Ash-Shu'araa 26:123

Ash-Shu'araa · from ayah 123

26:123

كَذَّبَتْ عَادُ ١لْمُرْسَلِیْنَ ۟ۚۖكَذَّبَتۡ عَادُ اۨلۡمُرۡسَلِيۡنَ

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

'Aad denied the messengers

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:123

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

عادیوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

عاد کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قوم عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قوم نے عاد نے رسولوں کی تکذیب کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قوم عاد نے بھی جھٹلایا رسولوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

قوم عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قوم عاد نے رسولوں ؑ کو جھٹلایا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Ad gave the lie to the Messengers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The (people of) 'Aad rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani

The (people of) Aad rejected the messengers

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`Ad denied the Messengers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(The tribe of) A'ad denied the messengers (of Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

'Aad denied the messengers

— Saheeh International

The tribe of Ad rejected the Messengers.

— Muhammad Sarwar

Ad gave the lie to the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

The'Aad belied the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:123

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–135

ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 120–123

سورة الشُّعَرَآء 88 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 65 تا 72۔ ہود، 50 تا 60۔ مزید براں اس قصے کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی نگاہ میں رہیں حٰم السجدہ آیات 13۔ 16۔ الاحقاف، 21۔ 26 الذاریات، 41۔ 45۔ القمر 18۔ 22۔ الحاقہ 4۔ 8۔ الفجر 6۔ 8۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–127

خلاصہ تفسیر قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کی (برادری کے) بھائی ہود ؑ نے کہا کہ کیا تم (خدا سے) ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو، اور میری اطاعت کرو، اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی صلہ نہیں مانگتا، بس میرا صلہ تو رب العالمین کے ذمہ ہے، کیا تم (علاوہ شرک کے تکبر و تفاخر میں بھی اس درجہ مصروف ہو کہ) ہر اونچے مقام پر ایک یادگار (کے طور پر عمارت) بناتے ہو (تاکہ خوب اونچی نظر آوے) جس کو محض فضول (بلاضرورت) بناتے ہو اور (اس کے علاوہ جو رہنے کے مکان ہیں جن کی ایک درجہ ضرورت بھی ہے ان میں بھی یہ غلو ہے) کہ بڑے بڑے محل بناتے ہو (حالانکہ اس سے کم میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 123–126

آگے کا مضمون … آیات 140-123 یاد ہوگا۔ سابق سورة میں دو جلیل القدر نبیوں … حضرت موسیٰ اور حضرت نوح … کا ذکر کر کے درمیان کی قوموں کا ذکر صرف ان کا اجمالی حالہ دے کر چھوڑ دیا تھا۔ اس سورة میں آگے ان اقوام کے حالات کی تفصیل آرہی ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور بالآخر وہ کس انجام کو پہنچیں۔ ترتیب بیان بالکل تاریخی ہے اور ہر سرگزشت کے خاتمہ پر انہیں آیات کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہیں۔ سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔ آیت (126-123) تمام رسولوں کی ملت ایک ہے اس وجہ سے ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے مرسلین کے جمع لانے کی وجہ آیت 105 کے تحت بیان ہوچکی ہے کسی ایک رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 121–123

123-1عاد، ان کے جد اعلٰی کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نام پڑگیا۔ یہاں عاد قبیلہ تصور کر کے کَذَّبَتْ (صیغہ مؤنث) لایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 123–127

درس نمبر 165 تشریح آیات 123……تا……140 قوم ہود احقاف میں رہتی تھی۔ یہ حضر موت کے قریب یمن کی طرف ریت کے ٹیلے ہیں۔ یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی ترقی یافتہ قوم رہی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں کراہ ارض کو سرکشوں سے پاک کردیا تھا گیا جنہیں آپ کے بعد اپنی تقریر کی وجہ سے یہ لوگ سرکش ہوگئے۔ سورت اعراف میں ان کا قصہ متصلا آیا ہے۔ سورت ہود میں بھی آیا ہے۔ سورت مومنین میں یہ قصہ حضرت ہود کے ذکر کے بغیر آیا ہے۔ اس میں ان کا نام عاد بھی نہیں لیا گیا۔ یاں بھی اس قصے کو بڑے اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ہو داپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ قوم تکذیب کرتی ہے اور اللہ کی طرف سے مکذبین ہلاک کردیئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–129

