Al-Kahf 18:72

Al-Kahf · from ayah 72

18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ۟قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Al-Khidh r] said, "Did I not say that with me you would never be able to have patience?"

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 10 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:72

اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے جواب دیا کہ میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا کیا میں نے نہ کہا تھا کہ یقینا تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(خضر نے) کہا : میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، میں نے نہیں کہا ھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(خضر ؑ نے) کہا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ نباہ نہ کرسکیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He replied: "Did I not tell you that you will not be able to patiently bear with me?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Did I not say that you can never bear with me patiently?

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Did I not say that you can never bear with me patiently?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Did I not tell you, that you would not be able to have patience with me"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Did I not tell thee that thou couldst not bear with me?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Al-Khidh r] said, "Did I not say that with me you would never be able to have patience?"

— Saheeh International

He said, "Did I not tell you that you would not be able to remain patient with me?"

— Muhammad Sarwar

He said: Did I not say that you will not be able to have patience with me?

— Muhammad Habib Shakir

He said: said I not that thou wouldst not be able to have with me patience?

— Abdul Majid Daryabadi

He answered: "Did I not tell thee that thou canst have no patience with me?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–73

شرائط طے ہو گئیں دونوں میں جب شرط طے ہوگئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لئے سوار کرلیا تھا جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو حضرت خضر نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ سے صبر نہ ہوسکا شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے ؟ لتغرق کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں ہے جیسے شاعر کے اس قول میں لدوا للموت وبنوا للحزاب یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–81

سورة الْكَهْف 59 اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–73

خلاصہ تفسیر (غرض باہم قول وقرار ہوگیا) پھر دونوں (کسی طرف) چلے (غالباً ان کے ساتھ یوشع ؑ بھی ہوں گے مگر وہ حضرت موسیٰ ؑ کے تابع تھے اس لئے ذکر دو کا کیا گیا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے کسی ایسے مقام پر پہنچنے جہاں کشتی پر سوار ہونے کی ضرورت ہوئی) جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو ان بزرگ نے اس کشتی (کا ایک تختہ نکال کر اس) میں سوراخ کردیا موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لئے سوراخ کیا ہے کہ اس کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں آپ نے بڑی بھاری (خطرہ کی) بات کی ان بزرگ نے کہ کہا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا (آخر وہی ہوا آپ اپنے قول پر نہ رہے) موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 72–73

تفسیر آیات 72 تا 73: قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (72) قَالَ لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (73)۔ " ارھاق " کے معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا۔ کسی کو مبتلائے آفت کرنا، " ارھقہ عسرا " کے معنی ہوں گے اس کو تنگی میں ڈال دیا۔ خضر ؑ نے حضرت موسیٰ کو اپنی بات یاد دلائی کہ میں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکوگے ! حضرت موسیٰ نے فوراً معذرت کی کہ بھول ہوئی، معاف کیجیے، میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری سے کام نہ لیجیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

71۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ اس علم خاص کی خبر نہیں تھی جس کی بنا پر خضر نے کشتی کے تختے توڑ دیئے تھے، اس لئے صبر نہ کرسکے اور اپنے علم و فہم کے مطابق اسے نہایت ہولناک کام قرارا دیا۔ امرا کے معنی ہیں الداھیۃ العظیمۃ، بڑا ہیبت ناک کام۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–73

38: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کشتی کا ایک تختہ نکال کر اس میں سوراخ کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب حضرت موسیٰ معذرت کرتے ہیں کہ وہ تو بھول گئے اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ میرے عذر کو قبول کرلیں ، بھول ہوگئی اور یہ کہ اس معاملے میں آپ میرے ساتھ سختی نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 72–73

8 یعنی اگر بھول چوک پر بھی گرفت کرو گے تو میرا تمہارے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ یہ پہلا پوچھنا حضرت موسیٰ سے بھول کر ہوا۔ اور دوسرا اقرار کرنے کو اور تیسرا رخصت ہونے کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا اس قصہ میں مذکور تین واقعات کے حوالے سے ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اللہ کے جن احکام کے مطابق اس کائنات کا نظام چل رہا ہے ان کی حیثیت تشریعی شریعت سے متعلق نہیں بلکہ تکوینی کائنات کے انتظامی امور سے متعلق ہے۔ ان احکام کی تنفیذ کے لیے فرشتے مقرر ہیں۔ اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ کی رائے یہ بھی ہے کہ اس مقصد کے لیے اولیاء اللہ کی ارواح کو بھی ملائکہ کے طبقہ اسفل میں شامل کردیا جاتا ہے اور وہ بھی فرشتوں کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ میں حصہ لیتے ہیں۔ بہر حال ان تکوینی احکام کی تعمیل کے نتیجے میں جو واقعات رونما…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–73

