Explained with ayahs 87–88
قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت
اے نبی ﷺ ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لئے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ ہاں تجھے چاہئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ01208) 9۔ التوبہ…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 49
یعنی سورة فاتحہ کی آیات۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس سے مراد وہ سات بڑی بڑی سورتیں بھی لی ہیں جن میں دو دو سو آیتیں ہیں، یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف اور یونس، یا انفاق و توبہ۔ لیکن سلف کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے سورة فاتحہ ہی مراد ہے۔ بلکہ امام بخاری نے دو مرفوع روایتیں بھی اس امر کے ثبوت میں پیش کی ہیں کہ خود نبی ﷺ نے سبع من المثانی سے مراد سورة فاتحہ بتائی ہے۔
سورة الْحِجْر 50
یہ بات بھی نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب حضور ﷺ اور آپ کے ساتھی سب کے سب انتہائی خستہ حالی میں مبتلا تھے۔ کار نبوت کی عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…
Read the full tafseer →پیغمبر کے لیے سرمایہ تسکین و تسلی : وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ۔ صبر و استقامت اور درگزر کی تلقین کے لیے سرمایہ تسکین و تسلی اور آخر کار اس کی کامیابی و فتحمندی کی ضامن ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں سات مثانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس روحانی و ملکوتی لشکر کے رکھتے ہوئے تم اپنے دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلے کے لیے اب کسی اور چیز کے محتاج نہیں رہے جس خدا نے اس قرآن عظیم کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے، اس کی طرف سے یہ عہد ہے کہ وہ تم کو ضرور فتحمند کرے گا۔ ان الذی فرض علیک القران لرادک الی معاد۔
" سبع مثانی " سے کیا مراد ہے : یہاں ایک اہم سوال یہ…
Read the full tafseer →87۔ 1 سبع مثانی سے مراد کیا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ یہ سات آیتیں ہیں اور جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں (مثانی کے معنی بار بار دہرانے کے کیئے گئے ہیں (حدیث میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا (اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) یہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں (صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں فرمایا (ام القرآنھی السبع المثانی والقرآن العظیم) سورة فاتحہ قرآن کا ایک جزء ہے اس لیے قرآن عظیم کا ذکر بھی ساتھ ہی کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
31: اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں، غالباً اس موقع پر سورة فاتحہ کا خصوصی حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سورت میں بندوں کو ایاک نعبد وایاک نستعین کے ذریعے ہر بات اللہ سے مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، گویا یہ ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جب کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آئے، اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اسی سے مدد مانگو، اور اسی سے صراط مستقیم پر قائم رہنے کی دعا کرو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 87
۔ یہ سبع مثانی کیا ہیں ؟ راجح بات یہ ہے کہ یہ سورة فاتحہ کی سات آیات ہیں۔ جیسا کہ روایات میں بھی وارد ہے ، مثانی اس لیے کہا گیا ہے کہ نماز میں ان کو بار بار دہرایا جاتا ہے یا ان کو مثانی اس یے کہا گیا کہ ان میں اللہ کی ثنا بیان ہوتی ہے۔ جبکہ قرآن عظیم سے مراد بقیہ قرآن ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں قرآن عظیم کو آیات تخلیق کائنات اور آیات وقوع قیامت کے ساتھ ایک ہی لڑی میں لایا گیا ہے۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تخلیق کائنات ، قیام قیامت اور نزول قرآن اسی ایک سچائی کی کڑیاں ہیں جو اس پوری کائنات کی روح ہے۔ اس طرح قرآن کریم دلوں کو اس عظیم سچائی اور نوامیس قدرت کو سمجھنے…
Read the full tafseer →14 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی یہ اتنی بڑی نعمت تجھ کو عطا ہوئی اور کافروں کی ضد سے خفا نہ ہو " (تنبیہ) " سبع مثانی " کے مصداق میں اختلاف ہے۔ صحیح اور راجح یہ ہی ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں جو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں اور جن کو بطور وظیفہ کے بار بار پڑھا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے تورات، انجیل، زبور، قرآن کسی کتاب میں اس کا مثل نازل نہیں فرمایا۔ احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورة " فاتحہ " کو فرمایا کہ یہ ہی " سبع مثانی " اور قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دیا گیا۔ اس چھوٹی سی سورت کو " قرآن عظیم " (بڑا قرآن) فرمانا درجہ کے اعتبار سے ہے۔ اس…
