Ash-Shu'araa 26:143

Ash-Shu'araa · from ayah 143

26:143

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۟ۙاِنِّىۡ لَـكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌۙ

میں تو تمہارا امانت دار ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, I am to you a trustworthy messenger.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:143

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں تو تمہارا امانت دار ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار پیغمبر ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانتدار رسول ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں یقینا تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں تمہارے لئے خدا کا ایک امانت دار رسول ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ میں تمہارے لیے رسول ہوں تمہارے رب کی طرف سے امانت دار

— مولانا اسحاق مدنی

میں تمہارے لئے ایک متدین پیغمبر ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ؑ ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

"I am a trustworthy Messenger to you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I am an honest messenger for you.

— Muhammad Taqi Usmani

I am an honest messenger for you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"I am a trustworthy Messenger to you."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! I am a faithful messenger unto you,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, I am to you a trustworthy messenger.

— Saheeh International

I am a trustworthy Messengers sent to you.

— Muhammad Sarwar

Surely I am a faithful apostle to you

— Muhammad Habib Shakir

Verily I am unto you an apostle trusted.

— Abdul Majid Daryabadi

"I am to you a messenger worthy of all trust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:143

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 141–145

صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 142–143

سورة الشُّعَرَآء 96 حضرت صالح ؑ کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کی شہادت خود اس قوم کے لوگوں کی زبان سے قرآن مجید ان الفاظ میں نقل کرتا ہے قَالُوْا یٰصَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّ ا قَبْلَ ھٰذَا۔ (ہود۔ آیت 62) " انہوں نے کہا اے صالح علیہ السلام، اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان ایسے آدمی تھے جس سے ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں "۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–148

خلاصہ تفسیر قوم ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی صالح ؑ نے فرمایا کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے، میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے (اور تم جو خوشحالی کی وجہ سے اس درجہ اللہ سے غافل ہو تو) کیا تم کو ان ہی چیزوں میں بےفکری سے رہنے دیا جاوے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں، یعنی باغوں میں اور چشموں میں اور ان کھجوروں میں جن کے گپھے خوب گوندے ہوئے ہیں (یعنی ان کھجوروں میں خوب کثرت سے پھل آتا ہے) اور کیا (اسی غفلت کی وجہ سے) تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اتراتے (اور فخر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 141–144

آگے کا مضمون … آیات 159-141 حضرت صالح کی دعوت کا بیان آگے قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح ؑ کی سرگزشت ہے اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جن کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ انبیاء علہیم السلام کی دعوت میں جو یسکانی رہی ہے وہ بھی اس سے واضح ہے اور ان کی قوموں کے رویے اور ان کے انجام میں جو یک رنگی رہی ہے وہ بھی اس سے نمایاں ہے۔ اب بعینیہ اسی روش کا مظاہرہ اپنے رسول کے ساتھ قریش کر رہے تھے تو آخر ان کا انجام اس سے مختلف کیں ہوتا جو ان کے دوسرے پیشروئوں کا ہوا … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 144-141) قوم کی تہمت کا جواب اور بدعمل لیڈروں کی پیروی سے بعینیہ یہی آیات اوپر وال سرگزشت میں گزر چکی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 142–146

146-1یعنی یہ نعمتیں کیا تمہیں ہمیشہ حاصل رہیں گی، نہ تمہیں موت آئے گی نہ عذاب ؟ استفہام انکاری اور توبیخی ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا بلکہ عذاب یا موت کے ذریعے سے، جب اللہ چاہے گا، تم ان نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اس میں ترغیب ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ اور اگر ایمان و شکر کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تباہی و بربادی تمہارا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 141–153

30: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف (7۔ 72) اور سورة ہود (11۔ 61 تا 68) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 141–145

درس نمبر 166 تشریح آیات 141……تا……159 کذبت ثمود ……رب العلمین (135) وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔ اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 140–150

3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ اسی عیش و آرام اور باغ و بہار کے مزے لوٹو گے ؟ اور پہاڑوں کو تراش کر جو تکلف کے مکان تیار کیے ہیں ان سے کبھی نہ نکلو گے ؟ یا یہ مضبوط اور سنگین عمارتیں تم کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گی ؟ اس سودائے خام کو دل سے نکال ڈالو۔ اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر میرا کہا مانو۔ میں تمہارے بھلے کی کہتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 139–146

آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ” تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 142–144

90 قوم ثمود کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کے ایک فرد حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ ثمود اس قوم کے جد اعلیٰ کا نام تھا اور صالح کا شجرہ نسب یوں چلتا ہے۔ صالح بن عبید بن آصف بن ماشح بن عبید بن صیادر بن ثمود۔ اس لحاظ سے یہ اپنی قوم کے بھائی ہوئے۔ انبیاء کی دعوت کا آغاز ہمیشہ توحید سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کو اللہ کے احسانات یاد دلاتا ہے۔ ایسے احسانات جیسے سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اللہ ہی کے احسانات ہیں۔ پھر قوم کو دعوت فکر دی جاتی ہے کہ جب انعامات و احسانات کی بارش کرنے والا صرف اللہ ہے تو تم اس کی بندگی میں دوسروں کو کیوں اس کا شریک بناتے ہو۔ اور اگر قوم پیغمبر کی بات پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 140–145

83۔ قوم ثمود اور حضرت صالح دونوں پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” اخوھم “۔” بھائی “ سے مراد وہی وطنی یا نسلی برادری ہے نہ کہ دینی یا اعتقادی۔ باقی آیتیں اس سلسلہ کی بار بار آچکی ہیں، اور اوپر ان کے حاشیے گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–159

آیت نمبر 141 تا 159 ترجمہ : ثمود نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم کو (خدا کا) خوف نہیں ہے، میں تمہارا امانت دار رسول ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس پر کچھ صلہ نہیں چاہتا، میرا صلہ تو رب العالمین پر ہے، کیا تم کو ان (راحت کی) چیزوں میں بےفکری کے ساتھ رہنے دیا جائے گا جو یہاں (دنیا میں) موجود ہیں (یعنی) باغوں اور چشموں اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے شگوفے نرم و نازک ہیں (یا) (جن کے شگوفے گتھے ہوئے ہیں) اور تم پہاڑوں کو تراش کر فخر یہ طور پر گھر بناتے ہو ایک قرأۃ میں فارھین ہے یعنی ماہرانہ انداز سے سو اللہ سے ڈرو اور جس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 141–143

(141 تا 143) قوم ثمود نے بھی حضرت صالح ؑ کو اور جن انبیاء کی حضرت صالح ؑ نے ان کو خبر دی سب کو جھٹلایا جب کہ ان کے نبی حضرت صالح ؑ نے فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو، میں اللہ کی طرف سے امانت دار پیغمبر ہوں سو تم اللہ سے ڈرو کہ توبہ کرو اور ایمان لاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 141–145

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : ثمود اور صالح ؑ کا قصہ اس سے پہلے سورة اعراف (73 تا 79) ، ہود (61 تا 68) ، حجر (80 تا 84) اور بنی اسرائیل (59) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (45 تا 53) ، ذاریات (43 تا 45) ، قمر (23 تا 31) ، فجر (9) اور شمس (11)۔ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ : صالح ؑ کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود : 62) قوم کا انھیں ”اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ“ کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 141–143

(کذبت ثمود المرسلین۔۔۔۔۔۔ ) اتثر کون فی ماھھنا امنین یعنی دنیا میں موت اور عذاب سے امن میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ بڑے معمر لوگ تھے عمارات ان کی عمروں کے ساتھ باقی نہیں رہتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے واستعمر کم فیھا (ہود : 61) حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں شرمندہ کیا اور فرمایا : کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم دنیا میں موت کے بغیر باقی رہو گے۔ فی جنت وعیون۔ وزروع ونخل طلعھا ھضیم زمخشری نے کہا : اگر تو کہے جنت کے بعد نخل کیوں فرمایا جب کہ جنات کھجور کے درختوں کو پہلے شامل ہوتا ہے جس طرح نعم کا لفظ اونٹوں کو شامل ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنت کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 141–159

