Explained with ayahs 4–5
تہمت لگانے والے مجرم
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں۔ تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کردیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کرسکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کردیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے۔ بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں…
Read the full tafseer →سورة النُّوْر 6
اس حکم کا منشا یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کی آشنائیوں اور ناجائز تعلقات کے چرچے قطعی طور پر بند کردیے جائیں، کیونکہ اس سے بیشمار برائیاں پھیلتی ہیں، اور ان میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس طرح غیر محسوس طریقے پر ایک عام زنا کارانہ ماحول بنتا چلا جاتا ہے۔ ایک شخص مزے لے لے کر کسی کے صحیح یا غلط گندے واقعات دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ دوسرے اس میں نمک مرچ لگا کر اور لوگوں تک انہیں پہنچاتے ہیں، اور ساتھ ساتھ کچھ مزید لوگوں کے متعلق بھی اپنی معلومات یا بد گمانیاں بیان کردیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ شہوانی جذبات کی ایک عام رو چل پڑتی ہے، بلکہ برے میلانات رکھنے والے مردوں اور…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی وہ لوگ جن پر تہمت زنا کی حد شرعی جاری کی گئی ہے اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی حالت درست کرلیں کہ آئندہ اس طرح کے اقدام کا اس سے خطرہ نہ رہے اور جس پر تہمت لگائی تھی اس سے بھی معاف کرالیں تو اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔
یہ استثناء اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا کا امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک آیت سابقہ کے صرف آخری جملے کی طرف راجع ہے۔ یعنی وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، تو مطلب اس استثناء کا یہ ہے کہ جس پر حد قذف جاری ہوئی ہے وہ فاسق ہے لیکن اگر وہ صدق دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیت 5-4
قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون
اب یہ قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون بیان ہو رہا ہے کہ شریف اور آزاد مومنات پر جو لوگ زنا کی تہمت لگائیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرم کے چار عینی شاہد پیش کریں۔ اگر وہ چار گواہ معتبر نہ پیش کرسکیں تو پھر حکم ہے کہ ان کو اسی کوڑے مارو اور ہمیشہ کے لئے ان کو ساقط الشہادت قرار دے دو یہ امر محلوظ رہے کہ اسلامی معاشرہ میں کسی کا ہمیشہ کے لئے مرد والشہادۃ قرار دے دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ معاشرے کے اندر یہ اس کی عرفی حیثیت کے بالکل ختم ہوجانے کے ہم معنی ہے۔ اس امت کا اصلی مرتبہ یہ یہ کہ یہ شھدآء اللہ فی الارض ہے اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5-1توبہ سے کوڑوں کی سزا تو معاف نہیں ہوگی، تائب ہوجائے یا اصرار کرے، یہ سزا تو بہرحال ملے گی
البتہ دوسری دو باتیں جو ہیں اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء اس استثنا کو فسق تک محدود رکھتے ہیں۔ یعنی توبہ کے بعد فاسق نہیں رہے گا۔ اور بعض مفسرین دونوں جملوں کو اس میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی توبہ کے بعد مقبول الشہادۃ بھی ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →6: توبہ سے جھوٹی تہمت کا گناہ تو معاف ہوجائے گا لیکن جو سزائیں اوپر بیان کی گئی ہیں، وہ پھر بھی دی جائیں گی۔
Read the full tafseer →(الا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفوررحیم ) (5