Read the full tafseer →آیت 87 وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ
اس پر تقریباً تمام امت کا اجماع ہے کہ یہاں سات بار بار دہرائے جانے والی آیات سے مراد سورة الفاتحہ ہے۔ حدیث میں سورة الفاتحہ کو نماز کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے : لَا صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ متفق علیہ یعنی جو شخص نماز میں سورة الفاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں۔ قبل ازیں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران ہم وہ حدیث قدسی بھی پڑھ چکے ہیں جس میں سورة الفاتحہ ہی کو نماز قرار دیا گیا ہے : قَسَمْتُ الصَّلَاۃَ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ رواہ مسلم اب جبکہ ہر نمازی اپنی نماز کی ہر رکعت…
Read the full tafseer →47 سبع المثانی یا قرآن العظیم فضائل سورة فاتحہ :۔ سات بار بار دہرائی جانے والی آیات سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ چناچہ سیدنا سعید بن معلیٰ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے فرمایا : میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھکر ہے اور وہ ہے (اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) وہی سبعا من المثانی اور قرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔ (بخاری، تفسیر سورة فاتحہ، نیز کتاب التفسیر، سورة انفال زیر آیت نمبر 24 (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ…
Read the full tafseer →75۔ (تو جب اتنی بڑی نعمت آپ ﷺ کو مل چکی ہے، تو بس ہمارے ہی لطف و عنایت پر نظر رکھیے، اور کافروں کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہے اسے خیال میں بھی نہ لائیے) سبعا من المثانی “۔ یعنی وہ سات آیتیں جو بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہیں۔ مراد سورة الفاتحہ ہے۔ جو حقیقۃ اپنی عظمت واہمیت خصوصی کے لحاظ سے مستحق اسی کی تھی کہ اس کا ذکر مستقلا بھی کیا جائے، سبع المثانی کی تفسیر سورة الفاتحہ سے حدیث صحیح میں خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید الخدری ؓ کی روایتوں سے اور عینی کی عمدہ القاری میں یہی قول صحابیوں میں حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔
اَلْمَثَانِی ‘ مَثْنَاۃٌ کی جمع ہے اور مَثْنَاۃٌ اسم ظرف ہے۔ یا مُثْنِیَۃٌ کی جمع ہے اور مُثْنِیَۃٌ اسم فاعل ہے ‘ بہرحال اس کا موصوف محذوف ہے ‘ یعنی آیات یا سُوَر (سورتیں) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ‘ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود نے فرمایا : سات مثانی سے مراد ہے : سورة فاتحہ جس کی سات آیات ہیں۔ قتادہ ‘ حسن بصری ‘ عطاء اور سعید بن جبیر کا بھی یہی قول ہے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اُمّ القرآن (سورۂ فاتحہ) سات (آیات) ہیں ‘…
Read the full tafseer →(87) یعنی قرآن کریم کی سورة فاتحہ کی سات آیتیں جو ہر ایک رکعت میں پڑھی جاتی ہیں یا یہ کہ ہم نے ایسا قرآن کریم آپ کو عطا فرمایا کہ وہ پورے کا پورا شافی ہے، چناچہ اس میں امر، نہی، وعد، وعید، حلال، حرام، ناسخ، منسوخ، حقیقت، مجاز محکم، متشابہ، جو ہوچکا اور جو ہوگا اس کی اطلاع ایک قوم کی تعریف اور دوسری قوم کی مذمت تو سارے قرآن کریم میں مضامین بھی مرر اور ہفت ہیں اور قرآن عزیز وعظیم کے ساتھ ہم نے آپ کو اعزاز عطا فرمایا جیسا کہ یہود ونصاری پر توریت وانجیل نازل کی کہ جنہوں نے آسمانی کتابوں کے حصے کر رکھے تھے ،
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ :”الْمَثَانِيْ“ ”ثَنٰی یَثْنِیْ“ (ض) کے اسم مفعول ”مَثْنِیَّۃٌ“ (بروزن مَضْرُوْبَۃٌ، مَرْمِیَّۃٌ) کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا، دوہرانا ہے، یعنی بار بار دہرائی جانے والی۔
کافروں کی زیادتی سے درگزر کی تلقین کے ساتھ اپنی ایک عظیم نعمت سبع مثانی اور قرآن عظیم یاد دلائی، تاکہ اتنی بڑی دولت کا مالک ہونے کے احساس سے کفار سے درگزر میں آسانی رہے۔
سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ : ”لام“ اور ”قَدْ“ کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی عطا فرمائیں۔ یہ آیت اس بات کی بھی بڑی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی ایمان اور عمل واجب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 87
