Explained with ayahs 71–73
شرائط طے ہو گئیں
دونوں میں جب شرط طے ہوگئی کہ تو سوال نہ کرنا جب تک میں خود ہی اس کی حکمت تجھ پر ظاہر نہ کروں تو دونوں ایک ساتھ چلے پہلے مفصل روایتیں گزر چکی ہیں کہ کشتی والوں نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لئے سوار کرلیا تھا جب کشتی چلی اور بیچ سمندر میں پہنچی تو حضرت خضر نے ایک تختہ اکھیڑ ڈالا پھر اسے اوپر سے ہی جوڑ دیا یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ سے صبر نہ ہوسکا شرط کو بھول گئے اور جھٹ سے کہنے لگے کہ یہ کیا واہیات ہے ؟ لتغرق کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں ہے جیسے شاعر کے اس قول میں لدوا للموت وبنوا للحزاب یعنی ہر پیدا شدہ جان دار کا انجام موت ہے اور ہر بنائی ہوئی عمارت کا انجام اجڑنا ہے۔ امرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
خلاصہ تفسیر
(غرض باہم قول وقرار ہوگیا) پھر دونوں (کسی طرف) چلے (غالباً ان کے ساتھ یوشع ؑ بھی ہوں گے مگر وہ حضرت موسیٰ ؑ کے تابع تھے اس لئے ذکر دو کا کیا گیا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے کسی ایسے مقام پر پہنچنے جہاں کشتی پر سوار ہونے کی ضرورت ہوئی) جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو ان بزرگ نے اس کشتی (کا ایک تختہ نکال کر اس) میں سوراخ کردیا موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لئے سوراخ کیا ہے کہ اس کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں آپ نے بڑی بھاری (خطرہ کی) بات کی ان بزرگ نے کہ کہا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا (آخر وہی ہوا آپ اپنے قول پر نہ رہے) موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا (71)۔
" امر " کے معنی عجیب اور منکر کام کے ہیں۔
کشی کا واقعہ : اس قول وقرار کے بعد دونوں اپنے تربیتی سفر پر چلے اور ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی پر سوار ہونے کے بعد حضرت خضر نے کسی جگہ سے کشتی کا کوئی تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور وہ اپنے قول وقرار کو نظر انداز کرکے بول اٹھے کہ یہ حرکت کیا آپ نے اس لیے کی ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں۔ یہ تو بڑی ہی ناروا حرکت آپ نے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
71۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ اس علم خاص کی خبر نہیں تھی جس کی بنا پر خضر نے کشتی کے تختے توڑ دیئے تھے، اس لئے صبر نہ کرسکے اور اپنے علم و فہم کے مطابق اسے نہایت ہولناک کام قرارا دیا۔ امرا کے معنی ہیں الداھیۃ العظیمۃ، بڑا ہیبت ناک کام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
38: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کشتی کا ایک تختہ نکال کر اس میں سوراخ کردیا تھا۔
Read the full tafseer →یہ کشتی ان دونوں کو بھی لے جا رہی اور ساتھ ہی اور سوار بھی اس پر موجود ہیں۔ یہ سب لوگ سمندر کے درمیان موجوں میں سفر کر رہے ہیں۔ عبدصالح اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ اس شگاف کی وجہ سے یہ کشتی غرق ہو سکتی ہے اور مالکوں اور سواروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو سکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عبداصالح نے یہ حرکت کیوں کی ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن سے شرائط سفر محو ہوگئیں۔ وہ اس غیر معقول حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان بعض اوقات محض تصور کی حد تک بہت کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عملی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے تمام نظریاتی جائزے اور توقعات دھری…
Read the full tafseer →7 جب اس کشتی پر چڑھنے لگے ناؤ والوں نے خضر کو پہچان کر مفت سوار کرلیا۔ اس احسان کے بدلہ یہ نقصان دیکھ کر موسیٰ کو اور زیادہ تعجب ہوا۔ لیکن کشتی پوری طرح کنارہ کے قریب پہنچ کر توڑی۔ لوگ ڈوبنے سے بچ گئے اور توڑنا یہ تھا کہ ایک تختہ نکال ڈالا۔ گویا عیب دار کردی۔
