Al-Hijr 15:90

Al-Hijr · from ayah 90

15:90

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ۟ۙكَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَى الۡمُقۡتَسِمِيۡنَۙ‏

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Just as We had revealed [scriptures] to the separators

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:90

یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(یہ تنبیہ قرآن عظیم کے ذریعے اسی طرح نازل کی گئی ہے) جیسے ہم نے ان تفرقہ کرنے والوں پر نازل کی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جیسا (عذاب) کہ ہم نے تقسیم کرنے والوں (یعنی یہود و نصارٰی) پر اتارا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(ایسے عذاب سے) جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جیسا کہ ہم نے (عذاب) ان تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح ہم ان تقسیم کرلینے والوں پر بھی اتارا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(کہ ان منکروں پر بھی عذاب اسی طرح آسکتا ہے) جس طرح کہ ہم اتار چکے ہیں ان حصے بخرے کرنے والوں پر،

— مولانا اسحاق مدنی

جیسا ہم نے (وہ عذاب) نازل کر رکھا ہے قسما قسمی کر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جیسے کہ ہم نے نازل کیا ان تقسیم کرنے والوں پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم ان کفار پر اس طرح عذاب نازل فرمائیں گے جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے علیحدہ علیحدہ کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

even as We had sent warning to those who had divided their religion into fragments;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(to warn them that We may send down the scourge upon them) as We sent down upon the dividers.

— Muhammad Taqi Usmani

(to warn them that We may send down the scourge upon them) as We sent down upon the dividers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As We have sent down on the Muqtasimin (conspiring confederates),

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such as We send down for those who make division,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Just as We had revealed [scriptures] to the separators

— Saheeh International

(We have given you the Quran) as We had given (the Bible) to those who divided themselves into groups

— Muhammad Sarwar

Like as We sent down on the dividers

— Muhammad Habib Shakir

Even as We sent down on the dividers -

— Abdul Majid Daryabadi

(Of just such wrath) as We sent down on those who divided (Scripture into arbitrary parts),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–93

انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الہٰی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الہٰی کے شکار ہوں گے۔ المستعین سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء ؑ کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کرلیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صلح اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے اسی طرح قرآن میں ہے کہ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں الخ۔ اور جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 88–90

سورة الْحِجْر 51 ”یعنی ان کے اس حال پر نہ کڑھو کہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں، اپنی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں، خود اس راستے پر جا رہے ہیں اور اپنی ساری قوم کو اس پر لیے جا رہے ہیں جس کا یقینی انجام ہلاکت ہے، اور جو شخص انہیں سلامتی کی راہ دکھا رہا ہے اس کی سعی اصلاح کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیے ڈالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–93

خلاصہ تفسیر اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–91

تفسیر آیات 90 تا 91:۔ كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ (90) الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ (91)۔ اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 87 سے ہے یعنی پوری بات یوں ہے کہ ہم نے تمہیں سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح ان لوگوں پر اپنا کلام اتارا تھا جنہوں نے اس کے حصے بخرے کرکے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لیے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب بھی بدل ڈالی اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کرکے اس کے بعض کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے۔ سورة انعام آیت 92 میں ان کی اس شرار کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسرے آسمانی صحیفوں کے لیے لفظ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 90–93

90۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کردیا، اس کے بعض حصے کے شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیر الأولین (پہلوں کی کہانیاں (قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح ؑ کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم کھائی تھی کہ صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کردیں گے (تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ) 27۔ النمل :49) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–91

32: اس سے مراد یہود اور عیسائی ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں کے حصے بخرے اس طرح کئے تھے کہ اس کے جس حکم کو چاہتے مان لیتے اور جس کی چاہتے خلاف ورزی کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 90–93

آیت نمبر 90 تا 93 یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 90–91

4 اس آیت کے معنی کئی طرح کیے گئے ہیں۔ بعض نے کہا کہ " مُقْتَسِمِیْن " (بانٹنے والوں) سے مراد آپ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ وغیرہ ہیں جنہوں نے قرآن کی تقسیم و تحلیل کر رکھی تھی۔ یعنی جو مضمون قرآنی ان کی تحریفات یا آراء و اہواء کے موافق پڑجائے مان لو، جو خلاف ہو نہ مانو۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے " سبع مثانی " اور " قرآن عظیم " دے کر بھیجا جیسے ان لوگوں پر بھی پہلے کتابیں نازل کی تھیں۔ آپ ﷺ پر کتاب اتارنا یا وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں جس کا انکار کیا جائے بعض نے " مُقْتَسِمِیْنَ " سے یہود و نصاریٰ مراد لے کر لفظ قرآن سے کتب سابق مراد لی ہیں۔ یعنی انہوں نے تحریف کر کے اپنی کتابوں کو پارہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 89–90

