Explained with ayahs 6–10
لعان سے مراد
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔…
Read the full tafseer →بقیہ حصہ ریکارڈنمبر 2815 آیت نمبر 2
(5) زنا کو قابل سزا فعل تو 3 ھ میں ہی قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اس وقت یہ ایک " قانونی " جرم نہ تھا جس پر ریاست کی پولیس اور عدالت کوئی کارروائی کرے، بلکہ اس کی حیثیت ایک " معاشرتی " یا " خاندانی " جرم کی سی تھی جس پر اہل خاندان ہی کی بطور خود سزا سے لینے کا اختیار تھا۔ حکم یہ تھا کہ اگر چار گواہ اس امر کی شہاست دے دیں کہ انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو زنا کرتے دیکھا ہے تو دونوں کو مارا پیٹا جائے، اور عورت کو گھر میں قید کردیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی کردیا گیا تھا کہ یہ قاعدہ " تا حکم ثانی " ہے، اصل قانون بعد میں آنے والا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ اپنی بیبیوں کو (زنا کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز اپنے (ہی دعوے کے) اور کوئی گواہ نہ ہوں (جو عدد میں چار ہونے ضروری ہیں) تو ان کی شہادت (جو کہ دافع حبس یا حد قذف ہو) یہی ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ بیشک میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں اور (اس کے بعد) اس عورت سے سزا (یعنی حبس یا حد زنا) اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ قسم کھا کر کہے کہ بیشک یہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر خدا کا غضب ہو اگر یہ مرد سچا ہو (اس طریق سے دونوں میاں بیوی سزائے دنیوی سے بچ سکتے ہیں البتہ وہ عورت اس مرد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
6-9
والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھدآء الا انفسھم فشھاۃ احدھم اربع شھدت باللہ انہ لمن الصدقین والخامسۃ ان لعنۃ اللہ علیہ ان کان من الکذبین ویدروئو اعنھا العذاب ان تشھد اربع شھدت باللہ لمن الکذبین والخامۃ ان غضب اللہ علیھآ ان کان من الصدقین
لعان کا ضابطہ
اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو اس صورت میں معاملہ کا فیصلہ قسم سے ہوگا۔ اس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوگی کہ مرد چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے گا کہ میں جو الزام لگا رہا ہوں اس میں سچا ہوں۔ پانچویں بار یہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹ الزام لگا رہا ہو تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5-1توبہ سے کوڑوں کی سزا تو معاف نہیں ہوگی، تائب ہوجائے یا اصرار کرے، یہ سزا تو بہرحال ملے گی
البتہ دوسری دو باتیں جو ہیں اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء اس استثنا کو فسق تک محدود رکھتے ہیں۔ یعنی توبہ کے بعد فاسق نہیں رہے گا۔ اور بعض مفسرین دونوں جملوں کو اس میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی توبہ کے بعد مقبول الشہادۃ بھی ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
7: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اوپر جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے، اس کی رو سے اگر وہ چار گواہ نہ لاسکے تو اس پر بھی اسی کوڑوں کی سزا لاگو ہونی چاہیے تھی، لیکن میاں بیوی کے تعلقات کی خصوصی نوعیت کی وجہ سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک الگ خصوصی طریقہ کار مقرر فرمایا ہے جسے اصطلاح میں لعان کہا جاتا ہے۔ یہ طریق کار ان آیات میں بیان ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کو قاضی ان الفاظ میں پانچ پانچ قسمیں کھانے کو کہے گا جو ان آیتوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ اور اس سے پہلے دونوں کو یہ ترغیب دے گا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے، اس لیے جھوٹی قسم کھانے کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
والذین یرمون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم ) (6 تا 10) ” “۔
