Ash-Shu'araa 26:121

Ash-Shu'araa · from ayah 121

26:121

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ— وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً‌  ؕ وَّمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 6 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:121

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس میں بہت بڑی عبرت ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے تھے بھی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی ہے۔ مگر ان میں اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اندر کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ایمان والے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اس ماجرے میں (بھی بڑا) نشان ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there is a Sign in this, but most of them would not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein is indeed a portent, yet most of them are not believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

In this there is evidence (of the truth) but most of them do not have any faith.

— Muhammad Sarwar

Most surely there is a sign in this, but most of them do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Verily herein is a sign, yet most of them are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in this is a Sign: but most of them do not believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:121

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 116–122

تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 120–123

سورة الشُّعَرَآء 88 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 65 تا 72۔ ہود، 50 تا 60۔ مزید براں اس قصے کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی نگاہ میں رہیں حٰم السجدہ آیات 13۔ 16۔ الاحقاف، 21۔ 26 الذاریات، 41۔ 45۔ القمر 18۔ 22۔ الحاقہ 4۔ 8۔ الفجر 6۔ 8۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 111–122

شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 121–122

آیت 22-121) ترجیح یہ آخر میں وہی ترجیح ہے جس کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو تاریخ کی اس سرگزشت میں بہت بڑی نشانی موجود ہے لیکن یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں۔ یہ ایمان نہ لانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور ان کی اکثریت کوئی بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی ایمان لانے والی نہیں ہے۔ تمہارا رب جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے لیکن وہ ان کو اس لئے مہلت دے رہا ہے کہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 121–123

123-1عاد، ان کے جد اعلٰی کا نام تھا، جس کے نام پر قوم کا نام پڑگیا۔ یہاں عاد قبیلہ تصور کر کے کَذَّبَتْ (صیغہ مؤنث) لایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 116–122

قالوا لئن ……المرجومین (116) ’ اب سرکشی ننگی ہو کر سامنے آگئی۔ گمراہی نے اپنے ذرائع اور اوچھے ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیئے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ملعوم تھا کہ یہ سنگ دل کوئی نرمی قبول نہیں کرتے۔ اب حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتے ہیں وہ اپنے والی مددگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جن کے سوال اہل ایمان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–129

3 ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے مضبوط منارے بنانے کا جس سے کچھ کام نہ نکلے، مگر نام ہوجائے اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف کی بناتے تھے مال ضائع کرنے کو۔ ان میں بڑی کاریگریاں دکھلاتے گویا یہ سمجھتے تھے کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ یادگاریں اور عمارتیں کبھی برباد نہ ہوں گی۔ (لیکن آج دیکھو تو ان کے کھنڈر بھی باقی نہیں)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 120–128

آیت 128 اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ” تم لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہو۔ یہ فضول ریت ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرکثیر خرچ کر کے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 یعنی حضرت نوح کی قوم کے انجام سے بھی عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حق کو ٹھکرانے والوں کو نیست و نانود کردیتا ہے اور اپنے انبیاء اور مومنوں کو ظالموں کے پنجہ سے نجات دلا کر انھیں باقی رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 117–121

76۔ (ہماری قوت اور قدرت انتقام کا) قوم نوح (علیہ السلام) کی غرقابی پر مفصل حاشیے سورة ہود وغیرہ میں گزر چکے۔ (آیت) ” فافتح بینی وبینھم فتحا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو شخص دین کو ضرر پہنچا رہا ہو اس کے لیے بددعا کرنا کمال صبر وحلم کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–122

آیت نمبر 105 تا 122 ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لایۃ بیشک اس قصہ میں عظیم الشان نشانی ہے (جو دنیا میں بطور تواتر مشہور ہے) ۔ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اور قوم نوح میں اکثر مؤمن نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 121–122

