Explained with ayahs 85–88
ذوالقرنین کا تعارف۔
ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے زمین کی ایک سمت یعنی مغربی دانب کوچ کردیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے۔ حضرت ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا یہ بےبنیاد باتیں ہیں اور عموما اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
سورة الْكَهْف 63
غروب آفتاب کی حد سے مراد، جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے اقصٰی ما یسلک فیہ من الارض میں ناحیۃ المغرب ہے نہ کہ آفتاب غروب ہونے کی جگہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ مغرب کی جانب ملک پر ملک فتح کرتا ہوا خشکی کے آخری سرے تک پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔
سورة الْكَهْف 64
یعنی وہاں غروب آفتاب کے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔ اگر فی الواقع ذو القرنین سے مراد خورس ہی ہو تو یہ ایشیائے کوچک کا مغربی ساحل ہوگا جہاں بحرایجین چھوٹی چھوٹی خلیجوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس قیاس کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ قرآن یہاں بحر کے بجائے عین کا لفظ استعمال کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
(آیت) اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ مراد یہ ہے کہ جانب مغرب میں اس حد تک پہنچ گئے جس سے آگے کوئی آبادی نہیں تھی۔
فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ لفظ حمئۃ کے لغوی معنی سیاہ دلدل یا کیچڑ کے ہیں مراد اس سے وہ پانی ہے جس کے نیچے سیاہ کیچڑ ہو جس سے پانی کا رنگ بھی سیاہ دکھائی دیتا ہو اور آفتاب کو ایسے چشمے میں ڈدبتے ہوئے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب اس چشمے میں ڈوب رہا ہے کیونکہ آگے آبادی یا کوئی خشکی سامنے نہیں تھی جیسے آپ کسی ایسے میدان میں غروب کے وقت ہوں جہاں دور تک جانب مغرب میں کوئی پہاڑ درخت عمارت نہ ہو تو دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آفتاب زمین کے اندر گھس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
تفسیر آیات 87 تا 88:۔ قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا (87) وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا (88)۔
قول بلسانِ عمل : جس طرح اوپر کا قول بلسان حال ہے اسی طرح یہ قول بلسانِ عمل ہے یعنی اس نے اپنے رویہ اور طرز عمل سے یہ شہادت ہے کہ جو ظلم و فساد کی راہ اختیار کریں گے وہ اپنے ایمان و عمل کے صلہ میں خدا کے ہاں بھی اچھے انجام سے سرفراز ہوں گے اور ہم بھی ان کے معاملہ میں نہایت نرم پالیسی اختیار کریں گے۔
رویہ اور عمل کی تعبیر قول سے عربی زبان کا ایک معروف اسلوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
87۔ 1 یعنی جو کفر و شرک پر جما رہے گا، اسے ہم سزا دیں گے یعنی پچھلی غلطیوں پر مواخذہ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
45: ذوالقرنین کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ میں انہیں راہ راست پر آنے کی دعوت دوں گا جو لوگ اس دعوت کو قبول نہ کرکے ظلم کا ارتکاب کریں گے انہیں تو میں سزا دوں گا اور جو لوگ دعوت قبول کرکے ایمان عمل صالح اختیار کرلیں گے ان کے ساتھ میں آسانی کا معاملہ کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔
حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
7 یعنی آخرت میں بھلائی ملے گی اور دنیا میں ہم اس پر سختی نہ کریں گے۔ بلکہ اپنے کام کے لیے جب کوئی بات اس سے کہیں گے سہولت اور نرمی کی کہیں گے۔ فی الحقیقت جو بادشاہ عادل ہو اس کی یہ ہی راہ ہوتی ہے۔ بروں کو سزا دے اور بھلوں سے نرمی کرے۔ ذوالقرنین نے یہ ہی چال اختیار کی۔
Read the full tafseer →آیت 88 وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَاۗءَۨ الْحُسْنٰى ۚ وَسَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا يُسْرًا
