Al-Hijr 15:88

Al-Hijr · from ayah 88

15:88

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۟لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [certain] categories of the disbelievers, and do not grieve over them. And lower your wing to the believers

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:88

تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم ان چیزوں کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہیں، اور نہ ان لوگوں پر اپنا دل کڑھاؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے اپنی شفقت کا بازو پھیلا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے گروہوں کو (چند روزہ) عیش کے لئے بہرہ مند کیا ہے، اور ان (کی گمراہی) پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے (شفقت و التفات کے) بازو جھکائے رکھئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھا جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے اور نہ ان پر غم کر اور اپنا بازو مومنوں کے لیے جھکادے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو جو سامان حیات دے رکھا ہے ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور نہ ہی ان کے لئے غمزدہ ہوں اور ایمان لانے والوں سے تواضع سے پیش آئیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو جن چیزوں سے بہرہ مند کر رکھا ہے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو اور نہ ان کی حالت پر غم کرو اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کبھی نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے نوازا ہے ان کے مختلف گروہوں کو (دنیائے فانی کی اس زندگی میں) ، اور نہ کبھی غم کھانا ان کے حال پر، اور جھکائے رکھنا اپنے بازوئے (شفقت و عنایت) کو ایمان والوں کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھئے جو ہم نے ان (کافروں کی) مختلف قسموں کو دے رکھی ہیں۔ اور نہ ان لوگوں پر غم کیجیے اور ایمان والوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رکھیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور آپ ان کی حالت پر غم نہ کریں اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دے رکھا ہے اور نہ ان کے حال پر غمزدہ ہوں اور (انہیں چھوڑ کر) ایمان لانے والوں کے لیے تواضع سے پیش آئیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not even cast your eyes towards the worldly goods We have granted to different kinds of people, nor grieve over the state they are in, but turn your loving attention to the believers instead,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Never stretch your eyes towards what We have given to groups of them to enjoy, and do not grieve for them, and be kind to believers in humbleness,

— Muhammad Taqi Usmani

Never stretch your eyes towards what We have given to groups of them to enjoy, and do not grieve for them, and be kind to believers in humbleness,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Look not with your eyes ambitiously at what We have given to certain classes of them, nor grieve over them. And lower your wings to the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Strain not thine eyes toward that which We cause some wedded pairs among them to enjoin, and be not grieved on their account, and lower thy wing (in tenderness) for the believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [certain] categories of the disbelievers, and do not grieve over them. And lower your wing to the believers

— Saheeh International

Do not yearn for other people's property and wives and do not grieve (that they do not believe). Be kind to the believers.

— Muhammad Sarwar

Do not strain your eyes after what We have given certain classes of them to enjoy, and do not grieve for them, and make yourself gentle to the believers.

— Muhammad Habib Shakir

Cast not thine eyes toward that which We have let classes of them to enjoy; and grieve not over them, and lower thy wing unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Strain not thine eyes. (Wistfully) at what We have bestowed on certain classes of them, nor grieve over them: but lower thy wing (in gentleness) to the believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 87–88

قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت اے نبی ﷺ ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لئے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ ہاں تجھے چاہئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ01208) 9۔ التوبہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 88–90

سورة الْحِجْر 51 ”یعنی ان کے اس حال پر نہ کڑھو کہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں، اپنی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں، خود اس راستے پر جا رہے ہیں اور اپنی ساری قوم کو اس پر لیے جا رہے ہیں جس کا یقینی انجام ہلاکت ہے، اور جو شخص انہیں سلامتی کی راہ دکھا رہا ہے اس کی سعی اصلاح کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کیے ڈالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–93

خلاصہ تفسیر اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ لفظ ازاواج طبقات کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مثلاً سورة واقعہ میں ہے " وکنتم ازواجا ثلاثہ " (اور اس وقت تم تین طبقات میں تقسیم ہوگے)۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب خدا نے تمہیں قرآن کی یہ نعمت عظمی دے رکھی ہے جو تمہاری کامیابی وفتحمندی کی ضامن ہے تو تمہیں ان لوگوں کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جو اپنے مال و اسباب کے غرور میں مست ہیں اور تمہاری بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ حقیقت یہاں پیش نظر رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی قوم کے اغنیاء اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 88–89