ان آیات میں حد قذف کے قانون میں میاں بیوی کے لیے قدرے سہولت پیدا کی گئی ہے اور یہ سہولت میاں بیوی کینازک تعلقات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی بیو نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور اس بات پر گواہ صرف وہ خود ہو تو اس صورت میں طریق کار یہ ہوگا کہ وہ چار بار قسم اٹھا کر یہ کہے گا کہ اس کا دعویٰ درست ہے یعنی الزام زنا اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ اور اس شہادت کو شہادات اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گواہ کی زیادہ شہادتیں ہیں۔ اگر خاوند نے ایسا کیا تو وہ مہر ادا کرے گا اور…
Read the full tafseer →11 یعنی زنا کی تہمت لگائے یا اپنے بچہ کو کہے کہ یہ میرے نطفہ سے نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 6 وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ ”
یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ لے اور اس کے پاس اپنے علاوہ موقع کے تین اور گواہ بھی نہ ہوں تو وہ کیا کرے ؟ چونکہ معاملہ اس کی اپنی بیوی کا ہے اس لیے وہ خاموشی اختیار کر کے اس کے ساتھ رہ بھی نہیں سکتا۔ عام حالات میں تو اگر کوئی شخص اپنے علاوہ تین چشم دید گواہوں کے بغیر کسی پر ایسا الزام لگائے تو اسے اسّی 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی ‘ لیکن میاں بیوی کے معاملے میں ایسی صورت حال کے لیے یہاں ایک خصوصی قانون دیا گیا ہے جسے اصطلاح میں ”لعان“ کہا جاتا ہے۔
فَشَہَادَۃُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
9 سابقہ آیت میں تہمت لگانے والوں کے لئے تین باتوں کا ذکر ہوا۔ جن میں سے دو تو حکم ہیں۔ یعنی انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ۔ ان کی کبھی شہادت قبول کرو اور تیسری خبر ہے کہ ایسے لوگ بدکردار ہیں۔ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے حضور توبہ کرلیں۔ انھیں پوری طرح اپنے گناہ کا احساس اور ندامت ہو اور آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں تو اب وہ عند اللہ اور عندالناس فاسق نہیں رہیں گے۔ البتہ پہلی دونوں دنیوی سزائیں انھیں بھگتنا ہی ہوں گی۔ تاہم بعض علماء نزدیک اپنی اصلاح اور توبہ کے بعد وہ مقبول الشہادت بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی دلیل یہی ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
یہ بات بھی قابل غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
13۔ اس بیان حلفی کا نام اصطلاح شریعت میں لعان ہے اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔ الزام بدکاری کے عام ثبوت کا تو قاعدہ وہی ہے۔” چار گواہوں کی چشم دید شہادت “۔ لیکن شوہر جب بیوی سے متعلق یہ دعوی کرے اور چار چشم دید گواہ نہ پیش کرسکے تو خود اس کی یہ پانچ بار کی حلفی شہادت قائم مقام چار گواہوں کے سمجھی جائے گی اور بیوی پر حد زنا جاری کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →والذین یرمون ازواجہم اور جو لوگ اپنی بیویوں کی طرف زنا کی نسبت کرتے ہیں۔ کیفیت وحی دور
ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت (اِن کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْن) تک تلاوت فرمائی حسب الحکم ہلال آئے اور انہوں نے شہادت دی یعنی لعان کیا اور حضور برابر فرماتے رہے کہ اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی ایک اپنے قول سے رجوع کرلے گا۔ ہلال کی شہادت کا بعد عورت کھڑی ہوئی اور اس نے شہادت دی یعنی لعان کیا جب پانچویں شہادت کا نمبر آیا تو لوگوں نے اس کو روکا اور کہا یہ شہادت فیصلہ کردینے والی ہے (اگر تو نے جرم کیا ہے تو شہادت سے اب بھی لوٹ سکتی ہے) عورت ذرا جھجکی اور مڑی یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →(6) اور جو لوگ اپنی منکوحہ بیویوں کو زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس اس چیز پر اپنے علاوہ اور گواہ نہ ہو تو ایسا شخص چار مرتبہ اللہ وحدہ لاشریک کی قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی عورت پر جو تہمت لگائی ہے اس میں، میں سچاہوں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ والذین یرمون“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے عکرمہ ؓ کے ذریعے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو رسول اکرم ﷺ کے سامنے تہمت لگائی، رسول اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پشت پر حد قذف لگائی جائے گی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم میں کوئی شخص اپنی عورت کے ساتھ کسی کو برا کام کرتے دیکھے تو گواہ ڈھونڈتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ۔۔ : حد قذف کی آیات نازل ہونے کے بعد یہ مسئلہ پیش آیا کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو زنا کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ کیا کرے۔ سب سے پہلے سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فرضی طور پر اس کے متعلق پوچھا، کہنے لگے : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِيْ رَجُلاً ، أَ أُمْھِلُہُ حَتّٰی آتِيَ بِأَرْبَعَۃِ شُھَدَاءَ ؟ قَالَ نَعَمْ) [ مسلم، کتاب اللعان : 15؍1498 ] ”یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاؤں تو کیا اسے چار گواہ لانے تک مہلت دوں ؟“ آپ نے فرمایا : ”ہاں !“ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت نمبر 6-10 ۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم، انفسھم بدل کی بنا پر مرفوع ہے اور استثناء اور یکن کی خبر کی بنا پر نصب بھی جائز ہے۔ فشھادۃ ا حدھم اربع شھدات کو فیوں کی قرأت مبتدا اور خبر کی بناء پر رفع کے ساتھ ہے یعنی ان میں سے ایک کی شہادت جس کی وجہ سے اس سے حد قذف زائل ہوگئی وہ چار شہادتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور ابو عمرو نے اربع کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ فشھادۃ کا معنی ان یشھد ہے۔ تقدیر اس طرح ہے فعلیھم ان یشھد احدھم اربع شھادات یا یہ تقدیر ہوگی : فالامر ان یشھد احدھم اربع شھادات دوسری صورت میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ شہادت کی وجہ سے منصوب ہے۔ الخامسۃ مبتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عاصم بن عدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ” والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہاں تک کہ ہم چار گواہوں کو لے آئیں تو اتنے میں وہ آدمی نکل بھاگے گا میں تھوڑے دن ہی ٹھہرا تھا اچانک میرے چچا کا بیٹا اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس عورت کے ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا اور وہ کہہ رہی تھی یہ تیرا بیٹا ہے اور بھتیجا کہہ رہا تھا یہ مجھ سے نہیں ہے تو آیت لعان نازل ہوئی عاصم نے فرمایا میں پہلا آدمی ہوں جس نے اس بارے میں بات کی اور میں پہلا آدمی ہوں جو اس کے ذریعہ مبتلا ہوا۔
زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری ہیں
2۔ احمد…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ يَرْمُوْنَ : الزام دیتے ہیں ][ اَزْوَاجَهُمْ : اپنی بیویوں کو ][ وَ : اس حال میں کہ ][ لَمْ يَكُنْ : نہیں کرتے ][ لَّهُمْ : ان کے لئے ][ شُهَدَاۗءُ : کچھ گواہ ][ اِلَّآ : سوائے ] [ اَنْفُسُهُمْ : ان کی جانوں کے ][ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ : تو اں کے ایک کی گواہی ][ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۢ: چار گواہیاں ہیں ][ بِاللّٰهِ ۙ : اللہ کی قسم سے ][ اِنَّهٗ : (کہ) بیشک وہ ][ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : (6) یقینا سچ کہنے والوں میں سے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
جو لوگ اپنی بیویوں کی تہمت لگائیں ان کے لیے لعان کا حکم
کوئی مرد عورت کو زنا کی تہمت لگا دے اور اپنی بات کے سچا ثابت کرنے کے لیے چار گواہ پیش نہ کرسکے تو اس تہمت لگانے والے پر حد قذف جاری ہوگی یعنی اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے (جس کی تفصیل اوپر گزری) لیکن اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے بارے میں یوں کہے کہ اس نے زنا کیا ہے اور عورت اس کو جھٹلائے اور شوہر کے پاس چار گواہ نہیں ہیں تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کو حدقذف نہیں لگائی جائے گی بلکہ امیر المومنین یا قاضی شوہر سے کہے گا کہ تو لعان کر یا یہ اقرار کر کہ تو نے جھوٹی تہمت لگائی ہے اگر وہ دونوں میں سے کسی بات پر راضی نہ ہو تو قاضی اسے بند کر دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