یعنی اس مفتوحہ علاقہ میں اپنی رعایا کے اہل ایمان نیک لوگوں سے ہم تمام معاملات میں نرمی سے کام لیں گے اور خراج وغیرہ کی وصولی کے سلسلے میں ان پر سختی نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
73 ذوالقرنین کا مغربی قوم سے سلوک :۔ چناچہ ذوالقرنین نے دوسری راہ اختیار کی کہ اس قوم کو پوری طرح سمجھایا جائے اور انھیں اسلام کی دعوت دی جائے اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے نتیجہ میں جو لوگ اکڑ جائیں گے اور ظالموں کی روش اختیار کریں گے ہم صرف انھیں ہی سزا دیں گے اور انھیں سے سختی کا برتاؤ کریں گے پھر موت کے بعد جب ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا تو وہ اسے سخت عذاب بھی دے گا لیکن جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں گے اور اپنا طرززندگی بدل کر نیک کام کرنے لگیں گے ان کو اللہ کے ہاں اچھا اجر ملے گا اور ہم بھی ان سے نرمی کا برتاؤ کریں گے جیسا کہ ہر عادل بادشاہ کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ غلبہ پانے…
Read the full tafseer →136۔ (آخرت میں) ذوالقرنین نے کہا کہ اچھا تو میں وہی نرمی کا طریقہ اختیار کرتا ہوں اور پہلے ان لوگوں کو دعوت ایمان ہی دیتا ہوں۔ (آیت) ” من ظلم “۔ ظلم یہاں کفر کے اور ظالم کافر کے معنی میں ہے۔ ظلم اے کفر باللہ (ابن عباس ؓ الظلم العظیم الذی ھو الشرک (روح) یعنی آپ نے فرمایا کہ جو میری دعوت ایمان کے بعد بھی کافر رہے گا۔ اے استمر علی کفرہ واشر کہ بریہ (ابن کثیر) (آیت) ” نعذبہ “۔ اس عذاب کے تحت میں قتل وغیرہ سب کچھ آگیا۔ (آیت) ” نکرا “۔ ملاحظہ ہو حایشہ نمبر 108، پ 15۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
آیت نمبر 83 تا 91
ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…
Read the full tafseer →واما من امن وعمل صالحا فلہ جزآء الحسنی اور جو ایمان لے آئے گا اور اچھے کام کرے گا اس کے لئے نیکی کا اچھا بدلہ ہوگا ‘ یعنی اللہ کے حکم کی تعمیل میں یا اللہ کی طرف سے اختیار ملنے کے بعد جب اس نے دعوت اسلام دے دی تو کہا کہ میری اس دعوت کے بعد جو کوئی کفر پر جما رہا اور شرک کی صورت میں اپنے اوپر خود ظلم کرتا رہا تو میں اور میرے ساتھی اس کو قتل کردیں گے اور آخرت میں اللہ اس کو ایسا عذاب دے گا جو کسی کے علم میں نہیں وہ اتنا عظیم ترین اور غیر معمولی ہوگا کہ (اس دنیا میں) کسی کے سامنے نہیں آیا۔ نیک کام کرنے سے مراد ہے تقاضاء ایمان کے موافق عمل کرنا۔
وسنقول لہ امرنا یسرا۔ اور ہم اپنے برتاؤ میں اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ،
چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ،
ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ۔۔ : ذوالقرنین نے اپنی فتح و قوت کے نشے میں آکر سب کو تہ تیغ کرنے یا غلام بنانے کے بجائے ہر ایک سے وہ سلوک کرنے کا اظہار کیا جس کے وہ لائق تھا۔ ”قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ“ (جو شخص ظلم کرے گا) سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (82) اس کا ایک قرینہ یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر ہے، یعنی کفار و مشرکین میں سے ہر ایک سے اس کے حسب حال سخت سزا کا سلوک کروں گا، جنگ پر آمادہ لوگوں کو قتل اور قید کروں گا اور غلام بناؤں گا۔ دوسروں سے جزیہ لے کر غلام بنا کر رکھوں گا، پھر قیامت کے دن وہ اپنے کفر و شرک کی بہت بری سزا پائیں گے۔ رہے ایمان اور عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قلنا یذا القرنین۔ قشیری ابو نصر نے کہا : اگر وہ نبی تھا تو یہ وحی تھی، اگر وہ نبی نہیں تھا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام تھا۔ اما ان تعذب واما ان تتخذفیہم حسنا۔ ابراہیم بن سری نے کہا : ان دو چیزوں میں اسے اختیار دیا گیا تھا جس طرح حضرت محمد ﷺ کو اختیار دیا گیا تھا، فرمایا : فان جاءوک فاحکم بینہم او اعرض عنہم (المائدہ : 42) ابو اسحاق زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ان دو حکموں میں اختیار دیا ہے۔ نحاس نے کہا : علی بن سلیمان نے اس کا قول رد کیا ہے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ذوالقرنین نب کی تھا اور اس کے ساتھ اس کو خطاب کیا جاتا تھا۔ وہ اپنے رب کو کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–100
