Explained with ayahs 146–152
صالح ؑ کی باغی قوم
حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 99
جس طرح عاد کے تمدن کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے، اس طرح ثمود کے تمدن کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ قدیم زمانے کی قوموں میں مشہور تھے، یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چناچہ سورة فجر میں جس طرح عاد کو ذات الْعِمَاد (ستونوں والے) کا لقب دیا گیا ہے اسی طرح ثمود کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے کہ اَلَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ، " وہ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی ہیں "۔ اس کے علاوہ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–159
معارف و مسائل
وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ ، حضرت ابن عباس سے فارھین کی تفسیر بطرین منقول ہے یعنی اترانے اور تکبر کرنے والے، لیکن ابوصالح نے فرمایا اور یہی امام راغب نے تفسیر کی ہے کہ فارھین کے معنی حاذقین ہے یعنی ماہرین کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ نعمت فرمائی کہ تم کو ایسی صنعت کاری سکھلا دی کہ پہاڑوں کو مکانات بنانا تمہارے لئے آسان کردیا۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرو اور زمین پر فساد نہ کرو۔
مفید پیشے خدائی انعامات ہیں بشرطیکہ ان کو برے کاموں میں استمال نہ کریں
اس آیت سے ثابت ہوا کہ عمدہ پیشے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
آیت 149-146
نعمت کے ساتھ شکر نعمت نہ ہو تو وہ استدراج ہے
اوپر والی بات بطور تمہید تھی۔ یہ اس اصل خطرے سے حضرت صالح نے قوم کو آگاہ فرمایا جو بالکل سامنے تھا لیکن دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں مغروروں و نظر نہیں آ رہا تھا وہ اپنی مادی فربہی کو اپنی صحت و توانائی گمان کئے بیٹھے تھے۔ حضرت صالح ؑ نے آگاہ فرمایا کہ یہ فربہی صحت نہیں بلکہ ایک ناگہانی موت کا الارم ہے۔ اوپر حضرت ہود کی سرگزشت میں ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ نعمت کے ساتھ اگر شکر نعمت موجود نہ ہو تو وہ استدراج ہے جو بالآخر قوم کے لئے تباہی کا باعث ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف صالح نے اپنی قوم کو توجہ دلائی اور الفاظ سے صاف واضح ہے کہ عین اس دور…
Read the full tafseer →149-1فَارِھِیْنَ یعنی ضرورت سے زیادہ فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا فخرو غرور کرتے ہوئے، جیسے آجکل لوگوں کا حال ہے۔ آج بھی عمارتوں پر غیر ضروری آرائشوں اور فنکارانہ مہارتوں کا خوب خوب مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے سے ایک دوسرے پر برتری اور فخرو غرور کا اظہار بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–153
30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
اتنراکون فی ……فرھین (149)
یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔
حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔
اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 140–150
3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–153
آیت 153 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”
یعنی آپ علیہ السلام پر یقیناً جادو یا آسیب کے اثرات ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–151
92 حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب نچلے طبقہ کے لوگوں سے تھا جو تعداد میں زیادہ مگر چودھری ٹائپ لوگوں کے زیر نگیں ہوتے ہیں اور عموماً یہی لوگ انبیاء کی دعوت پر توجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ چودھریاں کے مظالم سے تنگ آئے ہوتے ہیں۔ آپ نے انھیں سمجھایا کہ اپنے ان چودھریوں اور رئیسوں کی اطاعت چھوڑ دو ۔ کیونکہ یہ مشرف لوگ ہیں جو اخلاق کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن چکے ہین۔ ان کے ہاتھوں خیر اور بھلائی یا معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔ تمہارے لئے ان لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرو اور ان کی اطاعت کے بجائے میری اطاعت کرو۔ کیونکہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
84۔ قوم ثمود کی تہذیب و تمدن اور فنون سنگ تراشی وغیرہ پر حاشیے پ 8 سورة الاعراف میں گزر چکے۔ (آیت) ” جنت وعیون۔ زروع ونخل “۔ قوم ثمود عرب کے شمالی ومغربی علاقہ میں جو خوب سرسبز و شاداب تھا آباد تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت نمبر 141 تا 159
ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…
Read the full tafseer →وتنحتون من الجبال بیوتا فرہین۔ اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (فخر کرتے) ہوئے
مکان بناتے ہو۔
فرہین یعنی پتھر تراشنے میں ماہر۔ فَرِہ الرجل فراہۃً وہ آدمی ماہر ہوگیا۔ عکرمہ نے اس کا ترجمہ کیا خوش عیش ‘ آرام میں۔ قتادہ نے کہا اپنی صنعت کاری پر مغرور۔ سدی نے کہا متحیر اخفش نے ترجمہ کیا خوش۔ عرب حاء کو ہاء سے بدل دیتے ہیں جیسے مدحۃ کی جگہ مدہۃ کہنے لگتے ہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فادہین سے مراد ہے حریص ابو عبیدہ نے کہا (اپنی صنعت پر) اترانے والے۔ مگن مراد یہ ہے کہ اس نعمت پر اترانے والے ہو ‘ مگن ہو اور غرور کی وجہ سے قبول حق سے سرتابی کرنے والے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(149۔ 150) اور کیا تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے ہوئے اور فخر کرتے ہوئے مکانات بناتے ہو سو اللہ سے ڈرو جن باتوں کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے اس میں اور میرا کہنا مانو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–150
اَتُتْرَكُوْنَ فِيْ مَا هٰهُنَآ اٰمِنِيْنَ۔۔ : قوم عاد کی طرح یہ لوگ بھی اللہ کی عبادت سے کنارہ کش ہوچکے تھے، بتوں کے پجاری اور قیامت کے منکر تھے، جس کے نتیجے میں ان کی ساری تگ و دو دنیا کی آسائشوں کے حصول اور عیش پرستی تک محدود تھی، آخرت کی فکر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے یکسر عاری تھے، ان کے بدترین اور مفسد لوگ ان کے سردار اور راہ نما بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صالح ؑ کو بھیجا، جنھوں نے اوپر والی آیات کے مطابق انھیں اللہ سے ڈرنے اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا کہ وہ ان سے کسی بھی قسم کی مالی منفعت کے طلب گار نہیں ہیں۔ اس کے بعد انھیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–152
فاتقوا اللہ واطیعون۔ ولا تطیعوا امر المسرفین “ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد نوافر اد ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے رہے اور اصلاح احوال نہ کرتے۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی : تیری قوم تیری اونٹنی کی کونچیں کاٹے گی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو افراد سے یہ بات کی۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا کام کرنے والے نہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اس ماہ میں تمہارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹے گا اور تمہاری ہلاکت اس کے ہاتھ پر ہوگی۔ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔
پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم
ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔
3۔…
Read the full tafseer →وَ (اور) تَنْحِتُوْنَ ( تم سب تراشتے ہو) مِنَ الْجِبَالِ (پہاڑوں سے) بُيُوْتًا (گھر) فٰرِهِيْنَ (سب اتراتے ہوئے )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا
سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود
قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔
یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–153
57:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا اے صالح ! تیرے پاس کوئی وحی نہیں آئی اصل بات یہ ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ (العیاذ باللہ) تیری عقل میں خلل واقع ہوگیا اور تو نے نبوت کا دعوی کردیا ہے ورنہ ” مانت الا بشر مثلنا “ تو بھی ہم جیسا بشر اور انسان ہی تو ہے پھر تم میں کونسی امتیازی خوبی ہے کہ تمہیں نبوت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ” فات بایۃ الخ “ لہذا اگر واقعی تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی سچائی پر کوئی عجیب و غریب نشان پیش کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی کم عقلی اور کوتاہ فہمی کی وجہ سے نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ نبوت ایک ایسا بلند پایہ اعزاز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–152
قوم ثمود
تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…
Read the full tafseer →وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِہِيْنَ 149ۚ
نحت
