Al-Kahf 18:53

Al-Kahf · from ayah 53

18:53

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا ۟۠وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَ لَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the criminals will see the Fire and will be certain that they are to fall therein. And they will not find from it a way elsewhere.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:53

سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور گنہگار جہنم کو دیکھ کرسمجھ لیں گے کہ وه اسی میں جھونکے جانے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ انہیں اسی میں گرنا ہے، اور اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کریں گا کہ انہیں اس میں گرنا ہے اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور مجرم لوگ آتشِ دوزخ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناً اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے گریز کی کوئی جگہ نہ پاسکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ بیشک وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور مجرم جب دوزخ کو دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچاؤ کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے اور گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھتے ہی یقین کرلیں گے کہ انھیں قطعی طور پر اس میں گرنا ہے، اور وہ اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے اور یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی راہ بچنے کی نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے اور جان جائیں گے کہ وہ اس میں ڈالے جانے والے ہیں اور وہ نہیں پائیں گے اس سے بچنے کی کوئی جگہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and the guilty shall behold the Fire and know that they are bound to fall into it, and will find no escape from it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the sinners will see the Fire; so they will know that they will have to fall into it, and they will find no way to bypass it.

— Muhammad Taqi Usmani

And the sinners will see the Fire; so they will know that they will have to fall into it, and they will find no way to bypass it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the criminals shall see the Fire and apprehend that they are to fall therein. And they will find no way of escape from it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the guilty behold the Fire and know that they are about to fall therein, and they find no way of escape thence.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the criminals will see the Fire and will be certain that they are to fall therein. And they will not find from it a way elsewhere.

— Saheeh International

When the criminals see hell fire, they will have no doubt about falling (headlong) therein, nor of finding anyone to save them.

— Muhammad Sarwar

And the guilty shall see the fire, then they shall know that they are going to fall into it, and they shall not find a place to which to turn away from it.

— Muhammad Habib Shakir

And the culprits will behold the Fire and imagine that they are about to fall therein, and they shall not find therefrom a way of escape.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Sinful shall see the fire and apprehend that they have to fall therein: no means will they find to turn away therefrom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–53

مشرک قیامت کو شرمندہ ہوں گے تمام مشرکوں کو قیامت کے دن شرمندہ کرنے کے لئے سب کے سامنے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو جنہیں تم دنیا میں پکارتے رہے تاکہ وہ تمہیں آج کے دن کی مصیبت سے بچا لیں وہ پکاریں گے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ پائیں گے جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ 94؀) 6۔ الانعام :94) ہم تمہیں اسی طرح تنہا تنہا لائے جیسے کہ ہم نے تمہارے ساتھ ان شریکوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الہٰی ٹھیرائے ہوئے تھے اور جن کی شفاعت کا یقین کئے ہوئے تھے تمہارے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–54

سورة الْكَهْف 50 یہاں پھر وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے بھی کئی جگہ قرآن میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کو خدائی میں اللہ کا شریک ٹھیرانا ہے، خواہ آدمی اس دوسرے کو زبان سے خدا کا شریک قرار دیتا ہو یا نہ قرار دیتا ہو۔ بلکہ اگر آدمی ان دوسری ہستیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی امر الہٰی کے مقابلے میں ان کے اوامر کا اتباع کر رہا ہو تب بھی وہ شرک کا مجرم ہے۔ چناچہ یہاں شیاطین کے معاملے میں آپ علانیہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر ایک ان پر لعنت کرتا ہے، مگر اس لعنت کے باوجود جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں، قرآن ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–53

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا، (کیونکہ نجات کا عنصر غالب جس سے وہ پیدا کئے گئے ہیں آگ ہے، اور عنصر نار کا مقتضا پابند نہ رہنا ہے، مگر اس اقتضائے عنصری کی وجہ سے ابلیس معذور نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس تقاضائے عنصری کو خدا کے خوف سے مغلوب کیا جاسکتا تھا) تو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کی زریت (اولاد اور توابع) کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر (یعنی میری اطاعت چھوڑ کر اس کے کہنے پر چلتے وہ) حالانکہ وہ (ابلیس اور اس کی جماعت) تمہارے دشمن ہیں (کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا۔ بے بسی کی تصویر : اور یہ مجرم کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ سامنے جہنم تیار ہے اور اب لازماً ان کو اسی میں گرنا ہے لیکن وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے۔ یہ ان کی بےبسی کی تصویر ہے کہ آنکھوں کو دیکھتے وہ اس جہنم میں گریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 جس طرح بعض روایات میں ہے کہ کافر ابھی چالیس سال کی مسافت پر ہوگا کہ یقین کرلے گا کہ جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے (مسند احمد جلد۔ 3، ص 75)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–54

31: یعنی جن شیاطین کو ان کافروں نے اپنا سرپرست بنا رکھا ہے، ان کو میں نے تخلیق کائنات کا منظر دکھانے کے لیے یا ان سے مدد لینے کے لیے نہیں بلایا تھا کہ وہ تخلیق کے اسرار سے واقف ہوتے۔ لیکن کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ شیاطین تمام حقائق کو جانتے ہیں، چنانچہ ان کے بہکائے میں آکر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو یا جن کو وہ کہیں، خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ورا المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یحدوا عنھا مصرفاً (81 : 35) ” مجرم اس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب ہمیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ “ …… ان کے لئے اس سے رہائی کا راستہ تو تھا۔ اے کاش کہ وہ اس سے قبل دنیا میں اپنے دلوں کو قرآن کی طرف پھیرتے اور قرآن جس سچائی کو لے کر آیا تھا اس کے مقابلے میں نہ اتر آتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اثمال کے ذریعے بات کو بار بار پھیر کر سمجھانے کی کوشش کی تھی اور ہر حال ان کو سمجھایا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی شروع شروع میں شاید کچھ معافی کی امید ہوگی لیکن جہنم کو دیکھتے ہی یقین ہوجائے گا کہ اب اس میں گرنا ہے اور فرار کا کوئی راستہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 52–53

فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا یہ شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات چاہے انبیاء ہوں اولیاء اللہ ہوں یا فرشتے روز قیامت ان کے اور انہیں شریک ماننے والوں کے درمیان ہلاکت خیز خلیج حائل کردی جائے گی تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ ان کی مدد کو نہیں آسکتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 52–53

51 یعنی مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان ایک گہری خندق بنادیں گے جس میں آگ بھڑک رہی ہوگی۔ اس طرح نہ عابد اپنے معبودوں سے کوئی تعلق قائم کرسکیں گے اور نہ معبود اپنے پیروکاروں سے، اور اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم ان عابد و معبود کے درمیان سخت عداوت ڈال دیں گے۔ دنیا میں تو عابد ان کی بہت عزت و احترام کرتے تھے اور انھیں خدائی کا درجہ دے رکھا تھا مگر اس دن وہ ان کے بدترین دشمن بن جائیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی کی وجہ سے ہم مبتلائے عذاب ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ اور اس وقت کی شدت یاس ! معاذ اللہ ! (آیت) ” فظنوا “۔ ظن یہاں یقین کے معنی میں ہے۔ اے ایقنوا (بیضاوی) قال ابن عطیۃ اطلق الناس ان الظن ھنا بمعنی التیقن (بحر) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–53

آیت نمبر 50 تا 53 ترجمہ : وَاِذْ قلنا یہ اذکر فعل محذوف کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو یعنی آدم کی تعظیم کے لئے تم اس کے سامنے جھکو نہ یہ کہ زمین پر پیشانی رکھو چناچہ ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا کیونکہ (ابلیس) جنات میں سے تھا، کہا گیا ہے کہ جنات ملائکہ کی اقسام میں سے ایک قسم ہیں، تو اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ اِلاَّ ابلیس مستثنیٰ منقطع ہے اور ابلیس جنات کا جد اعلیٰ ہے اس کی ذریت بھی ہے جس کا ذکر بعد والی آیت میں آرہا ہے، اور ملائکہ کی ذریت نہیں ہوتی اسی سبب (یعنی جنی ہونے کے سبب سے) اس نے اپنے رب کے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وراء المجرمون النار فظنوا انہم مواقعوہا ولم یجدو عنہا مصرفا اور اس وقت مجرم دوزخ کو دیکھیں گے پھر یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے کوئی بچنے کی راہ نہیں پائیں گے۔ اَلْمُجْرِمُوْنَ سے مراد ہیں مشرک۔ فَظَنُّوْا یعنی وہ یقین کرلیں گے۔ مُوَاقِعُوْہَا یعنی اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت واظَنُّوْا اَنَّہُمْ مُّوَاقِعُوْہَا کی تشریح میں فرمایا کافر کو پچاس ہزار برس کے بقدر (یعنی قیامت کے سارے دن) کھڑا رکھا جائے گا ‘ جیسے کہ دنیا میں اس نے کچھ کیا ہی نہ تھا اور وہ جہنم کو دیکھتا رہے گا اور چالیس برس کی مسافت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور مشرکین دوزخ کو دیکھیں گے اور یقین کرلیں گے کہ ضرور ہم اس میں داخل ہوں گے اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ۔۔ : آگ میں جانے سے پہلے آگ کو دیکھنا اور اس بات کا یقین کہ اب اس میں جائے بغیر کوئی چارہ نہیں، بجائے خود ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ مزید دیکھیے شوریٰ (44 تا 47)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ورا المجرمون النار اصل رأی ہے یا متحرک تھی جس کا ماقبل مفتوح تھا تو اسے الف سے بدلا، اسی وجہ سے کو فیوں کا خیال ہے کہ رأی کو یا کے ساتھ لکھا جائے۔ بعض بصریوں نے بھی ان کی متابعت کی ہے، لیکن ماہر بصری علماء نے جن میں محمد بن یزید بھی ہے وہ الف کے ساتھ لکھتے ہیں۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا، میں نے محمد بن یزید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مضیٰ ، رمیٰ اور تمام یائی حروف کو صرف الف کے ساتھ لکھنا جائز ہے۔ یاء والے اور خط میں واو والے حروف میں کوئی فرق نہیں جیسا کہ لفظ میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اگر یا والے حروف کو یاء کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 53–54

1:۔ عبدالرزاق ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظنوا انہم مواقعوھا “ یعنی انہوں نے جان لیا (کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں ) 2:۔ احمد ابو یعلی ابن جریر ابن حبان حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کا پچاس ہزار سال کھڑا رکھا جائے گا جیسے اس نے اس دنیا میں کوئی عمل نہیں کیا اور وہ جہنم دیکھے گا اور چالیس بس کی مسافت سے بھی یوں محسوس کرے گا کہ وہ دوزخ میں بھی گرا۔ 3:۔ بخاری، مسلم، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ اس کے اور فاطمہ ؓ کے پاس رات کے وقت تشریف لائے اور فرمایا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَرَاَ : اور دیکھیں گے ] [الْمُجْرِمُوْنَ : مجرم لوگ ] [النَارَ : آگ کو ] [فَظَنُّوْٓا : تو وہ سمجھ لیں گے ] [انهُمْ : کہ وہ لوگ ] [مُّوَاقِعُوْهَا : گرنے والے ہیں اس میں ] [وَلَمْ يَجِدُوْا : اور وہ نہیں پائیں گے ] [عَنْهَا : اس سے ] [مَصْرِفًا : (خود کو) پھیرنے کی کوئی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

اس کے بعد فرمایا (وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَکَآءِ یَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْھُمْ ) اور اس دن کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ کا مشرکین سے فرمان ہوگا کہ تم انہیں پکارو جنہیں تم نے میرا شریک بنا رکھا تھا اس پر وہ انہیں پکاریں گے یعنی ان سے کہیں گے کہ ہماری مدد کرو۔ (فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَھُمْ ) (سو وہ ان کا جواب نہ دیں گے) یعنی مدد کرنے کے لیے ہاں نہ کریں گے۔ وہ خود اپنی ہی مصیبت میں مبتلا ہوں گے کسی کی مدد کرنے کی کیا مجال ہوگی۔ (وَ جَعَلْنَا بَیْنَھُمْ مَّوْبِقًا) اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ بنا دیں گے جس کی وجہ سے ایک دوسرے تک پہنچ بھی نہ سکیں گے مدد کرنا تو درکنار (وَ رَاَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–59

گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو غرور اور تکبر کا حال اور مال قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57:۔ جب مشرکین اپنے سفارشیوں سے ناامید ہوجائیں گے تو اب ان کے سامنے جہنم کی آگ ہوگی جسے دیکھتے ہی انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گر کر رہیں گے اور اب آگ سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–53

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور مشرک آدمی کی بات ذکر فرمائی پھر دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا اور مال واولاد کو دنیا کی زینت کا سامان بتلایا ، پھر قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز نامہ اعمال میں درج ہوگی ، گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ دولت مند مشرک آدمی اپنے مال و دولت اور کثرت اولاد کی بناء پر اپنے مومن اور نادار بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس طرح غرور وتکبر کا مرتکب ہوتا تھا ، مومن آدمی نے اسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے وہ اگر چاہے تو تیرے باغ ، مال اور اولاد کو ضائع کر دے اور تجھے قلاش بنا دے ، لہذا اس عارضی مال واولاد پر تکبر نہیں کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّہُمْ مُّوَاقِعُوْہَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْہَا مَصْرِفًا۝ 53ۧ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–53

3 ؎ یعنی سب ایک ہلاکت میں شریک ہوں گے وہ کیا ہے آتش جہنم موبق ہلاکت موبق ظرف مکان یا یہ معنی کہ ان کی باہمی محبت دنیا موبق یعنی ہلاکت کا باعث ہوگی تب یعنی وصل میں ای جعلنا تو اصلھم فی الدنیا ہلاکًا یوم القیامۃ (بیضاوی) ۔ 12 منہ 1 ؎ موبق قیل اسم و ادمن جہنم وقیل ہی نارو قیل بوذخ فعلی ھذا ھواسم مکان و قتال ابن الاعرابی۔ کل حاجز مبین العین فھو موبق فعلی ھذا تفسیرہ جعلنا بین المشرکین و بین التھم حجابا حاجزا لایصل احدھم الی احدوقال الفراء الموبق الھلاک وبہ قال مجاہد و ابن عباس والمعنی جعلنا تو اصلھم فی الدنیاہ مھلکم فی الآخرۃ یقال وبق یبق۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْا اَنَّھُمْ مُّوَاقِـعُوْھَا وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا مَصْرِفًا (الکہف : 53) (اور مجرم جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو وہ گمان کریں گے کہ وہ اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے کوئی مفر نہیں پائیں گے۔ ) مشرکین کی بےبسی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے کفر اور شرک کا جرم کرنے والے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کو دیکھ رہے ہوں گے اور وہ خیال کررہے ہوں گے کہ اس آگ میں یقینا انھیں کو ڈالا جائے گا اور اب ہمارا انجام اس آگ میں جلنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس وقت ان کی جو کیفیت ہوگی آج اس کا تصور بھی انسان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ دنیا میں بڑے سے بڑا ہولناک تصور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–53

فہم القرآن ربط کلام : غیر اللہ کو پکارنا شیطان کی شیطنت کا نتیجہ ہے کہ لوگ غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قیامت کے دن انجام۔ غیر اللہ کو پکارنے والوں کو قیامت کے دن رب ذوالجلال آواز دے گا۔ تم جن کو میرا شریک سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں تو انہیں بلاؤ۔ مشرکین آواز پہ آواز دیں گے لیکن دنیا میں جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر ان کے حضور قیام، رکوع، سجدہ، اعتکاف کرتے، ہاتھ جوڑتے اور نذرانہ پیش کرتے تھے۔ وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ جب ان کو آواز پہ آواز دے رہے ہوں گے تو اچانک جہنم ان کے سامنے کردی جائے گی۔ اسے دیکھتے ہی مشرکین کو یقین ہوجائے گا کہ وہ جہنم میں پھینکے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجرم کو آگ کا یقین ہوجائے گا : 53: وَرَأ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْا (اور مجرمین آگ کو دیکھ کر یقین کرلیں گے) ان کو پختہ یقین ہوجائے گا۔ اَنَّھُمْ مُّوَاقِعُوْھَا (کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں) اس میں جلنے والے اور پڑنے والے ہیں۔ وَلَمْ یَجِدُوْا عَنْھَا ( اور وہ اس آگ سے نہ پائیں گے) ھاؔ کا مرجع نار ہے۔ مَصْرِفًا (بچنے کی راہ) لوٹنے کا راستہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(53)” ورأی المجرمون “ مجرمین سے مراد مشرکین ہیں۔” فظنوا “ وہ یقین کرتے تھے۔ ” انھم مواقعوھا “ وہ اس میں داخل ہونے والے ہیں اس میں گرنے والے ہیں۔ ” ولم یجدوا عنھا مصرفاً “ عدول کرنے والے پھرنے والے نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لینے والی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–53

50۔ 53:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے جس طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے آیا ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ کے شعلہ سے 1 ؎۔ سلف میں سے جس جماعت نے یہ کہا ہے کہ فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 53 جب قیامت کے روز حساب کتاب ختم ہوجائے گا اور مخلوق میں سے ہر گر وہ اپنے اعمال کی بنا پر علیحدہ ہوجائے گا اور مجرموں کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہوجائے گا۔ پس وہ جہنم میں داخل ہونے سے قبل جہنم کو دیکھیں گے اور گھبرا جائیں گے اور یہ یقین کر کے ان کو اس میں پھینکا جائے گا ان کا قلق بڑھ جائے گا۔ آیت کریمہ میں مذکور (ظن) کے بارے میں اہل تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں (ظن) سے مراد یقین ہے۔ پس انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ (ولم یجدوا عنھا مصرفاً ) ” اور نہیں پائیں گے وہ اس سے پھرجانے کی جگہ “ یعنی کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

93۔ مجرم لوگوں کی آتش دوزخ کے سامنے بےبسی کی ایک تصویر :۔ سو اس یوم مہیب میں مجرم لوگوں کو دوزخ کی آگ دیکھتے ہی یہ یقین ہوجائے گا کہ انہوں نے اس میں گر کر رہنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ وہ ان کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لے چکی ہوگی۔ ان کے اپنے اس عمل و کردار کی وجہ سے جس کو انہوں نے اپنے خالق ومالک کے احکام واوامر سے منہ موڑ کر زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ اور جنہوں نے حیات دنیا کی فرصت عمل کو کفر وانکار اور بغاوت و سرکشی میں گزار دیا ہوگا۔ سو ان کیلئے اب اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ کافر چالیس برس اور دوسری روایت کے مطابق چار سو برس کی مسافت سے دوزخ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–53

مشرکوں کا انجام تشریح : قیامت کے دن مشرکوں اور ان کے جھوٹے خدائوں کو اللہ ان کے انجام تک ضرور پہنچا دے گا۔ جو بڑا ہولناک ہوگا۔ دوزخ کا ذکر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں آچکا ہے اور یہ حقیقت بالکل سچ ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–53

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف ذرا وہ وقت تو یاد کرو کہ ہم نے تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو کتنا شرف بخشا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو ، لہذا سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ جو وہاں موجود تھا اور اس حکم میں شامل تھا سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور آدم (علیہ السلام) کی دشمنی میں اپنے پروردگار کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا تو لوگو کیا تو آج اللہ جل جلالہ کی ذات کو چھوڑ کو اسی ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناؤ گے ، حالانکہ وہ تو ابھی تک بھی اور ہمیشہ تمہارے دشمن ہیں ۔ (شیطان کی ذریت یعنی اولاد بھی ہے) حضرت استاذنا المکرم (رح) نے ایک بار فرمایا تھا کہ زمین پر جس قدر انسانی آبادی ہے جنات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–54

(18:52) یوم۔ ای اذکر یوم۔ یقول۔ ای یقول اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ نادوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر۔ نداء مصدر۔ (مفاعلہ) ن۔ دی مادہ۔ تم پکارو۔ تم بلائو۔ زعمتم۔ ای زعمتم انہم شرکائی یا نادوا الذین زعمتم شرکائی۔ جن کو تم میرے شریک خیال کرتے تھے۔ فدعوہم۔ پس وہ انہیں پکاریں گے۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب مشرکین وکافرین کے لئے ہے۔ اور ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب شرکاء کے لئے ہے۔ موبقا۔ وبق یبق (ضرب) وبق یبق (سمع) وبوق موبق۔ وبوق ہلاک ہونا۔ موبق ہلاکت کی جگہ۔ قید خانہ۔ دوچیزوں کے درمیان حائل ہونے والی چیز۔ یہاں مراد جہنم کا خاص درجہ ہے۔ وجعلنا بینہم موبقا۔ اور ہم مشرکوں اور ان کے باطل معبودوں کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 فسق نافرمانی کی۔ ما اشھدت میں نے نہیں بلایا۔ متخذ بنانے والا۔ المضلین گمراہ کرنے والے۔ عضد مددگار، قوت وبازو۔ نادوا پکارو، آواز دو ۔ لم یستجیبوا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ موبق تباہی و بربادی کا سامان، آڑ۔ مواقعون داخل وہنے والے۔ مصرف پناہ کی جگہ ۔ تشریح : آیت نمبر 50 تا 53 ابلیس اور شیطان دونوں ایک ہی فرد کے نام ہیں جس کا تعلق جنات کی قوم سے تھا۔ اللہ نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی اس کو تمام فرشتوں کا سردار بنایا ہوا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ کریں یعنی جھک جایئں۔ تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

یہاں فرمایا قیامت کے دن جب یہ نافرمان دوزخ کو دیکھیں گے اور یہ جان لیویں گے کہ اس میں ان کو رہنا پڑے گا تو بہت گھبرائیں گے۔ لیکن اس کا وقت بےوقت کے گھبرانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس آگ سے بچ کر یہ کہیں جا نہ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–54

[18] یعنی وہ فرشتوں کی طرح معذور نہ تھا کہ نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ انسان کی طرح جنوں کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی ہے اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کا حوالہ دے کر کفار مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ تم اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبر کو چھوڑ کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کی سنت کی پیروی کررہے ہو جس نے قیامت تک کے لئے اولاد آدم کو دشمنی کا کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ [19] یعنی بجائے طاعت الٰہی کے طاعت شیطان میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–53

انسانی فطرت کی بلندیاں : (ف 1) مشرکین کو بتایا ہے کہ کم بختو ، اپنی فطرت کی بلندیوں کو محسوس کرو ، تمہیں اللہ تعالیٰ نے مسجود ملائک بنایا تھا تمہیں اس منصب پر فائز کیا تھا ، کہ دنیا کی اعلی ترین مخلوق تمہارے سامنے جھکے ، تمام کائنات پر تم حکومت کو ، ذرے سے آفتاب تک سب چیزیں تمہاری مسخر کردیں ، تاکہ تم اللہ کی نیابت کے فرائض ادا کرو ، اور اس کی عظمت کی گواہی دو ، مگر تم ہو کہ نفس کی پوجا میں مبتلا ہو ، شیطان کے نقش قدم پر چل رہے ہو غیر اللہ کی پرستش کو عبادت سمجھتے ہو کیا یہ لوگ جن کو تم عرش الوہیت پر بٹھا رہے ہو ، اللہ کے ساجھی ہیں ، انہوں نے آسمان کا کوئی حصہ بنایا ہے یا زمین کی پیدائش میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-53 اور گنہگار جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو اس وقت اس امر کا یقین کریں گے کہ وہ مجرم اس آگ میں گرنیوالے ہیں اور وہ اس آگ سے بچنے اور پلٹ آنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے یعنی جب مشاہدہ ہوجائے گا تو یقین آجائے گا لیکن اس وقت یقین بیکار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مجرم جب آگ کو دیکھیں گے تو آنکھیں کھلیں گی اور ان کو یقین آئے گا کہ بس اب گرائے گئے : 56۔ کوئی مجرم بھی جب جرم کرتا ہے تو اس وقت اس جرم کی سزا کا علم رکھنے کے باوجود شیطانی قوت سے مغلوب ہو کر اس جرم کو کر بیٹھتا ہے لیکن جرم کرنے کے بعد اس کی حالت آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوجاتی ہے اور پھر جب اس کو کڑی لگ جاتی ہے تو اس وقت اس کی وہ پہلی حالت نہیں رہتی اور اس کی ساری سوچیں تقریبا بدل جاتی ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ اب اس کا انجام اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے بس اسی کیفیت وحالت کو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–53

Commentary The progeny of Iblis, and his descendants and followers The word: ذُرِّ‌يَّتَهُ (dhurriyyatah) in verse 50 indicates that Iblis (Shaitan) has offspring, and a host of descendants and followers. Some commentators have said that 'progeny' at this place means 'accomplices.' That the Shaitan has offspring from his loins is not necessary. But, there is a Sahih Hadith which Humaidi has reported in Kitab al-Jam' bain al-Sahihain on the authority of Sayyidna Salman al-Farisi ؓ . According to his narration, the Holy Prophet ﷺ told him, "do not become like those who are the first to enter…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–54

50. This theme has already been stated at several places in the Quran. This is to impress that it is shirk to discard the commandments and the guidance of Allah and to follow the orders and guidance of any other than Allah, though one may not be professing with his tongue that there is any partner of Allah: nay, if one might be cursing others but at the same time following their orders instead of divine commandments, even then that one shall be guilty of shirk. For instance, we see that everyone in this world curses satans but still follows them. According to the Quran, in spite of cursing…

Read the full tafseer →