ہر بات صاف صاف کہہ دی گئی۔
انسانوں کے لئے ہم نے اس اپنی کتاب میں ہر بات کا بیان خوب کھول کھول کر بیان کردیا ہے تاکہ لوگ راہ حق سے نہ بہکیں ہدایت کی راہ سے نہ بھٹکیں لیکن باوجود اس بیان، اس فرقان کے پھر بھی بجز راہ یافتہ لوگوں کے اور تمام کے تمام راہ نجات سے ہٹے ہوئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک رات کو رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے پاس ان کے مکان میں آئے اور فرمایا تم سوئے ہوئے ہو نماز میں نہیں ہو ؟ اس پر حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا بٹھاتا ہے۔ آپ یہ سن کر بغیر کچھ فرمائے لوٹ گئے لیکن اپنی زانو پر ہاتھ مارتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
سورة الْكَهْف 50
یہاں پھر وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے بھی کئی جگہ قرآن میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کو خدائی میں اللہ کا شریک ٹھیرانا ہے، خواہ آدمی اس دوسرے کو زبان سے خدا کا شریک قرار دیتا ہو یا نہ قرار دیتا ہو۔ بلکہ اگر آدمی ان دوسری ہستیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی امر الہٰی کے مقابلے میں ان کے اوامر کا اتباع کر رہا ہو تب بھی وہ شرک کا مجرم ہے۔ چناچہ یہاں شیاطین کے معاملے میں آپ علانیہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر ایک ان پر لعنت کرتا ہے، مگر اس لعنت کے باوجود جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں، قرآن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الإنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا۔
" مثل " سے مراد : " مثل " سے مراد یہاں عالم غیب اور آخرت کے وہ حقائق ہیں جو تمثیل کے رنگ ہیں اوپر لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے سنائے گئے ہیں اور " انسان " سے وہی جھگڑالو مخاطب ہیں جن سے یہاں بحث چل رہی ہے لیکن ان سے بیزاری کے اظہار کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تو لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہر قسم کی تنبیہات اس قرآن میں گوناگوں پہلوؤں سے بیان کردی ہیں لیکن انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ وہ ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نہ کوئی پہلو اعتراض کا پہلو ڈھونڈھ…
Read the full tafseer →54۔ 1 یعنی ہم نے انسان کو حق کا راستہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ہر طریقہ استعمال کیا، وعظ، نصیحت، امثال، واقعات اور دلائل، علاوہ ازیں انھیں بار بار اور مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ لیکن انسان چونکہ سخت جھگڑالو ہے، اس لئے وعظ نصیحت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ دلائل و نصیحت اس کے لئے کارگر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
31: یعنی جن شیاطین کو ان کافروں نے اپنا سرپرست بنا رکھا ہے، ان کو میں نے تخلیق کائنات کا منظر دکھانے کے لیے یا ان سے مدد لینے کے لیے نہیں بلایا تھا کہ وہ تخلیق کے اسرار سے واقف ہوتے۔ لیکن کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ شیاطین تمام حقائق کو جانتے ہیں، چنانچہ ان کے بہکائے میں آکر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو یا جن کو وہ کہیں، خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →قرآن مجید نے یہاں انسان کو ایک چیز کہا ہے اور یہ کہ وہ بڑی جھگڑا لو چیز ہے۔ چیز سے تعبیر اس لئے کیا گیا تاکہ انسان اپنے کبر و غرور سے ذرا نیچے اترے اور یہ سمجھے کہ وہ بھی اللہ کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس کے باوجود کہ اللہ نے اس قرآن میں انسان کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی سعی کی اور مثالوں سے اسے سمجھایا۔
اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ کیوں ایمان نہ لائے ؟ وہ کیا شبہ تھا جو رکاوٹ بنا ؟ مختلف رسولوں کے زمانے میں اکث لوگ ایمان سے محروم رہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی قرآن کریم کس طرح مختلف عنوانات اور قسم قسم کے دلائل وامثلہ سے سچی باتیں سمجھاتا ہے مگر انسان کچھ ایسا جھگڑالو واقع ہوا ہے کہ صاف اور سیدھی باتوں میں بھی کٹ حجتی کیے بغیر نہیں رہتا۔ جب دلائل کا جواب بن نہیں پڑتا تو مہمل اور دور ازکار فرمائشیں شروع کردیتا ہے کہ فلاں چیز دکھاؤ تو مانوں گا۔
Read the full tafseer →آیت 54 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ للنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ
الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ یہ آیت سورة بنی اسرائیل میں بھی آیت 89 موجود ہے۔
وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا
سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 89 کے پہلے حصے کے الفاظ جوں کے توں وہی ہیں جو اس آیت کے پہلے حصے کے ہیں صرف لفظوں کی ترتیب میں معمولی سا فرق ہے۔ البتہ دونوں آیات کے آخری حصوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا آخری حصہ یوں ہے : فَاَبآی اَکْثَرُ النَّاس الاَّ کُفُوْرًا ”مگر اکثر لوگ کفران نعمت پر ہی اڑے رہتے ہیں۔“
Read the full tafseer →52 انسان فطرتا جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ مشیئت الہی کو بہانہ بنانا :۔ انسان کی ہدایت کے لیے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرا یوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کردی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کرلے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کرسکتا ہے۔ جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کرسکتا ہے۔ بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کا جواب چنے میں دے سکتا ہے مگر حقیقت کو قبول کرلینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی، ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنے آپ کو حق…
Read the full tafseer →81۔ یعنی ہر ایسی مخلوق سے بڑھ کر جو ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے یعنی ان جدل الناس اکثر من جدل کل شیء (بحر) (آیت) ” الانسان “۔ یعنی سرکش، نافرمان انسان، محاورۂ قرآنی میں الانسان اکثر موقع ذم ہی پر آیا ہے۔ وکثیرا ما بذکر الانسان فی معرض الذم (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
آیت نمبر 54 تا 59
ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین…
Read the full tafseer →ولقد صرفنا فی ہذا القران للناس من کل مثل و کان الانسان اکثر شئی جدلا
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے واسطے ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کئے ہیں اور اس پر بھی انسان جھگڑا کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے۔
بقول حضرت ابن عباس ؓ الانسان سے مراد ہے نضر بن حارث اور برقول کلبی ابی بن خلف جمحی۔ بعض کے نزدیک عام کافر مراد ہیں اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بالْبَاطِلِ بعض کے نزدیک عام انسان مراد ہیں (کافر ہوں یا مؤمن) حضرت علی ؓ : کا بیان ہے ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے اور اپنی صاحبزادی کے پاس آپہنچے اور فرمایا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے ہو (یعنی تہجد…
Read the full tafseer →(54) اور ہم نے مکہ والوں کے لیے اس قرآن کریم میں وعدے وعید کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کیے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کرکے ایمان لائیں اور ابی بن خلف بھی باطل پر جھگڑے میں سب سے بڑھ کر ہے یا یہ آدمی جھگڑنے میں سب سے بڑھ کر ہے۔
Read the full tafseer →ۧوَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : مثال سے بات بہت اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کئی مثالیں بیان فرمائی ہیں، مثلاً دنیا کی زندگی کی مثال اور آخرت پر ایمان رکھنے والے مسکین اور ایمان نہ رکھنے والے دو باغوں کے مالک کی مثال وغیرہ۔ اس کے علاوہ دوسری سورتوں میں بھی مختلف دلیلوں، کئی طریقوں اور مثالوں سے بات سمجھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی باتیں مچھر (بقرہ : 26) ، مکھی (حج : 73) کتے (اعراف : 177) اور گدھے (جمعہ : 5) کی مثالیں دے کر سمجھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مختار مطلق اور مخلوق کے بےاختیار ہونے کے لیے مالک اور غلام کی مثالیں کئی جگہ بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے…
Read the full tafseer →تفسیر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد صرفنا فی ھذا الاقران للناس من کل مثل۔ یہ دو احتمال رکھتا ہے : ایک دو جوان کے لیے عبرت ناک واقعات اور گزشتہ اقوام کے تذکرے ذکر فرمائے۔ دوسرا احتمال یہ کہ اس نے ان کے لیے اپنی ربوبیت کے دلائل واضح فرمائے۔ یہ پہلے سورة سبحان میں گذر چکا ہے۔ پہلی صورت میں یہ زجر و تو بیخ ہوگا اور دوسری صورت میں بیان ہوگا۔ وکان الانسان اکثر شیء جدلا۔ جدلا سے مراد جھگڑنا ہے۔ اس سے مراد نضر بن حارث ہے اور اس کا قرآن کے بارے میں جھگڑنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی۔ زجاج نے کہا : اس کا مطلب ہے کافر ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ اس کی دلیل کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1:۔ عبدالرزاق ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظنوا انہم مواقعوھا “ یعنی انہوں نے جان لیا (کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں )
2:۔ احمد ابو یعلی ابن جریر ابن حبان حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کا پچاس ہزار سال کھڑا رکھا جائے گا جیسے اس نے اس دنیا میں کوئی عمل نہیں کیا اور وہ جہنم دیکھے گا اور چالیس بس کی مسافت سے بھی یوں محسوس کرے گا کہ وہ دوزخ میں بھی گرا۔
