Explained with ayahs 89–93
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے
حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الہٰی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الہٰی کے شکار ہوں گے۔ المستعین سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء ؑ کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کرلیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صلح اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے اسی طرح قرآن میں ہے کہ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں الخ۔ اور جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
سورة الْحِجْر 51
”یعنی ان کے اس حال پر نہ کڑھو کہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں، اپنی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں، خود اس راستے پر جا رہے ہیں اور اپنی ساری قوم کو اس پر لیے جا رہے ہیں جس کا یقینی انجام ہلاکت ہے، اور جو شخص انہیں سلامتی کی راہ دکھا رہا ہے اس کی سعی اصلاح کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیے ڈالتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…
Read the full tafseer →وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُل۔ یعنی تم ان مغروروں اور سرمستوں کو سنا دو کہ میں تو بس آنے والے عذاب اور خطرے سے ایک کھلا ہوا آگاہ کرنے والا ہوں سو میں نے اپنا فرض انجام دیا اور دے رہا ہوں۔ رہی یہ بات کہ تم نے میری بات سنی یا نہیں سنی تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ خود تم پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 1 یعنی ہم نے سورت فاتحہ اور قرآن عظیم جیسی نعمتیں آپ کو عطا کی ہیں، اس لئے دنیا اور اس کی زینتیں اور ان مختلف قسم کے اہل دنیا کی طرف نہ نظر دوڑائیں جن کو دنیا فانی کی عارضی چیزیں ہم نے دی ہیں اور وہ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں، اس پر غم نہ کھائیں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں، یعنی ان کے لئے نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں۔ اس محاورہ کی اصل یہ ہے کہ جب پرندہ اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کو اپنے بازوؤں یعنی پروں میں لے لیتا ہے۔ یوں یہ ترکیب نرمی، پیار و محبت کا رویہ اپنانے کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
32: اس سے مراد یہود اور عیسائی ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں کے حصے بخرے اس طرح کئے تھے کہ اس کے جس حکم کو چاہتے مان لیتے اور جس کی چاہتے خلاف ورزی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت نمبر 88 تا 89
آنکھیں لمبی نہیں ہوتیں۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15 : 88) “ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو۔ جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ”۔ درحقیقت نظریں پھیلتی اور لمبی ہوتی ہیں لیکن للچائی نظروں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ گویا آنکھیں نکل کر لمبی ہوگئی ہیں۔ تخیل کی یہ تعجب انگیز اور طرب آمیز تصویر کشی ہے۔ مفہوم یہی ہے کہ اے رسول ، ان چیزوں کی طرف توجہ ہی نہ کرو ، ان کو اہمیت ہی نہ دو ، بعض مردوں اور عورتوں اور طبقوں کو جو یہ دولت دی گئی ہے اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے۔
ان چیزوں کو زیادہ اہتمام سے نہ دیکھو۔ ان کو خوبصورت نہ سمجھو ،…
Read the full tafseer →3 یعنی کوئی مانے یا نہ مانے میں خدا کا پیام صاف صاف پہنچائے دیتا ہوں اور تکذیب و شرارت کے عواقب سے خوب کھول کر آگاہ کر رہا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " تیرا کام دل پھیر دینا نہیں، یہ خدا سے ہوسکتا ہے۔ جو کوئی ایمان نہ لائے تو غم نہ کھا۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89 وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ
میری اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو واضح طور پر خبردار کر دوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
48 مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل :۔ جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرما دی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ جب یہ ہدایت آپ کو اور صحابہ کرام ؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بنا پر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہ ؓ والا سرمایہ بھی ختم ہو رہا تھا۔ اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جو چند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ خاصے…