62 سیدنا خضر سے جب ان دونوں کی ملاقات ہوگئی اور سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر میں ابتدائی مکالمہ ہوا اس کے بعد سیدنا یوشع بن نون کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگلا سفر صرف سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر نے کیا تھا۔ شاید سیدنا موسیٰ نے سیدنا یوشع کو واپس بھیج دیا ہو۔ 63 خضر نے کشی کا تختہ کیوں توڑا ؟ کشی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر ان دونوں سے کرایہ بھی نہ لیا اور کشتی میں سوار کرلیا۔ مگر جب یہ کشتی منزل مقصود کے قریب پہنچی تو سیدنا خضر نے کشتی کے پہلو سے ایک تختہ توڑ دیا۔ یہ شگاف نیچے پیندے میں نہ ڈالا گیا تھا۔ اس لیے کشتی جو پہلے ہی منزل مقصود پر پہنچنے والی تھی ڈوبنے سے تو بچ گئی مگر ڈوبنے کا خطرہ ضرور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

106۔ (سودیکھئے وہی بات آگے آئی) اس نباہ نہ کرسکنے سے جس کا مبنی ومنشاء تمامتر غیرت دینی وجوش ایمانی تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منقصت نہیں اور مدح ومنقبت ہی نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 72–78

آیت نمبر 72 تا 78 ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا۔ خضر نے کہا کیا آپ سے میں نے (پہلے ہی) نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔ یہ گزشتہ واقعہ کی حضرت خضر کی طرف سے یاد دہانی ہے حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ سوراخ سے کشتی میں سوار ہونے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پانی اندر داخل ہی نہیں ہوا تو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 71–73

ان آیات سے اولو العزم پیغمبروں سے بھول کا صادر ہونا ثابت ہوتا ہے اور کامل استاذ کا شاگرد کی غلطی پر مؤاخذہ، پہلی غلطی پر مؤاخذہ میں نسبتاً نرمی کرنے (”اَ لَمْ اَقُلْ“ ”اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ“ سے نرم ہے) اور بھول کے عذر پر درگزر کرنے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–72

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانطلقا حتی اذ رکبا فی السفینۃ خرقھا اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ صحیح مسلم اور بخاری میں ہے (1) وہ دونوں دریا کے ساحل پر چلے ایک کشتی گزری تو انہوں نے سوار کرنے کے لیے ان سے بات کی تو کشتی والے حضرت خضر کو جان گئے تو انہوں نے بغیر کرائے کے سوار کر لیاجب کشتی میں دونوں سوار ہوتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اچانک دیکھا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ہتھوڑے کے ساتھ کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کو شگاف کردیا تاکہ اس کے سواروں کو ہلاک کردیں، آپ نے برا کام کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–73

خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں : 10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔ 11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔ 12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [انكَ : کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَنْ تَسْتَطِيْعَ : ہرگز صلاحیت نہیں رکھیں گے ] [مَعِيَ : میرے ساتھ ] [صَبْرًا : صبر کرنے و کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–74

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–73

69:۔ یہ پہلا واقعہ ہے، دورانِ سفر وہ کشتی میں سوار ہوئے حضرت خضر نے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا جس سے اس میں بڑا سا شگاف پڑگیا، شرعی طور پر بظاہر یہ حرکت ناجائز تھی اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا اور انہوں نے کہا کہ تم نے یہ کیا ناجائز حرکت کی ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے جو کہا تھھا کہ تم ضبط سے کام نہیں لے سکو گے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کا عذر کیا اور کہا کہ بھول کے بارے میں مجھ پر تنگی نہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–78

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا۝ 72 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–78

ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔ تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 72–73

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَلاَ تُرْھِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا۔ (الکہف : 72، 73) (حضرت خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میری بھول چوک پر مواخذہ نہ کیجیے اور میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری نہ فرمایئے۔ ) ارھاقکا مفہوم ارھاق… کے معنی، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا، کسی کو مبتلائے آفت کرنا۔ لاَ تُرْھِقْنِیْ ، قِیْلَ مَعْنَاہُ لاَ تُکَلِّفِنِیْ مُشَقَّۃً ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کا جواب دینے کی بجائے صرف انھیں ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–74