آیت 89 وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ میری اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو واضح طور پر خبردار کر دوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 88–90

48 مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل :۔ جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرما دی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ جب یہ ہدایت آپ کو اور صحابہ کرام ؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بنا پر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہ ؓ والا سرمایہ بھی ختم ہو رہا تھا۔ اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جو چند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ خاصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 90–91

79۔ (اور بعض ٹکڑوں کو جو اپنی مرضی کے مطابق ہوتے تھے، لے لیتے تھے، اور جن حصوں کو اپنے لیے ناخوشگوار پاتے تھے، ان سے انکار کردیتے تھے) یہ حال شروع شروع میں سب ہی منکرین قرآن کا تھا۔ اس کی صداقت کے وہ سو فیصدی منکر نہ تھے، جن حصوں کو چاہتے مان لیتے اور جسے نہ چاہتے نہ مانتے۔ یہاں انہی کا ذکر ہے کہ بالآخر وہ کیسے پارہ پارہ اور معذب ہو کر رہے۔ آیت اگر مدنی ہے جب تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ صاف منکرین تباہ شدہ وہلاک شدہ کے انجام کی جانب اشارہ ہے۔ لیکن اگر مکی ہے تو مستقبل کا جو واقعہ یقنی طور پر قطعی ہوتا ہے۔ اس کے لیے عربی اسلوب بیان میں ماضی کا صیغہ لانا عام ہے اور قرآن مجید میں اس کی مثالیں ایک آدھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کما انزلنا علی المقتسمین : (ایسا ہی عذاب) جیسا عذاب ہم نے ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے حصے کر رکھے تھے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ الْمُقْتَسِمِیْن سے مراد ہیں : یہودی اور عیسائی۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آیت کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (میں مقتسمین) سے مراد کیا ہے ؟ فرمایا : یہودی اور عیسائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–94

(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 90–91

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ۔۔ : ”الْمُقْتَسِمِيْنَ“ یہ ”قَسْمٌ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، ”تقسیم کرنے والے۔“ قرطبی نے فرمایا : ”عِضِیْنَ“ ”عِضَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کسی چیز کا جز یا ٹکڑا ہے۔ ”عَضَا یَعْضُوْ عَضْوًا الشَّیْءَ“ اور ”عَضّٰی یُعَضِّی الشَّیْءَ“ ”کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔“ ہر ٹکڑا ”عِضَۃٌ“ کہلاتا ہے، اس کے آخر سے واؤ حذف کرکے تاء لائی گئی ہے۔ ”اَلْقُرْاٰنَ“ قرآن مجید کا نام ہے، پہلے انبیاء کی کتابوں کو بھی ”قرآن“ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی پڑھی جاتی تھیں، گویا کتاب اور قرآن کا لفظ سب کے لیے ہے۔ ہمارے قرآن کے لیے عموماً ”ھٰذَا الْقُرْآنُ“ یا ”ذٰلِکَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 89–90

