Al-Hijr 15:95

Al-Hijr · from ayah 95

15:95

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَ ۟ۙاِنَّا كَفَيۡنٰكَ الۡمُسۡتَهۡزِءِيۡنَۙ

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We are sufficient for you against the mockers

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:95

تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ سے جو لوگ مسخراپن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ ہم تمہاری طرف سے ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں جو (تمہارا) مذاق اڑاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفا یت کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک مذاق کرنے والوں (کو انجام تک پہنچانے) کے لئے ہم آپ کو کافی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم تجھے مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں کافی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان ٹھٹھا کرنے والوں کو ہم کافی ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم ان مذاق اڑانے والوں سے، تمہارے طرف سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم کافی ہیں آپ کو (اے پیغمبر !) ان مذاق اڑانے والوں (کی خبر لینے) کو،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم آپ کے لیے تمسخر کرنے والوں کے مقابلہ میں کافی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم آپ کی طرف سے کافی ہیں ان استہزا کرنے والوں (سے نمٹنے) کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ سے مذاق کرنے والوں کو ہم کافی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We suffice to deal with those who scoff at you,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, We are sufficient for you against those who deride,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, We are sufficient for you against those who deride,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Truly, We will suffice you against the mockers,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, We are sufficient for you against the mockers

— Saheeh International

We shall help you against those who mock you

— Muhammad Sarwar

Surely We will suffice you against the scoffers

— Muhammad Habib Shakir

Verily We will suffice unto thee against the mockers.

— Abdul Majid Daryabadi

For sufficient are We unto thee against those who scoff,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 94–99

رسول اللہ ﷺ کے مخالفین کا عبرتناک انجام حکم ہو رہا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بےجھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک حضور ﷺ پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کردی۔ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہوجائیں۔ تو ان سے مطلقا خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیری جانب اتارا گیا لوگوں کی برائی سے تجھے محفوظ رکھ لے گا۔ چناچہ ایک دن حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–98

سورة الْحِجْر 52 اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–96

(آیت) اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لیڈر پانچ آدمی تھے عاص بن وائل، اسود بن المطلب، اسود بن عبدی، غوث ولید بن مغیرہ، حارث بن الطلاطلۃ یہ پانچوں معجزانہ طور پر ایک ہی وقت میں حضرت جبرئیل ؑ کے اشارے سے ہلاک کردیئے گئے اس واقعہ سے تبلیغ و دعوت کے معاملہ میں یہ حاصل ہوا کہ اگر انسان کسی ایسے مقام یا ایسے حال میں مبتلا ہوجائے کہ وہاں حق بات کو علی الاعلان کہنے سے ان لوگوں کو تو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع نہ ہو اور اپنے آپ کو نقصان و تکلیف اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں یہ کام خفیہ طور پر کرنا بھی درست اور جائز ہے البتہ جب اظہار و اعلان کی قدرت ہوجائے تو پھر اعلان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 95–96

تفسیر آیات 95 تا 96:إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (95) الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (96)۔ یعنی یہ مشرکین جو تمہارا مذاق اڑا رہے اور تم ان کو جو ڈراوے سناتے ہو ان پر ہنستے ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے تمہاری طرف سے ہم کافی ہیں۔ وہ عنقریب جان لیں گے کہ جو کچھ تم انہیں سنا رہے ہو اس کا ایک ایک حرف سچ ثابت ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 94–98

94۔ 1 اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کردی۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 95–99

34: اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزا ردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 94–96