نَحَتَ الخَشَبَ والحَجَرَ ونحوهما من الأجسام الصَّلْبَة . قال تعالی: وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] والنُّحَاتَةُ : ما يسقط من المَنْحُوتِ ، والنَّحِيتَة : الطّبيعة التي نُحِتَ عليها الإنسان کما أنّ الغریزة ما غُرِزَ عليها الإنسانُ
( ن ح ت )
نحت ( ض ) کے معنی لکڑی پتھر یا اس قسم کی سخت چیزوں کو تراشنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] اور تکلیف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو ۔ نحاتۃ تراشہ ۔ وہ ریزے جو کاٹنے سے گریں اور انسانی فطرت کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–160
تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
وَتَـنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِھِیْنَ ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔
(الشعرآء : 149، 150)
(تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ ان میں عمارتیں بناتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ )
آخرت فراموشی سے پیدا ہونے والے تمدن کا فساد
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم چونکہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ شاید ہمیشہ یہیں رہنا ہے اس لیے عاقبت نااندیش ہو کر مادی زندگی کی محبت میں ڈوب گئے ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم پہاڑوں کو کھود کھود کر اور تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے ہو تاکہ وہ بھی پہاڑوں ہی کی طرح پائیدار اور غیرمعمولی مضبوط ہوں اور ایک طویل زمانے تک تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–151
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔
حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور…
Read the full tafseer →149: وَتَنْحِتُوْنَ (اور تم تراشتے ہو) سوراخ کر کے بناتے ہومِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِھِیْنَ (پہاڑوں سے اتراتے ہوئے مکانات
بناتے ہو) ۔ قراءت : شامی، کوفی نے فارھین پڑھا اور مہارت معنی کیا اور اس کو حال قرار دیا۔ دیگر قراء نے فَرِھِیْن پڑھا۔ اتراتے ہوئے الَفْراھۃ (چالاکی ‘ سمجھ داری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
تفسیر۔
149۔ وتنحتون من الجبال بیوتا فارھین، اور یہ فرھین بھی پر ھا گیا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ایک ہے وہ پتھر تراشنے میں ماہر ہے۔ جیسے کہاجاتا ہے ، فراہ الرجل فراھہ وھو فارۃ، وہ سب سے ماہر ہے اور جنہوں نے فرھین پڑھ ا ہے وہابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کرتے ہیں کہ وہ تکبر کیس تھ ساتھ بہت زیادہ ظلم کرنے والے بھی تھے۔ عکرمہ نے اس کا ترجمہ خوش و آرام سے کیا ہے۔ مجاہد نے اس کا معنی شرھین کیا ہے۔
ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اترانے والے لیکن مراد یہ ہے کہ اس نعمت پر اترانے والے ہوں گے۔ مگن ہوں گے اور غرور کی وجہ سے قبول حق سے سرتابی کرنے والے ہوں۔ اخفش نے اس کا ترجمہ کیا ہے خوش، عرب حاء کو ھا سے بدل دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیت 141 سے 159
(کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–153
77 پیغمبر کو ان کی قوم کی طرف سے نہایت گستاخانہ اور دلآزار جواب : سو حضرت صالح کو ان کی اس متکبر اور سرکش قوم نے یہ جواب دیا کہ " تم تو محض جادو کے مارے ہوئے شخص ہو "۔ " مسحور " نہیں " مسحّر " قرار دیا۔ جس میں مبالغہ اور زیادتی کے معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ یعنی تم پر ایسا سخت جادو کردیا گیا کہ تمہاری عقل ہی مار دی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہاری بات پر کان دھرا جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (مدارک، ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، صفوۃ وغیرہ وغیرہ) سو ان بدبختوں نے اللہ کے نبی کی دردمندانہ تنبیہ پر کان دھرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے الٹا ان کو ایسا بیہودہ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–191
قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ
تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
آیات 141 تا 159
اسرار و معارف
قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔
کمال…