88۔ 1 یعنی ہم نے سورت فاتحہ اور قرآن عظیم جیسی نعمتیں آپ کو عطا کی ہیں، اس لئے دنیا اور اس کی زینتیں اور ان مختلف قسم کے اہل دنیا کی طرف نہ نظر دوڑائیں جن کو دنیا فانی کی عارضی چیزیں ہم نے دی ہیں اور وہ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں، اس پر غم نہ کھائیں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں، یعنی ان کے لئے نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں۔ اس محاورہ کی اصل یہ ہے کہ جب پرندہ اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کو اپنے بازوؤں یعنی پروں میں لے لیتا ہے۔ یوں یہ ترکیب نرمی، پیار و محبت کا رویہ اپنانے کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–91

32: اس سے مراد یہود اور عیسائی ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں کے حصے بخرے اس طرح کئے تھے کہ اس کے جس حکم کو چاہتے مان لیتے اور جس کی چاہتے خلاف ورزی کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 88–89

آیت نمبر 88 تا 89 آنکھیں لمبی نہیں ہوتیں۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم (15 : 88) “ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو۔ جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ”۔ درحقیقت نظریں پھیلتی اور لمبی ہوتی ہیں لیکن للچائی نظروں کی تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ گویا آنکھیں نکل کر لمبی ہوگئی ہیں۔ تخیل کی یہ تعجب انگیز اور طرب آمیز تصویر کشی ہے۔ مفہوم یہی ہے کہ اے رسول ، ان چیزوں کی طرف توجہ ہی نہ کرو ، ان کو اہمیت ہی نہ دو ، بعض مردوں اور عورتوں اور طبقوں کو جو یہ دولت دی گئی ہے اس کی اہمیت کچھ بھی نہیں ہے۔ ان چیزوں کو زیادہ اہتمام سے نہ دیکھو۔ ان کو خوبصورت نہ سمجھو ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی مشرکین، یہود و نصاریٰ اور دوسرے دشمنان خدا و رسول کو دنیا کی چند روزہ زندگی کا جو سامان دیا ہے اس کی طرف نظر نہ کیجئے کہ ان ملعونوں کو یہ سامان کیوں دے دیا گیا جس سے ان کی شقاوت و شرارت زیادہ بڑھتی ہے یہ دولت مسلمانوں کو ملتی تو اچھے راستہ میں خرچ ہوتی۔ ان کو تھوڑی دیر مزہ اڑا لینے دو ۔ تم کو خدا تعالیٰ نے وہ دولت قرآن دی ہے جس کے آگے سب دولتیں گرد ہیں۔ روایات میں ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن دیا پھر کسی کی اور نعمت دیکھ کر ہوس کرے تو اس نے قرآن کی قدر نہ جانی۔ 2 غم نہ کھا کہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے۔ آپ فرض تبلیغ ادا کرتے رہیں، معاندین کے پیچھے اپنے کو زیادہ فکرو غم میں مبتلا نہ کیجئے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 88 لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ ابوجہل کی دولت و شوکت ‘ ولید بن مغیرہ کے باغات اور ان جیسے دوسرے کافروں کی جاگیریں آپ کو ہرگز متاثر نہ کریں۔ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دنیا و ما فیہا کی حیثیت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ دیتا۔ چناچہ ان کفار کو جو مال و متاع اس دنیا میں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مال و دولت دنیا کو اسی نظر سے دیکھیں۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 88–90

48 مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل :۔ جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرما دی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ جب یہ ہدایت آپ کو اور صحابہ کرام ؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بنا پر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہ ؓ والا سرمایہ بھی ختم ہو رہا تھا۔ اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جو چند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ خاصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ (اور عنقریب ان سے جدا کرلی جائیں گی) یہ چند روزہ عیش (اور وہ بھی تلخیوں سے ملا ہوا) چیز ہی کونسی ایسی ہے، جسے ایک دولت عظیم سمجھا جائے ؟ (آیت) ” متعنابہ “۔ صاف اشارہ ادھر ہوگیا کہ یہ کافر ان نعمتوں کے کہیں مالک تھوڑے ہی کردیئے گئے ہیں، یہ تو سرتاسر عارضی اور فانی چیزیں انہیں مستعار عنایت ہوئی ہیں۔ (آیت) ” ازواجا منھم “ کافروں کی مختلف قسمیں۔ یہود، نصرانی، مجوس، مشرکین، وغیرہا۔ (آیت) ” لاتمدن عینیک “۔ رسول اللہ ﷺ ان ظاہری نعمتوں پر شوق والتفات کی نظریں تو ڈال سکتے ہی نہ تھے۔ البتہ یہ ہوسکتا تھا کہ آپ بغض فی اللہ کے ماتحت غصہ سے نظر فرماتے کہ یہ دشمنان خدا اور ایسی نعمتوں سے لذت یاب ہوں !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم آپ اس چیز کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں جو کہ ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو برتنے کیلئے دی ہے۔ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ آنکھیں اٹھانے سے مراد ہے : لالچ اور رغبت کے ساتھ نظر اٹھا کر دیکھنا۔ ازواج کا معنی ہے : اصناف یعنی قسم قسم کے کافروں کو جو ہم نے دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں ‘ آپ ان کی طرف رغبت اور طمع کی نظر سے نہ دیکھیں۔ آپ کو جو قرآن دیا گیا ہے ‘ اس کے مقابلے میں یہ ساری نعمتیں حقیر ہیں۔ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کا قول نقل کیا ہے کہ اگر اللہ نے کسی کو قرآن عطا فرما دیا ہو اور کسی دوسرے شخص کو دنیا عطا کی ہو اور حامل قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 88–94