آیت نمبر 89 تا 90 اس کلام میں حذف ہے ؛ یعنی ان انا النذیر المبین عذابا (بےشک میں عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں) پس اس سے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے، جبکہ انذار اس پر دلالت کر رہا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود۔ (فصلت) (میں نے ڈرایا ہے تمہیں اس کڑک سے جو عاد وثمود کی کڑک کی مانند (ہلاکت خیز) ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاف زائدہ ہے، یعنی أنذرتکم ما أنزلنا علی المقتسمین (میں تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں جو ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا) ؛ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : لیس کمثلہ شیئ (الشوریٰ :11) (نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔ دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا : 2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ) 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَمَآ : اس کی مانند جو ] [ انزَلْنَا : ہم نے اتارا ] [ عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ : تقسیم کرنے والوں پر ] نوٹ۔ 1: مقتسمین سے مراد یہود ہیں جنھوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا۔ اس کی بعض باتوں کو مانا اور بعض کو نہ مانا۔ ان کے قرآن سے مراد توراۃ ہے جو ان کو دی گئی تھی جس طرح ہمیں یہ قرآن دیا گیا ہے (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سابقہ امتوں نے اپنی کتابوں کے اجزاء بنا رکھے تھے امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائی تھیں ان لوگوں نے ان کے مختلف اجزاء کرلیے تھے یعنی بعض پر ایمان لاتے تھے بعض کے منکر ہوجاتے تھے اور ان میں تحریف و تبدیل بھی کرتے تھے ان تقسیم کرنے والوں کو (الْمُقْتَسِمِیْنَ ) سے تعبیر فرمایا اور جو کتابیں ان پر نازل ہوئی تھیں ان کو قرآن سے تعبیر کیا لفظ قرآن فعلان کا وزن ہے جو قَرَءَ یَقْرَءَ سے ماخوذ ہے ہر وہ چیز جو پڑھی جائے وہ قرآن ہے یہ اس کا لغوی معنی ہے اور امت حاضر کی اصطلاح میں لفظ قرآن اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کا علم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 33: یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے جس میں مشرکین کی ایک جماعت کی ہلاکت کا ذکر ہے۔ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ (بانٹنے والا) یہ مشرکین مکہ کے حسب ذیل سولہ آدمی تھے جو موسم حج میں مکہ مکرمہ کے دروازوں کو آپس میں تقسیم کر کے ان پر بیٹھ جاتے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو آنحضرت ﷺ سے متنفر اور بظن کرتے تاکہ وہ آپ کے پاس نہ جائیں اور آپ سے قرٓان نہ سن پائیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن ہشام، ابو قیس بن الولید، قیس بن الفاکہ، زہیر بن امیہ، ہلال بن عبدالاسود، سائب بن صیفی، نضر بن ھارث، ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن حجاج، امیہ بن کلف،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–99

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ 90۝ۙ وقوله : كَما أَنْزَلْنا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ [ الحجر/ 90] أي : الذین تَقَاسَمُوا شعب مكّة ليصدّوا عن سبیل اللہ من يريد رسول اللہ «1» ، وقیل : الذین تحالفوا علی كيده عليه الصلاة والسلام «2» . او رآیت کریمہ ؛كَما أَنْزَلْنا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ [ الحجر/ 90] جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا ۔ میں مقتسمین سے وہ لوگ مراد ہیں جو مکہ کی مختلف گھاٹیوں میں بٹ کر بیٹھ گئے تھے ۔ تاکہ نووارد لوگوں کو اسلام سے روکیں اور رسول اللہ تک پہنچنے نہ دیں ۔ بعض کے نزدیک وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ کے خلاف شازش کرنے پر قسمیں کھائی تھیں

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–99

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–91

کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 90۔ 91) (اسی طرح ہم نے اتارا تھا ان تقسیم کرلینے والوں پر۔ جنھوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ ) مقتسمین سے کیا مراد ہے مفسرین نے ان آیتوں کے مختلف مطالب بیان کئے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اشرافِ قریش ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کا راستہ روکنے اور لوگوں کو انحضرت ﷺ سے بدگمان کرنے کے لیے عجیب طریقہ اختیار کیا۔ ولید بن مغیرہ کو اس سازش کا سرغنہ ٹھہرایا گیا۔ اس نے ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی ڈیوٹیاں لگائیں اور ان کو مکہ کی مختلف وادیوں میں پھیلا دیا۔ ممکن ہے یہ انتظام حج کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–93

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورة فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔ ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

90: کَمَآ اَنْزَلْنَا (جیسا کہ ہم نے اتارا) یہ لقد اتیناک کے متعلق ہے۔ ای انزلنا علیک مثل ماانزلنا۔ ہم نے تم پر اتارا اسی طرح جیسا ہم نے اتارا۔ عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ (حصے بانٹنے والوں پر) وہ اہل کتاب ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(90) ” کما انزلنا علی المتقین “ فراء کا قول ہے تمہارا ان کو عذاب سے ڈرانا جائز ہے جیسے ” مقتسمین “ کے عذاب کی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–93

89۔ 91۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول صلعم کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلاً جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورت النحل میں آوے گا۔{ کما انزلنا علی المقتسمین } کی تفسیر میں مفسروں کا بہت اختلاف ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ لوگ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے قرآن کی طرح سے تقسیم کر ڈالی کہ بعض احکام پر اس کے ایمان لائے اور بعض سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 86–93