Read the full tafseer →78۔ (تم منکروں کو) ارشاد یہ ہورہا ہے کہ آپ معاند کافروں کے ساتھ اپنا فرض تبلیغی بس ادا کردیجئے، باقی ان کا دل پھیر دینا تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں ذرا سا بھی نہین۔ آگے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →وقل انی انا النذیر المبین اور (کافروں سے) کہہ دو کہ میں واضح طور پر (تم کو اللہ کی نافرمانی اور عذاب سے) ڈرانے والا ہوں ‘ کھول کھول کر واضح دلائل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ تم ایمان نہ لائے تو اللہ کا عذاب تم پر آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔
جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…
Read the full tafseer →وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ : یہاں صرف ڈرانے کا ذکر ہے، خوش خبری کا نہیں، اس لیے کہ بات منکروں کے متعلق ہو رہی ہے۔ ”النذیر المبین“ (کھلم کھلا ڈرانے والا) کی تفسیر میں وہ حدیث عین حسب حال ہے جو ابو موسیٰ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمائی : (إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَی قَوْمًا فَقَالَ یَا قَوْمِ ! إِنِّيْ رَأَیْتُ الْجَیْشَ بِعَیْنَيَّ ، وَإِنِّيْ أَنَا النَّذِیْرُ الْعُرْیَانُ ، فَالنَّجَاءَ ، فَأَطَاعَہُ طَاءِفَۃٌ مِنْ قَوْمِہِ فَأَدْلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلٰی مَہْلِہِمْ فَنَجَوْا، وَ کَذَّبَتْ طَاءِفَۃٌ مِنْھُمْ فَأَصْبَحُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت نمبر 89 تا 90
اس کلام میں حذف ہے ؛ یعنی ان انا النذیر المبین عذابا (بےشک میں عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں) پس اس سے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے، جبکہ انذار اس پر دلالت کر رہا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود۔ (فصلت) (میں نے ڈرایا ہے تمہیں اس کڑک سے جو عاد وثمود کی کڑک کی مانند (ہلاکت خیز) ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاف زائدہ ہے، یعنی أنذرتکم ما أنزلنا علی المقتسمین (میں تمہیں اس سے ڈرانے والا ہوں جو ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا) ؛ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : لیس کمثلہ شیئ (الشوریٰ :11) (نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔
دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا :
2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ)
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…
Read the full tafseer →[وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیں ] [ انىٓ: کہ میں ] [ انا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ : ہی واضح (طور پر ) خبردار کرنے والا ہوں ]
Read the full tafseer →(وَ قُلْ اِنِّیْٓ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ ) (اور آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میرا کام اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچانا اور حکم کی مخالفت پر جو عذاب آئے گا، اس سے ڈرانا ہے میرا ڈرانا واضح ہے کھلم کھلا ہے، جو نہ مانے گا اپنا ہی برا کرے گا۔ قال صاحب الروح ای المنذر الکاشف نزول عذاب اللّٰہ تعالیٰ ونقمۃ المخوفۃ بمن لم یومن صاحب روح المعانی فرماتے ہیں یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نزول سے خوفناک انتقام سے واضح طور پر ڈرانے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
31:۔ یہ تیسری تسلی ہے فرط رحمت و شفقت کی وجہ سے آپ کی خواہش تھی کہ تمام مشرک ایمان لے آئیں دوزخ سے بچ جائیں اس لیے بطور تسلی آپ سے فرمایا کہ آپ مشرکین کے متواتر انکار اور مسلسل عناد کی وجہ سے بھی آپ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ آپ کا کام تبلیغ رسالت ہے جسے آپ نے احسن طریق سے انجام دے دیا ہے اگر وہ نہیں مانتے تو یہ ان کی بدبختی ہے۔ ” وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ “ حیث انھم لم یؤمنوا وکان ﷺ یود ان یومن کل من بعث الیہ و یشق علیہ (علیہ السلام) لمزید شفقتہ بقاء الکفرۃ علی کفرھم (روح ج 14 ص 80) ۔