(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔ جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ متاع معمولی اور عارضی سازو سامان۔ ”اَزْوَاجًا“ زوج ایک قسم، مثلاً نر اور مادہ میں سے ہر ایک ایک زوج ہے، دونوں ہوں تو ”زَوْجَانِ“ (ایک جوڑا) ہے۔ ان ازواج کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً سرمایہ دار، حاکم، فوجی، زمیندار، کارخانے دار، مذہبی پیشوا وغیرہم، یعنی سبع مثانی اور قرآن عظیم کی دولت رکھتے ہوئے آپ کفار کے مختلف قسم کی دنیاوی نعمتیں رکھنے والوں کی طرف ہرگز نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیے، خصوصاً جب وہ نعمتیں ان کے لیے فتنہ و عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (55) اور سورة…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 88 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : لا تمدن عینیک اس کا معنی ہے : تحقیق میں نے اپ کو غنی کردیا ہے قرآن کریم کے ساتھ ہر اس شی سے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کے ساتھ مستغنی نہیں ہوا یعنی وہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے یہ خیال کیا کہ قرآن کریم میں سے جو کچھ اس کے پاس ہے اس کے ساتھ وہ غنی نہیں ہے یہاں تک کہ اس کی نظر دنیوی زیب و آرائش کی طرف اٹھتی رہی حالانکہ اس کے پاس معارف مولیٰ موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے : یہ اس بارے میں کہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے یہودیوں کے ساتھ قافلے ایک دن میں بصریٰ اور اذرعات سے آئے، اور ان کے پاس گندم، خوشبو، جواہرات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔ دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا : 2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ) 3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا تمدَّنَّ : آپ ﷺ ہرگز دراز مت کریں ] [ عَيْنَيْكَ : اپنی دونوں آنکھوں کو ] [ اِلٰى مَا : اس کی طرف ] [ مَتَّعْنَا : ہم نے برتنے کو دیا ] [ بِهٖٓ: جو ] [ اَزْوَاجًا : کچھ جوڑوں کو ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ وَلَا تَحْزَنْ : اور آپ ﷺ غم مت کھائیں ] [عَلَيْهِمْ : ان (کافروں) پر ] [ وَاخْفِضْ : اور آپ ﷺ نیچا رکھیں ] [ جَنَاحَكَ : اپنے پہلو کو ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ] خض [خَفْضًا : (ض) کسی چیز کو پست کرنا۔] [ اِخْفِضْ فعل امر ہے۔ تو پست کر۔ نیچا رکھ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 88 ۔ ] [خَافِضٌ اسم الفائل ہے۔ پست کرنے والا۔ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ (پست کرنے والی بلند کرنے والی)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل دنیا کے اموال و ازواج کی طرف نظریں نہ پھیلائیں پھر فرمایا (لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ ) (آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ بڑھائیے جو ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے دی ہیں۔ ) یعنی آپ کو جو کتاب اللہ کی نعمت دی گئی ہے وہ بہت بڑی نعمت ہے اس کے سامنے منکرین کے اموال اور زیب وزینت کی کوئی حیثیت نہیں آپ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں بظاہر نبی اکرم ﷺ کو خطاب ہے لیکن حقیقت میں آپ کی امت کو خطاب فرمایا ہے آپ کے توسط سے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم عطا فرمایا ہے اس نعمت کے سامنے دنیاوی اموال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 88–89

