Al-Kahf 18:89

Al-Kahf · from ayah 89

18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ۟ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا

پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then he followed a way

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:89

پھر اُس نے (ایک دُوسری مہم کی) تیاری کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر وه اور راه کے پیچھے لگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے بعد وہ ایک اور راستے کے پیچھے چل پڑے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ایک سامان کے پیچھے چلا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(مغرب میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (دوسرے) راستہ پر چل پڑا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ کچھ اور سامان ساتھ لے کر چلا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ ایک اور راہ (دوسری مہم) پر چل پڑا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس نے ایک اور مہم کی تیاری کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس نے ایک دوسری مہم کے لیے اور سامان کیا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ ایک (اور) راہ پر ہولئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس نے ایک (اور مہم کا) سروسامان کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he set out on another expedition

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter, he followed a course,

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter, he followed a course,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he followed (another) way,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then he followed a way

— Saheeh International

He travelled again

— Muhammad Sarwar

Then he followed (another) course.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter he followed a way.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 18:89

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–91

ایک وحشی بستی۔ ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے۔ راستے میں جو قومیں ملتیں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے۔ اگر وہ قبول کرلیتے تو بہت اچھا ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے اور اللہ کے فضل سے وہ ہارتے آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے۔ اور برابر زمین پر دین الہٰی کی تبلیغ میں رہے ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہے۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے سورج کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 86–89

سورة الْكَهْف 63 غروب آفتاب کی حد سے مراد، جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے اقصٰی ما یسلک فیہ من الارض میں ناحیۃ المغرب ہے نہ کہ آفتاب غروب ہونے کی جگہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ مغرب کی جانب ملک پر ملک فتح کرتا ہوا خشکی کے آخری سرے تک پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔ سورة الْكَهْف 64 یعنی وہاں غروب آفتاب کے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔ اگر فی الواقع ذو القرنین سے مراد خورس ہی ہو تو یہ ایشیائے کوچک کا مغربی ساحل ہوگا جہاں بحرایجین چھوٹی چھوٹی خلیجوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس قیاس کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ قرآن یہاں بحر کے بجائے عین کا لفظ استعمال کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

خلاصہ تفسیر پھر (ممالک مغربیہ فتح کرکے مشرقی ممالک فتح کرنے کے ارادہ سے مشرق کی طرف) ایک راہ پر ہو لئے یہاں تک کہ جب طلوع آفتاب کے موقع پر (یعنی جانب مشرق میں منتہائی آبادی پر) پہنچے تو آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے آفتاب کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی (یعنی اس جگہ ایک ایسی قوم آباد تھی جو دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی مکان یا خیمہ وغیرہ بنانے کے عادی نہ تھے بلکہ شاید لباس بھی نہ پہنتے ہوں جانوروں کی طرح کھلے میدان میں رہتے تھے) یہ قصہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سامان وغیرہ) تھا ہم کو اس کی پوری خبر ہے (اس میں امتحان نبوت کے لئے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 89–90

تفسیر آیات 89 تا 90: ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (89) حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا (90) کیخسرو کی مشرقی مہم : یہ کیخسرو کی دوسری مہم کا ذکر ہے۔ بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ مہم مشرقی سمت میں تھی اور اس مت میں بھی وہ آخری حدود تک پہنچ گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اس کا سبب مکران، قندھار اور بلخ کے وحشی اور صحرا گرد قبائل کی سرکشی ہوئی۔ انہوں نے فارس کی مشرقی سرحد پر بدامنی پھیلا رکھی تھی۔ بالآخر ذوالقرنین کو ان کی سرکوبی کے لیے اٹھنا پڑا اور یہ سارے علاقے اس نے فتح کرلیے۔ قرآن نے ان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–89

45: ذوالقرنین کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ میں انہیں راہ راست پر آنے کی دعوت دوں گا جو لوگ اس دعوت کو قبول نہ کرکے ظلم کا ارتکاب کریں گے انہیں تو میں سزا دوں گا اور جو لوگ دعوت قبول کرکے ایمان عمل صالح اختیار کرلیں گے ان کے ساتھ میں آسانی کا معاملہ کروں گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–90

مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔ حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی مغربی سفر سے فارغ ہو کر مشرقی سفر کا سامان درست کرنے لگا۔ قرآن و حدیث میں یہ تصریح نہیں کہ ذوالقرنین کے یہ سب سفر فتوحات اور ملک گیری کے لیے تھے ممکن ہے محض سیرو سیاحت کے طور پر ہوں، اثنائے سفر میں ان اقوام پر بھی گزر ہوا ہو جو اس کے زیر حکومت آچکی تھی اور بعض اقوام نے ایک طاقتور بادشاہ سمجھ کر ظالموں کے مقابلہ میں فریاد کی ہو جس کا ذوالقرنین نے اپنی غیر معمولی قوت سے سدباب کردیا۔ جیسا کہ آگے " یاجوج ماجوج " کے قصہ میں آتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 89 ثُمَّ اَتْـبَـعَ سَبَبًا مغربی مہم سے فارغ ہونے کے بعد ذوالقرنین نے مشرقی علاقوں کی طرف پیش قدمی کا منصوبہ بنایا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 87–89

73 ذوالقرنین کا مغربی قوم سے سلوک :۔ چناچہ ذوالقرنین نے دوسری راہ اختیار کی کہ اس قوم کو پوری طرح سمجھایا جائے اور انھیں اسلام کی دعوت دی جائے اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے نتیجہ میں جو لوگ اکڑ جائیں گے اور ظالموں کی روش اختیار کریں گے ہم صرف انھیں ہی سزا دیں گے اور انھیں سے سختی کا برتاؤ کریں گے پھر موت کے بعد جب ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا تو وہ اسے سخت عذاب بھی دے گا لیکن جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں گے اور اپنا طرززندگی بدل کر نیک کام کرنے لگیں گے ان کو اللہ کے ہاں اچھا اجر ملے گا اور ہم بھی ان سے نرمی کا برتاؤ کریں گے جیسا کہ ہر عادل بادشاہ کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ غلبہ پانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

137۔ یعنی فعلی سختی تو کیا قولی سختی بھی مومنین کے ساتھ روانہ رکھی جائے گی (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “۔ یعنی آخرت میں اس کے لئے عیش ہی عیش ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–91

آیت نمبر 83 تا 91 ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 89–90

ثُمَّ اَتْـبَـعَ سَبَبًا۔۔ : مغرب کی طرف انسانی آبادی کے آخری حصے تک تمام علاقے فتح کرکے اسلام کے زیر نگیں لانے کے بعد اب اس نے مشرق کی طرف آبادی کے آخری حصے تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ایک نہایت طویل اور دشوار سفر کے لیے ہر قسم کا سازوسامان مہیا کیا اور اپنی زبردست افواج اور جنگی سازو سامان ساتھ لے کر بیشمار دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں اور صحراؤں کو عبور کرتا ہوا اور تمام بادشاہوں کو شکست دیتا ہوا مشرق کی طرف آبادی کی ابتدا تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع ہوتا ہے جن کے پاس سورج کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی پردہ تھا نہ مکان، نہ کوئی عمارت، نہ خیمہ، نہ لباس۔ اگرچہ اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتبع سببا۔ اس کا معنی گزر چکا ہے کہ اتبع اور اتبع کا معنی ایک ہے یعنی وہ راستے اور منزل کی طرف چلا۔ حتیٰ اذا بلغ مطلع الشمس مجاہد اور ابن محیصن نے میم اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، کہا جاتا ہے : طلعت الشمس والکواکب طلوعا ومطلعاً ، المطلع والمطلع۔ طلوع ہونے کی جگہ ؛ یہ جوہری کا قول ہے اس کا معنی ہے وہ ایسی قوم کی جگہ پہنچا کہ ان کے اور سورج کے طلوع ہونے کے درمیان کوئی شخص نہیں تھا۔ سورج کے پیچھے بہت زیادہ مسافت سے طلوع ہوتا تھا یعنی معنیٰ ہے اس قول کا بھی : وجدھا تطلع علی قوم۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے، وہب بن منبہ سے وہی مروی ہے جو پہلے گزر چکا ہے : یہ ایک امت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–100