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال اما من ظلم “ یعنی جس نے شرک کیا۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فسوف نعذبہ “ سے مراد ہے قتل کرنا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ان کا عذاب یہ تھا کہ ان کو جمع کئے ہوئے تانبے میں ڈالا جاتا تھا پھر ان کے نیچے آگ جلائی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ اس میں ختم ہوجاتے تھے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلہ جزآء الحسنی “ سے مراد ہے کہ اس کے لئے اچھی جزا ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابی ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[وَاَمَا : اور وہ جو ہے ] [مَنْ : جو ] [اٰمَنَ : ایمان لایا ] [وَعَمِلَ : اور اس نے عمل کیا ] [صَالِحًا : نیک ] [فَلَهٗ : تو اس کے لئے ] [جَزَاۗءَۨ: بطور بدلے کے ] [الْحُسْنٰى: بھلائی ہے ] [وَسَنَقُوْلُ : اور ہم کہیں گے ] [لَهٗ : اس سے ] [مِنْ اَمْرِنَا : اپنے کام میں ] [يُسْرًا : آسانی (کی بات)]
ترکیب : (آیت۔ 88) جَزَائَ نِ الْحُسْنٰی مرکب اضافی نہیں ہوسکتا کیونکہ جَزَائً پر تنوین ہے۔ یہ مرکب توصیفی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ جَزَائً نکرہ اور اَلْحُسْنٰی معرفہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں الگ الگ مفرد الفاظ ہیں۔ سادہ جملہ اس طرح ہے۔ فَلَہُ الْحُسْنٰی جَزَائً ۔ ہماری ترجیح ہے کہ جَزَائً کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
مغرب کا سفر
قریش مکہ کے سوال کرنے پر ذوالقرنین کے بارے میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ ذوالقرنین کو زمین میں حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو ہر قسم کا سامان دیا تھا جو حکومت کی ضرورت پورا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے چناچہ وہ ایک راہ پر چل دئیے یعنی مغرب کی طرف سفر کرنا شروع کردیا سفر کرتے کرتے (درمیان شہروں کو فتح کرتے ہوئے) ایسی جگہ پر پہنچے جو آفتاب غروب ہونے کی جگہ تھی مطلب یہ ہے کہ مغرب کی جانب میں آبادی کی انتہاء پر پہنچ گئے۔ وہاں انہیں ایک سیاہ مٹی والے چشمہ میں آفتاب ڈوبتا ہوا نظر آیا۔ اس سے سمندر کا پانی مراد ہے۔ عین عربی میں چشمہ کو اور حمءۃ کالے رنگ کی کیچڑ اور دلدل کو کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
سفر اول
قال اللہ تعالیٰ ۔ فاتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مغرب الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وسنقول لہ من امرنا یسرا
پس جب حق تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے ہر قسم کا سامان مہیا کردیا جس سے وہ اپنے عزائم کو پورا کرسکے تو اس نے سفر شروع کیا۔ پہلا سفر اس کا یہ ہوا کہ اس نے بارادۂ فتوحات ملک مغرب کی راہ لی اور ایسا راستہ اختیار کیا کہ جو اسے مغرب تک پہنچا دے یہاں تک کہ جب سفر کرتے کرتے اور درمیانی ممالک کو فتح کرتے کرتے سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا۔ یعنی سمت مغرب میں منتہائے آبادی میں پہنچا جہاں آبادی ختم ہوتی تھی تو اس نے سورج کو سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا یعنی ظاہر نظر میں اس کو ایسا دکھائی دیا جیسے سمندر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
76:۔ یہ ذو القرنین کی مغربی مہم کا ذکر ہے۔ وہ مغرب کی جانب اس قدر دور نکل گیا کہ اب مزید آگے بڑھنے سے دلدل کے ایک طویل و عریض سمندر نے اسے روک دیا اور جانب مغرب میں گویا وہ زمین کے منتہی پر پہنچ گیا کیونکہ اس دلدل کو عبور کر کے آگے نکلنا ناممکن تھا جب سورج غروب ہوتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ دلدل میں چھپ رہا ہے۔ ” حمئۃ “ ای ذات حماۃ۔ حماۃ کے معنی کیچڑ کے ہیں۔ ” عین حمئۃ “ یعنی کیچر والا چشمہ، مراد دلدل ہے۔ ایک قوم اس دلدلی سمندر کے کنارے آباد تھی۔
