Explained with ayahs 111–115
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے
قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
سورة الشُّعَرَآء 82
یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان کے اعتراض کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ جو لوگ غریب، محنت پیشہ اور ادنیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والے ہیں یا معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں کوئی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی، اور وہ علم و عقل اور سمجھ بوجھ سے عاری ہوتے ہیں، اس لیے نہ ان کا ایمان کسی فکر و بصیرت پر مبنی، نہ انکا اعتقاد لائق اعتبار، اور نہ ان کے اعمال کا کوئی وزن۔ حضرت نوح ؑ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آ کر ایمان لاتا ہے اور ایک عقیدہ قبول کر کے اس کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے، اس کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–122
شرافت و رذالت اعمال و اخلاق سے ہے نہ کہ خاندان اور جاہ و چشم سے
قَالُـوْٓا اَنُؤ ْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ ، قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس آیت میں اول مشرکین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت نوح ؑ پر ایمان لانے سے انکار کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں ؟ نوح ؑ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں۔ اس میں اشارہ فرما دیا کہ تم لوگ جو خاندانی شرافت یا مال و دولت اور عزت و جاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو یہ غلط ہے بلکہ مدار عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا دراصل اعمال و اخلاق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
آیت 115-112
شرافت و رذات کا انحصار آدمی کے اعمال پر ہے
حضرت نوح نے ان کے اس معارضے کا جواب دیا اور سبحان اللہ کتنا بلیغ جواب دیا ! فرمایا کہ مجھے کال معلوم کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ شرافت و رذالت کا انحصار تو آدمی کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ نسب و خاندان اور مال و جائیداد پر، تو مجھے کیا معلوم کہ اب تک ان کا عمل کیا رہا ہے ؟ ان کے ماضی کا احتساب میرے رب کے ذمہ ہے۔ میرے سامنے تو ان کا حاضر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے اور اس سے ڈرنے والے ہیں۔
لوتشعرون یعنی اگر اس حقیقت کا احساس تمہیں بھی ہوتا تو تم بھی وہی کہتے جو میں کہہ رہا ہوں لیکن تمہارے ذہنوں میں یہ خناس…
Read the full tafseer →113-1یعنی ان کے ضمیروں اور اعمال کی تفتیش یہ اللہ کا کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–119
23: کافروں کے مذکورہ اعتراض میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ نچلے درجے کے لوگ سوچ سمجھ کر دل سے ایمان نہیں لائے ہیں، بلکہ کسی ذاتی مفاد کی خاطر آپ کے ساتھ ہو لیے ہیں۔ اس جملے میں اس کا جواب ہے کہ اگر بالفرض ان کے دل میں کوئی اور بات ہے بھی، تو میں اس کی تحقیق کا مکلف نہیں ان کا حساب اللہ تعالیٰ خود لے لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
قال وما علمی ……نذیر مبین (115)
یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
7 یعنی مجھے ان کا صدق و ایمان قبول ہے، ان کے پیشے یا نیت اور اندرونی کاموں کے جاننے سے کیا مطلب۔ اس کا فیصلہ اور حساب تو پروردگار کے یہاں ہوگا۔ باقی میں تمہاری خاطر سے غریب ایمانداروں کو اپنے پاس سے دھکے نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–118
آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ”
یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔
وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
اہل ایمان میں سے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
76 ان دو آیات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مجھے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ جو لوگ تمہاری نظروں میں مکتبہ ہیں وہ کیا پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ موچی ہیں یا جولا ہے ہیں یا لوہار ہیں یا کمہار ہیں مجھے یہ معلوم کرنے سے کوئی مطلب نہیں۔ مجھے مطلب ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اور میرے ساتھی ہیں۔ باقی ان کا پیشہ کیا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آکر ایمان لاتا ہے اور میرے کہنے کے مطابق اس پر عمل کرنے لگتا ہے تو اس کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا نہ میرا کام ہے نہ تمہارا بلکہ یہ اللہ کا کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
74۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ مجھے ان کی پیشوں، حرفوں، صناعتوں کے اعلیٰ وادنی ہونے سے کیا بحث، اور اگر ان کا ایمان دل سے نہیں، صرف زبان سے ہے، جب بھی میرے اوپر کیا ذمہ داری۔ وہ جانے ان کا خدا جانے۔ میں بہرحال انہیں اپنے پاس سے تمہارے خوش کرنے کو ہٹا سکتا ہوں، میرا فرض تبلیغ پر ختم ہوجاتا ہے، دلوں کی ٹٹول اور احتساب میرا کام نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت نمبر 105 تا 122
ترجمہ : قوم نوح نے حضرت نوح کی تکذیب کرکے تمام رسولوں کی تکذیب کا ارتکاب کیا ان سب کے توحید کے لانے میں مشترک ہونے کی وجہ سے یا ان کے اپنی قوم میں طویل زمانہ تک قیام کرنے کی وجہ سے گویا کہ وہ کئی رسولوں کے قائم مقام تھے (لفظ) قوم اپنے معنی کے اعتبار سے مؤنث ہے اور اپنے لفظ کے اعتبار سے مذکر جبکہ ان سے ان کے نسبی بھائی نوح نے فرمایا کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ہو ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں اس پیغام کے پہچانے میں جس کو مجھے دیکھ بھیجا گیا ہے لہٰزا تم اللہ سے ڈرو اور اللہ کی توحید اور اس کی طاعت میں جس کا میں تم کو حکم کروں میری اطاعت کرو میں تم سے اس پر…
Read the full tafseer →ان حسابہم الا علی ربی (رہی ان کے باطن کی حالت تو) ان کی حساب فہمی کا اللہ ذمہ دار ہے۔ وہی باطن احوال سے واقف ہے۔
لو تشعرون۔ اگر تم کو شعور ہوتا (تو اس بات کو سمجھ جاتے) مگر اللہ نے تو تمہارے حواس ادراکِ حق سے معطل کردیئے ہیں تمہارا نور بصیرت نابینا ہوگیا۔
فراء نے یہ مطلب بیان کیا اگر تم ذی علم ہوتے تو پیشوں کی وجہ سے ان کو ذلیل نہ سمجھتے۔ زجاج نے کہا پیشوں سے دینداری کو ضرر نہیں پہنچتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(112۔ 113) حضرت نوح ؑ نے فرمایا اس چیز کا تو مجھے علم نہیں کہ ان کو توفیق حاصل ہوگی یا تمہیں ان کا ثواب دینا اور ان سے حساب کتاب لینا بس اللہ کا کام ہے کیا خوب ہوتا کہ تم اس کو سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
قَالَ وَمَا عِلْمِىْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔۔ : یعنی مجھے تو اللہ کا راستہ بتانے سے غرض ہے نہ کہ ان کے پیشوں سے۔ وہ کمائی کے لیے جو بھی کام کریں یا جو بھی پیشہ اختیار کریں، اگر وہ جائز ہے تو وہ اپنے ایمان دار ہونے کی وجہ سے ان مغرور مال داروں سے افضل ہیں جو اللہ کی نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، مجھے تو ظاہری ایمان کو دیکھنا ہے، ان کی نیتوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہی ان کا حساب کرے گا۔ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–122
قالوا انومن لک واثثعک الا ردلون۔۔۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 :۔ قالوانومن لک انہوں نے کہا : کیا ہم آپ کے قول کی تصدیق کریں۔ واتبعک الا ردنون وائو حالیہ اس میں قد ہے تقدیر کلام یہ ہے وقد اتبعک الا رزلون، یہ ارزل کی جمع ہے جمع مسکر ارازل، مونث ردنی اس کی جمع رذل ہے۔ نحاس نے کہا : جن نحویوں کو ہم جانتے ہیں ان میں سے کسی کے نزدیک بھی اس میں سے الف لام کا حذف جائز نہیں۔ حضرت ابن مسعود، ضحاک، یعقوب حضرمی اور قراء نے اسے وانما اتباعک الا رزلون پڑھا ہے نحاس نے کہا : یہ اچھی قرأت ہے اس وائو کے بعد اکثر اسماء آتے ہیں اور افعال قد کے بعد آتے ہیں اتباع یہ تبع اور تبیع کی جمع ہے یہ لفظ واحد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قوم نوح کا تذکرہ
1۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” قالوا انومن لک “ یعنی کیا ہم تیری تصدیق کریں۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ یعنی تیری تابعداری کی ہے گھٹیا لوگوں نے یعنی جولا ہوں نے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے نیچے درجے کے کمینے لوگ
4۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واتبعک الارذلون “ سے مراد ہے جولا ہے۔
5۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ان حسابہم الا علی ربی “ یعنی اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔
6۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →اِنْ [ نہیں ہے ] ان [ نہیں ہے ] حِسَابُهُمْ [ ان کا حساب ] اِلَّا [ مگر ] عَلٰي رَبِّيْ [ میرے رب پر ] لَوْ [ کاش ] تَشْعُرُوْنَ [ تم شعور رکھتے ہوتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی
مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔
آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
قصہ سوم حضرت نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ کذبت قوم نوح ن المرسلین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
