Al-Hijr 15:93

Al-Hijr · from ayah 93

15:93

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

About what they used to do.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:93

ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہر اس چیز کی جو وه کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ وہ کیا کچھ کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو کچھ وہ کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے ان اعمال کی جو یہ کرتے رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے ان کرتوتوں کے بارے میں، جو یہ لوگ کرتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

ان اعمال کی بابت جنہیں وہ کرتے رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کاموں کی بابت جو وہ کرتے رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

concerning what they have been doing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

about what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

about what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For all that they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

About what they used to do.

— Saheeh International

for what they have done

— Muhammad Sarwar

As to what they did.

— Muhammad Habib Shakir

For that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 15:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–93

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الہٰی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الہٰی کے شکار ہوں گے۔ المستعین سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء ؑ کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کرلیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صلح اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے اسی طرح قرآن میں ہے کہ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں الخ۔ اور جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–98

سورة الْحِجْر 52 اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–93

خلاصہ تفسیر اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 92–93

تفسیر آیت 92 تا 93: فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (92) عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (93)۔ یہ دونوں آیتیں یہود ہی سے متعلق ہیں۔ نہایت زور دار الفاظ میں قسم کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ جنہوں نے کتمان حق اور اپنے اغراض و اہوا کے لیے کتاب الٰہی کے ساتھ یہ ظلم کیے ہیں ہم ان سے ان کی ان کارستانیوں کی بابت ایک دن ضرور باز پرس کریں گے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 90–93

90۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کردیا، اس کے بعض حصے کے شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیر الأولین (پہلوں کی کہانیاں (قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح ؑ کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم کھائی تھی کہ صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کردیں گے (تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ) 27۔ النمل :49) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 92–94

33: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو علی اعلان تبلیغ کا حکم دیا گیا، اس سے پہلے آپ انفرادی طور پر تبلیغ فرماتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–93

آیت نمبر 90 تا 93 یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 92–93

5 یعنی کس کی عبادت کی تھی ؟ پیغمبروں کے ساتھ کس طرح پیش آئے تھے ؟ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کیوں نہ مانا تھا ؟ اس کلمہ کا حق کیوں ادا نہیں کیا تھا ؟ یہ اور اسی قسم کے نہ معلوم کتنے سوالات ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ اس آیت کا مضمون اور انداز وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة الاعراف میں پڑھ چکے ہیں : فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ”ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور ان سے بھی جن کو رسول بنا کر بھیجا گیا“۔ چناچہ اے نبی یہ تھوڑے وقت کی بات ہے ہم ان سے ایک ایک چیز کا حساب لے کر رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 91–93

49 قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول :۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے، قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے، بعض آیات کو چھپا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 92–93

80۔ ( اور انہی اعمال کے مطابق انہیں سزائیں دیں گ ے) یہ سوال قیامت میں بہ طور عتاب ومواخذہ ہوگا نہ بہ طور استفسار۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عما کانوا یعملون۔ اعمال میں گناہ بھی داخل ہیں اور کفر بھی اور قرآن کی تکذیب بھی اور اس کو جادو قرار دینا بھی۔ سوال کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہم ان سے بازپرس کریں گے اور ان کو ان کے کئے کی سزا بھی دیں گے۔ بغوی نے محمد بن اسماعیل بخاری کا قول نقل کیا ہے کہ متعدد علماء کے نزدیک عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ سے مراد ہے : لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ (یعنی لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ کی ہم ان سے بازپرس کریں گے) ۔ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ اس آیت کے ذیل میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم ان سے بازپرس کریں گے کلمۂ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللہ کے متعلق۔ مسلم نے حضرت ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–94

(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 92–93

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ۔۔ : ”یَعْمَلُوْنَ“ میں دل، زبان اور جسم کے تمام حصوں کے افعال شامل ہیں۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ”اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ“ (بےشک قیامت آنے والی ہے) ، اب اسی بات کو آگے بڑھایا کہ تیرے رب کی قسم ! ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی سے سوال کرنا ہی نہایت خوفناک بات ہے، خصوصاً جب زبان، دل اور اعضا کے ہر ہر عمل کے متعلق ہو۔ آسان حساب صرف انھی کا ہوگا جن کا دفتر پیش ہونے پر کسی سوال و جواب کے بغیر نجات ہوجائے گی۔ دیکھیے سورة انشقاق (7 تا 9) کی تفسیر۔ قسم کھا کر تمام کفار سے باز پرس کا یقین دلانے سے مقصود نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 92–93