77:۔ ذوالقرنین کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح ایک بادشاہ اور نبی تھے اور بعض کا قول ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
(تین واقعات تین اصول)
یہ بات گذشتہ سورة اور اس سورة کے مضامین کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایماء پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، پہلا سوال روح کے بارے میں تھا ، جس کا مختصر جواب اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل میں دیا ہے باقی دوسوالات اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تھے جن میں سے اصحاب کہف کی تفصیل اسی سورة کی ابتدا میں بیان ہوچکی ہے اور ذوالقرنین کے متعلق بعض انکشافات اب آرہے ہیں ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة میں مذکورہ تین واقعات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تین بنیادی قوانین بیان فرمائے ہیں ، اصحاب کہف کے واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں استقلال کا قانون…
Read the full tafseer →وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَاۗءَۨ الْحُسْنٰى 0ۚ وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَا يُسْرًا 88ۭ
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُـہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّـہٖ فَـیُـعَذِّبُـہٗ عَذَابًا نُّـکْرًا۔ وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَـہٗ جَزَآئَ نِ الْحُسْنٰی ج وَسَنَقُوْلُ لَـہٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًا۔ (الکہف : 87، 88)
(ذوالقرنین نے کہا جو ان میں سے ظلم کا مرتکب ہوگا ہم اس کو سزا دیں گے پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت ترین عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور عمل صالح اختیار کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس بھی اچھا بدلہ ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ آسان معاملہ کریں گے۔ )
قول ذوالقرنین کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں قَالَ کا فاعل ذوالقرنین ہے۔ بظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی پہلی مہم اور اس کی فتوحات۔
قرآن مجید نے ذوالقرنین کی مملکت اور اس کے اسباب و وسائل کا ذکر کرتے ہوئے یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں۔” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں۔ ایک جماعت نے اس کا معنیٰ کیا ہے کہ وہ اسباب کے پیچھے چلا جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اس نے اپنی مملکت میں وسائل کے حصول کے لیے ٹھیک ٹھیک اقدامات کیے اور وسائل کی خوب منصوبہ بندی کی۔ ترقی یافتہ مملکت اور کامیاب حکمران کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ وسائل کے حصول کے ساتھ اس کی پلاننگ میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیتا۔
” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ کا دوسرا معنٰی یہ لیا گیا ہے کہ اس نے ایک راہ اختیار…
Read the full tafseer →88: وَاَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآئَ نِالْحُسْنٰی (اور جو ایمان لے آئے گا اور اچھے کام کرے گا۔ اس کے لئے نیکی کا اچھا بدلہ ملے گا) عمل صالح سے وہ اعمال مراد ہیں جو تقاضائے ایمان کے مطابق ہیں۔ جزاء الحسنی ؔ سے مراد اچھے عمل کا بدلہ ہے جو کہ کلمہ شہادت ہے۔
قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے جزاء الحسنی پڑھا ہے۔ یعنی اس کے لئے اچھا عمل بدلہ میں ہے۔
وَسَنَقُوْلُ لَہٗ مِنْ اَمْرِنَایُسْرًا (اور ہم اپنے برتائو میں اس کے لئے آسان بات کہیں گے) یعنی ذَایُسر آسانی والی۔ مطلب یہ ہے ہم اس کو کسی مشکل اور گراں کام کا حکم نہ دیں گے۔ بلکہ آسان حکم جیسے زکوۃ، خراج وغیرہ۔