فقہاء کے درمیان اس استثناء کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا اس کا تعلق صرف آخرت کی سزا سے ہے یعنی اس شخص سے صفت فسق دور ہوجائے گی اور شہادت کے لیے وہ بد ستور نااہل رہے گا یا یہ کہ اس کی شہادت بھی توبہ کے بعد قبول ہوگی۔ امام امحد ‘ امام شافعی اس طرف گئے ہیں کہ اگر تائب ہوجائے تو اس کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ فسق کا حکم اٹھ چکا ہے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء صرف آخری جملے میں ہے یعنی فسق اٹھ جائے گا لیکن یہ شخص بدستور شہادت کے لیے نااہل ہوگا شعبی اور ضحاک نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے کہ اس کی شہادت قبول نہ کی جائے گی اگر چہ توبہ کرے ‘ اس وقت تک جب تک وہ…
Read the full tafseer →10 یعنی توبہ اور اصلاح حال کے بعد اللہ کے نافرمان بندوں میں اس کا شمار نہ رہے گا۔ گو پچھلے قذف کی سزا میں مردود الشہادت پھر بھی رہے۔ یہ ہی مذہب سلف میں سے قاضی شریح، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر، کحول، عبدالرحمن بن زید بن جابر، حسن بصری، محمد بن سیرین اور سعید بن المسیب رحمہم اللہ کا ہے۔ کما فی الدرالمنثو وابن کثیر۔
Read the full tafseer →آیت 5 اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ”
مثلاً کسی شخص پر قذف کی حد جاری کی گئی اور اسلامی عدالت میں طویل عرصے تک اس کی گواہی بھی ناقابل قبول رہی ‘ لیکن سزا ملنے کے بعد اس شخص نے اللہ کے حضور توبہ کرلی اور اپنی پرانی روش کو مستقل طور پر تبدیل کرلیا۔ اس کے مثبت رویے کو دیکھتے ہوئے معاشرے میں پھر سے اسے ایک با اعتماد ‘ صالح اور پرہیزگار مسلمان کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ اب ایسے شخص پر سے گواہی کے ناقابل قبول ہونے کی قدغن ختم ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
9 سابقہ آیت میں تہمت لگانے والوں کے لئے تین باتوں کا ذکر ہوا۔ جن میں سے دو تو حکم ہیں۔ یعنی انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ۔ ان کی کبھی شہادت قبول کرو اور تیسری خبر ہے کہ ایسے لوگ بدکردار ہیں۔ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے حضور توبہ کرلیں۔ انھیں پوری طرح اپنے گناہ کا احساس اور ندامت ہو اور آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں تو اب وہ عند اللہ اور عندالناس فاسق نہیں رہیں گے۔ البتہ پہلی دونوں دنیوی سزائیں انھیں بھگتنا ہی ہوں گی۔ تاہم بعض علماء نزدیک اپنی اصلاح اور توبہ کے بعد وہ مقبول الشہادت بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی دلیل یہی ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
یہ بات بھی قابل غور…
Read the full tafseer →12۔ (وہ آخرت میں اس پر رحم کرے گا، اور فسق کو جو سبب تھا استحقاق عذاب کا اس سے دور کردے گا) (آیت) ” تابوا “۔ یعنی اللہ کے حضور میں توبہ کرلیں۔ (آیت) ” واصلحو ا “۔ یعنی جس پر تہمت لگائی تھی اس سے اپنا قصور معاف کرالیں۔ فقہاء نے کہا ہے کہ اجراء حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے اور (اس کے احکام) کو مقرر کیا ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ (مشدد سے اشارہ کثرت احکام کی طرف ہے) اس لئے کہ اس سورت میں احکام کثرت سے ہیں اور ہم نے اس (سورت) میں صاف صاف احکام نازل کئے ہیں جو کہ واضح الدلالت ہیں تاکہ تم یاد رکھو تاثانیہ کو ذال میں ادغام کرکے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد جو کہ شادی شدہ نہ ہو، اس لئے کہ شادی شدی مرد عورت کیلئے رجم ثابت ہے، اور الف لام (الزانیۃ اور الزانی) میں موصولہ (بمعنی الذی ہے) اور وہ مبتدا ہے اور اس کے مشابہ بالشرط ہونے کی وجہ سے اس پر فا…
Read the full tafseer →الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ
کر لیں اور (اپنے اعمال و احوال کو) درست کرلیں تو اللہ غفور (و) رحیم ہے۔
امام ابوحنیفہ نے فرمایا الاَّ الَّذِیْنَکا استثناء گزشتہ آخری جملہ کی طرف راجع ہے۔ (یعنی جو لوگ توبہ کرلیں گے اور اپنے احوال کو درست کرلیں گے وہ فاسق نہیں رہیں گے مطلب یہ ہے کہ توبہ سے قذف کی سزا معاف نہیں ہوگی صرف فاسق ہونے کا حکم جاتا رہے گا) اصول فقہ میں امام ابوحنیفہ کا مسلک یہی ہے کہ جب استثناء چند جملوں کے بعد آئے تو اس کا رجوع آخری جملہ کی طرف ہوتا ہے ہاں اگر کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جو آخری جملہ کی طرف راجع کرنے سے مانع ہو تو مجبوراً…
Read the full tafseer →(5) لیکن جو لوگ یہ تہمت لگانے کے بعد اللہ کے سامنے توبہ کرلیں اور دیانت داری سے بھی اپنی پہلی حالت کی اصلاح کرلیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور توبہ پر مرنے والے پر رحمت کرنے والا ہے۔
شروع سے لے کر یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا۔۔ : اس بات پر اتفاق ہے کہ توبہ سے بہتان کی حد معاف نہیں ہوگی، اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس سے فسق کا حکم اٹھ جائے گا، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس کی شہادت قبول ہوگی یا نہیں۔ طبری ؓ نے حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ذکر کیا ہے کہ انھوں نے ”وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا“ پڑھا اور فرمایا : ”پھر جو شخص توبہ اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔“ اگرچہ بعض لوگوں کے مطابق توبہ اور اصلاح کے بعد بھی اس کی شہادت قبول نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت نمبر 6-10 ۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ کا ارشاد ہے : ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم، انفسھم بدل کی بنا پر مرفوع ہے اور استثناء اور یکن کی خبر کی بنا پر نصب بھی جائز ہے۔ فشھادۃ ا حدھم اربع شھدات کو فیوں کی قرأت مبتدا اور خبر کی بناء پر رفع کے ساتھ ہے یعنی ان میں سے ایک کی شہادت جس کی وجہ سے اس سے حد قذف زائل ہوگئی وہ چار شہادتیں ہیں۔ اہل مدینہ اور ابو عمرو نے اربع کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ فشھادۃ کا معنی ان یشھد ہے۔ تقدیر اس طرح ہے فعلیھم ان یشھد احدھم اربع شھادات یا یہ تقدیر ہوگی : فالامر ان یشھد احدھم اربع شھادات دوسری صورت میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ شہادت کی وجہ سے منصوب ہے۔ الخامسۃ مبتدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1۔ ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ سعید بن جبیر (رح) نے آیت والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتوا باربعۃ شہداء کے بارے میں فرمایا کہ حکام ان کو کوڑے لگوائیں جب ان کی طرف معاملہ لایا جا ائے تو وہ تہمت لگانے والے کو اسی کوڑ لگوائیں آیت ولا تقبلوا لہم شہادۃ ابدا۔ اور ان کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے حد لگائے جانے کے بعد جب تک وہ زندہ رہیں آیت واء لئک ہم الفسقون۔ یعنی اس میں وہ نافرمانی کرنے والے ہیں جو انہوں نے جھوٹی تہمت لگائی۔
2۔ ابو داوٗد فی ناسخہ وابن المنذر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین یرمون المحصنت ثم لم یأتو اباربعۃ شہداء میں سے پھر استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” الا الذین تابوا من…
Read the full tafseer →[ اِلَّا الَّذِيْنَ : سوائے ان کے جنہوں نے ][ تَابُوْا : توبہ کی ][ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ][ وَاَصْلَحُوْا ۚ: اور اصلاح کی (اپنی)][ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ][ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ][ رَّحِيْمٌ : (5) [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانے والوں کی سزا