Read the full tafseer →آیت 71 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَةِ خَرَقَهَا
حضرت موسیٰ نے ان کی سوال نہ کرنے والی شرط تسلیم کرلی اور یوں وہ دونوں سفر پر روانہ ہوگئے۔ جب وہ دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں ان کو صاحب موسیٰ کہیں یا حضرت خضر کہیں نے بیٹھتے ہی کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا۔ حضرت موسیٰ نے جب یہ دیکھا تو آپ کہاں خاموش رہنے والے تھے فوراً ان کو ٹوک دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
62 سیدنا خضر سے جب ان دونوں کی ملاقات ہوگئی اور سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر میں ابتدائی مکالمہ ہوا اس کے بعد سیدنا یوشع بن نون کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگلا سفر صرف سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر نے کیا تھا۔ شاید سیدنا موسیٰ نے سیدنا یوشع کو واپس بھیج دیا ہو۔
63 خضر نے کشی کا تختہ کیوں توڑا ؟ کشی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر ان دونوں سے کرایہ بھی نہ لیا اور کشتی میں سوار کرلیا۔ مگر جب یہ کشتی منزل مقصود کے قریب پہنچی تو سیدنا خضر نے کشتی کے پہلو سے ایک تختہ توڑ دیا۔ یہ شگاف نیچے پیندے میں نہ ڈالا گیا تھا۔ اس لیے کشتی جو پہلے ہی منزل مقصود پر پہنچنے والی تھی ڈوبنے سے تو بچ گئی مگر ڈوبنے کا خطرہ ضرور…
Read the full tafseer →104۔ کوئی ایسا مقام سفر میں آگیا تھا جس کے آگے کشتی کی ضرورت پڑجاتی تھی اور اب سفر بحری شروع ہوا۔ سمندر یا دریا کے کنارے کنارے تو یوں بھی چل رہے تھے۔
105۔ (جس پر سکوت کرنا میرے حد عہد سے خارج ہے) (آیت) ” امرا “ کہتے ہیں امر منکر ومعیوب کو۔ (آیت) ” لتغرق “ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی ایسا فعل جس کا نتیجہ بھی مرتب ہو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے دو امر ثابت ہوئے ایک یہ کہ اکابر سے بھی ایسے امور صادر ہوسکتے ہیں جن کا ظاہر خلاف شریعت ہو۔ (گوحقیقت یہ نہ ہو) دوسرے یہ کہ اولیاء میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو باذن حق تکوینیات میں تصرف کرتے رہتے ہیں۔ صوفیہ کی زبان میں انہیں کو قطب التکوین یا صاحب خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
آیت نمبر 66 تا 71
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ اس علم مفید سے سکھائیں جس علم کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے ؟ رَشَدًا ای صواباً جس کے ذریعہ میں درستگی حاصل کروں، اور ایک قرأۃ میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے (علم کا) اس لئے سوال کیا کہ علم میں زیادتی مطلوب ہے اس بندے نے جواب دیا آپ میرے ساتھ قطعاً صبر نہیں کرسکتے، اور ایسی باتوں پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جن کی حقیقت سے آپ پوری طرح واقف نہیں ؟ سابق میں مذکورہ حدیث میں اس آیت کے بعد یہ بھی ہے کہ اے موسیٰ اللہ نے مجھے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے…
Read the full tafseer →فانطلقا پس دونوں چل دیئے۔ یعنی ساحل پر کشتی پر سوار ہونے کے ارادے سے کشتی کی تلاش میں چل دیئے
وہاں ایک کشتی مل گئی اور دونوں اس میں سوار ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے جو لوگ کشتی میں سوار تھے ‘ انہوں نے کہا یہ دونوں چور ہیں ان کو کشتی سے نکال دو کشتی کے مالک نے کہا یہ لوگ چور نہیں ہیں مجھے ان کے چہرے انبیاء کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے صحیحین کی حدیث ہم نقل کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک کشتی ان کی طرف سے گزری موسیٰ ( علیہ السلام) اور خضر نے کشتی والوں سے سوار کرلینے کی درخواست کی۔ کشتی والوں نے خضر کو پہچان لیا اور بلا کرایہ دونوں کو سوار کرلیا۔