آیت نمبر 94 تا 96 اور رسول اللہ ﷺ بہرحال انسان اور بشر تھے ، وہ جب دیکھتے کہ لوگ کفر و شرک پر اصرار کرتے ہیں ، الٹا داعیان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، تو آپ کو سخت غصہ آتا تھا اور آپ نہایت ہی دل تنگ اور پریشان ہوتے تھے۔ اس پر آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اللہ کی تعریف و تسبیح کرتے رہیں۔ اللہ کی بندگی کرتے رہیں اور تسبیح و تہلیل اور عبادت اور ذکر وفکر میں مشغول رہیں۔ لوگوں کی جانب سے جو ہنسی مذاق ہوتا اسے برداشت کریں اور پوری زندگی میں اللہ کو یاد کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کو حق الیقین آجائے یعنی موت آجائے اور آپ رب تعالیٰ کے جوار رحمت میں پہنچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دنیا و آخرت میں ہم سب ٹھٹھا کرنے والوں سے نبٹ لیں گے آپ بےخوف و خطر تبلیغ کرتے رہیے آپ کا بال بیکا نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 95 اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ آپ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں ہم ان سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ یہ لوگ آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 94–97

50 علی الاعلان تبلیغ رسالت کا حکم :۔ ابتداًء دعوت اسلام کا آغاز خفیہ طور پر ہوتا رہا اور یہ دور تین سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ پھر وہ دور آیا جب مسلمان خانہ ارقم سے باہر اپنے اپنے گھروں کی بعض کھلی جگہوں پر نمازیں ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس دور میں قریش نے پابندی لگا رکھی تھی کہ مسلمان بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے اور عورتیں متاثر ہوتی ہیں نیز ان پر کعبہ میں نماز ادا کرنے یا قرآن پڑھنے پر بھی پابندی تھی اور قریش کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر چند سال بعد یہ دور آیا جب اللہ تعالیٰ نے علی الاعلان تبلیغ کا حکم دے دیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

82۔ مکہ زندگی میں جہاں رسول اللہ ﷺ کو ایک طرف ہر طرح کی جسمانی وروحانی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں وہاں دوسری طرف طنز و تمسخر واستہزاء کا بھی ایک بےپناہ طوفان برپا تھا۔ بعض مفسرین ان جزئیات کی طرف چلے گئے ہیں کہ مستہزئین کون کون تھے، اور ان کا طریق استہزاء کیا کیا تھا۔ لیکن جیسا کہ امام المفسرین (رح) نے فرمایا ہے، مفسر کو اس کا زیادہ کھوج لگانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا جان لینا کافی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک پورا طبقہ صاحب اثر ووجاہت مستہزئین کا تھا۔ ولا حاجۃ الی شیء منھا والقدر المعلوم انھم طبقۃ لھم قوۃ وشوکۃ وریاسۃ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا کفینک المستھزئین یہ لوگ (جو آپ پر) استہزاء کرتے ہیں ‘ ان سے نمٹنے کیلئے ہم کافی ہیں۔ یعنی ان کی جڑ اکھاڑ دیں گے ‘ ان کو تباہ کردیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ تم اللہ کا حکم پکار کر سناؤ۔ اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو۔ تمہارے لئے اللہ کافی ہے۔ مذاق اڑانے والوں اور تم سے ٹھٹھول کرنے والوں کے مقابلے میں بھی اللہ نے تمہاری مدد کی۔ رسول اللہ ﷺ سے استہزاء کرنے والے اور آپ کی ہنسی اڑانے والے قریش کے پندرہ سردار تھے : (ا) ولید بن مغیرہ مخزومی ‘ یہ سب کا سرگروہ تھا (2) عاص بن وائل سہمی (3) اسود بن مطلب بن حارث بن اسعد بن عبدالعزی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بددعا دی تھی اور فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 95–96