3 ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے مضبوط منارے بنانے کا جس سے کچھ کام نہ نکلے، مگر نام ہوجائے اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف کی بناتے تھے مال ضائع کرنے کو۔ ان میں بڑی کاریگریاں دکھلاتے گویا یہ سمجھتے تھے کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ یادگاریں اور عمارتیں کبھی برباد نہ ہوں گی۔ (لیکن آج دیکھو تو ان کے کھنڈر بھی باقی نہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 120–128

آیت 128 اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ” تم لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہو۔ یہ فضول ریت ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرکثیر خرچ کر کے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 122–123

82 قوم نوح کے بعد جس قوم نے دنیا میں نامور اور سربلندی حاصل کی وہ یہی قوم عاد تپی جسے عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ یہ قوم اللہ تعالیٰ کی ہستی کی تو قائل تھی مگر شرک میں بری طرح مبتلا تھی۔ ان کا اصل وطن احقاف تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ اس قوم کا زمانہ عروج اڑھائی ہزارسال قبل مسیح کے لگ بھگ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 122–124

77۔ ھود، قوم عاد وغیرہ پر حاشیے سورة اعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” کذبت عاد “۔ لفظ عاد کے لیے فعل مؤنث قبیلہ عاد یا جماعت عاد کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ التانیث بمعنی القبیلۃ والجماعۃ (قرطبی) (آیت) ” اخوھم “۔ بھائی، ہم وطنی یا ہم نسلی کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–140

آیت نمبر 123 تا 140 ترجمہ : عادیوں نے بھی نبیوں کو جھٹلایا جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میں اس پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے کیا تم ہر اونچے مقام پر عمارت بناتے ہو یعنی مسافروں کے لئے نشانی حال یہ ہے کہ تم اپنے پاس سے گزرنے والوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہو اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے ہو (تَعْبَثُوْنَ ) جملہ ہو کر تَبْنُوْنَ کی ضمیر سے حال ہے اور زمین کے نیچے پانی کی ٹینک بناتے ہو گویا کہ دنیا میں تم کو ہمیشہ رہنا ہے مرنا نہیں ہے اور جب تم کسی پر ضرب و قتل کے ذریعہ داروگیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذبت عاد المرسلین۔ (قوم) عاد نے پیغمبروں کو جھوٹا مانا۔ عاد ‘ قوم عاد کے مورث اعلیٰ کا نام تھا لیکن اس جگہ قبیلہ مراد ہے اسی لئے کَذَّبَتْمؤنث کا صیغہ ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 123–124

(123۔ 124) قوم عاد نے حضرت ہود ؑ اور تمام ان پیغمبروں کو جن کا ہود ؑ نے ذکر کیا جھٹلایا جب کہ ان کے نبی نے فرمایا کیا تم غیر اللہ کی پرستش سے نہیں ڈرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 123–127

كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ۔۔ : نوح ؑ اور ان کے بعد چاروں انبیاء ؑ کے قصوں میں خاص طور پر تقویٰ اور اطاعت کے حکم اور تبلیغ رسالت پر کسی قسم کے بدلے کی نفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دینا ہے اور یہ کہ انبیاء ؑ دنیاوی طمع سے پاک ہوتے ہیں۔ 3 اس قصے کی اور نوح ؑ کے قصے کی ابتدائی آیات ایک جیسی ہیں، اس لیے ان کی تفسیر دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (65 تا 72) اور ہود (50 تا 60) مزید تفصیلات ان مقامات پر بھی ہیں، سورة حٰم السجدہ (13 تا 16) ، احقاف (21 تا 26) ، ذاریات (41 تا 45) ، قمر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 123–129

( کذبت عاد المرسلین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کذبت عاد المرسلین ثانیث قبیلہ اور جماعت کے معنی کی وجہ سے ہے۔ وہ مرسلین کو جھٹلاتے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ ہُوْدٌ اَ لَا تَتَّقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ معنی واضح ہے بحث گزر چکی ہے۔ اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ۔ ربع سے مراد وہ چیز ہے جو زمین سے بلند ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کا قول ہے : یہ ریعۃ کی جمع ہے کا ریع ارضک تیری زمین کی بلندی کتنی ہے۔ قتادہ نے کہا : ربع سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 123–140

1۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ ” اٰیۃ “ ‘ یعنی نشانی، آیت ” اٰیۃ تعبثون “ یعنی تم کھیلنے کے لیے بناتے ہو۔ 2۔ ابن جریر نے وابن لمنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے اونچی عمارتیں۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اتبنون بکل ریع “ سے مراد ہے راستہ۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو صخر سے روایت کیا کہ آیت ” الربع “ سے مراد ہے بڑے اور چھوٹے پہاڑوں کے درمیان راستہ کے سامنے جگہ۔ 5۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن اجریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 123–140

قصہ چہارم حضرت ہود (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت عاد ن المرسلین .... الیٰ .... لھو العزیز الرحیم۔ یہ چوتھا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا ہے جو قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے یہ قوم بڑی مالدار اور صالح سلطنت تھی۔ محض اپنی بڑائی اور نام آوری کے لیے بڑی بڑی عمارتیں بناتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) نے ان کو دنیا کی بےثباتی اور نا پائداری پر آگاہ کیا مگر وہ لوگ مال و دولت کے نشہ میں مست تھے کب سننے والے تھے بالآخر عذاب الہٰی سے نیست و نابود کر دئیے گئے۔ چناچہ فرماتے ہیں قوم عاد نے ایک ہود (علیہ السلام) کو کیا جھٹلا دیا۔ ساری پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان کے نسبی بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 120–123

50:۔ یہ چوتھی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم ھود “ تا ” ان اجری الا علی رب العلمین “ اس کی تفسیر ابھی گذری ہے۔ ” اتبنون بکل ریع الخ “ ریع بلند جگہ، آیۃ علامت، مینار، مصانع، عالیشان محلات۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت توحید دینے کے بعد متنبہ فرمایا کہ تم ہر بلند پہاڑ اور ٹیلے پر شان و شوکت کے اظہار کے لیے بےمقصد اونچے اونچے مینار بنا رہے ہو اور بڑی عالیشان عمارتیں تعمیر کر رہے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امیدیں باندھے بیٹھے ہو۔ ” واذا بطشتم الخ “ پہلا ’ بطشتم “ ‘ شرط اور دوسرا جزا ہے اور جبراین، بطشتم ثانی کے فاعل سے حال ہے یعنی دولت وریاس کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 123–131

ربط آیات یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ عَادُۨ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 123ۚۖ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 123–126

کَذَّبَتْ عَادُ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ ھُوْدٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَاتَّـقُواللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ ۔ (الشعرآء : 123 تا 126) (قومِ عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔ جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان کو آگاہ کیا کہ کیا تم لوگ ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک رسول امین ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ) حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کی قوم کی سرگزشت قومِ نوح کے بعد جس قوم نے بہت ترقی کی اور جسے بہت عروج حاصل ہوا وہ قوم عاد تھی جس کا ذکر اس رکوع میں ہوچکا ہے۔ قرآن کریم نے واضح طور پر قوم عاد کو قوم نوح کا خلیفہ قرار دیا۔ ان کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 120–123

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کی غرقابی کے بعد قوم عاد کا کردار اور انجام۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ھود کی قوم کا تذکرہ شروع ہوتا ہے نہ معلوم حضرت ھود نے اپنی قوم کو کتنا عرصہ کس کس انداز سے سمجھایا۔ ان کے سمجھانے کا انداز بھی وہی تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اختیار فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی قرار دیا کیونکہ وہ حسب ونسب کے اعتبار سے اپنی قوم کے فرد تھے۔ لیکن قوم عاد نے انھیں اسی طرح ٹھکرایا جس طرح قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ٹھکرایا تھا۔ حالانکہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انھیں بار بار نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کفر و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم عاد کا تذکرہ : 123: کَذَّبَتْ عَادُ الْمُرْسَلِیْنَ (قوم عاد نے رسولوں کو جھٹلا دیا) عادؔ قبیلہ کا نام ہے اصل میں قبیلہ کے بڑے آدمی کا نام ہے۔ ہود نے کہا تم کو ڈر نہیں ہے بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 120–123