یہ تیسرا قصہ نوح (علیہ السلام) کا ہے اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کی تکذیب پر صبر کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے اول اپنی قوم کو خدا سے ڈرایا۔ الا تتقون۔ بعد ازاں اپنی رسالت اور امانت کو بتلایا۔ انی لکم رسول امین۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی طرح نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں امانت و صداقت کے ساتھ مشہور و معروف تھے چناچہ فرماتے ہیں قوم نوح (علیہ السلام) نے سارے رسولوں کو جھٹلایا۔ کیونکہ سب رسولوں کا دین ایک ہے اور ایک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
47:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میرا کام ظاہر حال پر حکم لگانا ہے باطن کا حال مجھے معلوم نہیں۔ ” ان حسابھم الخ ‘ تمہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ باطن کا حساب کتاب تو اللہ کو معلوم ہے۔ میرا کام ظاہر پر حکم لگانا ہے اس لیے جو لوگ شرک سے تائب ہو کر توحید پر ایمان لا چکے ہیں میں ان کو اپنے پاس سے ہٹا نہیں سکتا۔ ” ان انا الا نذیر مبین “ کیونکہ میرا کام لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے خواہ وہ اشراف ہوں یا ارذال اور پھر ان دونوں فریقوں میں سے جو بھی میری دعوت قبول کرلے گا وہ مومن ہے اور میرا ساتھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی…
Read the full tafseer →اِنْ حِسَابُہُمْ اِلَّا عَلٰي رَبِّيْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ 1 13ۚ
حسب
الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96]
( ح س ب ) الحساب
کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–123
تفسیر : : یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ ہے اس کے شروع میں بھی وہی الفاظ ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کے ابتداء میں تھے اس لیے ان کی تفسیر کی بار دیگر ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ صرف ان کلمات کی تفسیر کی جاتی ہے جو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دعوت میں فرمائے تھے اور پھر قوم نے ان کو کیا جواب دیا تھا ؟
قوم ہود کی عادت : (1) اتبنون بکل ریع آیۃ تعبثون ریع بلند جگہ آیۃ نشان 2 ؎۔ قوم عاد عرب میں ایک بڑی مالدار قوم تھی ان میں سلطنت بھی تھی ایک زمانہ تو ان کی سلطنت و شوکت کا ایسا گزرا ہے کہ مصر سے لے کر ترکستان اور ہندتک ایشیاء کے اکثر ملکوں میں انہیں کا پھریرہ ہوا میں اڑتا تھا جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ اِنْ حِسَابُھُمْ اِلاَّ عَلٰی رَبِّیْ لَوْتَشْعُرُوْنَ ۔ وَمَـآ اَنَا بِطَارِدِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اِنْ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الشعرآء : 112 تا 115)
(کہا مجھے اس کی کیا خبر جو وہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، اگر تم سمجھو۔ اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ )
طبقہ امراء کے معارضے کا جواب
ان آیات میں طبقہ امراء کے معارضے کا جواب ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ شرافت و رذالت کا انحصار تو آدمی کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ نسب و خاندان اور مال و جائیداد پر۔ اور نہ علم و دانش مال و دولت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال سمجھایا۔ (العنکبوت : 14) لیکن قوم نے انھیں بدتر سے بدترین جواب دیا یہاں تک کہ انھوں نے کہا اے نوح ! اگر تو عقیدہ توحید کی دعوت سے باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے جان سے مار دیں گے۔
” نوح نے عرض کی اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت دی لیکن میری دعوت دینے سے وہ اور زیادہ دوری اختیار کرتے گئے۔ جب بھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے آپ پر کپڑے ڈال لیے۔ ہٹ دھرمی اور تکبر اختیار کیا پھر میں نے انہیں…
Read the full tafseer →113: کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی ایمانی رذالت کے باوجود ان ایمان والوں پر طعنہ زنی کی اور کہنے لگے کہ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں جو ایمان یہ ظاہر کر رہے ہیں وہ ان کے دلوں میں پایا نہیں جاتا۔ اس پر نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میرے ذمہ تو صرف ظاہر پر اعتبار کرنا ہے۔ بواطن و سرائر کی تفتیش میری ذمہ داری نہیں۔ اِنْ حِسَابُھُمْ اِلَّا عَلٰی رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَ ان کی حساب فہمی کے اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہیں اگر تم کو شعور ہوتا) اللہ تعالیٰ ان سے اس چیز کا حساب لیں گے جو ان کے قلوب میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–115