آیت 86 یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 90–92

75۔ منکریں و مکذبین کے لیے بڑی تنبیہ : سو اس میں یہ تنبہیہ ہے کہ موجودہ دور کے منکرین پر بھی عذاب اسی طرح آسکتا ہے جیسا کہ پہلوں پر آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے ایک ہے۔ اور جس جرم کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا تھا آج اسی کے مرتکب یہ لوگ ہورہے ہیں، پس ان کو سنبھل جانا چاہئے اور اپنی روش بدل لینی چاہیے۔ یہ (کما انزلنا) کی تفسیر کا ایک احتمال ہے۔ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ نے اپنے ترجمہ کے اندراسی کو اختیار فرمایا ہے، جب کہ اس میں دوسرا احتمال جس کو دوسرے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے یہ بھی کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا جس طرح کہ ہم نے اس سے پہلے ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–99

اعلانیہ تبلیغ کا حکم تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 88–91

ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:90) المقتسمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اقتسام (افتعال) سے۔ بانٹ لینے والے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ یعنی اپنی کتابوں کے بعض حصوں کو ماننے والے اور بعض کو نہ ماننے والے۔ بعض کے نزدیک وہ بارہ یا سول اشخاص تھے جن کو ولید بن مغیرہ نے حج کے دنوں میں مکہ کی طرف آنے والے مختلف راستوں اور گھاٹیوں پر متعین کردیتا تھا۔ اور جو باہر سے آنے والوں کو بدظن کیا کرتے تھے کہ خبردار اس شخص کے فریب میں نہ آنا۔ جس نے ہم میں سے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ ان کو المقتسمین اس لیے کہا ہے کہ انہوں نے راستے آپ میں بانٹ رکھے تھے۔ اور یہ لوگ جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے تھے۔ یا جنگ بدر سے قبل ہلاک ہوگئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–93

آنحضرت ﷺ کو نصیحت کرنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسولوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے۔ آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلا جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورة النحل میں آوے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں چونکہ وہ قرآن کریم کے کچھ حصہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا کچھ کے منکر ہوگئے۔ بعض مفسروں (مفسرین) نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 88–90

[30] آیت میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے مگر فی الحقیقت مومنوں کی وہ ابتدائی جماعت مخاطب ہے جو مکہ میں ایمان لائی تھی اور مظلومی و بےسروسامانی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ فرمایا تم دیکھتے ہو کہ مخالفوں کے پاس ہر طرح کی دنیوی آسائشیں ہیں اور تمہارے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ لیکن تم بھولتے ہو، تمہارے پاس بھی ایک چیز ہے جس سے تمہارے مخالف یک قلم تہی دست ہیں اور وہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر یہ نعمت تمہارے پاس موجود ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم مخالفوں کی موجودہ خوش حالیوں کو حسرت و رشک کی نظر سے دیکھو۔ [31] یعنی ان کے اس حال پر دل نہ کڑھاؤ کہ وہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں اور اپنی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–99

(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔ (آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔ مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

90 ۔ ہم نے جس طرح پہلی قوموں پر جو کتب سماویہ میں تفرق کرتے تھے عذاب نازل کیا تھا اسی طرح ان تقسیم کرنے والوں پر بھی عذاب نازل کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

90۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ ﷺ سے پہلے لوگوں پر دین کی باتیں نازل کیں لیکن انہوں نے ان باتوں کو ٹکڑ ٹکڑے کردیا اور آسمانی کتابوں پر دل کھول کر تحریف کی اب اس تحریف کو مٹانے اور ختم کرنے کیلئے آپ پر بھی قرآن کریم نازل کر رہے ہیں تاکہ اس قرآن کریم میں جو ان لوگوں نے سابقہ کتب میں تحریف کی ہے اس کی وضاحت کردی جائے اور اس کی کھلی تردید کردیں ۔ ” المقتسمین “۔ قسم سے ہے اور قسم کے معنی تقسیم کیا ، اس سے قسمۃ جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” اذا حضر القسمۃ “۔ (النساء : 4 : 8) اس جگہ مقسمین سے امام راغب (رح) نے وہ لوگ مراد لئے ہیں جنہوں نے مکہ کی گھاٹیوں میں ایک دوسرے قسمیں کھائی تھیں جیسے نقاسم القوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–93

Commentary Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l 1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–90

51. That is, do not grieve that they consider you as their enemy, though you are their sincere well wisher; that they regard their vices as their virtues; that they are not only themselves following but leading their followers on that way which inevitably leads to destruction. Nay, they are doing their best to oppose the reformative efforts of the one who is showing them the way of peace.

Read the full tafseer →