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرقی کا سفر (ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا) مغرب کے سفر کے بعد ذوالقرنین نے مشرق کے ممالک کا رخ کیا اور مشرقی جانب کی راہ پر چل دئیے، چلتے چلتے جب ایسی جگہ پہنچے جہاں آفتاب طلوع ہونے کی جگہ تھی (یعنی جانب مشرق میں آبادی کی انتہاء پر پہنچ گئے) تو دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ آفتاب کے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں رکھی یعنی یہ قوم ایسی تھی جو دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی مکان یا خیمہ نہیں بناتے تھے، کھلے میدان میں رہتے تھے (ممکن ہے کہ ان کے یہاں دھوپ کی تیزی زیادہ نہ ہوتی ہو۔ اور دھوپ میں رہنے کی عادت پڑگئی ہو جیسے جنگلی جانور اس دھوپ میں گزارہ کرتے ہیں اور رہتے سہتے ہیں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–91

سفر دوم قال اللہ تعالیٰ ۔ ثم اتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مطلع الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ بما لدیہ خبرا۔ پھر اس سفر سے فارغ ہو کر اور مغربی ممالک کو فتح کرلینے کے بعد ایک دوسری راہ چلا یعنی مغرب الشمس سے مطلع الشمس کی راہ لی تاکہ مشرقی ممالک کو بھی فتح کرے اور ان کو دین حق کی دعوت دے اور جو اس سے سرتابی کرے اس کو ذلیل و کو ار کرے پس برابر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ جب مسافت قطع کر کے زمین کے اس مقام پر پہنچا جہاں اول طلوع آفتاب سے دھوپ پڑتی ہے۔ یعنی جہت مشرق میں منتہائے آبادی پر پہنچا تو اس نے آفتاب کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لیے ہم نے سورج سے درے کوئی پردہ اور بچاؤ نہیں رکھا تھا۔ یعنی وہ لوگ جنگلی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 86–89

76:۔ یہ ذو القرنین کی مغربی مہم کا ذکر ہے۔ وہ مغرب کی جانب اس قدر دور نکل گیا کہ اب مزید آگے بڑھنے سے دلدل کے ایک طویل و عریض سمندر نے اسے روک دیا اور جانب مغرب میں گویا وہ زمین کے منتہی پر پہنچ گیا کیونکہ اس دلدل کو عبور کر کے آگے نکلنا ناممکن تھا جب سورج غروب ہوتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ دلدل میں چھپ رہا ہے۔ ” حمئۃ “ ای ذات حماۃ۔ حماۃ کے معنی کیچڑ کے ہیں۔ ” عین حمئۃ “ یعنی کیچر والا چشمہ، مراد دلدل ہے۔ ایک قوم اس دلدلی سمندر کے کنارے آباد تھی۔ 77:۔ ذوالقرنین کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح ایک بادشاہ اور نبی تھے اور بعض کا قول ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–94

(ذوالقرنین کا مشرقی سفر) ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اَتْـبَـعَ سَبَبًا۝ 89 سبب السَّبَبُ : الحبل الذي يصعد به النّخل، وجمعه أَسْبَابٌ ، قال : فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، والإشارة بالمعنی إلى نحو قوله : أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [ الطور/ 38] ، وسمّي كلّ ما يتوصّل به إلى شيء سَبَباً ، قال تعالی: وَآتَيْناهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَباً فَأَتْبَعَ سَبَباً [ الكهف/ 84- 85] ، ومعناه : أنّ اللہ تعالیٰ آتاه من کلّ شيء معرفة، وذریعة يتوصّل بها، فأتبع واحدا من تلک الأسباب، وعلی ذلک قوله تعالی: لَعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبابَ أَسْبابَ السَّماواتِ [ غافر/ 36- 37] ، أي : لعلّي أعرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 89–98

ترکیب : السدین ای الجبلین المبنی بینھا سدہ وھما جبلان منیفان فی اواخر الشمال فی منقطع ارض الترک من ورائھما یاجوج و ماجوج و بین ھھنا مفعول بہ وھو من الظروف المتصرفۃ۔ خرجا جعلا نخرجہ من اموالنا۔ رد ما حاجزا حصینا وھو اکبر من السدمن قولھم ثوب مردم اذاکان رقاع فوق رقاع۔ الصدفین الصدف محرکۃ کل شیء مرتفع من حائط ونحوہ ای جانبتی الجبلین فما استطاعوا بحذف التاء حذراً من تلاقی متقاربین اے التاء والطاء۔ تفسیر … مشرق کا سفر : پھر وہاں سے بلاد مشرقیہ کی طرف توجہ کی اور مشرق میں ایسی قوم تک پہنچے کہ جن کے پاس آفتاب کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی خیمہ یا مکان نہ تھا زمین اور پہاڑوں کی کھوہ میں رہتے تھے۔ فرماتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 89–91