حکم چہارم لعان
قال اللہ تعالیٰ والذین یرمون ازواجہم۔۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ تواب حکیم۔
(ربط) پہلی آیت میں اجنبی عورتوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان فرمایا تھا، اب ان آیات میں اپنی بیوی پر تہمت لگانے کا حکم بیان کرتے ہیں۔ جس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ اپنی منکوحہ بیوی پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس بجز ان کی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہوں۔ جس کے لئے چار عدد گواہوں کا ہونا ضروری ہے تو ایسے شخص کی شہادت جو اس کو حد قذف اور سزاء حبس سے بچا لے یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ شہادت دے کہ وہ بلاشبہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار وہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7:۔ ” والذین یرمون ازواجھم الخ “ یہ چوتھا حکم ہے۔ پہلے اجنبی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے کا حکم بیان کیا گیا اب اس کی مناسبت سے اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگانے کا حکم بیان کیا جاتا ہے لما ذکر حکم قذف الاجنبیات بین حکم قذف الزوجات (مدارک ج 3 ص 102) ۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت زنا لگا دے اور گواہ پیش نہ کرسکے تو اس پر حد قذف نہیں بلکہ ان دونوں میاں بیوی کے درمیان لعان ہوگا یعنی دونوں میاں بیوی چار چار بار قسم کھا کر اپنی سچائی کی گواہی دیں اور پانچویں بار اپنے اوپر بد دعا کریں کہ وہ اگر جھوٹے ہوں تو خدا ان پر لعنت کرے۔ ” فشھادۃ احدھم “ یہ تہمت لگانے والے کیلئے چار شہادتوں کا طریقہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ربط آیات :
سورۃ ہذا کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے زنا ، فحاشی اور بدکاری وغیرہ سے متعلق تین قوانین کا ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے حد زنا اور حد قذف کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور آج کے درس میں لعان کا بیان آرہا ہے۔ پہلے حد زنا بیان ہوئی تھی جس کے مطابق غیر شادی شدہ زنا کار مرد یا عورت کو سوکوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ، شادی شدہ محصن کی سزا کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔…البتہ سنت میں ایسے مرد یا عورت کی سزا سنگساری مقرر کی گئی ہے اور خود حضور ﷺ کے زمانے میں اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔ یہ سزا سرعام دینے کا حکم ہے تاکہ تمام لوگوں کو اس قبیح جرم کے مرتکب کا پتہ چل جائے اور انہیں عبرت حاصل ہو۔ پھر حد قذف کے متعلق…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّہُمْ شُہَدَاۗءُ اِلَّآ اَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍؚبِاللہِ 0ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ 6
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی:
فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39]
( ز و ج ) الزوج
جن حیوانات میں نرا اور پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نرا اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
ترکیب :۔ والذین یرمون مبتداء فاجلدوھم بالتاویل اس کی خبر واولئک الخ جملہ مستانفہ، الا الذین ایک جماعت کے نزدیک پہلے جملوں سے استثناء ہے اور ایک جماعت کے نزدیک صرف الفاسقون سے اور موضع اس کا نصب ہے علی الاصل، الا انفسہم نعنت شہداء کی ہے یا اس سے بدل۔ فشھادۃ احدھم مصدر مضاف فاعل کی طرف متبداء والخبر فالواجب شہادۃ احد ھم اربع منصوب ہے۔ مصدر ہونے کی وجہ سے۔ اے ان یشہد احدہم اربع الخ باللہ۔
تفسیر …تہمت زنا کا حکم : بصریوں کے نزدیک شہادت سے اور کو فیوں کے نزدیک شہادۃ سے متعلق ہے یہ دوسرا حکم تہمت زنا کی بابت ہے جبکہ زنا کی قباحت اور اس کی سزا مقرر ہوئی تو کسی کو اس کے ساتھ متہم کرنے کی بھی ممانعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلَّآ اَنْفُسُھُمْ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ شَھٰدٰتٍ م بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ لا وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَـآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 6 تا 10)
(اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فہم القرآن
ربط کلام : پاکدامن عورتوں اور مردوں پر جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے ذکر کے بعد اپنی بیویوں پر جھوٹی تہمت لگانے والوں کی سزا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا طریقہ۔
جس طرح عام مسلمان پاکدامن عورت اور مرد پر جھوٹی تہمت لگ سکتی ہے اسی طرح میاں بیوی کے درمیان تنازع پیدا ہوجانے کی شکل میں ان سے ایک دوسرے پر تہمت لگانے کا عمل سرزد ہوسکتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے اور انہیں غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے یہ قانون جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی پر بدکاری کی تہمت لگاتا ہے اور اپنے سوا چارگواہ ثابت نہیں کرتا تو اسے چار مرتبہ ” اللہ “ کی قسم اٹھا کر شہادت دیناہو…
Read the full tafseer →بیوی پر تہمت کا حکم لعان :
6: وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ (اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں) یعنی اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآ ئُ ( اور ان کے پاس گواہ بھی نہیں) اور ان کے پاس ان کی بات کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں جو گواہی دے۔ اِلَّا اَنْفُسُھُمْ (مگر صرف اپنی ذات) یہ شہداء سے بدل ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ (تو ان میں سے ایک کی شہادت یہی ہے کہ وہ چار بار) ۔
قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے رفع پڑھا ہے۔ اس بناء پر کہ یہ شہادہ احدھم مبتدأ کی خبر ہے۔ دیگر قراء نے نصب پڑھا ہے کیونکہ یہ اس مصدر کے حکم میں…
Read the full tafseer →6۔ والذین یرمون ازواجھم۔ جوان لوگوں کی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں ۔ ولم یکن لھم شھدائ۔ جوان کے قول کے صحیح ہونے پر گواہی نہیں دیتے۔ الاانفسھم، مگر اپنے آپ کے علاوہ کوئی اور گواہ نہیں پاتے۔ فشھادۃ احدھم اربع شھادات ۔۔۔ حمزہ کسائی ، حفص، یعقوب نے ، اربع شھادات، عین کے رفع کے ساتھ مبتداء ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں عبارت اس طرح ہوگی ، فشھادۃ احدھم ان یشھد، اربع شھادات باللہ انہ لمن الصادقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
6۔ 10:۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ ایک صحابی تھے ‘ ان کا قصہ اس آیت کا شان نزول ہے ‘ رفع اس اختلاف کا وہی ہے ‘ جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری 3 ؎ میں بیان کیا ہے کہ دونوں قصے صحیح روایتوں میں ہیں اور ایک ہی زمانہ میں گزرے ہیں ‘ اس واسطے دونوں قصوں کو شان نزول کہنا چاہیے ‘ کیونکہ قرآن شریعت میں ایسی آیتیں بہت ہیں کہ کئی قصے ایک قسم کے گزرنے کے بعد وہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اور ان چند قصوں کا مجموعہ ان کی شان نزول ہے ‘ ہلال بن امیہ کا قصہ صحیح بخاری میں عکرمہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جو روایت کیا ہے اس کا حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(آیت نمبر (6
بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں شوہر کی چار گواہیاں اسے قذف کی حد سے بچا سکتی ہیں کیونکہ غالب حالات میں شوہر بیوی پر زنا کا بہتان نہیں لگاتا جس سے اس کی بیوی کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی شخصیت بھی عیب دار ہوتی ہے سوائے اس صورت میں کہ جب وہ الزام لگانے میں سچا ہو۔
نیز شوہر کا اس بارے میں حق ہے اور اسے اس بات کا بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسی اولاد کا اس سے الحاق نہ ہوجائے جو اس کی نہیں ہے ‘ نیز اس میں بعض دیگر حکمتیں بھی ہیں جو دوسرے احکام میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے فرمایا : (والذین یرمون ازاجھم) اور وہ جو تہمت لگائیں اپنی بیویوں پر “ یعنی لونڈیوں پر نہیں بلکہ آزاد عورتوں پر ‘ جو…
Read the full tafseer →لعان کا بیان
