے غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ تو ایسی درد بھری پکاریں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ کسی بات پر کام نہیں دھرتے اور ان کے دل نرم نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
4 یہ عوام کو فرمایا کہ تم ان بڑے مفسد شیطانوں کے پیچھے چل کر تباہ نہ ہو۔ یہ تو زمین میں خرابی پھیلانے والے ہیں۔ اصلاح کرنے والے اور نیک صلاح دینے والے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–153
آیت 153 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
یعنی آپ علیہ السلام پر یقیناً جادو یا آسیب کے اثرات ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–151
92 حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب نچلے طبقہ کے لوگوں سے تھا جو تعداد میں زیادہ مگر چودھری ٹائپ لوگوں کے زیر نگیں ہوتے ہیں اور عموماً یہی لوگ انبیاء کی دعوت پر توجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ چودھریاں کے مظالم سے تنگ آئے ہوتے ہیں۔ آپ نے انھیں سمجھایا کہ اپنے ان چودھریوں اور رئیسوں کی اطاعت چھوڑ دو ۔ کیونکہ یہ مشرف لوگ ہیں جو اخلاق کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن چکے ہین۔ ان کے ہاتھوں خیر اور بھلائی یا معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔ تمہارے لئے ان لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرو اور ان کی اطاعت کے بجائے میری اطاعت کرو۔ کیونکہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
85۔ خداوندی قانون کو نہ ماننے اور اس پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ دنیا میں ہمیشہ خرابیوں ہی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ شراب نوشی وزنا کاری، سود خواری، رشوت وخیانت، رشک وحسد سے ہمیشہ جسمانی اور اخلاقی بیماریاں ہی بڑھی ہیں۔ اور معاشری ابتری ہر قسم کی پیدا ہوتی رہی ہے۔ قرآن نے ان سارے انفرادی واجتماعی امراض کے لیے ایک جامع لفظ فساد فی الارض کا استعمال کردیا ہے۔ (آیت) ” المسرفین “۔ قوت عقلی ہو یا فعلی یا اعتقادی ان کا بےجاصرف کرنا سب داخل اسراف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت نمبر 141 تا 159
ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…
Read the full tafseer →ولا تطیعوا امر المسرفین۔ اور ان حدود (بندگی) سے نکل جانے والوں کا کہنا مت مانو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(151۔ 152) اور ان مشرکین کا کہنا مت مانو جو زمین میں کفر وشرک اور غیر اللہ کی پرستش کی ترغیب کرتے پھرتے ہیں اور نجات کی بات نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ۔۔ : یعنی ان لوگوں کا کہنا مت مانو جو اخلاق و تہذیب کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن گئے ہیں۔ مراد ان کے وہ سردار اور امراء ہیں جو شرک و کفر کے داعی اور حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جن کی زیر قیادت ان کا بگڑا ہوا نظام زندگی چل رہا تھا، ایسے لوگ ہمیشہ زمین میں فساد ہی پھیلاتے ہیں، ان کے ہاتھوں اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ”الْمُسْرِفِيْنَ“ میں سب سے پیش پیش وہ نو (9) بدمعاش تھے جنھوں نے ملک میں فساد مچا رکھا تھا اور آخر کار قوم کی تباہی کا سبب بنے، فرمایا : (وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–152
فاتقوا اللہ واطیعون۔ ولا تطیعوا امر المسرفین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نوافر اد ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے رہے اور اصلاح احوال نہ کرتے۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : تیری قوم تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹے گی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو افراد سے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا کام کرنے والے نہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اس ماہ میں تمہارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹے گا اور تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔
پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم
ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔
3۔…
Read the full tafseer →[ وَلَا تُطِيْعُوْٓا : اور نہ تم اطاعت کرو ][ اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ : حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا
سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔
یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–153
57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–152
قوم ثمود
تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِيْعُوْنِ 15 0ۚ وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ 151 ۙ
طوع
الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ «5» .
قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
وَلاَ تُطِیْعُؤٓا اَمْرَالْمُسْرِفِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ یُصْلِحُوْنَ ۔
(الشعرآء : 151، 152)
(اور حدود سے گزر جانے والوں کی بات نہ مانو۔ جو ملک میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ )
گمراہ لیڈرشپ تباہی کا باعث ہے
حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ایک اور بہت بڑی حقیقت منکشف فرمائی اور ایک تباہ کن چیز سے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ وہ یہ ہے کہ قومیں جس طرح ہَوائے نفس کے اتباع اور مادی محبت میں استغراق کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں، اسی طرح گمراہ لیڈرشپ بھی ان کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ اور اس میں قصور صرف لیڈرشپ کا نہیں ہوتا بلکہ ان گمراہ لیڈروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–151
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔
حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
150، 151: فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطَیْعُوْنِ (تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو) ۔ وَلَا تُطِیْعُوْٓا اَمْرَالْمُسْرِفِیْنَ (اور حدود سے نکل جانے والوں کا کہنا مت مانو) المسرفینؔ سے کفار مراد ہیں۔ یا نمبر 2۔ وہ نو آدمی مراد ہیں۔ جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں تھی۔ امر کو مجاز حکمی کے طور پر مطاع قرار دیا۔ اور مراد اس سے امر ہے یہ انبت الربیع البقل کی طرح ہے۔
Read the full tafseer →151۔ ولاتطیعوا امرالمسرفین، ابن عباس نے اس کی تفسیر مشرکین سے کی ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ نوآدمی جنہوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت 141 سے 159
(کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–153
77 پیغمبر کو ان کی قوم کی طرف سے نہایت گستاخانہ اور دلآزار جواب : سو حضرت صالح کو ان کی اس متکبر اور سرکش قوم نے یہ جواب دیا کہ " تم تو محض جادو کے مارے ہوئے شخص ہو "۔ " مسحور " نہیں " مسحّر " قرار دیا۔ جس میں مبالغہ اور زیادتی کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ یعنی تم پر ایسا سخت جادو کردیا گیا کہ تمہاری عقل ہی مار دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہاری بات پر کان دھرا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، صفوۃ وغیرہ وغیرہ) سو ان بدبختوں نے اللہ کے نبی کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے الٹا ان کو ایسا بیہودہ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیات 141 تا 159
اسرار و معارف
قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔
کمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
1 ۔ یعنی اخلاق و تہذیب کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن گئے۔ 2 ۔ مراد ہیں ان کے وہ رئوسا امرائو جو شرک و کفر کے داعی اور حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جن کی زیر قیادت ان کا بگڑا ہوا نظام زندگی چل رہا تھا۔ اور قرآن کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو لیڈر تھے جنہوں نے ملک میں فساد مچا رکھا تھا اور آخر کار قوم کی تباہی کا سبب بنے۔ یہ واقعہ ہے کہ ایسے لوگوں کی قیادت ہر دور میں تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(26:151) لا تطیعوا فعل نہی جمع مذکر حاضر تم اطاعت نہ کرو۔ تم پیروی نہ کرو۔ تم نہ مانو۔
امر المسرفینمضاف مضاف الیہ المسرف کی جمع ۔ حد سے بڑھنے والے۔ تم حد سے بڑھنے والوں کے حکم کی پیروی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 :
اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–152
فارھین ۔ فریہ کی جمع ہے ۔ جس کے معنے نہایت شاد ذہنی مرد کے ہیں ۔ وبمعنے صداقت اور جمال ۔ الفارحۃ ۔ خوبصورت اور جوان لونڈی کو کہتے ہیں
Read the full tafseer →(151) اور ان فساد برپا کرنے والوں کی بات اور ان کا حکم نہ مانو جو حد سے بڑھ جانے والے ہیں اور حدود بندگی سے آگے نکل جانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →میں تم سے کہتا ہوں کہ تم ان بےلگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو :
151۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنے پیش روؤں سے زیادہ کھل کر بات اس طبقہ کے لوگوں کے خلاف کہہ دی جو خدایاں دہ وملک تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اہل اولاد میں کشائش دی تھی اور یہ لوگ صاحب ثروت تھے اور کچھ ان میں سے وہ تھے جو مذہب کے نام پر اپنی بڑائی لوگوں سے تسلیم کرا چکے تھے جیسا کہ پہلے بھی ذکر کا جا چکا کہ یہ دونوں گروہ اس قدر بےلگام ہوتے ہیں کہ جو ان کے جی میں آئے کہہ دیتے ہیں اور پھر ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا انہوں نے یہ بات کس دلیل کی بنا پر کہی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی شخصیت قوم میں خود ایک دلیل کے طور پر تسلیم ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–165
Commentary
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149]
According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِهِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth.
Useful vocations are…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
100 That is, "You should give up obedience to your chiefs, guides and rulers under whose leadership you are following an evil way of life. These people have transgressed all bounds of morality: they cannot bring about any reforms and they will corrupt every system of life that they adopt: The only way for you towards success and well-being is that you should inculcate fear of God, give up obedience to the misguides and obey me, because I am God's Messenger: you are fully aware of my honesty and integrity: I have no personal interest and motive for undertaking the work of reform. " This was in…
Read the full tafseer →