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا۔ حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَذَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قُوْمٍ لَّـم نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا۔ کَذٰلِکَ ط وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْہِ خُبْرًا۔ (الکہف : 89 تا 91) ( پھر اس نے ایک اور مہم کی تیاری کی۔ یہاں تک کہ جب وہ طلوع آفتاب کے مقام پر پہنچا تو اس نے سورج کو پایا ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے ہوئے جس کے لیے دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی آڑ ہم نے نہیں بنائی تھی۔ ایسا ہی ہم نے کیا اور ہم اس کے احوال سے خوب باخبر تھے۔ ) ذوالقرنین کی دوسری مہم اس آیت کریمہ میں ذوالقرنین کی دوسری مہم کا ذکر ہے۔ پہلا سفر اس کا مغرب کی جانب تھا۔ یہ سفر اس کا مشرقی سمت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–91

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ذوالقرنین کی مشرق کی جانب دوسری فوجی مہم۔ ذوالقرنین نے دوسری فوجی مہم کے لیے بھی پہلے کی طرح ٹھیک ٹھیک منصوبہ بندی کرتے ہوئے فوج کو اپنے ملک کے مشرقی علاقوں پر یلغار کرنے کا حکم دیا اور پہلے کی طرح فوج کی خود کمان سنبھالی۔ وہ ملک پر ملک زیر نگیں کرتا ہوا زمین کی اس حد تک پہنچا کہ جہاں سے آگے کوئی ملک باقی نہ رہا۔ گویا کہ سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان اس کی فرمانروائی کا پرچم لہرانے لگا۔ زمین کی مشرقی سرحد پر اس کا واسطہ ایسی قوم کے ساتھ پڑا جو اس قدر غیر ترقی یافتہ اور غیر مہذب تھی کہ انھیں بودوباش اور رہن سہن کا بھی علم نہیں تھا۔ جس طرح آج بھی افریقہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 89–90

دوسرا سفر مشرقی جانب اور اس کے احوال : 89، 90: ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا حَتّٰی اِذَ ا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلٰی قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا (پھر وہ اسباب کے پیچھے لگا۔ یہاں تک کہ وہ مشرقی جانب سورج کے طلوع ہونے کے مقام تک پہنچا تو وہاں اس نے سورج کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے سورج سے ورے کوئی روک نہ بنائی تھی) قومؔ سے حبشی مراد ہیں۔ دُوْنِھَا سے سورج سے ورے مراد ہے۔ سَتْرًا سے مراد تعمیرات ہیں کعب کہتے ہیں : ان کی سر زمین میں دیواریں قائم نہ ہوسکتیں تھیں۔ وہاں سرنگیں موجود تھیں۔ جب سورج طلوع ہوتا تو ان سرنگوں میں داخل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–89

87۔ 89:۔ مغرب کی طرف کے سفر سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے مشرق کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کی بادشاہت کا سامان جو ذوالقرنین کو دیا تھا اس سامان کو کام میں لاکر مغرب کی طرف کے سفر کے بعد اس نے مشرق کی طرف کا سفر کیا اور ایسی سر زمین پر پہنچا جہاں پہلے پہلے سورج نکلتا ہے اور وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو دیکھا کہ جن کے لیے سورج کی دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں بنائی مطلب یہ ہے کہ اس سرزمین پر نہ قدرتی کچھ پہاڑو درخت ایسے ہیں کہ ان کی آڑ میں وہ لوگ دھوپ سے بچ سکیں نہ وحشی پن کے سبب سے اتنی عقل ان لوگوں میں ہے کہ وہ مکان بنادیں زمین میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 89–98

آیت 89 یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کر رکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو (وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا) ” پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لئے آفتاب کے ورے کوئی پردہ “ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی اسمان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے۔۔۔. یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 88–89