113۔ ان حسابھم، ان کا حساب ہمارے اوپر نہیں۔ الاعلی ربی لوتشعرون، اگر تم ان کو جان لیتے تو ان کے اس فعل پر عبث ہونے کا الزام نہ لگاتے۔ زجاج نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ ان کاپی سے سے دین پر کوئی ضرر نہیں ہوتا۔ بعضنے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ ان کو ہدایت دے گایا ان کو گمراہ کرے گا، یا ان کو رسوا کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیت 105 سے 122
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنے رسول نوح (علیہ السلام) جو جھٹلایا، نیز نوح (علیہ السلام) نے ان کے شرک کو رد کیا اور انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چناچہ فرمایا : (کذبت قوم نوح المرسلین) ” نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ “ گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لئے کہ تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء ومرسلین لے کر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–191
قول باری ہے : (الا من اتی اللہ بقلب سلیم) بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ ایک قول کے مطابق آپ نے سلامتی قلب کی دعا اس لئے مانگی تھی کہ جب دل سلامت ہوتا ہے تو تمام اعضاء وجوارح بگاڑ سے بچ جاتے ہیں کیونکہ اعضا میں بگاڑ اور فساد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل میں بگاڑ کا ارادہ جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ جہالت بھی شامل ہوجائے تو دل دو طرفہ طور پر سلامتی سے محروم ہوجاتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (الی لا علم مضغۃ اذا صلحت صلح البدن کلہ واذا فسدت فسد المجسد کلہ الاوھی القلب۔ مجھے گوشت کے ایک ایسے لوتھڑے کا علم ہے کہ اگر وہ درست رہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–115
64 پیغمبر کا اصل کام انذار اور بس : سو حضرت نوح نے ان لوگوں کے اس متکبرانہ مطالبے کو ٹھکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں ایسے ایمانداروں کو اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔ میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے کھول کر یعنی حق اور حقیقت کو واضح کر کے۔ سو اس سے آنجناب نے واضح فرما دیا کہ رِ شرافت تقویٰ و طہارت اور عمل و کردار ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب۔ سو حضرت نوح نے اپنے جواب سے اپنی پوزیشن اور اپنے فرض منصبی کو بھی واضح فرما دیا اور یہ بھی بتادیا کہ شرافت اور رذالت کا مدار انسان کے عمل و کردار پر ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت پر۔ یعنی میرے یہاں تو اصل اعتبار دولت ایمان کا ہے اور وہ ان خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–121
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیلات سورة الاعراف ‘ یونس ‘ ھود ‘ بنی اسرائیل ‘ الانبیاء ‘ المومنون اور الفرقان میں گزر چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ اس کا ہلکا سا بیان ہو رہا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ ہر نبی اور ہر قوم ایسے ہی مراحل سے گزری ہے۔ مثلاً نبی ہمیشہ دلیل کے طور پر دو باتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے جیسا بندہ ہوں میری سیرت و کردار تمہارے سامنے ہے۔ جو کہ بالکل پاک صاف ہے دوسرا یہ کہ دعوت توحید اور کفر و شرک سے بچائو کی جو تدبیریں علم اور قانون جو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کے لیے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
آیات 105 تا 122:
اسرار و معارف :
نبی اور رسول کو نہ ماننا گویا منصب نبوت کا انکار شمار ہوگا جیسے سب کا انکار کردیا :
نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا کہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کرکے گویا انہوں نے منصب نبوت و رسالت کا انکار کیا جو تمام انبیاء کا انکار شمار ہوا۔ اور نوح (علیہ السلام) ان کے لیے کوئی غیر معروف آدمی نہ تھے ان کے قومی بھائی تھے جن کی ذات سے وہ بخوبی واقف تھے مگر جب انہوں نے ان کے کردار پر بات کی اور فرمایا یاد رکھو میں اللہ کا رسول ہوں اور مانتدار ہوں یعنی وہی کہتا ہوں جو اللہ کہنے کا حکم دیتے ہیں اور تم سے اس لیے کہتا ہوں کہ اللہ نے تمہاری طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
6 ۔ یعنی ان کو اپنے پاس سے دھکے دے کر نکال دوں جیسا کہ تم چاہتے ہو۔
Read the full tafseer →(26:113) ان نافیہ ہے۔ ان حسابھم الا علی ربی۔ ان کا حساب و محاسبہ میرے پروردگار کا کام ہے یہ اس کے ذمہ ہے کہ ان کے دلوں میں کیا ہے ؟
لو تشعرون۔ کاش تم کو شعور ہوتا۔ کاش تم اتنی عقل رکھتے (کہ ان کے باطن کا محاسبہ میرا کام نہیں۔ میرے رب کا کام ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–122
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 122 :