(121۔ 122) اس واقعہ میں بھی بعد میں آنے والوں کے لیے بڑی عبرت ہے اور ان میں اکثر مومن نہیں تھے بلکہ سب ہی کافر تھے اور آپ کا رب سزا دینے میں بڑا زبردست ہے کہ ان لوگوں کو طوفان کے ذریعے سے غرق کردیا اور مومنین پر مہربان ہے کہ ان کو غرق ہونے سے بچا لیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 121–122

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً۔۔ : ان آیات کی تفسیر سورت کے شروع میں آیت (8، 9) کے تحت گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 111–122

قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–122

قوم نوح کا تذکرہ 1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ 4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ 6۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–123

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 105–122

قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 120–123

50:۔ یہ چوتھی نقلی دلیل اور تخویف دنیوی ہے۔ ” اذ قال لھم اخوھم ھود “ تا ” ان اجری الا علی رب العلمین “ اس کی تفسیر ابھی گذری ہے۔ ” اتبنون بکل ریع الخ “ ریع بلند جگہ، آیۃ علامت، مینار، مصانع، عالیشان محلات۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کو دعوت توحید دینے کے بعد متنبہ فرمایا کہ تم ہر بلند پہاڑ اور ٹیلے پر شان و شوکت کے اظہار کے لیے بےمقصد اونچے اونچے مینار بنا رہے ہو اور بڑی عالیشان عمارتیں تعمیر کر رہے ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امیدیں باندھے بیٹھے ہو۔ ” واذا بطشتم الخ “ پہلا ’ بطشتم “ ‘ شرط اور دوسرا جزا ہے اور جبراین، بطشتم ثانی کے فاعل سے حال ہے یعنی دولت وریاس کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–122

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً ۝ 0 ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 121 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–123

تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟ قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 121–122

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 121، 122) (بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیزورحیم ہے۔ ) یہ آخر میں وہی آیت ترجیع ہے جو اس سے پہلے بھی تین دفعہ گزر چکی ہے۔ روئے سخن قریش کی طرف ہے کہ یہ بار بار آپ ﷺ سے نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو واقعی کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو طوفانِ نوح سے بڑی نشانی اور کیا ہوگی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی پوری سرگزشت بجائے خود ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ اگر نشانی سے ہی ایمان لانا ہے تو پھر اس نشانی پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 120–123

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کی غرقابی کے بعد قوم عاد کا کردار اور انجام۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ھود کی قوم کا تذکرہ شروع ہوتا ہے نہ معلوم حضرت ھود نے اپنی قوم کو کتنا عرصہ کس کس انداز سے سمجھایا۔ ان کے سمجھانے کا انداز بھی وہی تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اختیار فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی قرار دیا کیونکہ وہ حسب ونسب کے اعتبار سے اپنی قوم کے فرد تھے۔ لیکن قوم عاد نے انھیں اسی طرح ٹھکرایا جس طرح قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ٹھکرایا تھا۔ حالانکہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انھیں بار بار نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کفر و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 121–122

121، 122: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ : وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ (بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہ تھی۔ اور بیشک آپ کا رب البتہ زبردست نہایت مہربان ہے) العزیزؔ (جو آدمی انکار کرے اور کفر پر اصرار کرے ان سے سخت انتقام لینے والا) ۔ الرحیمؔ (ایمان کا اقرار کرنے والے موحدین کی مدد کر کے ان پر انعامات کرنے والے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 120–123

120۔ ثم اغرقنا بعدالباقین۔ حضرت نوح کی کشتی کے علاوہ جتنے باقی تھے ان سب کو ڈبودیا اور ان کے اہل والوں کو بچالیا مگر وہ لوگ جو باقی رہ گئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 105–122

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–122

آیت 105 سے 122 اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–191

قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 119–121

68 نشانی عبرت میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔ اس پر کہ کفر و باطل کا آخری انجام بہرحال تباہی اور ہلاکت ہے۔ خواہ اس کے لئے ان کو کتنی ہی ڈھیل اور مہلت کیوں نہ ملے۔ اور آخری غلبہ اور کامیابی حق اور اہل حق ہی کے لئے ہے خواہ اس کے لئے ان کو ابتلاء و آزمائش کی کتنی ہی بھٹیوں سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ لِلَّتْقٰوی } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ للْمُتََّقِیْنَ } ۔ پس مومن کی شان اور اس کا کام یہ اور صرف یہ ہے کہ وہ راہ حق و صواب پر ثابت قدم و مستقیم رہے۔ اور بھروسہ ہمیشہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–121