133 ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ذو القرنین نے ایمان والوں کے ساتھ نرمی کے برتاؤ کا اعلان و وعدہ کیا۔ یعنی پہلے گروہ کے برعکس جن لوگوں نے کفر و سرکشی اور ضلال واضلال کی بجائے اطاعت و بندگی کا راستہ اختیار کیا، اور انہوں نے صدق دل سے ایمان لاکر اعمال صالحہ کی راہ کو اپنایا۔ اور اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد و مشن بنایا تو ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے جزائے خیر اور عمدہ بدلہ ہے۔ اور ہم بھی اپنی طرف سے نہ صرف یہ کہ ان پر کوئی سختی نہیں کریں گے بلکہ ان سے ایسی نرم اور آسان بات کہیں گے جو ان کے لئے آسانی اور سہولت کا باعث…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 87–89

ف 6 یعنی ان دونوں کی قدرت دی اور یہ قدرت ہر بادشاہ اور حاکم کو ملتی ہے کہ وہ خلق اللہ کو ستاوے یا اپنی خوبی کا ذکر جاری رکھے۔ کذا فی الموضح) لفظ ذلنا (ہم نے کہا) کی بنا پر بعض مفسرین نے ذوالقرننی کو نبی قرار دیا ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ بات براہ راست بذریعہ وحی خطاب کر کے فرمائی ہو۔ بلکہ یہ ارشاد زبان حال یا اس وقت کے نبی واسطہ سے بھی ہوسکتا ہے جیسے فرمایا : قیل یا ارض ابلعی مآءک (ہود) یا جیسے فرمایا فقلنا اضربوہ بیعضھا (بقرہ) اس لئے اکثر علمائے سلف ذوالقرنین کو نبی نہیں بلکہ خدا پرست اور عادل فرمانروا مانتے ہیں۔ معالم التنزیل)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:89) اتبع۔ اتباع (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ پیچھے لگ گیا۔ پیچھے چل پڑا ۔ اتبع سببا۔ وہ ایک (اور) راہ پر چل نکلا۔ یا چل پڑا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–91

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91 یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔ تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91 تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–89

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–89

[29] مطلب یہ ہے کہ وہ خشکی کے آخری سرے پر پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔ [30] یعنی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 84–91

(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔ قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ، چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-89 پھر وہ ایک ساز و سامان کے پیچھے لگا اور ایک دوسری راہ ہو لیا۔ یعنی ساز و سامان درست کر کے اب کے مشرقی سمت اختیار کی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اور سفر کا انجام کیا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–89

ف 2۔ یعنی جہت مغرب میں منتہائے آبادی پر۔ 3۔ مراد اس سے غالبا سمندر ہے کہ اس کا رنگ اکثر جگہ سیاہ ہے، اور سمندر میں گو حقیقة غروب نہیں ہوتا لیکن جہاں سمندر سے آگے نگاہ نہ جاتی ہو تو بادی النظر میں سمندر ہی میں غروب ہوتا معلوم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ذوالقرنین نے اس کے بعد ایک اور مہم کی تیاری شروع کی : 95۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ذوالقرنین نے ایک ” دوسرے لشکر کی تیاری شروع کی ۔ “ اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خورس ابھی مفتوحہ علاقہ سے واپس نہیں آیا تھا کہ اس کو ایران کے کچھ قبائل کی بیوفائیوں کی خبر مل گئی اور اس نے بابل کی طرف بڑھنے کی بجائے ان بےوفا قبائل کی طرف واپس آنے کا ارادہ کرلیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–92

Commentary The Holy Qur'an does describe this state of the people Dhul-Qarnain found living towards the East meaning thereby that they were not accustomed to the use of ways and means like houses, tents and dresses to seek protection against the Sun. But, it does not mention anything about their faith and deeds, nor does it say what Dhul-Qarnain did to them. However, it is obvious that these people too were infidels and Dhul-Qarnain handled them the way he had handled the people he had found in the West as mentioned earlier. But, describing it again at this place was not considered necessary…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–89

63.“The setting place of the sun”does not mean the place of the setting of the sun. According to Ibn Kathir, it means that he marched to the west conquering one country after the other till he reached the last boundary of the land, beyond which there was ocean. 64.“He found it setting in a muddy spring”: If Zul Qarnain was Cyrus, then that place would be the western limit of Asia Minor and the black waters would be the Aegean Sea. This interpretation is supported by the use of the word ain instead of bahr in the Quran. 65.“We said”does not necessarily mean that Allah directly revealed to him…

Read the full tafseer →