31:۔ یہ تیسری تسلی ہے فرط رحمت و شفقت کی وجہ سے آپ کی خواہش تھی کہ تمام مشرک ایمان لے آئیں دوزخ سے بچ جائیں اس لیے بطور تسلی آپ سے فرمایا کہ آپ مشرکین کے متواتر انکار اور مسلسل عناد کی وجہ سے بھی آپ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ آپ کا کام تبلیغ رسالت ہے جسے آپ نے احسن طریق سے انجام دے دیا ہے اگر وہ نہیں مانتے تو یہ ان کی بدبختی ہے۔ ” وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ “ حیث انھم لم یؤمنوا وکان ﷺ یود ان یومن کل من بعث الیہ و یشق علیہ (علیہ السلام) لمزید شفقتہ بقاء الکفرۃ علی کفرھم (روح ج 14 ص 80) ۔ 32:۔ آپ نہ کافروں کی ظاہری شان و شوکت اور دنیوی مال و دولت کی طرف دیکھیں اور نہ ان کے ایمان نہ لانے پر غم کریں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–89

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ (اہل حجر کی تکذیب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ 88؀ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–89

ولقدآتیناک الی قولہ النذیر المبین ان جملوں میں ان کی تیسری بات کا اور بھی رد کرتا ہے کہ وہ اسباب دنیائے فانی پر فخر کر کے اے پیغمبر ! آپ سے کیا تمسخر کرتے ہیں ہم نے آپ کو دولت سرمدیہ عطا کی ہے وہ کیا ؟ سبعًا من المثانی (المثانی تثنیۃ یا ثناء سے مشتق ہے) اس میں مختلف اقوال ہیں مگر جمہور کے نزدیک سورة فاتحہ کی سات آیات مراد ہیں کہ جو نماز میں دوہرائی جاتی ہیں اور جن میں خدا کی ثنائِ وصف بھی ہے اور قرآن عظیم بھی عطا کیا جس کے مقابلہ میں اور کوئی دولت و نعمت نہیں اس لیے لاتمدن ان کے اسباب دنیا اور اس کے تجملات کی طرف اے پیغمبر ! (خطاب گو حضرت ﷺ کی طرف ہے مگر مراد اہل ایمان ہیں) نظر بھی نہ ڈال اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 88) (آپ ﷺ ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے ان کے مختلف طبقوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے اور ان کے حال پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اپنی شفقت کے بازو اہل ایمان پر جھکائے رکھیں۔ ) آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو مزید تسلی دی گئی ہے کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی بہت تلخ انداز میں حالات کی سنگینی کا شکار تھے۔ مشرکینِ مکہ کی اندھی مخالفت نے آپ ﷺ کی زندگی دشوار کردی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 87–88

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی و اطمینان دیتے ہوئے سورة کے اختتام میں گذشتہ تمام مضامین کو سمیٹا جا رہا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ کو منکرین کے ساتھ اس لئے بھی نہیں الجھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سورة الفاتحہ اور قرآن مجید کی صورت میں عظیم دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جس میں منکرین کا انجام اور اللہ کے بندوں کا انعام بیان کیا گیا ہے۔ نبوت کا منصب بذات خود اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ دنیا کا کوئی منصب اور نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مزید انعام و احسان یہ کہ نبوت کے منصب کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس شخصیت کو اپنی کتاب بھی عطا فرما دے۔ صاحب کتاب نبی جسے ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن کی نعمت دنیا کی نعمت سے بےنیاز کرنے والی ہے : 88: لَاتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ (آپ اس چیز کو نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں) اپنی نگاہ کو رغبت کرنے والے کی طرح نہ ڈالو۔ کہ آپ کے دل میں اسکی تمنا ہو۔ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہٖٓٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ (جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے کافروں کو برتنے کیلئے دیا ہے) کفار کی مختلف اصناف جیسے یہود، نصاری، مجوس وغیرہ تمہیں عظیم ترین نعمت ملی جو سب سے بڑی نعمت ہے۔ دوسری نعمتیں خواہ بڑی بھی ہوں وہ اس کے مقابلہ میں حقیر ہیں۔ اور وہ عظیم نعمت قرآن عظیم ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ اس پر استغناء اختیار کرو۔ اور سامان دنیا کی طرف آنکھیں بطور طمع نہ اٹھائو۔ حدیث میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(88)” لا تمدن عینیک “ یعنی اے محمد (ﷺ)” الی ما متعنا بہ ازواجاً “ اس سے مراد جوڑے ہیں۔ ” منھم “ کفار کو جن چیزوں سے نوازا آپ ان کی طرف رغبت اور طمع کی نظر سے نہ دیکھیں۔ ( آپ کو جو قرآن دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں یہ ساری نعمتیں حقیر ہیں) ۔” ولا تحزن علیھم “ تم کو جو کافروں کی طرح دنیا میں عیش و عشرت نہیں ملی اس کی وجہ سے کچھ رنج نہ کرو۔ جہم بن اوس بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابن مریم سے سنا۔ یہ عبداللہ بن رستم کے پاس سے گزرے کہ انہوں نے ابن ابی مریم سے کہا کہ میں آپ کی مجلس میں بیٹھنا چاہتا ہوں اور آپ کی باتیں سننا چاہتا ہوں ، جب یہ چلے گئے تو ابن مریم نے کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–88