آیت نمبر 92 تا 93 قولہ تعالیٰ : فو ربک لنسئلنھم اجمعین یعنی ہم ضرور ان کے بارے پوچھیں گے جن کا ذکر جاری ہے ان اعمال کے بارے میں جو انہوں نے دنیا میں کئے۔ اور امام بخاری میں ہے : متعدد اہل علم نے قول باری تعالیٰ : فو ربک لنسئلنھم اجمعین۔ عما کانوا یعملون۔ کے بارے کہا ہے (کہ مراد یہ ہے) کہ ہم لا الہ الا اللہ کے بارے پوچھیں گے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ حدیث مرفوعا روایت کی گئی ہے، ترمذی حکیم نے بیان کیا ہے : ہمیں جارود بن معاذ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہمیں فضل بن موسیٰ نے شریک سے انہوں نے لیث سے انہوں نے بشیر بن نھیک سے انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قول باری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔ دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا : 2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ) 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 92–93

اس کے بعد فرمایا (فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (سو آپ کے رب کی قسم ہے ہم ان سب سے ان کے اعمال کی ضرور باز پرس کرلیں گے) اس میں یہ فرمایا ہے کہ اولین و آخرین سب سے ان کے اعمال کے بارے میں باز پرس ہوگی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور کتابوں کو جھٹلاتے رہے اور جھٹلا رہے ہیں ان سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے کیا کیا، سورة اعراف میں فرمایا (فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَ لَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ ) (سو ہم ضرور ضرور ان سے دریافت کرلیں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے اور ہم ضرور ضرور پیغمبروں سے پوچھ لیں گے) یہاں بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سورة رحمن میں یوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 91–94

34:۔ یہ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ کی صفت کاشفہ ہے انہوں نے قرآن مجید کے بھی حصے بخرے کر رکھے تھے۔ کبھی کہتے یہ جاو ہے، کبھی شاعری بتاتے اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ دیتے۔ ” فَلَنَسْاَلَنَّھُمْ “ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ صَدْعٌ کے معنی اظہار کے ہیں یعنی جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو علانیہ اور برملا بیان کریں۔ اور مشرکین کے استہزاء و تمسخر کی پروا نہ کریں۔ یا صدع الزجاجۃ سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح شیشے کو توڑ کر اس کے اجزاء کو الگ الگ کردیا جاتا ہے آپ مسئلہ توحید کو اس طرح واضح کر کے بیان کریں کہ حق و باطل الگ الگ ہوجائیں (روح) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–99

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 93؀ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–99

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–93

فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 92۔ 93) (پس آپ کے رب کی قسم، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔ ان اعمال سے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اگر یہ باور کرلیا جائے کہ پہلی دونوں آیتیں یہود یا اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ آیتیں بھی یہود یا اہل کتاب ہی سے متعلق ہیں کیونکہ انھوں نے کتاب اللہ تعالیٰ کے احکام کی تقسیم کرکے اللہ تعالیٰ کی توہین کی ہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم اس قابل نہیں کہ اسے درخورِ اعتنا سمجھا جائے۔ اصل اتباع کے لائق تو ہماری خواہشِ نفس ہے، اللہ تعالیٰ کا جو حکم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–93

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورة فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔ ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 92–93

تمام سے سوال ہوگا : 92، 93: فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ (تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان تمام سے پوچھ گچھ کریں گے) عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان تمام باتوں کے متعلق جو وہ کرتے رہے) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور ربوبیت کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ قیامت کے دن ان میں میں ایک ایک سے سوال کرونگا جو انہوں نے رسول ﷺ کو کہا یا جو قرآن کے بارے میں کہا۔ یا جو اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے بارے میں کہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(93)” عماکانوا یعملون “ محمد بن اسماعیل بخاری کا قول ہے کہ متعدد علماء کے نزدیک ” عما کانو ا یعملون “ سے مراد ہے۔ لا الہ الا اللہ کہ ہم اس کی باز پرس کریں گے۔ سوال کیا جائے کہ اس آیت اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے درمیان کیا تطبیق ہوگی۔ ” فیومذ لا یسال عن ذنبہ انس ولا جان “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا عمل کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے علم سے باخبر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ یہ ضرور پوچھے گا تاکہ یہ عمل تم نے ایسا کیوں کیا اور قطرب نے اس پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا کہ سوال کی دو قسمیں ہیں۔ (1) علم حاصل کرنے کے لیے جس کو استفہامیہ سوال کیا جاتا ہے۔ (2) زجرو توبیخ کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–93