Read the full tafseer →تفسیر (88)” واما من امن وعمل صالحاً فلہ جزاء الحسنیٰ “ حمزہ ، کسائی، ابو جعفر، یعقوب نے ” جزائ “ منصوب پڑھا ہے۔ ” ای فلہ الحسنی “ ان کو اچھا بدلہ دیاجائے گا۔ جزاء منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ سے۔ دوسرے حضرات نے مرفوع پڑھا ہے اضافت کی وجہ سے۔ حسنی سے مراد جنت ہے۔ حسنی کی اضافت اس طرح ہے جیسے فرمایا ” ولدار الاخرۃ خیر “ دار سے مراد آخرت کا گھر ہے۔ بعض نے کہا کہ حسنی سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ کا بدلہ ہے۔ ” و سنقول لہ من امرنا یسرا “ ان کی بات نرم اور ان کے ساتھ ہم نرمی والا معاملہ کریں گے۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد ” یسرا “ آسانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
87۔ 89:۔ مغرب کی طرف کے سفر سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے مشرق کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کی بادشاہت کا سامان جو ذوالقرنین کو دیا تھا اس سامان کو کام میں لاکر مغرب کی طرف کے سفر کے بعد اس نے مشرق کی طرف کا سفر کیا اور ایسی سر زمین پر پہنچا جہاں پہلے پہلے سورج نکلتا ہے اور وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو دیکھا کہ جن کے لیے سورج کی دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں بنائی مطلب یہ ہے کہ اس سرزمین پر نہ قدرتی کچھ پہاڑو درخت ایسے ہیں کہ ان کی آڑ میں وہ لوگ دھوپ سے بچ سکیں نہ وحشی پن کے سبب سے اتنی عقل ان لوگوں میں ہے کہ وہ مکان بنادیں زمین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت 83
اہل کتاب تھے یا مشرکین انہوں نے رسول اللہٓ نے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : (استلوا علیکم منہ ذکرا) ” میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال “ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے۔ یعنی میں تمہیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال، تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔ (انا مکنا لہ فی الارض) ” ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کیگوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ (واتینہ من کل شیء سببا۔ فاتبع سببا) ” اور دیا ہم نے اس کو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
133 ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ذو القرنین نے ایمان والوں کے ساتھ نرمی کے برتاؤ کا اعلان و وعدہ کیا۔ یعنی پہلے گروہ کے برعکس جن لوگوں نے کفر و سرکشی اور ضلال واضلال کی بجائے اطاعت و بندگی کا راستہ اختیار کیا، اور انہوں نے صدق دل سے ایمان لاکر اعمال صالحہ کی راہ کو اپنایا۔ اور اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد و مشن بنایا تو ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے جزائے خیر اور عمدہ بدلہ ہے۔ اور ہم بھی اپنی طرف سے نہ صرف یہ کہ ان پر کوئی سختی نہیں کریں گے بلکہ ان سے ایسی نرم اور آسان بات کہیں گے جو ان کے لئے آسانی اور سہولت کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین
ذوالقرنین کا واقعہ
تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔
خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ف 6 یعنی ان دونوں کی قدرت دی اور یہ قدرت ہر بادشاہ اور حاکم کو ملتی ہے کہ وہ خلق اللہ کو ستاوے یا اپنی خوبی کا ذکر جاری رکھے۔ کذا فی الموضح) لفظ ذلنا (ہم نے کہا) کی بنا پر بعض مفسرین نے ذوالقرننی کو نبی قرار دیا ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ بات براہ راست بذریعہ وحی خطاب کر کے فرمائی ہو۔ بلکہ یہ ارشاد زبان حال یا اس وقت کے نبی واسطہ سے بھی ہوسکتا ہے جیسے فرمایا : قیل یا ارض ابلعی مآءک (ہود) یا جیسے فرمایا فقلنا اضربوہ بیعضھا (بقرہ) اس لئے اکثر علمائے سلف ذوالقرنین کو نبی نہیں بلکہ خدا پرست اور عادل فرمانروا مانتے ہیں۔ معالم التنزیل)
Read the full tafseer →(18:88) یسرا۔ آسانی، سہولت۔ سنقول لہ من امرنا یسرا۔ ہم اسے ایسے احکام کا حکم دیں گے جن کا بجا لانا آسان ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91
یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔
تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91
تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
[29] مطلب یہ ہے کہ وہ خشکی کے آخری سرے پر پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔
[30] یعنی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔
چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔
قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ،
چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے…
Read the full tafseer →-88 اور ان لوگوں میں سے جو ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کو آخرت میں بھی بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم بھی اپنے برتائو میں اس کے ساتھ آسانی کریں گے اور اس کو نرم اور آسان بات کہیں گے۔ یعنی ہم کسی پر زیادتی نہیں کریں گے بلکہ جو سلوک کا مستحق ہوگا اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ہماری دعوت سے روگردانی کرے گا وہ سزا کا مستوجب ہوگا یہاں بھی اور وہاں بھی اور ہماری دعوت کو قبول کر کے بھلی راہ اختیار کرے گا اس کو وہاں بھی بھلا صلہ اور یہاں بھی نرمی اور آسانی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حاکم جو عادل ہو اس کی یہی راہ ہے بروں کو سزا دے برائی کی اور بھلوں سے نرمی کرے اس نے یہ بات کہی یہ چال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 2۔ یعنی جہت مغرب میں منتہائے آبادی پر۔
3۔ مراد اس سے غالبا سمندر ہے کہ اس کا رنگ اکثر جگہ سیاہ ہے، اور سمندر میں گو حقیقة غروب نہیں ہوتا لیکن جہاں سمندر سے آگے نگاہ نہ جاتی ہو تو بادی النظر میں سمندر ہی میں غروب ہوتا معلوم ہوگا۔
Read the full tafseer →” ذوالقرنین “ کا اعلان کہ بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیا جائے گا :
94۔ بلاشبہ اس کی نیک سیرت اس بات کا جیتا جاگتا اعلان تھی اور تاریخ کے صفحات میں اس کے نام اپنے تو اپنے مخالفین نے بھی کوئی الزام نہیں رکھا اس کا یہ اعلان دنیوی زندگی کے لئے بھی ہوگا اور آخرت کی زندگی میں تو ایسا ہونا لازم قرار پایا ہے ۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ اس نے برائی کے بدلہ میں نیکی ہی کی اور یہ سب سے بڑی کردار کی خوبی ہے کہ برائی کے بدلہ میں نیکی کی جائے چناچہ تحریر ہے کہ ” حملہ کروئسیس کی طرف سے ہوا حالانکہ کروئسیس کے باپ نے خورس کے نانا اسٹیاگس سے صلح کرلی تھی اور باہم رشتہ داری بھی تاکہ مستقل طور پر جنگ کا خاتمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
The statement in verse 86: حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ (until when he reached where the sun sets) means that he reached the far limit towards the West beyond which there was no populated area.
The word: حَمِئَةٍ (Hami'ah) in the succeeding phrase: فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ (into a miry spring) literally means dark marsh or mud carrying the sense of water beneath which there is dark mud and which causes the water it-self to appear black. As for the sense of his seeing the Sun setting into such a spring, it means that an onlooker perceived it as setting into the spring because there was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
63.“The setting place of the sun”does not mean the place of the setting of the sun. According to Ibn Kathir, it means that he marched to the west conquering one country after the other till he reached the last boundary of the land, beyond which there was ocean.
64.“He found it setting in a muddy spring”: If Zul Qarnain was Cyrus, then that place would be the western limit of Asia Minor and the black waters would be the Aegean Sea. This interpretation is supported by the use of the word ain instead of bahr in the Quran.
65.“We said”does not necessarily mean that Allah directly revealed to him…
Read the full tafseer →