87۔ 88۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے خاص اپنے رسول برحق کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ ” ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا اکثر مفسرین نے { سبعا من المثانی } کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے سورت فاتحہ مراد ہے کیونکہ سورت فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دوہرائی جاتی ہے خواہ فرض ہو خواہ نفل اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتداء میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں جن کو مفسروں نے بیان کیا ہے مثلاً اس کی آیتیں دو قسم کی ہیں خدا کی تعریف اور دعا اس لئے بندے اور اس کے رب کے درمیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 86–93

آیت 86 یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 87–88

70۔ (سبع مثانی) سے مقصود و مراد ؟۔ ایک قول کے مطابق (سبع مثانی) سے مراد " سبع طوال " یعنی " سات بڑی سورتیں " ہیں یعنی بقرہ، ال عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف، اور یونس۔ یہ قول ابن مسعود ابن عمر، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ کا ہے۔ پھر اس میں آگے " سبع طوال " کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ چناچہ ایک قول یہ ہے کہ جس کے مطابق ساتویں سورت اس میں سورة توبہ ہے۔ اور انفال اس کے ساتھ شامل ہے۔ دوسرے قول کے مطابق اس میں توبہ کی بجائے سورة یونس شامل ہے بہرکیف (سبع مثانی) سے مراد اس قول کے مطابق یہ سات سورتیں ہیں، جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو نماز وغیرہ میں بار بار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 87–88

اللہ کا بہترین انعام تشریح : اکثر مفسرین اور علمائے کرام سات آیتوں سے مراد سورة فاتحہ لیتے ہیں۔ یہاں اس کا ذکر آنا بذات خود اس کی فضیلت کی نشانی ہے۔ یہ سورت بہترین دعا اور شفاء ہے اسی لیے اس کو امّ القرآن کا درجہ ملا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجموعہ ہے حمدو ثنا، اقرار ربوبیت، اقرار حاکمیت، اقرار توحید اور دعا کا اس سورت کی بیشمار فضیلتیں ہیں اسی لیے نماز پنجگانہ میں چالیس دفعہ پڑھی جاتی ہے اور فرمان رسول بھی ہے جو اپنی نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ (صحیح بخاری) حتی کہ اگر امام کے پیچھے بھی نہ پڑھے تو بھی نماز نہیں ہوتی۔ ( جزء القرأۃ للبہقی) اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 88–91

ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:88) لا تمدن۔ فعل نہی بانون ثقیلہ واحد مذکر حاضر۔ تو لمبا نہ کر۔ تو نظر نہ اٹھا۔ لا تمدن عینیک تو ہرگز آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ۔ مد یمد (باب نصر) المد سے جس کے معنی لمبائی میں کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں۔ جب آنکھوں کے لئے اس کا استعمال ہو تو معنی نظر اٹھانے کے آتے ہیں۔ متعنا بہ۔ ماضی جمع متکلم متع (تفعیل) مال ومتاع دینا۔ متعنا بہ۔ ہم نے جس مال ومتاع سے (ان میں سے بعض کو) نوازا۔ ازواجا۔ اصناقا۔ مختلف اصناف کے لوگ۔ مختلف قسم کے لوگ۔ منہم۔ ای من الکفار کالیھود والنصاریٰ ۔ یعنی کفار میں سے مختلف لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کو جو مال ومتاع ہم نے دے رکھا ہے۔ آیت (20:131) میں بھی انہی معنوں میں یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–99

لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99 اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔ تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99 سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 87–88

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے خاص اپنے رسول ﷺ برحق کو عطا کی ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا۔ اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دہرائی جاتی ہیں خواہ فرض ہو خواہ نفل، اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتدا میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں بہرحال اس نعمت کا بیان کر کے اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اے مسلمانو ! دنیا میں جو اور لوگوں کو مال و دولت حاصل ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو شاید تمہیں اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 88–90