(95۔ 96) اور یہ لوگ جو آپ پر ہنستے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ انہوں نے اور دوسرے معبود قرار دے رکھے ہیں تو ہم ان ہنسنے والوں کی ہنسی کو ضرور آپ سے دور کردیں گے، سو ان کو ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ایک دن ایک رات میں ہر ایک پر نیا عذاب نازل کرکے ہلاک کردیا اور یہ بدبخت پانچ تھے چناچہ عاص بن وائل سہمی کو تو کسی چیز نے ڈس لیا اور وہ اسی جگہ فورا امر گیا۔ اور حارث بن قیس سہمی نے نمکین یا تازہ مچھلی کھالی، اس کے بعد اسے پیاس لگی، اس نے پانی پی لیا، بدبخت کا اس سے پیٹ پھٹ گیا اور اسی جگہ پر مرگیا۔ اور اسود بن عبدالمطلب کا سر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ : ہم ان سے نبٹ لیں گے، آپ بےخوف و خطر دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہیے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ نبی ﷺ کا مذاق اڑانے والے (بڑے بڑے یہ پانچ) آدمی تھے، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، ابوزمعہ اسود بن مطلب، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ جبریل ؑ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مذاق اڑانے والوں کی شکایت کی۔ حدیث لمبی ہے، خلاصہ یہ کہ جبریل ؑ نے ان کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کی طرف اشارہ کیا اور وہ پانچوں بری طرح فوت ہوئے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقی : 9؍8، ح : 18187 ] جو مذاق اڑانے والے باقی رہے ان کا انجام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 94–95

آیت نمبر 94 تا 95 قولہ تعالیٰ : فاصدع بما تؤمر یعنی آپ اس کے بارے اعلان کر دیجئے جس کے بارے آپ کا حکم دیا گیا ہے، یعنی آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام تمام مخلوق تک پہچائیے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے، تحقیق اسی کے بارے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم ارشاد فرمایا ہے۔ اور الصدع کا معنی الشق (پھاڑنا) ہے۔ اور تصدع القوم یعنی قوم متفرق ہوگئی اور اسی سے ہے یومئذ یصدعون۔ (الروم) یعنی اس دن وہ متفرق ہوجائیں گے (بکھر جائیں گے) اور صدعتہ فانصدع ای انشق۔ (میں نے اسے پھاڑا پس وہ پھٹ گیا) ۔ اور الصدع کا اصل معنی جدا کرنا اور پھاڑنا ہے۔ ابو ذؤیب اپنے گدھوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : وکأنھن ربابۃ و کأنہ یسر یفیض علی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔ دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا : 2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ) 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انا : یقینا ] [ كَفَيْنٰكَ : ہم نے کفایت کی آپ ﷺ کی ] [ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ : مذاق اڑانے والوں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 95–97

ہنسی کرنے والوں کے لیے ہم کافی ہیں اس کے بعد فرمایا (اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِءِ یْنَ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (بلاشبہ جو لوگ ہنسی کرنے والے ہیں، جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کرتے ہیں ان کی جانب سے ہم آپ کے لیے کافی ہیں، سو عنقریب وہ جان لیں گے) ہنسی کرنے والے یوں تو سب ہی مشرکین تھے لیکن خصوصی طور پر علمائے تفسیر نے ولید بن مغیرہ اور اس کے چار ساتھیوں کا نام لیا ہے یہ لوگ ہنسی کرنے اور مذاق اڑانے میں بہت آگے آگے تھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے مختلف اعضاء کی طرف اشارہ فرمایا کسی کے پیٹ کی طرف کسی کی آنکھوں کی طرف کسی کے سر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 95–96

35:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے چوتھی بار تسلی کا ذکر اور تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ ” اَلْمُسْتَھْزِءِیْنَ “ سے مشرکین مکہ کے وہ پانچ یا کم و پیش آدمی مراد ہیں جو ہر وقت قرآن اور حضور ﷺ کے استہزاء و تمسخر کی نئی نئی صورتیں نکالتے رہتے تھے اور آپ کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن مطلب، ابو زمعہ، اسود بن عبد یغوث (بحر ج 5 ص 470) مقتسمین اور مستہزئین کی تعداد اور ان کے ناموں کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ یہ لوگ مختلف طریقوں سے آپ کو ستاتے اور آپ سے تمسخر کرتے تھے۔ کبھی راستہ میں کانٹے بچھاتے، کبھی اوپر سے کوڑا کرکٹ پھنکواتے کبھی گندگی اٹھا کر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–99

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ 95؀ۙ كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل . ( کی ) الکفایۃ وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–99