32:۔ آپ نہ کافروں کی ظاہری شان و شوکت اور دنیوی مال و دولت کی طرف دیکھیں اور نہ ان کے ایمان نہ لانے پر غم کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…
Read the full tafseer →وَقُلْ اِنِّىْٓ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ 89ۚ
النذیر
والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذیر
النذیر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ولقدآتیناک الی قولہ النذیر المبین ان جملوں میں ان کی تیسری بات کا اور بھی رد کرتا ہے کہ وہ اسباب دنیائے فانی پر فخر کر کے اے پیغمبر ! آپ سے کیا تمسخر کرتے ہیں ہم نے آپ کو دولت سرمدیہ عطا کی ہے وہ کیا ؟ سبعًا من المثانی (المثانی تثنیۃ یا ثناء سے مشتق ہے) اس میں مختلف اقوال ہیں مگر جمہور کے نزدیک سورة فاتحہ کی سات آیات مراد ہیں کہ جو نماز میں دوہرائی جاتی ہیں اور جن میں خدا کی ثنائِ وصف بھی ہے اور قرآن عظیم بھی عطا کیا جس کے مقابلہ میں اور کوئی دولت و نعمت نہیں اس لیے لاتمدن ان کے اسباب دنیا اور اس کے تجملات کی طرف اے پیغمبر ! (خطاب گو حضرت ﷺ کی طرف ہے مگر مراد اہل ایمان ہیں) نظر بھی نہ ڈال اور…
Read the full tafseer →وَقُلْ اِنِّیْ ٓ اَنَا النَّذِیْرُالْمُبِیْنُ ۔ (سورۃ الحجر : 89)
(اور کہہ دیجئے ! کہ میں تو بلاشبہ کھلا ڈرانے والا ہوں۔ )
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت شاید قریب آرہا ہے۔ جب کافر اور مسلمان دونوں کے راستے الگ ہوجائیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا ماویٰ وملجا صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہوگی۔ اس لیے یہ حکم دینے کے بعد کہ اب آپ ﷺ کا سایہ رحمت ان پر جھکا رہنا چاہیے، کافروں کے حوالے سے یہ حکم دیا کہ اب آپ صاف صاف ان سے کہہ دیجئے کہ میں نے ہر ممکن طریقے سے تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلایا ہے۔ اپنی ہمت سے بڑھ کر تمہاری دنیا اور آخرت سنوارنے کی کوشش کی لیکن تم نے قدم قدم پر میری مخالفت کی۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورة فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔
ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر…
Read the full tafseer →89: وَقُلْ (اور کہہ دیں) انہیں۔ اِنِّیْ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ ( بیشک میں ہی کھلا ڈرانے والا ہوں) میں تمہیں برہان وبیان سے ڈراتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر اترنے والا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر (89)” وقل انی انا النذیر المبین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
89۔ 91۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول صلعم کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلاً جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورت النحل میں آوے گا۔{ کما انزلنا علی المقتسمین } کی تفسیر میں مفسروں کا بہت اختلاف ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ لوگ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے قرآن کی طرح سے تقسیم کر ڈالی کہ بعض احکام پر اس کے ایمان لائے اور بعض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
آیت 86
یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…
Read the full tafseer →74۔ پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : چناچہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے کھول کر حق اور حقیقت سے۔ اور وہ میں کرچکا۔ آگے اس کو منوالینا اور تم کو راہ راست پر لے آنا نہ میرے ذمے ہے نہ میرے بس میں۔ یہ حق تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ سو پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ ہوتا ہے۔ یعنی پیغام حق پہنچا دینا اور حق کو ان کے سامنے پوری طرح واضح کردینا ہے۔ تاکہ جس نے ماننا ہو وہ مانے اور جو نہ مانے وہ اپنے انجام کو پہنچ کررہے۔ سو دلوں کو پھیر دینا اور حق بات منوا لینا نہ پیغمبر کے بس میں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ تو اللہ پاک کی شان اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
اعلانیہ تبلیغ کا حکم
تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن…
Read the full tafseer →(15:89) النذیر۔ کا مفعول عذاب ہے جو کہ محذوف ہے۔ اور اگلی آیت میں کما انزلنا اس مفعول محذوف کی صفت ہے۔
یعنی میں واضح طور پر تم کو ڈراتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو خدا کا عذاب تم پر نازل ہوگا مثل اس عذاب کے جو ہم نے (ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے) المقتسمین پر نازل کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–99
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99
اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔
تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99
سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
آنحضرت ﷺ کو نصیحت کرنے کا حکم
اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسولوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے۔ آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلا جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورة النحل میں آوے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں چونکہ وہ قرآن کریم کے کچھ حصہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا کچھ کے منکر ہوگئے۔ بعض مفسروں (مفسرین) نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
[30] آیت میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے مگر فی الحقیقت مومنوں کی وہ ابتدائی جماعت مخاطب ہے جو مکہ میں ایمان لائی تھی اور مظلومی و بےسروسامانی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ فرمایا تم دیکھتے ہو کہ مخالفوں کے پاس ہر طرح کی دنیوی آسائشیں ہیں اور تمہارے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ لیکن تم بھولتے ہو، تمہارے پاس بھی ایک چیز ہے جس سے تمہارے مخالف یک قلم تہی دست ہیں اور وہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر یہ نعمت تمہارے پاس موجود ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم مخالفوں کی موجودہ خوش حالیوں کو حسرت و رشک کی نظر سے دیکھو۔
[31] یعنی ان کے اس حال پر دل نہ کڑھاؤ کہ وہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
حضور ﷺ کی سیرت کے دو پہلو :
(ف 3) قرآن حکیم کے جس قدر احکام میں حضور ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے عمل کی یہ تصویر ہے ، اور امت کو ان کے اسوہ کی تلقین کی گئی ہے ۔
اس آیت میں حضور ﷺ کی سیرت کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں ، ایک تو یہ کہ آپ دنیا کے تکلفات پر ریجھے ہوئے نہیں طبیعت میں انتہاء درجہ کا استغا ہے ، اور ایک یہ کہ آپ مسلمانوں کے لئے آیہ رحمت ہیں آپ کے دل میں امت کے لئے شفقت کا بےپناہ جذبہ موجزن ہے ۔
غور فرمائیے ، حضور دعوت عام دے چکے ہیں ، مخالفت کی آگ بھڑک چکی ہے ، لوگوں نے ابو طالب سے کہ اپنے بھتیجے کو سمجھا لو ، ورنہ ہم تم سے بھی تعرض کریں گے ، ابوطالب نے آکر…
Read the full tafseer →89 ۔ اور آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں تم کو کھلے طور پر خدا کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیرا کام دل پھرنا نہیں یہ خدا سے ہوسکتا ہے جو کوئی ایمان نہ لاوے تو تو غم نہ کھا 12 ۔ مدعا یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے وہ کرتے رہیے اور اس کا غم نہ کیجئے کہ لوگ قبول کیوں نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ف 9۔ مراد اس سے سورة فاتحہ ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
آپ ﷺ اعلان کر دیجئے کہ میں تو مکمل طور پر خبردار کرنے والا ہوں :
89۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ اعلان کردیں کہ میں تو انکار و بدعملی کے نتائج سے خبردار کرنے والا ہوں ایسا ڈرنے والا جو کھول کھول کر اور واضح دلائل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ تم ایمان نہ لائے تو یاد رکھو کہ اللہ کا عذاب تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا بالکل اسی طرح جس طرح اس نے پہلی قوموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
Commentary
Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an
That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l
1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–90
51. That is, do not grieve that they consider you as their enemy, though you are their sincere well wisher; that they regard their vices as their virtues; that they are not only themselves following but leading their followers on that way which inevitably leads to destruction. Nay, they are doing their best to oppose the reformative efforts of the one who is showing them the way of peace.
Read the full tafseer →