[30] آیت میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے مگر فی الحقیقت مومنوں کی وہ ابتدائی جماعت مخاطب ہے جو مکہ میں ایمان لائی تھی اور مظلومی و بےسروسامانی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ فرمایا تم دیکھتے ہو کہ مخالفوں کے پاس ہر طرح کی دنیوی آسائشیں ہیں اور تمہارے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں۔ لیکن تم بھولتے ہو، تمہارے پاس بھی ایک چیز ہے جس سے تمہارے مخالف یک قلم تہی دست ہیں اور وہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر یہ نعمت تمہارے پاس موجود ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم مخالفوں کی موجودہ خوش حالیوں کو حسرت و رشک کی نظر سے دیکھو۔ [31] یعنی ان کے اس حال پر دل نہ کڑھاؤ کہ وہ اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں اور اپنی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–89

حضور ﷺ کی سیرت کے دو پہلو : (ف 3) قرآن حکیم کے جس قدر احکام میں حضور ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے عمل کی یہ تصویر ہے ، اور امت کو ان کے اسوہ کی تلقین کی گئی ہے ۔ اس آیت میں حضور ﷺ کی سیرت کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں ، ایک تو یہ کہ آپ دنیا کے تکلفات پر ریجھے ہوئے نہیں طبیعت میں انتہاء درجہ کا استغا ہے ، اور ایک یہ کہ آپ مسلمانوں کے لئے آیہ رحمت ہیں آپ کے دل میں امت کے لئے شفقت کا بےپناہ جذبہ موجزن ہے ۔ غور فرمائیے ، حضور دعوت عام دے چکے ہیں ، مخالفت کی آگ بھڑک چکی ہے ، لوگوں نے ابو طالب سے کہ اپنے بھتیجے کو سمجھا لو ، ورنہ ہم تم سے بھی تعرض کریں گے ، ابوطالب نے آکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

88 ۔ اور ہم نے دنیوی زندگی میں کافروں کے مختلف گروہوں کو جو سامان برتنے کے لئے دے رکھا ہے۔ اس پر آرزو مندانہ اور رغبت آمیز نگاہ نہ دوڑایئے اور نگاہ نہ کیجئے اور نہ آپ ان کافروں پر اور ان کی محرومی پر اندوہ غم کیجئے اور اپنے بازو مسلمانوں کے لئے پست رکھیئے۔ نگاہ دراز نہ کیجئے یعنی منکروں کے آرام و آسائش اور ان کے سازو سامان کی جانب نظر نہ کیجئے اور یہ آرزو نہ کیجئے کہ مسلمانوں کو بھی یہ سازو سامان دیا جائے ، مختلف گروہوں سے مراد مشرکین اور یہود و نصاریٰ ہیں ان پر غم نہ کیجئے یعنی آپ کو اس کا غم نہ ہو کہ یہ کیوں مسلمان نہیں ہوتے آپ مسلمانوں کے ساتھ تواضع اور شفقت کا برتائو کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کو ہم نے دنیوی فائدہ سے نوازا ہے انکی طرف آپ نہ دیکھیں : 88۔ یہ چند روزہ عیش اور وہ بھی تلخیوں سے ملی ہوئی کونسی ایسی چیز ہے جسے دولت عظیم سمجھ لیا جائے ؟ نعمت عظمی کیا ہے ؟ سورة الفاتحہ فرمایا اس لازوال اور نہ فنا ہونے والی دولت کے مقابلہ کی کیا قیمت رہ جاتی ہے کہ آپ اس کی طرف نظر التفات کریں جس کے پاس کوہ نور کا ہیرا موجود ہو وہ بھی کبھی کوڑیوں کی طرف دیکھتا ہے خواہ ان کوڑیوں کے ڈھیر ہی کیوں نہ لگے ہوں ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا ہے ” جس شخص کو دولت قرآن کریم بخشی گئی اور اس نے کسی دنیا دار کو دیکھا اور اس کے سیم وزر کو نعمت عظمی یعنی قرآن کریم سے افضل خیال کیا تو اس نے بڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–93

Commentary Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l 1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 88–90

51. That is, do not grieve that they consider you as their enemy, though you are their sincere well wisher; that they regard their vices as their virtues; that they are not only themselves following but leading their followers on that way which inevitably leads to destruction. Nay, they are doing their best to oppose the reformative efforts of the one who is showing them the way of peace.

Read the full tafseer →