1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ونخل طلعہا ہضیم “ سے مراد ہے کہ اس کے گچھے گندھے ہوئے ہیں۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” طلعہا ہضیم “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کا بعض بعض سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرء القیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ دار البیضاء العوارض طفلۃ مہضومۃ الکشحین ریا المعصم ترجمہ ایک بچی گھوم رہی جس کے رخسار سفید ہیں اس ڈھالیں ملی ہوئیں اور بازو گوشت سے پر ہے۔ 3۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنِّىْ : بیشک میں ][ لَكُمْ : تمہارے لیے ][ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ: ایک امانت دار رسول ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 142–160

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–159

قصہ پنجم صالح (علیہ السلام) باقوم ثمود قال اللہ تعالیٰ کذبت ثمود المرسلین الی لھو العزیز الرحیم۔ یہ پانچواں قصہ قوم ثمود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے یہ قوم عرب کے شمال کنارہ پر آباد تھی اور یہ خطہ نہایت سر سبز و شاداب تھا چشموں اور باغوں سے معمور تھا مگر یہ بدبخت قوم بت پرست تھی اور رہزنی اور دیگر فواحش میں مبتلا تھی۔ قیامت اور روز جزا کی منکر تھی۔ قوم ہود پر تو تکبر اور تجبر اور تعلی اور تفاخر کا غلبہ تھا کہ بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور قوم صالح پر لذات حسیہ اور شہوات طبیعہ کا غلبہ تھا کھانے پینے کی طرف زیادہ راغب تھے۔ یہ لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 142–144

56:۔ تمہیں دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا اس لیے خدا سے ڈرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور میری اطاعت کرو، میں حکم خداوندی سے صراط مستقیم کی طرف تمہاری راہنمائی کر رہا ہوں۔ ” ولا تطیعوا امر المسرفین “ مسرفین سے کفر و شرک میں قوم کے راہنما اور رؤساء مراد ہیں۔ والمسرون ھم کبراءھم واعلامھم فی الکفر والاضلال وکانو تسع ۃ رھط یفسدون فی الارض (بحر ج 7 ص 35) المسرفین قال ابن عباس المشرکون (خازن و معالم ج 5 ص 102) جو لوگ کفر و شرک اور گمراہی کی اشاعت کر کے ملک میں شر و فساد پھیلا رہے ہیں ان کی پیروی مت کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 141–152

قوم ثمود تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ۝ 143ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 142–160

تفسیر : چھٹا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور ان کے حکم سے اس سرزمین پر بھیجے گئے تھے جو شام کے جنوب و مشرق میں ہے۔ جھیل مردار کے قریب سدوم عمورہ وغیرہ اس جھیل کے قریب چند شہر تھے وہاں کے لوگ علاوہ بت پرست ہونے کے لونڈے باز بھی تھے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھتے ‘ تھے لڑکوں پر مرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اس فعلِ بد سے منع کیا۔ اس کے جواب میں کہنے لگے کہ اگر تو اس وعظ سے باز نہ آئے گا تو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت ( علیہ السلام) نے فرمایا میں تو منع ہی کروں گا کس لیے کہ میں اس ناپاک کام سے بیزار ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 141–145

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُالْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَاَطِیْعُـوْنِ ۔ وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍا ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا، کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے اللہ کا ایک امانتدار رسول ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو بس اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ ) حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کی سرگزشت اب قوم ثمود کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 142–151

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 140–146

قوم ثمود کا تذکرہ : 140 تا 146: وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَا الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ صالح ( علیہ السلام) کی تقریر : اِذْقَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَتُتْرَکُوْنَ (اور بیشک آپ کا رب زبردست نہایت مہربان ہے قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اور میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 137–145

137۔ ان ھذا، یہ عادت پہلے لوگوں کی ہے۔ الاخلق الاولین، ابن کثیر ، ابوجعفر، ابوعمر اور کسائی ، یعقوب نے (خلق ) خاء کے فتحہ کے ساتھ اور لام کے سکون کے ساتھ کہ یہ پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے کہ تم خود جھوٹ گھڑتے ہو۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وتخلقون افکا، دوسرے قراء نے خاء کے ضمہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم سے پہلے لوگوں کی یہی عادت تھی ، وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کا طریقہ چلاآرہا ہے وہ پیدا ہوتے مرتے رہیں گے ہم بھی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں نہ وہ مرکراٹھے نہ ان کا حساب ہوا اور نہ ہم مرکراٹھیں گے اور نہ ہی ہمارے اعمال کا حساب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 141–159