120۔ ثم اغرقنا بعدالباقین۔ حضرت نوح کی کشتی کے علاوہ جتنے باقی تھے ان سب کو ڈبودیا اور ان کے اہل والوں کو بچالیا مگر وہ لوگ جو باقی رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–140

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 123–140

آیت 123 سے 140 یعنی عادنامی قبیلے نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی، ان کا ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ (اذ قال لھم اخوھم) ” جب ان کے بھائی نے انہیں کہا۔” یعنی نسبی بھائی (ھود) ” ہود (علیہ السلام) نے “ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا : (الا تتقون) ” کیا تم ڈرتے نہیں۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ (انی لکم رسول امین) ” میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 122–123

69 ایک رسول کی تکذیب سب کی تکذیب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قوم عاد نے بھی جھٹلایا رسولوں کو "۔ سو جھٹلایا تو ان لوگوں نے اصل میں اپنے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) ہی کو تھا مگر حضرات انبیائے کرام کی بعثت اور تشریف آوری کا اصل مقصد چونکہ ایک ہی اور مشترک مقصد ہوتا ہے۔ یعنی توحید اور عبودیت خداوندی کی دعوت۔ اس لئے ایک پیغمبر کی تکذیب دراصل سب ہی انبیاء ورسل کی تکذیب قرار پاتی ہے۔ اس لئے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے سب رسولوں کی تکذیب کی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرت ہود کے تذکرہ کے ضمن میں یہاں پر فرمایا گیا۔ سو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ حضرت ہود ان کیلئے کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 122–140

قوم عاد کا تذکرہ تشریح : سورة الاعراف اور سورة ھود میں تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جسمانی مالی اور تمدنی لحاظ سے یہ قوم بےمثال تھی۔ وہ لوگ بجائے اللہ کا شکر کرنے کے انتہائی مغرور، سرکش اور نافرمان لوگ تھے۔ سیدنا ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید اور نیکی کی طرف بلانے کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ نافرمان بالکل نہ مانے آخر اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور بالکل تباہ و برباد ہوگئے۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل شدید آندھی نے ان کو الٹ کر رکھ دیا اور یہ صرف ان کی نافرمانی اور بےراہروی کی سزا تھی۔ اللہ ہر چیز پر غالب ہے۔ بروں کو بڑی مہلت دیتا ہے کیونکہ مہربان ہے مگر آخر عذاب دینا اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں یہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–140

آیات 123 تا 140 اسرار و معارف : ایسا ہی حال قوم عاد کا ہے جس نے اللہ کے رسولوں کی بات کا انکار کیا جبکہ ان کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو ان کے قومی بھائی تھے۔ اور انہیں وہی دعوت پہنچائی کہ اللہ سے ڈرو اور اپنے کردار کی اصلاح کرو۔ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور نہایت امانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا خوف خدا اختیار کرو اور میری بات مانو جس کا تم سے کوئی معاوضہ بھی طلب نہیں کرتا بلکہ اپنی اجرت کا اللہ سے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے امیدوار ہوں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ ہر وادی میں تم سے بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کی ہیں اور ضرورت سے زائد بڑے بڑے محل بناتے ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 119–123

10 ۔ عاد اس قوم کے ” جد اعلیٰ “ کا نام تھا۔ عرب عموماً اپنے مح اور ات میں کسی بڑے قبیلے یا قوم کو اس کے ” جد اعلیٰ “ کے نام سے تعبیر کرلیتے ہیں جیسا کہ نبی یا آل فلاں کہہ دیتے ہیں۔ (روح) ان کا مسکن حضرموت کے قریب اس جگہ تھا جس اب ” ربع خالی “ کہا جاتا ہے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت 315 اس قوم نے اگرچہ صرف حضرت ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا دراصل تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ” عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا “۔ کما… فی قصہ نوح۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–140