فہم القرآن ربط کلام : خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ کرنے والا پائیں گے میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو میرے کسی کام کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد دونوں چل پڑے ا وردریاعبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑدیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور فرمایا کیا آپ کشتی والوں کو ڈبو نا چاہتے ہیں ؟ آپ نے عجب کام کر دکھایا ہے۔ حضرت خضر (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خضر ( علیہ السلام) کی یاد دہانی : 72: قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا اس نے ( یعنی خضر (علیہ السلام) نے کہا) کیا آپ سے میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–73

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 69–75

118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–74

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–74

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف چناچہ دونوں حضرات روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہونا پڑا ، اور اہل کشتی نے دو نیک سیرت انسان دیکھ کر بہت احترام کیا بلکہ حدیث شریف کے مطابق بغیر اجرت لیے سوار کرلیا مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک جگہ ہاتھ پھیرا تو کشتی کا تختہ چیر دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے فورا بول اٹھے کہ یہ آپ کی کرامت ہے بھلا جن لوگوں نے بڑی عزت سے ہمیں ساتھ سوار کرلیا ان کو بھی معاف نہ کیا اور پھاڑ کر رکھ دی اب اگر یہ تختہ یہاں سے اکھڑ گیا تو یہ سب غرق نہ ہوجائیں گے ، آپ نے یہ معمولی حرکت نہیں کی بلکہ بہت بڑی زیادتی ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے عرض کیا میں نے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–73

ف 10 یعنی مجھ سے چوک ہوگئی اور مجھے طے کردہ شرط یاد نہیں رہی لہٰذا مجھ پر کوئی گرفت نہ کیجیے اگر آپ بھول چوک پر گرفتار کریں گے تو میرا آپ کے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 70–72

(18:70) فان اتبعتنی۔ پس اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اگر تم میرا اتباع کرنا چاہتے ہو یا اگر تو نے میرا اتباع کیا۔ یا میرے ساتھ رہے۔ اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نوقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ احدث۔ الحدوث (باب نصر) کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو۔ الحدث۔ نئی چیز ۔ نیا کام۔ نئی بات۔ ہر وہ قول وفعل جو نیا ظہور پذیر ہوا ہو۔ اسے مدث کہتے ہیں۔ حتی احدث لک منہ ذکرا۔ جب تک کہ میں خود ہی پہل کر کے تجھ سے بات نہ کروں۔ ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے ۔ اسے حدیث کہتے ہیں عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا حالت بیداری میں ہو۔ حدث عن فلان۔ کسی سے کچھ بیان کرنا۔ روایت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–78

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78 السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78 ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–74

فضائل القرآن : (1) امام دارمی وغیرہ نے حضرت عبیدہ بن لبابہ کی سند سے انہوں نے رزبن جیش سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جو شخص سورة کہف کے آخر کی آیتوں کو اس نیت سے پڑھے کہ فلاں شب (اس کی آنکھ کھل جائے اور) وہ اٹھ جائے تو وہ برابر اٹھ جائے گا۔ عبیدہ فرماتے ہیں ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے واقعی اسی طرح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-72 حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر و ضبط نہ کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–75

ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صاحب موسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ اس سفر میں صبر نہیں کر پائیں گے : 77۔ صاحب موسیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلایا کہ یہ بات تو سفر شروع کرنے سے پہلے ہی میں نے آپ کو کہہ دی تھی کہ آپ میرے اس سفر کے متحمل نہیں ہیں تو وہی بات ہوئی جو میں نے کہی تھی اور آپ سے صبر نہ ہوسکا اور آپ فورا مجھے ٹوک دیا حالانکہ یہ بات کرنے کا اگر حق تھا تو سب سے پہلے کشتی کے مالکوں کو تھا اور پھر ان لوگوں کو جو آپ کے علاوہ اس میں سوار تھے ، تعجب ہے کہ سب سے پہلے آپ ہی بول اٹھے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو کچھ میں نے سفر شروع کرنے سے پہلے کہہ دیا تھا وہ بالکل سچ تھا کہ آپ میرے اس سفر میں میرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–73

Commentary It was said in verse 71: أَخَرَ‌قْتَهَا لِتُغْرِ‌قَ أَهْلَهَا (Did you break it that you drown its people?). About it, it appears in the Hadith of the Sahihs of al-Bukhari and Muslim that al-Khadir (علیہ السلام) had dislodged a plank of the boat with an axe because of which there was a danger that water would fill up the boat and it would capsize. Therefore, Sayyidna Musa (علیہ السلام) had objected to it. But, according to historical reports, water did not fill into this boat. This may have happened either because al-Khadir had somehow repaired it himself soon after - as in a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–81

59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…

Read the full tafseer →