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–159

آیت 141 سے 159 (کذبت ثمود) ” قوم ثمود نے جھٹلا دیا۔ “ علاقہ حجر کے شہروں میں آباد معروف قبیلہ ہے (المرسلین) ” پیغمبروں کو۔ “ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جو توحید لے کر ان کے پاس آئے جو تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت تھی، اس لئے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم صلح) ” جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے (جو ان کے نسبی بھائی تھے، نہایت نرمی سے) ان سے کہا : (الا تتقون) کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر شرک اور معاصی کو نہیں چھوڑتے ؟ (انی لکم رسول) ” بیشک میں تمہارے رب کی طرف سے رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم اور رحمت کی بنا پر مجھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 136–145

75 حضرت صالح کی مخلصانہ دعوت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت صالح کی اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت میں بےغرضی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت صالح نے ان لوگوں سے کہا کہ میں دعوت و تبلیغ کے اس کام پر تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ وبدلہ تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک اور انکا اسلوب اور طریق کار بھی ایک۔ یہاں آپ دیکھتے جائیے کہ ان تمام انبیائے کرام کی دعوت بھی ایک ہی ہے اور طریق کار اور انداز تخاطب بھی ایک ہی۔ کہ حق بہرحال ایک ہی ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت کے تینوں بنیادی عقیدے سب ہی پیش فرما رہے ہیں کہ بندگی اللہ کی کرو۔ میرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–191

قوم ثمود اور قوم لوط اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ تشریح : موجودہ زمانہ میں بھی ایسے ہی بدمست ‘ عزت و دولت میں مست ہو کر تمام اخلاقی ‘ مذہبی اور تمدنی پابندیوں سے آزاد اور فخر و غرور میں ڈوبے ہوئے نافرمان لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے غافل ہو کر گناہوں میں ڈوب کر زندگی گزار رہے ہیں جب بھی کوئی ان کو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو بڑی بےنیازی سے جواب دیتے ہیں ” اوہو کوئی بات نہیں بھئی دیکھا جائے گا۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بس سب یونہی چلتا ہے۔ بھئی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اور کہنے والے کا خوب مذاق اڑاتے ہوئے اس کو بری طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 141–159

آیات 141 تا 159 اسرار و معارف قوم ثمود نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی جب ان کے ہاں ان کے قومی بھائی صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ لوگو اللہ کا خوف کرو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور رسول پوری امانتداری سے اللہ کی بات پہنچاتا ہے چناچہ میری بات مان لو یہی اللہ کی اطاعت ہے اور میں اپنی بات منوا کر کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ مجھے مال و دولت مل جائے اور میں حاکم بن جاؤں بلکہ میری اجرت تو اللہ کی بارگاہ سے ملے گی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے یاد رکھو تم اپنے گھروں میں نہ رہ پاؤ گے یہ خوبصورت گھر یہ باغات اور چشمے اور پھلوں سے لدی پھندی کھجوریں چھوڑ کر جانا ہوگا۔ کمال…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ ” امانت دار “ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی، مکرنے والا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 138–145

(26:138) وما نحن بمعذبین ۔ (نہ ہمارے آباء و اجداد پر کوئی آفت آئی) اور نہ ہی ہم پر کوئی عذاب آئے گا۔ معذبین اسم مفعول جمع مذکر ۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب دئیے جانے والے ۔ عذاب یافتہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–159

لغات القرآن : آیت نمبر 141 تا 159 : اتترکون (کیا تم چھوڑدیئے جائو گے) ‘ ھھنا (اسی جگہ) ‘ زروع (زرع) کھیتیاں ‘ طلع (گابھے ۔ خوشے) ‘ ھضیم (نرم و نازک) ‘ تنحتون (تم تراشتے ہو) ‘ فرھین (خوش ہونیوالے) ‘ المسرفین (حد سے بڑھنے والے) ‘ المسحرین ( جادو کے مارے ہوئے) ناقۃ (اونٹنی) ‘ شرب (پانی پینا) عقروا (انہوں نے پاؤں کاٹ ڈالے) ‘ ندمین (شرمندہ ہونے والے۔ پچھتانے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 159 : سورۃ الشعراء میں جن سات انبیاء کرام ؐ کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا گیا ہے ان میں سے چار انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب قوم ثمود کے حضرت صالح (علیہ السلام) کا ذکر مبارک کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 141–159