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 105–122

آیات 105 تا 122: اسرار و معارف : نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا : نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 119–123

10 ۔ عاد اس قوم کے ” جد اعلیٰ “ کا نام تھا۔ عرب عموماً اپنے مح اور ات میں کسی بڑے قبیلے یا قوم کو اس کے ” جد اعلیٰ “ کے نام سے تعبیر کرلیتے ہیں جیسا کہ نبی یا آل فلاں کہہ دیتے ہیں۔ (روح) ان کا مسکن حضرموت کے قریب اس جگہ تھا جس اب ” ربع خالی “ کہا جاتا ہے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت 315 اس قوم نے اگرچہ صرف حضرت ہود ( علیہ السلام) کو جھٹلایا لیکن چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا دراصل تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے۔ اس لئے فرمایا گیا کہ ” عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا “۔ کما… فی قصہ نوح۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 121–122

(26:121) اکثرھم۔ میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب قوم نوح کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–122

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 : الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 : سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–122

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔ (ف 1) نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، اے کاش اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا، اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا، قوم کے لوگوں نے نوح کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے بازنہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے سنگسار کردیں گے۔ آخرمجبور ہوکر نوح نے بددعا کی اور سوائے نوح اور ان کے فرمابرداروں کے باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 120–125

(ف 1) بھلا وہ لوگ جن کی عمر کا حاصل بھی تقوی واعظ کا جذبہ ہے کیونکر اس قسم کی تعلیم کو قبول کرسکتے تھے ۔ حضرت نوح نے ان کے اس بغض وعناد کو دیکھ کر اللہ سے دعا کی ۔ کہ مولا یہ لوگ تکذیب کی آخری حد کو پہنچ چکے ہیں ۔ اور اب اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ۔ اس لئے ہمارے اور ان کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصلہ کرلیجئے ۔ چنانچہ حضرت نوح کی پکار سنی گئی ۔ اور یہ منکرین باحسرت و یاس طوفان میں نیست ونابود ہوگئے ۔ ارشاد ہے کہ اس قصہ میں بھی مشرکین مکہ کے لئے نصیحت وتذکیر کی نشانی ہے ۔ مگر ان میں اکثر لوگ اثر پذیری کی دولت سے محروم ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(121) بلاشبہ ! نوح (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 119–129

ف 4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ اس واقعہ میں نشانی ہے لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں : 121۔ زیر نظر آیت وہی آیت ہے جو پیچھے آیت 103 کے طور پر گزر چکی کہ قوموں کی داستان بھی بڑی عجیب ہے کہ وہ ہمیشہ نشانی کی طب میں رہیں اور نشانی بھی ان کی آنکھوں کے سامنے رہی اور اس نشانی کو انہوں نے نشانی ماننے سے ہمیشہ انکار کیا یہاں تک کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لئے خود ایک نشانی ہوگئے اور یہ گاڑی اسی طرح چلتی رہی اور کسی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا بلکہ وہ منہ اٹھائے آگے ہی آگے چلتے رہے غور کیجئے کہ کیا سیدنا نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت میں قوم ابراہیم کے لئے نشانی نہیں تھی ؟ یقینا تھی لیکن قوم ابراہیم نے اس نشانی سے کچھ بھی فائدہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 111–127

Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْ‌ذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾ They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112) It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–123

88 For comparison, see Al-A'raf: 65-72, Hud: 50-60; and for further details of this story, see Ha Mim Sajdah: 13-16, AI-Ahqaf: 21-26, Az-Zariyat: 4145, AI-Qamar :18-22, Al-Haqqah: 4-8, and AI-Fajr: 6-8.

Read the full tafseer →