اسلام میں مومن مرد و عورت کی آبرو کی بڑی حیثیت ہے اگر کوئی مرد یا کوئی عورت کسی پاک دامن مرد یا عورت کو صاف لفظوں میں زنا کی تہمت لگا دے مثلا یوں کہہ دے کہ اے زانی، اے رنڈی، اے فاحشہ اور جسے تہمت لگائی ہے وہ قاضی کے ہاں مطالبہ کرے کہ فلاں شخص نے مجھے ایسے ایسے کہا ہے تو قاضی اسے اسی کوڑوں کی سزا دے گا۔ فقہاء کی اصطلاح میں اس کو حد قذف کہتے ہیں۔ یہ کوڑے متفرق طور پر اعضاء جسم پر مارے جائے گے اور اس کے کپڑے نہ اتارے جائیں گے جو عام طور سے پہنے ہوتے ہیں البتہ روئی کے کپڑے یا پوستین یا ایسی چیز جو چوٹ لگنے سے مانع ہو اس کو اتار لیا جائے گا۔
تہمت لگانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
حکم سوم حدقذف
قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین یرمون المحصنت .... الیٰ .... فان اللہ غفور رحیم۔
گزشتہ آیت میں زانیہ سے نکاح کی حرمت بیان کی اب اس آیت میں کسی پر زنا کی تہمت لگانے والے کا حکم بیان کرتے ہیں کہ جو کسی پر بغیر ثبوت کے زنا کی تہمت لگائے اس کی کیا سزا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر ان کے زنا کے ثبوت پر چار گواہ نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ ان کی کوئی گواہی قبول نہ کرو ایسے ہی لوگ خدا کے نزدیک لاحق ہیں کہ انہوں نے ایک پاکدامن کو بےآبرو کیا اور بلاثبوت کے اس پر زنا کی تہمت لگائی مگر جن لوگوں نے تہمت لگانے کے بعد توبہ کرلی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6:۔ ” والذین یرمون الخ “ یہ تیسرا حکم ہے جب یہ بات واضح ہوگئی کہ مومنوں کی شان سے بعید ہے کہ وہ زنا ایسے برے فعل کا ارتکاب کریں تو اب اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت یا پارسا مرد پر زنا کی تہمت لگا دے تو اس سے چار گواہوں کا مطالبہ کیا جائے اگر وہ چار قابل اعتماد گواہ پیش نہ کرسکیں تو انہیں حد قذف یعنی تہمت لگانے کی سزا کے طور پر اسی درے مارے جائیں۔ ” ولا تقبلوا لھم الخ “ اور آئندہ کے لیے کسی معاملہ میں کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کی جائے۔ ” اولئک ھم الفسقون “ یہ تہمت لگانے والوں کے حال کا بیان ہے اور جملہ مستانفہ ہے کلام مستانف غیر داخل فی حیز جزاء الشرط کانہ حکایۃ حال ارامین عند اللہ بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں زنا کی حد بیان ہوئی ، جو کوئی محصن آدمی زنا کا ارتکاب کرے ، پھر اس کا جرم بذریعہ گواہان پایہ ثبوت کو پہنچ جائے یا متعلقہ شخص خود اقرار جرم کرلے تو فرمایا ایسے شخص کو اسلامی عدالت سو درے مارنے کی سزادیگی۔ یہ شرعی سزا غیر شادی شدہ کے لئے ہے اور اگر زنا کار شادی شدہ محصن ہو تو اس کی سزا سنت میں بیان کی گئی ہے کہ ایسے شخص کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔ اس حد کے نفاذ کے متعلق اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے دین میں نرمی نہ کرو اور یہ سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود ہونا چاہیے تاکہ اس جرم اور اس کی سزا کی تشہیر ہو اور دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اس کے ساتھ…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا 0ۚ فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 5
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
ترکیب :۔ والذین یرمون مبتداء فاجلدوھم بالتاویل اس کی خبر واولئک الخ جملہ مستانفہ، الا الذین ایک جماعت کے نزدیک پہلے جملوں سے استثناء ہے اور ایک جماعت کے نزدیک صرف الفاسقون سے اور موضع اس کا نصب ہے علی الاصل، الا انفسہم نعنت شہداء کی ہے یا اس سے بدل۔ فشھادۃ احدھم مصدر مضاف فاعل کی طرف متبداء والخبر فالواجب شہادۃ احد ھم اربع منصوب ہے۔ مصدر ہونے کی وجہ سے۔ اے ان یشہد احدہم اربع الخ باللہ۔