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 95–96

اِنَّا کَفَیْنٰـکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ ج فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 95۔ 96) (ہم کافی ہیں آپ کو مذاق اڑانے والوں کے شر سے بچانے کے لیے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود شریک کرتے ہیں۔ سو وہ عنقریب جان لیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا وعدہ گزشتہ آیت کریمہ میں برملا تبلیغ کرنے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کو ہر کس و ناکس ہر چھوٹی بڑی مجلس اور ہر رئیس کے دربار تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے کام میں کچھ مزید تیزی اور مزید جرأت و جسارت پیدا کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے جبکہ اس سے پہلے کی تبلیغ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 94–96

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قرآن مجید کے ٹکڑے کرنے والے لوگوں کو انتباہ کرنے کے بعد رسول اکرم کو کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم۔ اہل مکہ کی شدید مخالفت کے پیش نظر اور ساتھیوں کی کمی کی بنا پر نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں آپ ﷺ نے ایک حد تک خفیہ تبلیغ کا طریقہ اپنایا۔ جونہی صحابہ کرام ؓ کی کچھ تعداد بڑھی اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی کٹ حجتیاں اور استہزا کے مقابلے میں آپ کی طرف سے مزاحمت کا اعلان فرمایا اور اس کے ساتھ حکم نازل ہوا کہ اے رسول ! جو کچھ آپ کو بیان کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اسے دو ٹوک انداز اور کھلے الفاظ میں لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں اور مشرکین کی مخالفت کو خاطر میں نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

95: اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ (بیشک ہم تیری طرف سے ان مستہزئین کیلئے کافی ہیں) قول جمہور : یہ پانچ آدمیوں کے متعلق اتری۔ جو رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچانے میں مبالغہ کرتے اور آپ کا مذاق اڑاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ نمبر 1۔ ولید بن المغیرہ اس کا گزر تیر بنانے والے کے پاس سے ہوا۔ ایک تیر اسکی لمبی دراز چادر سے اٹک گیا۔ اور وہ تیر اسکی ایڑھی کی رگ میں جا لگا۔ جس سے وہ رگ کٹ گئی اور وہ موت کے گھاٹ اتر گیا۔ نمبر 2۔ عاص بن وائل اس کے پائوں کی تلی میں ایک کانٹا چبھ گیا اس کا پائوں سوج گیا۔ جس سے وہ مرگیا نمبر 3۔ اسود بن عبدالمطلب۔ یہ اندھا ہوگیا۔ نمبر 4۔ اسود بن عبدیغوث یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(95)” انا کفیناک المستھزئین “ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کا حکم پکار کر سنائو، اللہ کے سوا کسی سے مت ڈرو، تمہارے لیے اللہ کافی ہے، تمہارے دشمنوں سے جیسے اللہ کافی ہے مذاق کرنے والوں کے متعلق استہزاء کرنے والے قریش کے بڑے بڑے سرغنہ آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنے والے رئوسا قریش کی تعداد پندرہ تھی۔ ولید بن مغیرہ یہ سب گروہ کا سرغنہ تھا اور دوسرے سردار عاص بن وائل سہمی، اسود بن مطلب بن حارث بن اسعد بن عبدالغزی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی تھی اور فرمایا تھا ” اللھم اعم بصرہ “ اے اللہ ! اس کو اندھا کردے، اس کو لاولد کردے۔ اسود بن عبد یغوث بن وہب بن عبد مناف بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–98

94۔ 98۔ اللہ پاک ان آیتوں میں حضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک جو تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم لوگوں کو پہنچا اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور ان مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ مجاہد نے فاصدع بما تؤمر کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کا پکار کر پڑھنا مراد ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ﷺ پہلے چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ معہ اپنے اصحاب کے کھلم کھلا خدا کی عبادت کرنے لگے 1 ؎۔ بعض مفسروں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ حضور سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 94–99

آیت 94 پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کردیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کردیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں (واعرض عن المشرکین) ” اور مشرکین سے اعراض کریں۔ “ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہے۔ (انا کفینک المستھزء ین) ” ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہیں جو تم سے ساتہزا کرتے ہیں۔ “ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 93–95