حتی اذا رکبا فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ان آیات سے اولو العزم پیغمبروں سے بھول کا صادر ہونا ثابت ہوتا ہے اور کامل استاذ کا شاگرد کی غلطی پر مؤاخذہ، پہلی غلطی پر مؤاخذہ میں نسبتاً نرمی کرنے (”اَ لَمْ اَقُلْ“ ”اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ“ سے نرم ہے) اور بھول کے عذر پر درگزر کرنے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانطلقا حتی اذ رکبا فی السفینۃ خرقھا اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ صحیح مسلم اور بخاری میں ہے (1) وہ دونوں دریا کے ساحل پر چلے ایک کشتی گزری تو انہوں نے سوار کرنے کے لیے ان سے بات کی تو کشتی والے حضرت خضر کو جان گئے تو انہوں نے بغیر کرائے کے سوار کر لیاجب کشتی میں دونوں سوار ہوتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اچانک دیکھا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ہتھوڑے کے ساتھ کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ان لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کو شگاف کردیا تاکہ اس کے سواروں کو ہلاک کردیں، آپ نے برا کام کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں :
10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔
11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔
12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…
Read the full tafseer →[فَانطَلَقَا : پھر وہ دونوں چلے ] [ ۪حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [رَكِبَا : وہ دونوں سوار ہوئے ] [فِي السَّفِيْنَةِ : کشتی میں ] [خَرَقَهَا : تو انھوں نے پھاڑ دیا اس (کشتی) کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اَ : کیا ] [خَرَقْتَهَا : آپ نے پھاڑا اس کو ] [لِتُغْرِقَ : کہ آپ ڈبو دیں ] [اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [لَقَدْ جِئْتَ : بیشک آپ آئے ہیں ] [شَيْــــًٔـا اِمْرًا : ایک ناپسندیدہ چیز کے پاس ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
69:۔ یہ پہلا واقعہ ہے، دورانِ سفر وہ کشتی میں سوار ہوئے حضرت خضر نے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا جس سے اس میں بڑا سا شگاف پڑگیا، شرعی طور پر بظاہر یہ حرکت ناجائز تھی اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا اور انہوں نے کہا کہ تم نے یہ کیا ناجائز حرکت کی ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے جو کہا تھھا کہ تم ضبط سے کام نہیں لے سکو گے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کا عذر کیا اور کہا کہ بھول کے بارے میں مجھ پر تنگی نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقَا 0۪ حَتّٰٓي اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَۃِ خَرَقَہَا 0ۭ قَالَ اَخَرَقْتَہَا لِتُغْرِقَ اَہْلَہَا 0ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَـيْــــًٔـا اِمْرًا 71
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
تفسیر : فرمایا اپنے تھیلے میں ایک تلی ہوئی مچھلی رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملیں گے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی تھیلے میں ڈال کر یوشع بن نون کو ہمراہ لے کر چلے۔ چلتے چلتے ایک موقع پر (سمندر کے کنارے) پہنچے تو ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے۔ مچھلی اس تھیلے میں سے تڑپ کر دریا میں جا گری اور جہاں تک وہ جاتی تھی پانی میں ایک سوراخ سا ہوتا جاتا تھا۔ حکمِ الٰہی سے پانی ادھر ادھر سے ملنے نہیں پاتا تھا۔ پھر بیدار ہوئے تو یوشع کو یاد دلانا یاد نہ رہا کہ اس مقام پر مچھلی گم ہوگئی ہے۔ اس سے رات دن تک چلا کئے یہاں تک کہ جب اگلے روز صبح کا وقت آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَہَا ط قَالَ اَخَرَقْـتَـھَا لِتُغْرِقَ اَھْلَھَا ج لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا۔ (الکہف : 71)
(پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خضر نے اس کشتی میں شگاف کردیا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لیے شگاف کیا ہے کہ اہل کشتی کو غرق کردیں، یقینا آپ نے بہت برا کام کیا ہے۔ )
اِمْر …عجیب اور منکر کام کو کہتے ہیں۔ جب کوئی برا کام ہوجائے تو عرب کہتے ہیں اَمِرَ الاَمرعلامہ بغوی نے کہا ہے کہ عربی لغت میں اِمْرٌ کا معنی داھیۃ (خوفناک) ہے۔
کشتی کا واقعہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
فہم القرآن
ربط کلام : خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ کرنے والا پائیں گے میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو میرے کسی کام کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد دونوں چل پڑے ا وردریاعبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑدیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور فرمایا کیا آپ کشتی والوں کو ڈبو نا چاہتے ہیں ؟ آپ نے عجب کام کر دکھایا ہے۔ حضرت خضر (علیہ…
Read the full tafseer →سفر پر روانگی :
71: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیْنَۃِ خَرَقَہَا (پس دونوں چل دئیے یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ دیا) یعنی سمندر کے ساحل پر کشتی تلاش کرتے ہوئے چلے جب دونوں سوار ہوگئے تو کشتی والوں نے کہا یہ دونوں چور ہیں کشتی کے مالک نے کہا مجھے تو یہ پیغمبروں کے چہرے لگتے ہیں پس انہوں نے بغیر کرائے کے بٹھا لیا جب وہ بھنور میں پہنچے تو خضر ( علیہ السلام) نے ہتھوڑا لیکر کشتی کو پھاڑ دیا وہ اس طرح کہ پانی کے قریب والے دو تختے اکھاڑ دیئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس پھٹے ہوئے مقام کو اپنے کپڑے سے بند کرنے لگے اور پھر فرمانے لگے۔
موسیٰ ( علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →(71)” فانطلقا “ یہاں تک کہ وہ ساحل کے کنارے کنارے کشتی کی تلاش میں چلے گئے۔ بالآخر کشتی مل گئی اور اس میں دونوں سوار ہوگئے۔ اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ دونوں چور ہیں۔ ان کو کشتی سے نکال دو ، کشتی کے مالک نے کہا یہ لوگ چور نہیں ہیں مجھے ان کے چہرے انبیاء (علیہم السلام) کے چہرے معلوم ہوتے ہیں۔
حضرت ابی ابن کعب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک کشتی ان کی طرف سے گزری۔ موسیٰ اور خضر (علیہا السلام) نے کشتی والوں سے سوار کرلینے کی درخواست کی۔ کشتی والوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور بلا کر ایہ دونوں کو سوار کرلیا۔
جب کشتی دریا کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔
سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(رکوع نمبر 10)
اسرارومعارف
چناچہ دونوں حضرات روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہونا پڑا ، اور اہل کشتی نے دو نیک سیرت انسان دیکھ کر بہت احترام کیا بلکہ حدیث شریف کے مطابق بغیر اجرت لیے سوار کرلیا مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک جگہ ہاتھ پھیرا تو کشتی کا تختہ چیر دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے فورا بول اٹھے کہ یہ آپ کی کرامت ہے بھلا جن لوگوں نے بڑی عزت سے ہمیں ساتھ سوار کرلیا ان کو بھی معاف نہ کیا اور پھاڑ کر رکھ دی اب اگر یہ تختہ یہاں سے اکھڑ گیا تو یہ سب غرق نہ ہوجائیں گے ، آپ نے یہ معمولی حرکت نہیں کی بلکہ بہت بڑی زیادتی ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے عرض کیا میں نے تو…
Read the full tafseer →ف 9 چلتے چلتے دریا پر پہنچے پیمانہ تھا اتنے میں ایک کشتی آگئی کشتی والوں نے حضرت خضر کو پہچان کر بےکرایہ ان کو سوار کرلیا اور یہ جو تختہ نکالا تو کنارے کے قریب پہنچ کر تاکہ لوگ ڈوبنے سے بچ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