لغات القرآن : آیت نمبر 123 تا 140 : اتبنون ( کیا تم تعمیر کرتے ہو) ‘ ریع (بلندی اونچائی) ‘ تعبثون ( بلا ضرورت کام کرتے ہو) ‘ مصانع (شان دار۔ مضبوط) تخلدون (تم ہمیشہ رہوگے) ‘ بطشتم (تم نے پکڑا۔ گرفت میں لیا) ‘ جبار ین ( زبردستی کرنے والے۔ ظالم لوگ) ‘ امدکم (اس نے تمہاری مدد کی) ‘ انعام (مویشی جانور) بنین (بن) بیٹے ‘ سوائ (برابر) ‘ وعظت (تونے نصیحت کی) ‘ خلق (عادتیں۔ رسمیں۔ اخلاق) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 123 تا 140 : سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلامی کی سربلندی کے لئے جدوجہد ‘ کچھ لوگوں کا ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–140

حضرت ہود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) اوپر حضرت نوح اور ان کی امت کا ذکر تھا نوح کے بعد دوسرے نبی ہود (علیہ السلام) گزرے ہیں اس میں ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں حضرت ہود نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح نے اپنی امت کو کی تھی حضرت نوح کا پڑپوتا ایک شخص عاد تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں فرمایا یہ لوگ جو اونچے مکان اور بلند جگہیں اپنی شہرت اور فخر کے لیے بناتے ہیں اور یہ لوگ بڑی لاگت کے اور کاریگری کے مکان تیار کراتے ہیں دنیا کے اندر ہمیشہ رہنے کی امید میں یہ ان کے لیے کوئی فائدہ مند نہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے ہود (علیہ السلام) نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–165

[24] یعنی دنیا بھر میں تم ہی ہو جو شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 120–125

(ف 1) بھلا وہ لوگ جن کی عمر کا حاصل بھی تقوی واعظ کا جذبہ ہے کیونکر اس قسم کی تعلیم کو قبول کرسکتے تھے ۔ حضرت نوح نے ان کے اس بغض وعناد کو دیکھ کر اللہ سے دعا کی ۔ کہ مولا یہ لوگ تکذیب کی آخری حد کو پہنچ چکے ہیں ۔ اور اب اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ۔ اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصلہ کرلیجئے ۔ چنانچہ حضرت نوح کی پکار سنی گئی ۔ اور یہ منکرین باحسرت و یاس طوفان میں نیست ونابود ہوگئے ۔ ارشاد ہے کہ اس قصہ میں بھی مشرکین مکہ کے لئے نصیحت وتذکیر کی نشانی ہے ۔ مگر ان میں اکثر لوگ اثر پذیری کی دولت سے محروم ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(123) اور عاد والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں تک تکذیب کی عاد اور ثمود عرب کی مشہور بستیاں ہیں حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو عاد کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–129

ف 4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دیکھو قوم عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اس لئے ان کا تذکرہ بھی کرو : 123۔ قوم عاد کا ذکر قرآن کریم کی 9 سورتوں میں کیا گیا ہے یعنی الاعراف ‘ ہود ‘ المومنون ‘ الشعرائ ‘ فصلت ‘ الاحقاف ‘ الذاریات ‘ القمر اور الحاقہ میں عاد قوم وہی قوم ہے جس کی طرح سیدنا ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اس کا مفصل ذکر سورة الاعراف کی آیت 65 میں اور سورة ہود کی آیت 50 تا 89 میں کیا گیا ہے اس لئے تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الاعراف اور ہود کی مذکورہ آیات کی تفسیر دیکھیں ، قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہی یہ قوم زیادہ تر عاد قوم کے نام سے معروف تھی اور دوسرے انبیاء ورسل کی قوموں کی طرح یہ قوم اپنے نبی ہود کے نام سے اتنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 111–127

Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْ‌ذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112) It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–123

88 For comparison, see Al-A'raf: 65-72, Hud: 50-60; and for further details of this story, see Ha Mim Sajdah: 13-16, AI-Ahqaf: 21-26, Az-Zariyat: 4145, AI-Qamar :18-22, Al-Haqqah: 4-8, and AI-Fajr: 6-8.

Read the full tafseer →