تفسیر …تہمت زنا کا حکم : بصریوں کے نزدیک شہادت سے اور کو فیوں کے نزدیک شہادۃ سے متعلق ہے یہ دوسرا حکم تہمت زنا کی بابت ہے جبکہ زنا کی قباحت اور اس کی سزا مقرر ہوئی تو کسی کو اس کے ساتھ متہم کرنے کی بھی ممانعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْ تُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلاَ تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ لا اَلاَّالَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 4، 5)
(اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ان کو 80 کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔ مگر ان میں سے وہ لوگ جو توبہ کرلیں اس بہتان لگانے کے بعد اور اپنی اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے)
بےحیائی کے فروغ کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : بدکاری سے منع کرنے کے بعد پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور اس کی سزا مقرر کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاکدامن عورت اور نیک سیرت مرد کی عزت کا اس قدر احترام ہے کہ اس پر تہمت لگانے والے شخص پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ اگر وہ تہمت لگانے میں سچا ہے تو اسے چار گواہ پیش کرنا ہونگے اگر اس کے پاس عاقل اور عادل چارگواہ موجود نہیں تو پھر اسے سرعام اسّی (80) کوڑے لگائے جائیں گے۔ اس سزا کے ساتھ اس پر یہ بھی پابندی عائد کردی گئی ہے کہ اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے کیونکہ بلاثبوت پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت لگانے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فاسق شمار ہوتے ہیں۔ البتہ جو…
Read the full tafseer →5: اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ (مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی) تہمت سے وَ اَصْلَحُوْا (اور درستگی کرلی) اپنے حالات کی۔
نحو : یہ الفاسقون سے استثناء ہے اور اس پر یہ ارشاد دلالت کر رہا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ (پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) وہ گناہوں کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ عندنا مستثنیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ منصوب ہو کیونکہ وہ کلام موجب سے استثناء ہے۔ دوسرا قول جنہوں نے استثناء کو جملہ ثانیہ سے متعلق قرار دیا ان کے ہاں مجرور ہے اور لھمؔ میں ھمؔ سے بدل ہے۔ : پہلے اجنبی عورتوں کے قذف کا ذکر تھا۔ اب ازواج کے قذف کا ذکر…
Read the full tafseer →کیا جھوٹی تہمت لگانے والے کی گواہی قابل قبول ہوگی یا نہیں۔
5۔ الاالذین تابوا۔۔ ،،۔ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ جھوٹی تہمت لگانے والے توبہ کے بعداس کی شہادت قبول کرلی جائے گی اور فسق والاالزام بھی ختم ہوجائے گا۔ یہ ابن عمر ؓ اور ابن عباس سے مروی ہے اور سعید بن جبیر مجاہد ، عطاء ، طاوس سعیدبن المسیب سلیمان بن یسار، شعبی عکرمہ، اور زہری کا قول ہے اور امام مالک شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
دوسرے حضرات کی اس مسئلہ میں یہ رائے ہے کہ ، محدود فی القذف، کی گواہی کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی، اگرچہ اس نے توبہ کرلی ہو۔
ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ یہاں استثنی ، واو لئک ھم الفاسقون۔ سے ہے یہ قول امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
قذف :