3:۔ بخاری، مسلم، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس کے اور فاطمہ ؓ کے پاس رات کے وقت تشریف لائے اور فرمایا…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا : اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے ] [فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [مِنْ كُلِ مَثَلٍ : ہر ایک مثال میں سے ] [وَكَان الْانسَان : اور انسان ہے ] [اَكْثَرَ شَيْءٍ : ہر چیز سے زیادہ ] [جَدَلًا : بحث کرنے میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
انسان بڑا جھگڑالو ہے، باطل کو لے کر حجت بازی کرتا ہے اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے بڑے ظالم ہیں
ان آیات میں تو انسان کے ایک خاص مزاج کا تذکرہ فرمایا یعنی انسان کا جھگڑالو ہونا بتایا، پھر اس جھگڑے کی کچھ تفصیل بتائی ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کے مضامین بیان فرما دئیے اور طرح طرح سے بیان کردئیے اب انسان انہیں قبول نہیں کرتا اور جھگڑے بازی سے کام لیتا ہے اور جھگڑنے میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔ سورة یٰسین میں انسان کے اسی جھگڑنے والے مزاج کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو
غرور اور تکبر کا حال اور مال
قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…
Read the full tafseer →58:۔ یہ زجر ہے، ہم تو تمام انسانوں کی مصلحت اور ان کے فائدے کے لیے واضح اور کھلی مثالیں بار بار بیان کرتے ہیں مگر انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کج بحثی اور جدال سے کام لے کر ہدایت سے اور دور ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔
اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ 0ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا 54
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَالْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَشَیْ ئٍ جَدَلاً ۔ (الکہف : 54)
(اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ )
تصریف کا مفہوم
صَرَّفْنَا … تصریف اس کا مصدر ہے۔ تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک مخصوص انداز ہے اور مختلف مواقع پر قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ تصریف سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کسی بات کی تفہیم کے لیے جتنے ممکن طریقے ہوسکتے اور جتنے اسالیب اختیار کیے جاسکتے ہیں ان تمام سے کام لیا جائے۔ موقعہ کی مناسبت سے جو طریقہ موثر ہوسکتا ہو اسے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو شرک سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ مختلف انداز سے سمجھاتا ہے۔ لیکن اس کے باجود مشرک لوگ سمجھنے کے لیے تیار نہیں بلکہ جھگڑا کرتے ہیں۔
عقیدہ توحید سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ تاکہ لوگ شرک کی سنگینی کو سمجھ کر اس سے تائب ہوجائیں لیکن شرک ایسا گناہ ہے۔ جس سے مشرک ناصرف بازآنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اپنا با طل عقیدہ ثابت کرنے کے لیے جھگڑا کرنے پر اتر آتا ہے حا لان کہ اللہ تعالیٰ انہیں بار با رسمجھاتا ہے کہ ہدایت قبول کرو اور سابقہ گناہوں کی معافی مانگو تمہارا رب معاف کرنے والا ہے۔ لیکن مشرک شرک سے باز آنے کی بجائے بحث و تکرار میں…
Read the full tafseer →قرآن کے مضامین عمدہ ہیں :
54: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ (اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے واسطے ہر قسم کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کردیئے) کُلِّ مَثَلٍ سے مراد جن کی ان کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔ وَّکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْ ئٍ جَدَلًا (مگر انسان جھگڑا کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے) جَدَلاً یہ تمیز ہے۔ ان تمام چیزوں سے جن کی طرف سے جھگڑا ہوتا انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ اگر تم ان کو الگ الگ کر کے جھگڑے کیلئے اور باطل جھگڑنے کیلئے جدا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا جھگڑا ہر چیز کے جھگڑے سے بڑھ کر ہے۔
Read the full tafseer →(54)” ولقد صرفنا “ ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا۔ ” فی ھذا القرآن للناس من کل مثل “ تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ ” وکان الانسان اکثرشیء جد لا “ باطل چیزوں میں وہ جھگڑتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد نضر بن حارث ہے جو قرآن کے متعلق جھگڑا کرتا تھا۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد أبی بن خلف جمحی ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ویجادل الذین کفروابالباطل “ اور بعض نے کہا کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور یہی اصح ہے۔
حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے اور اپنی صاحبزادی کے پاس آپہنچے اور فرمایا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے ہو، میں نے…
Read the full tafseer →54:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے باغ والے شخص کی مثال بیان فرمائی جو خدا کو بھول کر اپنے مال متاع پر مغرور ہوگیا تھا آخر ایک دم میں اس کا باغ جل گیا پھر دنیا کی زیست کی مثال بیان فرمائی کہ جس طرح پیڑوں کا حال ہے کہ زمین میں بیج پڑتا ہے اور اس میں قدرت الٰہی کے طرح طرح کے تصرفات ہو کر وہ پھوٹتا ہے اور پورا ہوجاتا ہے اور روز بروز پودے کو شادابی ہوتی جاتی ہے لیکن اس شادابی کو ہمیشگی نہیں کھیتی کا پیڑ ہے تو تھوڑے دنوں میں وہ کھیتی پک کر کٹ جاتی ہے اور باغ کا پیڑ ہے تو آخر وہ بھی ایک دن سوکھ کر لکڑی ہوجاتا ہے جلنے کے کام میں مکانات بنانے کے کام میں تخت چوکی بنانے کے کام میں اور لکڑی کی چیزوں…
Read the full tafseer →آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت و جلالت اور اس کے عموم کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں ہر قسم کی مثال بیان کی ہے یعنی ہر وہ راستہ واضح کردیا ہے جو علوم نافعہ اور سعادت ابدیہ تک پہنچاتا ہے اور ہر اس طریق سے آگاہ فرما دیا ہے جو انسان کو شر اور ہلاکت سے بچاتا ہے۔ پس اس قرآن کریم میں حلال و حرام، جزائے اعمال، ترغیب و ترہیب کی مثالیں ہیں، سچی خبریں ہیں جو اعتقاد طمانیت اور روشنی کے اعتبار سے دلوں کے لئے فائدہ مند ہیں۔ یہ چیز واجب ٹھہراتی ہے کہ قرآن کریم کو اطاعت وانقیاد اور کسی بھی امر میں عدم منازعت کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔۔۔ مگر اس کے باوجود اکثر لوگ، حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
94۔ انسان کا جھگڑالو پن باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان سب سے بڑھ کر جھگڑالو واقع ہوا ہے اپنی عقل وفکر اور قوت کلام اور زور بیان کی ان قوتوں کی بناء پر جو حق تعالیٰ نے اس کو اپنے کرم سے بخشی تھیں تاکہ وہ انہیں صحیح طور پر استعمال کرکے حق کی خدمت میں صرف کرے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے اونچا مقام حاصل کرلے اور دائمی وابدی سعادتوں سے ہمکنار ہوجائے۔ مگر اس ناشکرے انسان نے ان کو الٹا اور غلط استعمال کرکے بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنا یا اور اس طرح ایسے لوگوں نے اپنے آپ کو اپنے امتیازی منصب اور شرف سے گرا کر سب نیچوں سے نیچ بنادیا۔ اور اسطرح وہ ذلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام
تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے…
Read the full tafseer →ف 8 جیسا کہ اس سورة میں چند مثالوں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(18:52) یوم۔ ای اذکر یوم۔ یقول۔ ای یقول اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ نادوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ نداء مصدر۔ (مفاعلہ) ن۔ دی مادہ۔ تم پکارو۔ تم بلائو۔ زعمتم۔ ای زعمتم انہم شرکائی یا نادوا الذین زعمتم شرکائی۔ جن کو تم میرے شریک خیال کرتے تھے۔
فدعوہم۔ پس وہ انہیں پکاریں گے۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب مشرکین وکافرین کے لئے ہے۔ اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب شرکاء کے لئے ہے۔
موبقا۔ وبق یبق (ضرب) وبق یبق (سمع) وبوق موبق۔ وبوق ہلاک ہونا۔ موبق ہلاکت کی جگہ۔ قید خانہ۔ دوچیزوں کے درمیان حائل ہونے والی چیز۔ یہاں مراد جہنم کا خاص درجہ ہے۔ وجعلنا بینہم موبقا۔ اور ہم مشرکوں اور ان کے باطل معبودوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56
صرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ جدل خوامخواہ کا جھگڑا۔ منع روکا۔ یستغفروا وہ معافی چاہتے ہیں۔ سنۃ طریقفہ، رسم۔ قبلاً سامنے۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ یدحضوا وہ ٹالتے ہیں۔ ھزوا مذاق۔
تشریح :- آیت نمبر 54 تا 56
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حق و صداقت، نیکی اور سچائی کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تاکہ ہر شخص سچائی کے راستے سے پوری طرح واقف ہو سکے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے حسن عمل اور طرز زندگی یعنی سنت کے ذریعہ ہر اس بات کی پوری طرح وضاحت فرما دی ہے جس سے ایک انسان کو صراط مستقیم پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے ایمان اور عمل صالح کی توفیق اور سعادت…
Read the full tafseer →قرآن کی نصیحت کا بیان