الارذلون (گھٹیا اور معمولی لوگ) ‘ لو تشعرون (کاش تم عقل و فہم سے کام لیتے) ‘ طارد (بھگانے والا۔ دھکے دینے والا) ‘ لم تنتہ (تو باز نہ آیا) ‘ افتح (کھول دے) ‘ المشحون ( بھری ہوئی۔ بھر پور) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 122 :
سورۃ الشعراء میں سات انبیاء کرام کے واقعات زندگی میں سے موقع کی مناسبت اور عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا گیا اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانیوں اور ان پر عذاب کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک مسلسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو نصیحت کرنا۔
(ف 1) نوح (علیہ السلام) نے فرمایا، اے کاش اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا، اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا، قوم کے لوگوں نے نوح کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے بازنہ آئے تو ہم تم کو پتھروں سے سنگسار کردیں گے۔ آخرمجبور ہوکر نوح نے بددعا کی اور سوائے نوح اور ان کے فرمابرداروں کے باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–120
[22] اس قصے کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–113
حضرت نوح
1: ان آیات میں حضرت نوح کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے حیرت انگیز استقلال کے ساتھ قوم کے کفر اور ان کی سرکشی کا مقابلہ کیا ۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک مسلسل رشدوہدایت کی دعوت دی اور اپنے خلوص اور محبت سے مجبور ہوکر باکمال دلسوزی منکرین حق کو سچائی کی طرف بلایا ۔ ان کا زمانہ ٹھیک طور پر تو معلوم نہیں تاریخ کی اصطلاح میں یہ آدم ثانی ہیں ۔ البتہ بائیبل اور قرآن سے ان کے تبلیغی کارناموں پر روشنی پڑتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے یہ اس دور کے داعی ہیں ۔ جب کہ انسانوں کی عمریں طبعاًبہت زیادہ طویل ہوتی تھیں ۔
ارشاد ہے ۔ کہ حضرت نوح نے قوم سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ تم کیوں پاکبازی کی زندگی بسر نہیں کرتے ۔…
Read the full tafseer →(113) ان لوگوں سے اس کا حساب کتاب لینا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے کاش تم اس بات کو سمجھتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–115
ف 1۔ اور تبلیغ سے میرا فرض منصبی پورا ہوجاتا ہے، آگے اپنا نفع و نقصان تم دیکھ لو۔
Read the full tafseer →ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کاش کہ تم اس بات کو سمجھتے :
113۔ یہ لوگ جن کو تم نے رذیل کہا ہے اور سمجھا ہے میں نہ ان کے اعمال پر داروغہ لگایا گیا ہوں اور نہ تمہارے اعمال پر ، ان کا حساب بھی براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ ہے اور تمہارا بھی ‘ کاش کہ تم بھی اس حقیقت کو سمجھتے کہ شرافت ورذالت کا انحصار مال و دولت پر نہیں ‘ خاندانی نقسیم پر نہیں ‘ حق ظاہر ہونے سے پہلے کے اعمال پر نہیں بلکہ حق کے آنے کے بعد قبول عدم قبول پر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا وہ انہوں نے قبول کرلیا اور تم نے اس کو رد کردیا انہوں نے قبول کرنے کے بعد اپنی اصلاح شروع کرلی اور تم اپنی نخوت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–127
Nobility of a person depends on deeds and moral qualities and not on family or status
قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ ﴿111﴾ قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿112﴾
They said, "Shall we believe in you while you are followed by the lowest people?" [ 111] He said, "I do not know about what they do. (26:111-112)
It is related in this verse that the disbelievers rejected the invitation of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to accept the faith on the plea that his followers were worthless poor people. So, how could they, the elite and noble, mix up with them? On this Nuh…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
82 This is the first answer to their objection, which was based on the assumption that the poor people belonging to the working classes and lower social strata who performed humble duties, did not possess any mental maturity and were without intelligence and common sense. Therefore, their belief was without any rational basis, and so unreliable, and their deeds were of na value at all. To this Prophet Noah replies, "I have no means of judging the motives and assessing the worth of the deeds of the people who accept my message and act accordingly. This is not my concern but the responsibility…
Read the full tafseer →