77۔ سب کی باز پرس کی قطعیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حلف وقسم کی قطعیت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی قسم ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان کے ان کاموں کے بارے میں جو یہ کرتے رہے تھے تاکہ یہ اپنے کئے کرائے کا صلہ وبدلہ پاس کیں۔ پس آپ ﷺ کو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے اور صحیح طور پر نمٹ لیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ جلد ہی اپنے کیفر کردار کو پہنچ کررہے۔ فالحمد للہ والعیاذ بہ جل وعلا۔ ابوالعالیۃ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب بندوں سے دو باتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔ ایک یہ کہ وہ کس کی عبادت و بندگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–99

اعلانیہ تبلیغ کا حکم تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ہم ان سے نبٹ لیں گے آپ بےخوف و خطر دعوت تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے مفسرین کا بیان ہے کہ مراد کفار کے پانچ سردار ہیں (ولید بن مغیرہ) عاص بن وائل اسود بن مطلب، سود بن عبدالغیوث اور حارث بن طلہ طلہ) اللہ تعالیٰ نے ان سب کا ایک ہی دن میں کام تمام کرڈ الا۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:95) انا کفینک۔ تحقیق ہم کافی ہیں تیرے لئے (بمقابلہ تمسخر کرنے والوں کے) یعنی وہ آپ کو گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 94–98

اللہ پاک ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن مجید جو کہ تم کو دے کر بھیجا ہے وہ تم ولوگوں کو پہنچا دو اور جو اللہ کا حکم ہے وہ ان سے کہہ دو اور مشرکین کے جھٹلانے سے دل تنگ نہ ہو، اور ان کی ایذا رسانی سے گھبراؤ نہیں تم تو خدا پر بھروسہ کرو وہ تمہیں کافی ہے۔ یہ مسخرے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ وہ پانچ شخص تھے جو قبیلہ قریش میں رئیس شمار کئے جاتے تھے : (1) ولید بن مغیرہ (2) عاص بن وائل (3) حدی بن قیس (4) اسود عبدالمطلب (5) اسود بن عبدالغیوث۔ جب یہ لوگ شرارت اور ایذا رسانی میں حد سے گزرنے لگے تو یہ آیت اتری اور یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں طرح طرح کے مرض میں گرفتار ہو کر آخرت میں بھگتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 91–97

[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–99

(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔ (آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔ مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

95 ۔ اور کچھ خوف نہ کیجئے کیونکہ ہم آپ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والے اور استہزا کرنے والوں کے لئے کافی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–98

ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : ہنسی اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم آپ ﷺ کو کفایت کرتے ہیں : 95۔ مکی زندگی میں جہاں نبی کریم ﷺ کو ایک طرف ہر طرح کی جسمانی وروحانی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں وہاں دوسری طرف تمسخر و استہزاء کا بھی ایک بےپناہ طوفان بدتمیزی برپا تھا ، فرمایا : اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کافروں سے خائف نہ ہوں آپ ﷺ پر جو بھی زبان طعن دراز کرے گا اور جو بھی گستاخی کی جرات کرے گا اور اس طرح جو بھی مذاق کرے گا ہم خود ان کو سنبھال لیں گے اور ان کا شر آپ تک نہیں پہنچے گا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے خلاف بہتان باندھنے والے اور افتراء کا طوفان برپا کرنے والے اسلام کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششیں داؤد پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 95–96

The people who have been referred to in the verse: إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (Surely, We are sufficient for you against those who deride - 95) their ring leaders were five in number: (1) Al-` As ibn Wa’ il (2) Aswad ibn al-Muttalib (3) Aswad ibn ` Abd Yaghuth (4) Walid ibn Mughirah (5) Harith ibn Talhah. They were killed simultaneously and miraculously when signalled by Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) . This event provides a guideline in matters of Tabligh and Da'wah. In places and under circumstances where a worker in the way of Allah sees…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–98

52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another. “They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts. This…

Read the full tafseer →