حضرت صالح (علیہ السلام) کا اپنی امت کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہوکر یہ تیسرے پیغمبر صالح (علیہ السلام) ہیں جو ہود (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ۔ قوم ثمود ان کی امت کا نام ہیے شروع میں حضرت صالح نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح اور ہود نے اپنی امت کو کی تھی پھر صالح نے فرمایا کہ کیا تم دنیا کے مزوں اور یہاں کی خوشیوں میں امن سے چھوڑ دیے جاؤ گے جو باغوں اور چشموں اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے نرم اور نازک خوشے ہوتے ہیں یعنی دنیا میں تم کو ہمیشہ مزے اڑانے کے لیے رہنا نہیں ایک مدت معین تک کچھ کھاپی لو، چین کرلو، کیا تم سمجھ رہے ہو کہ ہمیشہ یہاں رہنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 139–143

ف 1: حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب قوم سے کہا ۔ کہ مادیت پرستی میں اس قدر غلو کرنا تمہاری ہلاکت کا باعث ہوگا ۔ تو وہ ہنسے ۔ اور کہا ۔ کہ جناب آپ کے وعظ کا ہمارے دلوں پر قطعاً کوئی اثر نہیں ۔ ہم تو عیش و عشرت کی زندگی کو ایک معمولی اور ناگریز بات جانتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں یہ بہت بڑا جرم نہیں ۔ پہلی قوموں میں اس نوع کے جذبات موجود تھے ۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ۔ کہ ہم عذاب الٰہی سے ڈریں ۔ اور خائف ہوں ۔ قوم کے ان متبکرانہ جواب پر حضرت ہود بالکل مایوس ہوگئے ۔ تب اللہ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور ان کی الٹ دی گئیں اور تفاخر وتکبر کے علم سرنگوں کردیئے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ عاد کی تمام شان و شوکت خاک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 137–151

ف 2۔ مرد روسا و کفار ہیں جو گمراہی پر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے، اور فساد و عدم اصلاح سے یہی مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں : 143۔ یہ بات بھی تقریبا ہر داعی نے آکر کہی کہ میں ایک رسول امین ہوں اور یہ بات ہر داعی نے اس لئے کہی کہ ہر داعی کو جھٹلایا گیا کہ اس نے جو رسول ہونے کا دعوی کیا ہے تو وہ اس دعوی میں بالکل جھوٹا ہے کیوں ؟ سب سے بڑا اعتراض ہر امت کو یہی تھا کہ کبھی انسان وبشر بھی رسول ہو سکتا ہے گویا یہ گمراہی بھی ہر ایک قوم میں یکساں چلی آرہی تھی کہ رسول بشر نہیں ہوتا یہی وجہ ہوئی کہ جنہوں نے رسالت کا دعوی کرنے والے کو دیکھا انہوں نے بشر کو دیکھا لہذا انہوں نے اس کی رسالت سے انکار کردیا اور جن لوگوں نے رسالت کا دعوی کرنے والے کو نہیں دیکھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 128–148

Commentary Explanation of some difficult words أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِ‌يعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ ﴿128﴾ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ ﴿129﴾ Do you erect on every height a sign having no sound purpose, [ 128] and take the objects of architecture as if you are going to live forever, (26:128-129) Ibn Jarir (رح) has related from Mujahid (رح) that the passage between two hills is called Ri (ریع). But Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and majority have taken the meaning of Ri (ریع) as a high place, and its derivative is ri`-un-na bat' (ریع البنات), which means growing and climbing vegetation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 142–143

96 According to the Qur'an, the people of Prophet Salih themselves admitted that he was a man of great integrity and extraordinary calibre: "They said, 'O Salih, till now you were such a person among us of whom we had great expectations." (Hud: 62)

Read the full tafseer →