4۔ 5:۔ حقیقت میں جو مرد یا عورت بدکار ہوں ‘ اوپر ان کا ذکر تھا ‘ ان آیتوں میں ان مرد اور عورتوں کا ذکر ہے جن پارسا عورت یا مرد پر لوگ زبردستی بدکاری کا الزام لگا دیں۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ زبردستی الزام لگانے والے لوگ اگر الزام کے ثبوت میں چار گواہوں کی گواہی نہ لاویں تو اس جھوٹے الزام کی سزا میں ایسے لوگوں کے اسی کوڑے مارے جاویں اور ایسے لوگوں کی گواہی اس وقت تک کسی مقدمہ میں منظور نہ ہو جب تک یہ لوگ اپنی عادت سے خالص دل سے توبہ نہ کریں ‘ ہاں بعد توبہ کے اللہ غفور الرحیم ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ زنا کے مقدمہ میں جس طرح لونڈی غلام کو پچاس کوڑے مارے جاتے ہیں ‘ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(آیت نمبر (4
چونکہ کوڑوں کی سزا کے وجوب کی وجہ سے زانی کے معاملہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ‘ نیز اگر وہ شادی شدہ ہے تو رجم بہت بڑا معاملہ ہے اسی طرح زانی کے ساتھ ہم نیشنی اور اس سے اختلاط ‘ کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ‘ جس سے بندہ شر سے محفوظ نہ رہ سکے اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عزت و ناموس پر زنا کی تہمت لگانے کو بہت بڑا اقدام قرار دیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (والذین یرمون المحصنت) یعنی وہ لوگ جو پاک باز عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں ‘ اسی طرح پاک باز مردوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ یہاں بہتان سے مراد ‘ سیاق کے اعتبار سے زنا کا الزام لگانا ہے۔ (ثم لم یا تو ) ” پھر نہ…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
اگر یہ کہا جائے کہ ایک شخص کو زنا کاری کی بنا پر حاکم کی طرف سے کوڑے لگائے گئے ہوں اور اس کے بعد سزا یافتہ شخص توبہ کرلے تو توبہ کے بعد اس کی گواہی قابل قبول ہوگی۔ اور حاکم کا حکم توبہ کے بعد اس کی گواہی قبول کرنے میں مانع نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ زانی کی گواہی کا بطلان حاکم کے حکم کی بنا پر نہیں ہوا تھا بلکہ حاکم کی طرف سے اسے حدلگانے سے قبل ہی اس کی زناکاری کی بنا پر اس کے فسق کے ظہور کی وجہ سے ہوا تھا۔ جب اس کے بطلان شہادت کا حاکم کے حکم کے ساتھ تعلق نہیں تھا بلکہ اس کے اپنے فعل کے ساتھ تھا تو اس کی طرف سے توبہ کے ظہور پر اس کی گواہی کی بحالی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
14 اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے "۔ سو سچی توبہ پر وہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لہذا قذف کا گناہ بھی معاف ہوجائے گا اور ایسا شخص آخرت کی پکڑ سے بھی بچ جائے گا اور فسق کا لقب بھی اس سے اٹھ جائے گا۔ مگر حد ساقط نہیں ہوگی۔ کہ وہ بندے کا حق ہے۔ اس بات پر تو سب کا اجماع و اتفاق ہے۔ البتہ اس کی شہادت اور گواہی کے قبول ہونے نہ ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس استثناء کا تعلق اس سے نہیں ہے۔ لہذا ان کی گواہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
زنا، اس کی سزا اور لعان کا حکم
تشریح : سب سے پہلے تو زنا کی تعریف کردی گئی۔ کئی گناہ انسان زندگی میں کرتا ہے مگر یہ گناہ اس قدر بڑا اورا نسانی سوسائٹی کے لیے مضر اور نقصان دہ ہے کہ اس کو شرک کے برابر کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ تمام حدود کو توڑ دیتا ہے جو تہذیب و تمدن ‘ مذہب اور اخلاقیات اور انسانیت کی عظمت کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں مقرر کی گئی ہیں۔ البتہ موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ان حدود کو توڑ رہا ہے تو ان کے اندر جو انتشار ‘ بےچینی ‘ بےراہروی ‘ بد نظمی اور بےقاعدگی پیدا ہو رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ لوگ جب بھی اسلامی نظام کی اس خوبی سے بندھے ہوئے خاندانی ربط ‘ ضبط اور سکون کو دیکھتے ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة النور :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة نور مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور شرمگاہوں کی حفاظت نیز عفت و پاکدامنی کا ذکر جب چلا تو اس کے خلاف کرنے پر اسلام نے سز امقرر فرما دی ، اسلام نے بھی قاضی اور جج کے لیے موقع کی مناسبت شہادت اور قرائن یا اقبال و انکار جرم وغیرھا چیزوں پر غور کرکے انسداد جرائم کے لیے سزا تجویز کرنے کا موقع رکھا ہے کہ سزا سے مراد معاشرہ کی اصلاح اور خود مجرم کی اصلاح بھی ہے اور قاضی کی تجویز کردہ سزا کو اصطلاح میں تعزیر کہا جاتا ہے مگر چار باتوں پہ جج کو سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں صرف شہادت لے کر واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ دے گا سزا اللہ جل جلالہ نے خود مقرر…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی اب ان سے فسق کا حکم بھی اٹھ جائے گا اور ان کی گواہی بھی قبول ہوگی۔ (شوکانی) ائمہ ثاثہ (رح) اور سلف (رح) کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس سے فسق کا حکم تو رفع ہوجائے گا مگر گواہی قبول نہ ہوگی۔ اس اختلاف کی بنا اس چیز پر ہے کہ آیا اس استثناء کا تعلق ولا تقبلوا لھم شھادۃ اور اولئک ھم الفسقون “ دونوں سے ہے یا صرف آخری حصہ سے (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
(24:4) یرمون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ رمی یرمی (ضرب) رمی ورمایۃ مصدر بمعنی پھینکنا۔ مادی چیزوں مثلاً تیر وغیرہ کے متعلق ہو تو اپنے اصلی معنوں میں اس کا مفہوم ہوتا ہے مثلاً وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (8:17) اے پیغمبر جب تو نے تیر چلائے تو تم نے تیر نہیں چلائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیر چلائے۔
لیکن جب اقوال کے متعلق ہو تو ” قذف “ کی طرح اس کے معنی تہمت طرازی کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں یا آگے آیت نمبر 9 میں۔ یرمون وہ تہمت لگاتے ہیں۔ المحصنت۔ پاکدامن عورتیں۔ اسم مفعول جمع مؤنث۔
ثعلب نے کہا ہے کہ پاکدامن عورت کو محصنۃ (اسم فاعل) بھی کہا جاتا ہے اور محصنۃ (اسم مفعول) بھی۔ اور شوہر والی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 10 :
یرمون (تہمت لگاتے ہیں۔ الزام لگاتے ہیں) ‘ شھدائ (شھید) گواہ ‘ اربع (چار) ‘ لعنۃ ( پھٹکار۔ اللہ کی رحمت سے دوری) ‘ یدرئوا (دور کرتا ہے۔ ہٹادیتا ہے) ‘ فضل اللہ (اللہ کا فضل و کرم) ‘ تو اب (بہت توبہ قبول کرنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 4 تا 10 :
دین اسلام ایک ایسے پاکیزہ ‘ صاف ستھرے اور صالح معاشرہ کا تصور دیتا ہے جس میں ہر شخص ایک دوسرے پر اعتماد اور آپس کی عزت و آبرہ کا محافظ ہو۔ کوئی کسی پر بےبنیاد الزام لگا کر اپنی آخرت کو اور اسلامی معاشرہ کے سکون کو برباد نہ کرے اور روحانی ‘ اخلاقی ‘ اور جسمانی اعتبار سے وہ ایک مضبوط ترین معاشرہ بن جائے۔ اگر کوئی شخص کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) ان آیتوں میں ان مرد اور عورتوں کا ذکر ہے جن پارسا عورت یا مرد پرست لوگ زبردستی زنا کا الزام لگاتے ہیں۔
مسئلہ : جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کرسکے تو اس پر اسی کوڑے کی حد واجب ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[7] اگرچہ توبہ اور اصلاح حال کے بعد ایسے لوگوں کا اللہ کے نافرمان بندوں میں شمار نہ رہے گا لیکن توبہ سے سزا کی حد ساقط نہ ہوگی۔ البتہ ان کی شہادت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص کی شہادت توبہ کے بعد بھی قابل قبول نہیں لیکن امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اس کی شہادت کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