(18:70) فان اتبعتنی۔ پس اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اگر تم میرا اتباع کرنا چاہتے ہو یا اگر تو نے میرا اتباع کیا۔ یا میرے ساتھ رہے۔ اتبعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نوقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔
احدث۔ الحدوث (باب نصر) کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کا وجود میں آنا جو پہلے نہ ہو۔ الحدث۔ نئی چیز ۔ نیا کام۔ نئی بات۔ ہر وہ قول وفعل جو نیا ظہور پذیر ہوا ہو۔ اسے مدث کہتے ہیں۔ حتی احدث لک منہ ذکرا۔ جب تک کہ میں خود ہی پہل کر کے تجھ سے بات نہ کروں۔ ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے ۔ اسے حدیث کہتے ہیں عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا حالت بیداری میں ہو۔ حدث عن فلان۔ کسی سے کچھ بیان کرنا۔ روایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78
السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
فضائل القرآن : (1) امام دارمی وغیرہ نے حضرت عبیدہ بن لبابہ کی سند سے انہوں نے رزبن جیش سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جو شخص سورة کہف کے آخر کی آیتوں کو اس نیت سے پڑھے کہ فلاں شب (اس کی آنکھ کھل جائے اور) وہ اٹھ جائے تو وہ برابر اٹھ جائے گا۔ عبیدہ فرماتے ہیں ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے واقعی اسی طرح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–76
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے…
Read the full tafseer →-7 1 بہرحال ! اس گفتگو کے بعد دونوں روانہ ہوئے اور چل پڑے یہاں تک کہ یہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اترتے وقت کشتی کا ایک تختہ توڑ کر کشتی کو پھاڑ دیا اور کشتی میں سوراخ کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اترتے وقت کشتی کا ایک تختہ توڑ کر کشتی کو پھاڑ دیا اور کشتی میں سوراخ کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ نے کشتی کو اس لئے پھاڑ دیا کہ آپ کشتی کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں اور اس کا انجام یہ ہو کہ کشتی پر سوار ہونے والے ڈوب جائیں بیشک یہ آپ نے انوکھی اور بھاری بات کی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
جب دونوں چلے تو راستہ میں ایک کشتی کو زخمی کرنے کا واقعہ پیش آیا :
76۔ صاحب موسیٰ کا یہ سفر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مصاحبت میں رکھتے ہوئے شروع ہوگیا اور یہاں تک کہ وہ چلتے رہے کہ ایک جگہ پہنچ کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے ، کشتی میں کتنے لوگ تھے اور وہ کس جگہ سے روانہ ہوئی اور کہاں اتری اور صاحب موسیٰ کو کس طرف کو جانا تھا ان ساری باتوں میں سے کسی بات کا ذکر نہیں کیا گیا اس لئے کہ ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ان کا ذکر کیا جائے اس طرح جب وہ دونوں بھی دوسرے کشتی کے ساتھیوں سمیت سوار ہوئے اور کشتی چل پڑی تو صاحب موسیٰ نے کسی طریقہ سے اس کشتی کو کسی خاص مقام سے زخمی کردیا تاکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
Commentary
It was said in verse 71: أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا (Did you break it that you drown its people?). About it, it appears in the Hadith of the Sahihs of al-Bukhari and Muslim that al-Khadir (علیہ السلام) had dislodged a plank of the
boat with an axe because of which there was a danger that water would fill up the boat and it would capsize. Therefore, Sayyidna Musa (علیہ السلام) had objected to it. But, according to historical reports, water did not fill into this boat. This may have happened either because al-Khadir had somehow repaired it himself soon after - as in a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →