Explained with ayahs 94–99
رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کا عبرتناک انجام
حکم ہو رہا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بےجھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک حضور ﷺ پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کردی۔ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہوجائیں۔ تو ان سے مطلقا خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیری جانب اتارا گیا لوگوں کی برائی سے تجھے محفوظ رکھ لے گا۔ چناچہ ایک دن حضور ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
سورة الْحِجْر 52
اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…
Read the full tafseer →تبلیغ و ارشاد میں تدریج بقدر استطاعت
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤ ْمَرُ۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین چھپ چھپ کر عبادت اور تلاوت کرتے تھے اور تبیلغ و ارشاد کا سلسلہ بھی خفیہ ہے ایک ایک دو دو فرد کے ساتھ جاری تھا کیونکہ اظہار و اعلان میں کفار کی ایذاء رسانی کا خطرہ تھا اس آیت میں حق تعالیٰ نے استہزاء کرنے والے اور ایذاء دینے والے کفار کی ایذا سے محفوظ رکھنے کی خود ذمہ داری لے لی اس لئے اس وقت بےفکری کے ساتھ اعلان و اظہار کے ذریعہ تلاوت و عبادت اور تبلیغ و دعوت کا سلسلہ شروع ہوا۔
Read the full tafseer →فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ۔ اب کلام پھر اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا ہے۔ حضور کو تاکید کے ساتھ ہدایت کی جا رہی ہے کہ جو کچھ تمہیں حکم دیا جا رہا ہے بےکم وکاست اور بےخوف و خطر اس کو اس کے مخاطبوں تک پہنچا دو اور تمہارے خلاف مشرکین جو بکواس کر رہے ہیں اس کا نوٹس نہ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 1 اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کردی۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
33: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو علی اعلان تبلیغ کا حکم دیا گیا، اس سے پہلے آپ انفرادی طور پر تبلیغ فرماتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت نمبر 94 تا 96
اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔
Read the full tafseer →6 یعنی کہنے میں کوتاہی نہ کیجئے خوب کھول کر خدائی پیغامات پہنچائیے۔ یہ مشرکین آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 94 فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ
اس حکم کو رسول اللہ کی دعوتی تحریک میں ایک نئے موڑ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل آپ اپنے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں کو انفرادی طور پر دعوت دے رہے تھے ‘ جیسے آپ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ سے بات کی ‘ اپنے پرانے دوست حضرت ابوبکر صدیق کو دعوت دی ‘ اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی کو اعتماد میں لیا جو آپ کے زیر کفالت بھی تھے اور اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید سے بھی بات کی۔ آپ کی اس انفرادی دعوت کا سلسلہ ابتدائی طور پر تقریباً تین سال پر محیط نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اس دور کی دعوت کو ایک خفیہ underground تحریک سے تعبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
50 علی الاعلان تبلیغ رسالت کا حکم :۔ ابتداًء دعوت اسلام کا آغاز خفیہ طور پر ہوتا رہا اور یہ دور تین سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ پھر وہ دور آیا جب مسلمان خانہ ارقم سے باہر اپنے اپنے گھروں کی بعض کھلی جگہوں پر نمازیں ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس دور میں قریش نے پابندی لگا رکھی تھی کہ مسلمان بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے اور عورتیں متاثر ہوتی ہیں نیز ان پر کعبہ میں نماز ادا کرنے یا قرآن پڑھنے پر بھی پابندی تھی اور قریش کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر چند سال بعد یہ دور آیا جب اللہ تعالیٰ نے علی الاعلان تبلیغ کا حکم دے دیا اور…
Read the full tafseer →81۔ (یہ نہ مانیں گے اور مخالفت میں طرح طرح کی شرارتیں کرتے رہیں گے) (آیت) ” فاصدع “۔ صدع کے معنی تفصیل سے بیان کردینے کے ہیں۔ صدع الامر اے فصلہ (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →فاصدع بما تؤمر جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے ‘ اس کو علی الاعلان بیان کر دیجئے۔
حضرت ابن عباس نے اِصْدَعْ کا ترجمہ کیا ہے : ظاہر کر دو ۔ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اظہار دعوت کا حکم دیا ہے۔ عبد اللہ بن عبیدہ کی روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ اسلام و ایمان کی دعوت پوشیدہ طور پر دیا کرتے تھے ‘ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی کھل کر سامنے آگئے۔ حضرت ابن عباس کا ایک اور قول یہ بھی آیا ہے کہ اِصْدَعْ بِمَا تُؤْمَر کا ترجمہ ہے : دعوت کو جاری رکھو۔ ضحاک نے ترجمہ کیا : اطلاع دے دو ‘ اعلان کر دو ۔ اخفش نے کہا : قرآن کے ذریعہ سے حق کو باطل سے جدا کر دو ۔ سیبویہ نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔
جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…
Read the full tafseer →فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ۔۔ : ”صَدَعَ یَصْدَعُ ، الْأَمْرَ“ کسی معاملے کو خوب کھول کر بیان کرنا اور ”صَدَعَ بالْحَقِّ“ کھلم کھلا بلند آواز سے حق کا اظہار کرنا۔ شروع میں نبی ﷺ خفیہ اسلام کی دعوت دیتے تھے، اس کے بعد ان آیات میں چھپ کر دعوت دینے کے بجائے صاف اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام سنانے کا اور مشرکین کی پروا نہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کا حکم ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے خود نمٹنے کا ذمہ اٹھایا جو آپ سے استہزا کرتے اور ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ یہ حکم مکہ میں نازل ہوا، مدینہ گئے تو وہاں کفار اور اہل کتاب سے جنگ شروع ہوئی اور خطرے کے پیش نظر صحابہ کرام ؓ آپ کا پہرا دیتے تھے، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت نمبر 94 تا 95
قولہ تعالیٰ : فاصدع بما تؤمر یعنی آپ اس کے بارے اعلان کر دیجئے جس کے بارے آپ کا حکم دیا گیا ہے، یعنی آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام تمام مخلوق تک پہچائیے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے، تحقیق اسی کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اور الصدع کا معنی الشق (پھاڑنا) ہے۔ اور تصدع القوم یعنی قوم متفرق ہوگئی اور اسی سے ہے یومئذ یصدعون۔ (الروم) یعنی اس دن وہ متفرق ہوجائیں گے (بکھر جائیں گے) اور صدعتہ فانصدع ای انشق۔ (میں نے اسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا) ۔ اور الصدع کا اصل معنی جدا کرنا اور پھاڑنا ہے۔ ابو ذؤیب اپنے گدھوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :
وکأنھن ربابۃ و کأنہ یسر یفیض علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔
دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا :
2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ)
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…
Read the full tafseer →[فَاصْدَعْ : تو آپ ﷺ کھول کر بیان کریں ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ تُؤْمَرُ : آپ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے ] [ وَاَعْرِضْ : اور آپ ﷺ اعراض کریں ] [ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ : شرک کرنے والوں سے ]
ص د ع
[صَدْعًا : (ف) ( !) پھاڑنا مگر جدا نہ کرنا۔ شگاف ڈالنا۔ (2) کھول کر بیان کرنا۔ ظاہر کرنا۔ صَدْعٌ اسم ذات ہے۔ شگاف۔ دراڑ۔ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (قسم ہے زمین کی جو دراڑ والی ہے) ۔ 86:12 ۔ اِصْدَعْ فعل امر ہے۔ تو کھول کر بیان کر۔ ظاہر کر۔ زیر مطالعہ آیت۔ 94 ۔]
[ تَصْدِیْعًا : (تفعیل) کثرت سے شگاف ڈالنا۔ اس کے مجہول صُدِّعَ ۔ یُصَدَّعُ کے لفظی معنی بنتے ہیں کثرت سے شگاف ڈالا ہوا ہونا۔ پھر اس سے مراد لیتے…
Read the full tafseer →خوب واضح طور پر کھول کر بیان کرنے کا حکم
پھر فرمایا (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) سو آپ خوب کھول کر واضح طور پر وہ باتیں صاف صاف واضح فرما دیں جن چیزوں کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ (وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ) اور مشرکین سے اعراض کیجیے، یعنی ان کے انکار اور عدم قبول کی وجہ سے مغموم نہ ہوں اس بات کی فکر نہ کریں کہ وہ لوگ نہیں مانتے آپ کا کام کھول کر واضح طور پر بیان کردینا ہے آپ اسے انجام دیتے رہیں۔
یہاں پہنچ کر روافض کی جاہلانہ بات بھی سن لیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے آپ کو حکم تھا کہ خوب کھول کر واضح طور پر حضرت علی ؓ کی خلافت بلافصل کا اعلان کردیں لیکن آپ حضرت ابوبکر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
34:۔ یہ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ کی صفت کاشفہ ہے انہوں نے قرآن مجید کے بھی حصے بخرے کر رکھے تھے۔ کبھی کہتے یہ جاو ہے، کبھی شاعری بتاتے اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ دیتے۔ ” فَلَنَسْاَلَنَّھُمْ “ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ صَدْعٌ کے معنی اظہار کے ہیں یعنی جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو علانیہ اور برملا بیان کریں۔ اور مشرکین کے استہزاء و تمسخر کی پروا نہ کریں۔ یا صدع الزجاجۃ سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح شیشے کو توڑ کر اس کے اجزاء کو الگ الگ کردیا جاتا ہے آپ مسئلہ توحید کو اس طرح واضح کر کے بیان کریں کہ حق و باطل الگ الگ ہوجائیں (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…
Read the full tafseer →فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ 94
صدع
الصَّدْعُ : الشّقّ في الأجسام الصّلبة کالزّجاج والحدید ونحوهما . يقال : صَدَعْتُهُ فَانْصَدَعَ ، وصَدَّعْتُهُ فَتَصَدَّعَ ، قال تعالی: يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ [ الروم/ 43] ، وعنه استعیر :
صَدَعَ الأمرَ ، أي : فَصَلَهُ ، قال : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] ، وکذا استعیر منه الصُّدَاعُ ، وهو شبه الاشتقاق في الرّأس من الوجع . قال : لا يُصَدَّعُونَ عَنْها وَلا يُنْزِفُونَ
[ الواقعة/ 19] ، ومنه الصَّدِيعُ للفجر «1» ، وصَدَعْتُ الفلاة : قطعتها «2» ، وتَصَدَّعَ القومُ أي : تفرّقوا .
( ص د ع ) الصدع
کے معنی ٹھوس اجسام جیسے شیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…
Read the full tafseer →فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُوَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 94)
(آپ کھول کر بیان کیجئے اس کو جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔ )
تبلیغ میں تیزی اور صراحت پیدا کرنے کا حکم
فَاصْدَعْ صدع سے ہے۔ اس کا معنی ہوتا ہے چیرنا۔ تو فَاصْدَعْکا معنی ہے کھول کر، آشکارہ کرکے، اعلان کرکے بیان کیجئے۔ آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ چونکہ نذیر مبین بن کے آئے ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ ان کی ساری مخالفتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے دین کو کھول کھول کر بیان کیجئے۔ ان کی مخالفتوں کو خاطر میں نہ لایئے۔ یہ مکہ کے مشرک جو منصوبہ بندیاں کررہے ہیں انھیں کرنے دیجئے۔ آپ ﷺ ان سے اعراض کیجئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قرآن مجید کے ٹکڑے کرنے والے لوگوں کو انتباہ کرنے کے بعد رسول اکرم کو کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم۔
اہل مکہ کی شدید مخالفت کے پیش نظر اور ساتھیوں کی کمی کی بنا پر نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں آپ ﷺ نے ایک حد تک خفیہ تبلیغ کا طریقہ اپنایا۔ جونہی صحابہ کرام ؓ کی کچھ تعداد بڑھی اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی کٹ حجتیاں اور استہزا کے مقابلے میں آپ کی طرف سے مزاحمت کا اعلان فرمایا اور اس کے ساتھ حکم نازل ہوا کہ اے رسول ! جو کچھ آپ کو بیان کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اسے دو ٹوک انداز اور کھلے الفاظ میں لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں اور مشرکین کی مخالفت کو خاطر میں نہ…
Read the full tafseer →حق کھول کر بتائیں کفار سے ہم نپٹ لیں گے :
94: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (اس کو علی الاعلان بیان کریں جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے) اس کو کھل کر کہو ! اور ظاہر کرو۔ کہا جاتا ہے صدع بالحجۃ جبکہ وہ سرعام اس سے بات کرے۔ یہ الصدیع سے ہے اور وہ فجر کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ فاصدع حق و باطل کو جدا کرو۔ یہ الصدع فی الزجاجۃ سے ہے اور اس کا معنی اظہار کرنا الگ کرنا۔ بما تؤمر جو آپ کو حکم دیا گیا۔ مطلب یہ ہے جس شریعت کی بات کا آپ کو حکم ملا۔ حرف جار کو حذف کردیا گیا جیسا کہ اس قول میں امرتک الخیر فافعل ما امرت بہِ ۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (اور مشرکین سے اعراض کرو۔ ) مشرکین کی استہانت کیلئے یہ امر…
Read the full tafseer →فاصدع بما تومر کی مختلف تفاسیر
(94)” فاصدع بما تومر “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ظاہر کردو ، اللہ نے اپنے رسول کو اظہار دعوت کا حکم دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا کام کر گزریے۔ ضحاک نے کہا کہ اطلاع دیدو، اعلان کردو، اخفش نے کہا کہ قرآن کے ذریعے حق کو باطل سے جدا کردو، سیبویہ نے کہا کہ جیسا تم کو حکم دیا جارہا ہے اس کے موافق فیصلہ کرو۔
لغت میں صدع جدا کرنے اور فرق کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے دعوت کے اظہار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عبداللہ بن عبیدہ کی روایت میں آیا ہے کہ اس آیت کی نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ اسلام و ایمان کی دعوت پوشیدہ دیا کرتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
94۔ 98۔ اللہ پاک ان آیتوں میں حضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک جو تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم لوگوں کو پہنچا اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور ان مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے فاصدع بما تؤمر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا پکار کر پڑھنا مراد ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ پہلے چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ معہ اپنے اصحاب کے کھلم کھلا خدا کی عبادت کرنے لگے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ حضور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت 94
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کردیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کردیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں (واعرض عن المشرکین) ” اور مشرکین سے اعراض کریں۔ “ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہے۔ (انا کفینک المستھزء ین) ” ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں جو تم سے ساتہزا کرتے ہیں۔ “ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
77۔ سب کی باز پرس کی قطعیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حلف وقسم کی قطعیت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی قسم ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان کے ان کاموں کے بارے میں جو یہ کرتے رہے تھے تاکہ یہ اپنے کئے کرائے کا صلہ وبدلہ پاس کیں۔ پس آپ ﷺ کو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے اور صحیح طور پر نمٹ لیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ جلد ہی اپنے کیفر کردار کو پہنچ کررہے۔ فالحمد للہ والعیاذ بہ جل وعلا۔ ابوالعالیۃ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب بندوں سے دو باتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔ ایک یہ کہ وہ کس کی عبادت و بندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
اعلانیہ تبلیغ کا حکم
تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
ف 8 یعنی ان کی کوئی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی اور مددگار ہے۔ شروع شروع میں آنحضرت دین کی تبلیغ و اشاعت خفیہ طریق پر کرتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ علانیہ وعظ نصیحت کرنے لگے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(15:94) اصدع۔ صدع یصدع (فتح) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو کھول کر سنا دے۔ صدع کے معنی ٹھوس اجسام مثلاً شیشہ لوہا وغیرہ میں شگاف کرنے یا شگاف پڑجانے اور اس کے شقّ کرنے یا شق ہوجانے کے ہیں۔ (باب فتح وتفعیل ہر دو سے فعل متعدی آتا ہے اور باب انفعال اور باب تفعل سے لازم آتا ہے۔ کھل جانا اس کے مفہوم میں داخل ہے اسی اعتبار سے کسی بات کے کھلم کھلا کہنے کے معنی میں اس کا استعمال ہوتا ہے اسی سے محاورہ ہے صدع الامر اس نے بات کو واضح اور ظاہر کردیا۔ پھٹنے اور شق ہوجانے کے معنی میں قرآن میں آیا ہے والارض ذات الصدع (86:12) اور قسم ہے پھٹ جانے والی زمین کی۔
اعرض۔ امر واحد مذکر حاضر۔ تو کنارہ کشی کر۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–99
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99
اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔
تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99
سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
اللہ پاک ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن مجید جو کہ تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم ولوگوں کو پہنچا دو اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو، اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے۔ یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) حدی بن قیس (4) اسود عبدالمطلب (5) اسود بن عبدالغیوث۔ جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر آخرت میں بھگتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔
(آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔
مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…
Read the full tafseer →94 ۔ پس اے پیغمبر آپ کو جن باتوں کی تبلیغ اور پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے وہ آپ صاف صاف علی الاعلان سنا دیجئے اور شرک کرنے والوں کی پرواہ نہ کیجئے اور مشرکوں کا دھیان نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔
Read the full tafseer →تو لوگوں تک حق پہنچا دو اور مشرکوں کی کچھ پروا نہ کرو :
94۔ مشرکوں سے اعراض کے معنی یہ ہیں کہ ان کی مخالفت ‘ عداوت اور منصوبوں کی کچھ پروا نہ کرو اور کھول کھول کر بیان کرتے چلے جاؤ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ سورت مکہ کے آخری زمانہ کی ہے اور نبی کریم ﷺ تو اس سے پہلے بھی کھول کر ہی بیان فرماتے تھے مگر اس وقت آپ ﷺ کو مٹانے کے لئے کفار میں مشورے ہو رہے تھے اور وہ طرح طرح کے منصوبے بنا رہے تھے اس لئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! تم ان کے منصوبوں کی پروا نہ کرو اور یہ وقت ہے کہ آپ قرآن کریم کو کھول کھول کر بیان کرو اور اس قدر بیان کرو کہ تمہارا سر پھٹنے لگ جائے یعنی پوری تن دہی کے ساتھ بیان کرتے رہو اور…
Read the full tafseer →On Spreading the Religious Message Stage by Stage as Convenient
Before the revelation of the verse (94): فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (Now, proclaim what you are commanded to), the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah ؓ used to make Salah and recite Qur'an secretly (lest they are seen and harmed). The process of passing on the religious message to others and the mission of teaching and training was also kept secret being limited to a counted few. The reason was that doing so openly would have given the disbelievers the opportunity to bring harm to them. In this verse (95), Allah Ta` ala has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another.
“They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts.
This…
Read the full tafseer →