89۔ 91۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول صلعم کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلاً جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورت النحل میں آوے گا۔{ کما انزلنا علی المقتسمین } کی تفسیر میں مفسروں کا بہت اختلاف ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ لوگ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے قرآن کی طرح سے تقسیم کر ڈالی کہ بعض احکام پر اس کے ایمان لائے اور بعض سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 86–93

آیت 86 یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 93–95

77۔ سب کی باز پرس کی قطعیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حلف وقسم کی قطعیت کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے رب کی قسم ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان کے ان کاموں کے بارے میں جو یہ کرتے رہے تھے تاکہ یہ اپنے کئے کرائے کا صلہ وبدلہ پاس کیں۔ پس آپ ﷺ کو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے اور صحیح طور پر نمٹ لیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ لوگ جلد ہی اپنے کیفر کردار کو پہنچ کررہے۔ فالحمد للہ والعیاذ بہ جل وعلا۔ ابوالعالیۃ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب بندوں سے دو باتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا۔ ایک یہ کہ وہ کس کی عبادت و بندگی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–99

اعلانیہ تبلیغ کا حکم تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 92–94

ف 8 یعنی ان کی کوئی پرواہ نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی اور مددگار ہے۔ شروع شروع میں آنحضرت دین کی تبلیغ و اشاعت خفیہ طریق پر کرتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ علانیہ وعظ نصیحت کرنے لگے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 92–93

(15:92) فوربک۔ وائو قسم کے لئے ہے تیرے رب کی قسم۔ انس و محبت اور التفات کے اظہار کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ محبوب کا نام یا اس کی اضافت قسم میں شامل کرلیتے ہیں۔ مثلاً حضرت عائشہ ؓ کے متعلق آیا ہے کہ جب انہیں حضور ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو کہا کرتیں ورب محمد یعنی محمد کے رب کی قسم ۔ اور جب ناراضگی کا اظہار منظور ہوتا تو کہتیں ورب ابراہیم ۔ یعنی ابراہیم کے رب کی قسم۔ قرآن میں یہ طرز خطاب کسی اور کیلئے استعمال نہیں کیا گیا۔ اس آیت کے علاوہ مندرجہ ذیل مقامات پر یہی طرز اختیار کیا گیا ہے۔ (1) فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم (4:65) سو تیرے پروردگار کی قسم یہ لوگ ایماندار نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–93

آنحضرت ﷺ کو نصیحت کرنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسولوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے۔ آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلا جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورة النحل میں آوے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں چونکہ وہ قرآن کریم کے کچھ حصہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا کچھ کے منکر ہوگئے۔ بعض مفسروں (مفسرین) نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 91–97

[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–99

(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔ (آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔ مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

93 ۔ ضرور باز پرس کریں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی خواہ پہلے ہوں یا پچھلے ہم ضرور ان کے اعمال کے متعلق ان سے سوال و باز پرس کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–98

ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ پوچھنا جو ہے انکے اعمال ہی کے متعلق ہے جنہوں نے یہ ظلم روا رکھا ہے : 93۔ ہر انسان اپنے اعمال کے متعلق جواب دہ ہے اور اس سے اس کے اعمال کے متعلق ضرور سوال کیا جائے گا یہ ممکن نہیں کہ ہم ان لوگوں کے کئے کے متعلق ان سے سوال نہ کریں کہ تم یہ کرتوت کیوں کرتے رہے ، اس جگہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اعمال کے مواخذہ کا اسلام نے جس سے تعلق بتایا ہے وہ نفس یعنی روح ہے ۔ چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ان تقول نفس یحسرتی علی مافرطت فی جنب اللہ “۔ (الزمر 39 : 56) تو (قیامت میں) کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ اے افسوس اس پر کہ میں نے اللہ کے بارے میں یہ کمی کی ۔ “ دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–93

Commentary Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l 1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–98

52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another. “They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts. This…

Read the full tafseer →