عفیفہ عورت کو متہم کرنے کی سزا :
(ف 1) ایک طرف قرآن نے زانی کی سزا اس قدر کڑی رکھی ہے کہ موجودہ مذاق کے لوگ اس کو تکلیف مالایطاق قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف چار گواہوں کی شہادت ضروری بتائی ہے جن کا مہیا ہونا شاذو نادر ہی ہوسکتا ہے ، اس میں کیا حکمت ہے ؟ یہ ایک سوال ہے جو طبعا پیدا ہوتا ہے ۔
جواب یہ ہے کہ سزا اس لئے کڑی رکھی ہے ، تاکہ اس خبیث مرض کا کلیۃ انسداد ہوجائے ، چناچہ آپ عہد نبوی ﷺ میں دیکھئے گا کہ زنا کے واقعات دو تین سے زیادہ نہیں ملیں گے اور اس دور تہذیب جدید میں شاہد ہی چند آدمی ایسے مل سکیں ، جنہیں صحیح معنوں میں عفیف کہا جاسکتا ہے ۔
یہ ہیں تفاوت راہ از کجاست تابکجا ۔
چار شاہدوں…
Read the full tafseer →(5) مگر ہاں ! جو لوگ اس تہمت اور عیب لگانے کے بعد توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور سنوار پکڑیں تو بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ قذف کے بارے میں ظاہر ہے کہ ایک گناہ حق اللہ اور ایک گناہ حق العباد ہے توبہ اور اصلاح کے بعد ظاہر ہے کہ فسق کا حکم مرتفع ہوجائے گا لیکن شہادت قبول نہ ہوگی۔ شہادت مقبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ البتہ دیانت محضہ جیسے ہلال رمضان کی رویت تو اس میں قبول کرلی جائے گی۔ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کرلی جائے۔
یہ بحث زنا سے شروع ہوئی تھی اور اس میں چار شہادتوں کا ذکر تھا۔ اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو زنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 7۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ضرور مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے، اور اس لئے فسق کی وجہ سے جو استحقاق عذاب آخرت کا ہوا تھا، وہ مرتفع ہوجاوے گا، گو رد شہادت جو کہ تتمہ تھا حد کا پھر بھی باقی رہے، کیونکہ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو وہ یقینا عذاب الہی سے بچ گئے :
11۔ ہاں ! اگر وہ لوگ ان حرکات سے باز آجائیں ‘ قوم کو اپنی نیک چلنی کا ثبوت دیں جن کے حق میں زیادتی کی ہے ان سے معاف کرا لیں اور آئندہ اس قسم کی شرارتوں سے باز رہنے کا عہد کریں تو ان کا نام اس رجسٹر سے خارج کردیا جائے گا اور اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ وہ اپنے رحم وکرم سے ان کا گناہ معاف کر دے گا اس جگہ غورفکر کی بات یہ ہے کہ ” الا الذین تابوا “ کا استثناء کس سے ہے ؟ تمام گزشتہ آیت کے مضمون سے یا صرف (ھم الفاسقون) سے ؟ یعنی تیسری قسم کی سزا سے ؟ بلاشبہ یہ آخری بات یعنی کہ اس کا نام بدمعاشوں کے رجسڑ سے خارج کردیا جائے گا متفق…
Read the full tafseer →إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Except those who repent afterwards and mend their ways; then, Allah is All-Forgiving, Very-Merciful. (24:5)
Those who have been punished for false accusation of adultery, if they beg pardon and improve their habits, so that there is no risk of repetition of falsehood from them and also obtain forgiveness from one they had accused, then Allah Ta’ ala grants forgiveness and is Merciful.
This exemption, that isإِلَّا الَّذِينَ تَابُوا refers to only the last sentence of the previous verse according to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
6. Allah is the most merciful of all.
Read the full tafseer →