قول باری : (والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھدآء الا انفسھم۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا دوسرے گواہ نہیں ہوتے…) تا آخر مضمون۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اجنبی عورت یا اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والے کی حد کوڑے تھے اس کی دلیل حضور ﷺ کا وہ حکم ہے جو آپ نے ہلال ؓ بن امیہ کو اس وقت دیا تھا جب انہوں نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا تھا۔ آپ نے بلال ؓ سے فرمایا تھا۔” میرے پاس چار آدمی لائو جو اس بات کی گواہی دیں ورنہ تمہارے پیٹھ پر حد لگے گی۔ “ اپ موقع پر حضراتِ انصار ؓ نے یہ کہا تھا کہ ” کیا ہلال بن امیہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
14 اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے "۔ سو سچی توبہ پر وہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لہذا قذف کا گناہ بھی معاف ہوجائے گا اور ایسا شخص آخرت کی پکڑ سے بھی بچ جائے گا اور فسق کا لقب بھی اس سے اٹھ جائے گا۔ مگر حد ساقط نہیں ہوگی۔ کہ وہ بندے کا حق ہے۔ اس بات پر تو سب کا اجماع و اتفاق ہے۔ البتہ اس کی شہادت اور گواہی کے قبول ہونے نہ ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس استثناء کا تعلق اس سے نہیں ہے۔ لہذا ان کی گواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم
تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
3 ۔ جب اوپر کی آیت میں حد قذف نازل ہوئی تو اس کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اس کا کیا حکم ہوگا۔ چناچہ یہ سوال سعد بن عبادہ نے ایک فرضی سوال کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ (بخاری، مسلم) مگر جلدی ہی ہلال ؓ بن امیہ کا واقعہ پیش آگیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیوی کے متعلق بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کو زنا کرتے دیکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” چار گواہ لائو ورنہ حد قذف تم پر جاری کی جائے گی۔ “ اس پر یہ چار آیتیں نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ نے ان آیات کے مطابق تصفیہ…لعان… کے لئے ہلال ؓ اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
(24:4) یرمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ رمی یرمی (ضرب) رمی ورمایۃ مصدر بمعنی پھینکنا۔ مادی چیزوں مثلاً تیر وغیرہ کے متعلق ہو تو اپنے اصلی معنوں میں اس کا مفہوم ہوتا ہے مثلاً وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (8:17) اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو تم نے تیر نہیں چلائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیر چلائے۔
لیکن جب اقوال کے متعلق ہو تو ” قذف “ کی طرح اس کے معنی تہمت طرازی کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں یا آگے آیت نمبر 9 میں۔ یرمون وہ تہمت لگاتے ہیں۔ المحصنت۔ پاکدامن عورتیں۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔
ثعلب نے کہا ہے کہ پاکدامن عورت کو محصنۃ (اسم فاعل) بھی کہا جاتا ہے اور محصنۃ (اسم مفعول) بھی۔ اور شوہر والی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 10 :
یرمون (تہمت لگاتے ہیں۔ الزام لگاتے ہیں) ‘ شھدائ (شھید) گواہ ‘ اربع (چار) ‘ لعنۃ ( پھٹکار۔ اللہ کی رحمت سے دوری) ‘ یدرئوا (دور کرتا ہے۔ ہٹادیتا ہے) ‘ فضل اللہ (اللہ کا فضل و کرم) ‘ تو اب (بہت توبہ قبول کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 4 تا 10 :
دین اسلام ایک ایسے پاکیزہ ‘ صاف ستھرے اور صالح معاشرہ کا تصور دیتا ہے جس میں ہر شخص ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس کی عزت و آبرہ کا محافظ ہو۔ کوئی کسی پر بےبنیاد الزام لگا کر اپنی آخرت کو اور اسلامی معاشرہ کے سکون کو برباد نہ کرے اور روحانی ‘ اخلاقی ‘ اور جسمانی اعتبار سے وہ ایک مضبوط ترین معاشرہ بن جائے۔ اگر کوئی شخص کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 2) شان نزول :۔
جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ کے روبرو ہلال بن امیہ نے اپنی بی بی کی بدکاری کی شکایت کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس شکایت کے ثبوت میں تم کو چار گواہ پیش کرنے پڑیں گے ورنہ تمہاری پیٹھ پر جھوٹی تہمت کے جرم میں اسی کوڑے پڑیں گے ہلال بن امیہ نے کہا کہ ایسے موقع پر گواہ کہاں پیدا ہوسکتے ہیں۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرما کر میرے سچ پر ظاہر کردے گا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جس میں میاں بی بی کی قسم پر فیصلہ ہے اور فرمایا کہ گر تم پر اللہ کا فض اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم بڑی مضرتوں میں پڑجاتے، اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرنے والا حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[7] اگرچہ توبہ اور اصلاح حال کے بعد ایسے لوگوں کا اللہ کے نافرمان بندوں میں شمار نہ رہے گا لیکن توبہ سے سزا کی حد ساقط نہ ہوگی۔ البتہ ان کی شہادت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص کی شہادت توبہ کے بعد بھی قابل قبول نہیں لیکن امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اس کی شہادت کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
عفیفہ عورت کو متہم کرنے کی سزا :
(ف 1) ایک طرف قرآن نے زانی کی سزا اس قدر کڑی رکھی ہے کہ موجودہ مذاق کے لوگ اس کو تکلیف مالایطاق قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف چار گواہوں کی شہادت ضروری بتائی ہے جن کا مہیا ہونا شاذو نادر ہی ہوسکتا ہے ، اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک سوال ہے جو طبعا پیدا ہوتا ہے ۔
جواب یہ ہے کہ سزا اس لئے کڑی رکھی ہے ، تاکہ اس خبیث مرض کا کلیۃ انسداد ہوجائے ، چناچہ آپ عہد نبوی ﷺ میں دیکھئے گا کہ زنا کے واقعات دو تین سے زیادہ نہیں ملیں گے اور اس دور تہذیب جدید میں شاہد ہی چند آدمی ایسے مل سکیں ، جنہیں صحیح معنوں میں عفیف کہا جاسکتا ہے ۔
یہ ہیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا ۔
چار شاہدوں…
Read the full tafseer →(6) اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے اور کوئی گواہ نہ ہو تو ایسے لوگوں کی گواہی یہی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھاکر یہ کہے کہ بیشک وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 7۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے، اور اس لئے فسق کی وجہ سے جو استحقاق عذاب آخرت کا ہوا تھا، وہ مرتفع ہوجاوے گا، گو رد شہادت جو کہ تتمہ تھا حد کا پھر بھی باقی رہے، کیونکہ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی سے مخلوط پائے تو کیا کرے ؟ :
12۔ اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی فطرت وجبلت میں جو کچھ رکھا اس سے وہ پوری طرح باخبر ہے اس لئے اس جگہ اس نے اس کی وضاحت فرما دی کہ معاشرہ کے اندر اسلامی تقاضوں کے پیش نظر اگر بعض باتوں کو برداشت کرنا ضروری ہو تو برداشت کرایا جاسکتا ہے اور اس برائی کا تعلق بھی اسی بات سے ہے لیکن جب ایک شخص اپنی اہلیہ کو کسی دوسرے انسان سے مخلوط پائے اور وہ چار شہادتیں پیش نہ کرسکتا ہو تو کیا کرے ؟ بلاشبہ یہ بات ہضم نہیں کی جاسکتی اس لئے اس میں مزید وضاحت کی ضرورت پیش آئی لہذا زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت کی جارہی ہے کہ اگر کوئی ایسی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
Commentary
The fourth injunction is of Li'an (لِعَان : curse) among the adjuncts of fornication
The meaning of لِعَان and is to curse and praying for Allah's wrath on each other. Certain specific types of oaths between husband and wife with special connotation are called Li` an (لِعَان) in Islamic law. When a husband accuses his wife of adultery or refuses to own his child as being legitimate, and his wife refutes his allegation to be false, and claims for the punishment of false accusation (قَذَف) of eighty stripes to be awarded to him, then the husband will be asked to produce four…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
6. Allah is the most merciful of all.
Read the full tafseer →