اس آیت میں فرمایا کہ دوزخ کے سامان انسان اپنی خوشی سے آپ کرتا ہے، اور اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارتا ہے ورنہ ہم نے تو قرآن مجید میں مضامین ضروریہ کو یہ بار بار اور تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے، اور طرح طرح کی مثالیں دے کر انسان کو سمجھا دیا ہے مگر انسان اپنے جھگڑالوپنے سے باز نہیں آتا۔ کبھی اللہ کے کلام کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتا ہے کبھی اللہ کے رسول کے کو جادوگر کہتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
[18] یعنی وہ فرشتوں کی طرح معذور نہ تھا کہ نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ انسان کی طرح جنوں کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی ہے اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کا حوالہ دے کر کفار مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ تم اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبر کو چھوڑ کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کی سنت کی پیروی کررہے ہو جس نے قیامت تک کے لئے اولاد آدم کو دشمنی کا کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔
[19] یعنی بجائے طاعت الٰہی کے طاعت شیطان میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →قرآن نسل انسانی کی مشترکہ میراث ہے :
(ف 1) قرآن حکیم تمام نسل انسانی کی مشترکہ میراث ہے اس لئے اس میں ہر طبقہ اور ہر نوع کے انسانوں کے لئے رشد وہدایت کا سامان موجود ہے ، اس میں ان لوگوں کے لئے بھی تسکین ہے جو حکمت وفلسفہ کے دلدادہ اور جویاں ہیں ، اور ان لوگوں کے لئے بھی جو فلسفہ و حکمت سے زیادہ ، روحانیت سے شغف رکھتے ہیں ، طرز بیان میں تخیلات بھی ہیں ، خطاب بھی ہے منطق بھی ہے اور شبیہات اور استعارے بھی ، ترغیب اور ترہیب بھی ، غرضیکہ فلسفہ قیادت کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو اس میں تفصیل کے ساتھ موجود نہ ہو مگر انسان بالطبع جھگڑالو ہے ، اس لئے اس چشمہ ہدایت وعرفان سے مکمل استفادہ نہیں کرتا ، اور…
Read the full tafseer →-54 اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کے لئے ہر قسم کے عمدہ مضامین نئے نئے پیرایہ سے بیان کئے ہیں اور انسان سب جھگڑنے والوں سے زیادہ جھگڑنے والا واقع ہوا ہے۔ یعنی اور مخلوق بھی جھگڑا کرتی ہے لیکن منکر انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 4۔ یعنی معین تو وہ ڈھونڈے جو قادر نہ ہو۔
Read the full tafseer →قرآن کریم میں ہم نے کتنی مثالیں بیان کردیں لیکن انسان بہت ہی پھڈے باز ہے :
57۔ اس جگہ انسان کا مقابلہ دوسری چیزوں سے نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں یہ بیان کیا ہے کہ وہ بہت پھڈے باز ہے بلکہ انسانوں کے درمیان ہی مقابلہ ہے گویا انسانوں ہی میں سے کتنے انسان ہیں جن کے سامنے حق کو طرح طرح کے پیرایوں میں بار بار بیان کیا جاتا ہے مگر باایں ہمہ بھی انسان سے جھگڑا ہی زیادہ سرزد ہوتا ہے اور وہ اسے قبول کرنے کی بجائے کٹ حجتیاں ہی کرتا چلا جاتا ہے ، ایک بات کا غلط مفہوم بیان کرتا ہے ، سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود کہ اس کو صحیح ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں رکھتا اس پر اڑا رہتا ہے ، جدال وہی ہے جس کو ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
The statement: وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (And man is the most quarrel-some of all things - 54) has been testified through a Hadith narrated by Sayyidna 'Anas ؓ in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said, "On the day of Qiyamah, a man from among the disbelievers will be brought forth. He will be asked, 'what was your response to the messenger We had sent to you?' He will say, '0 my Lord, as for me, I did believe in You and in Your messenger too and that I obeyed him in everything I did.' Allah Ta` ala will say, 'here is your book of deeds before you. All this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
50. This theme has already been stated at several places in the Quran. This is to impress that it is shirk to discard the commandments and the guidance of Allah and to follow the orders and guidance of any other than Allah, though one may not be professing with his tongue that there is any partner of Allah: nay, if one might be cursing others but at the same time following their orders instead of divine commandments, even then that one shall be guilty of shirk. For instance, we see that everyone in this world curses satans but still follows them. According to the Quran, in spite of cursing…
Read the full tafseer →