Read the full tafseer →13 ۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ” ثمود “ بڑے متمدن لوگ تھے اور ان کی شان و شوکت کا یہ حال تھا کہ وہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنایا کرتے تھے۔ آج بھی مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان مدائن صالح۔ جس کا قدیم نام حجر تھا۔ میں ان کی پہاڑوں میں تراش کر بنائی ہوئی بہت سی عمارتیں موجود ہیں۔ اس آیت میں ” فارھین “ (فراغت سے) کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ یہ سب کچھ محض اپنی شان و شوکت کے اظہار اور اپنی دولت و قوت اور اعلیٰ تمدن کی نمائش کے لئے کرتے تھے نہ کہ کسی حقیقی ضرورت کے تحت۔ اور یہی ایک زوال پذیر تمدن کی شان ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(26:149) تنحتون۔ تم تراشتے ہو۔ نحت سے (باب ضرب) جس کے معنی تراشنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
فرھین اسم فاعل جمع مذکر فارہ واحد۔ مہارت کے ساتھ۔ بمعنی بڑے ماہر اور حاذق ہونے کی حالت میں۔ فرھین کی قرأت پر ترجمہ ہوگا۔ اتراتے ہوئے۔
لیکن پروفیسر عبد الرؤف مصری نے لکھا ہے کہ فرھین یا فرہین میں ھاء ھوز حاء حطی کے عوض آئی ہے اصل میں فرحین یا فارحین تھا جیسے مدحتہ ومدھتہ پڑھنا جائز ہے (معجم القرآن) اور چونکہ فرحین اور فارحین دونوں کے معنی ہیں اترانے والے۔ غرور کے ساتھ خوش ہونے والے اس لئے حاذق اور ماہر کا ترجمہ کسی صورت میں نہ ہوگا۔
سو آیت ہذا کا ترجمہ ہوا۔ اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 :
اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 :
سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–159
حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–165
[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–152
فارھین ۔ فریہ کی جمع ہے ۔ جس کے معنے نہایت شاد ذہنی مرد کے ہیں ۔ وبمعنے صداقت اور جمال ۔ الفارحۃ ۔ خوبصورت اور جوان لونڈی کو کہتے ہیں
Read the full tafseer →(149) اور کیا تم کمال صنعت کے ساتھ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے رہو گے اس فن کے کاریگر بہت تھے یا یہ مطلب ہے کہ گھروں پر اتراتے اور تفاختر کرتے رہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–151
ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →تم پہاڑوں کو کھود کر ان کے اندر محلات تیار کر رہے ہو اور کتنے خوش ہو :
149۔ قوم عاد کی ترقی کا سارا دارومدار عمارتیں تھیں کہ وہ لوگ بہت اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنے میں ماہر تھے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں سال گزر جانے کے بعد آج بھی ان کے گھنڈرات سے ان کی بلندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی کتنی منزلیں ہوں گی اور عاد کی جگہ جب ثمود کی آبادی کا وقت آیا تو انہوں نے بھی اسی صنعت میں ترقی کی لیکن یہ لوگ زیادہ بلند وبالا عمارات کی بجائے پہاڑوں کو کھود کھود کر اندر ہی اندر محلات تعمیر کرتے تھے اور اس فن میں انہوں نے بہت مہارت حاصل کرلی تھی ‘ عمارت کی بلندی بھی قابل فخر تھی لیکن پہاڑوں کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–165
Commentary
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ ﴿149﴾And you hew out houses from the hills with pride. [ 149]
According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، the word فَارِهِينَ (Farihin) means arrogant and conceited people. But Abu Salih and Imam Raghib have taken this word to mean experts. Therefore, the meaning of the verse is that Allah Ta’ ala has favoured you by teaching such skills that you could make houses by cutting hills. The essence of all this is that you should remember the bounties of Allah Ta’ ala and should not make mischief and trouble on earth.
Useful vocations are…
Read the full tafseer →99 Just as the most prominent feature of the 'Ad civilization was that they built large edifices with high pillars, so the most prominent feature of the _Thamud civilization for which they were known among the ancient peoples was that they carved out dwellings in the hills. That is why in Surah Fajr, the `Ad have been referred to as "(people) of the illars", and the _Thamud as "those who hewed rocks in the valley". These people also built castles on the plains, the purpose and object of which was nothing but display of wealth and power and architectural skill as there was no real necessity…
Read the full tafseer →