سبع مثانی کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے ؛ پس کہا گیا ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے ؛ یہ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابوہریرہ ، ربیع بن انس، ابو العالیہ اور حسن وغیرہم ؓ نے کہا ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ اسناد کے ساتھ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ کی حدیث سے مروی ہے۔ اور یہ سورة فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ اور امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الحمدللہ ام القرآن، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے۔ ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور یہ نص ہے، اور سورة فاتحہ میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ : اور یقینا ہم نے دی ہیں آپ ﷺ کو ] [ سَبْعًا : سات (آیتیں) ] [ مِّنَ الْمَثَانيْ : دہرائی جانے والیوں میں سے ] [ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ : اور عظیم قرآن ]
نوٹ۔ 3: سبع من المثانی سے کیا مراد ہے، اس ضمن میں مختلف اقوال ملتے ہیں لیکن سلف کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے سورة الفاتحہ ہی مراد ہے اور امام بخاری (رح) نے دو مرفوع روایتیں بھی اس امر کے ثبوت میں پیش کی ہیں کہ خود نبی ﷺ نے سبع من المثانی سے مراد سورة الفاتحہ بتائی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو خطاب کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا فرمایا
جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے وہ دنیا دار تھے اور مالدار تھے کھاتے پیتے لوگ تھے اللہ جل شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو اول تو اپنی ایک بہت بڑی نعمت کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے آپ کو (سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ) عطا کیں اور قرآن عظیم عطا کیا، سبع سات کو کہتے ہیں اور مثانی جمع ہے مثنیٰ کی جو چیز بار بار مذکور ہو اسے مثنیٰ کہتے ہیں یہاں (سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ) سے سورة فاتحہ مراد ہے اس میں سات آیات ہیں جو بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہیں اور (اَلْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ) سے سورة فاتحہ کے علاوہ باقی قرآن مجید مراد ہے اللہ جل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →30:۔ یہ دوسری تسلی ہے۔ ” سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ “ سے سورة فاتحہ مراد ہے اور ” الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ “ کا عطف تفسیری ہے اور اس سے بھی سورة فاتحہ مراد ہے جیسا کہ ایک مرفوع حدیث میں ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ الحمد للہ رب العلمینھی السبع من المثانی والقران العظیم الذی اوتیتہ۔ اخرجہ البخاری (روح ج 14 ص 79) یعنی ہم نے آپ پر سورة فاتحۃ جیسا عظیم الشان انعام فرمایا ہے اس لیے آپ کافروں کی دنیوی ٹھاٹ کی طرف توجہ نہ دیں۔ یا عطف تفسیر کے لیے ہے اور ” القران العظیم “ سے قرا ان مجید مراد ہے۔ ” لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ الخ “ یہ زجر ہے۔ متعلق بما قبل ازواجا ای اصنافا من الکفار کالیھود والنصاریٰ والمجوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ 87
ثنی
الثُّنْوَى والثَّنَاء : ما يذكر في محامد الناس، فيثنی حالا فحالا ذكره، يقال : أثني عليه . وتَثَنَّى في مشیته نحو : تبختر، وسمیت سور القرآن مثاني في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْناكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثانِي [ الحجر/ 87] لأنها تثنی علی مرور الأوقات وتکرّر فلا تدرس ولا تنقطع دروس سائر الأشياء التي تضمحل وتبطل علی مرور الأيام، وعلی ذلک قوله تعالی: اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتاباً مُتَشابِهاً مَثانِيَ [ الزمر/ 23] ، ويصح أنه قيل للقرآن : مثاني، لما يثنی ويتجدّد حالا فحالا من فوائده، كما روي في الخبر في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ولقدآتیناک الی قولہ النذیر المبین ان جملوں میں ان کی تیسری بات کا اور بھی رد کرتا ہے کہ وہ اسباب دنیائے فانی پر فخر کر کے اے پیغمبر ! آپ سے کیا تمسخر کرتے ہیں ہم نے آپ کو دولت سرمدیہ عطا کی ہے وہ کیا ؟ سبعًا من المثانی (المثانی تثنیۃ یا ثناء سے مشتق ہے) اس میں مختلف اقوال ہیں مگر جمہور کے نزدیک سورة فاتحہ کی سات آیات مراد ہیں کہ جو نماز میں دوہرائی جاتی ہیں اور جن میں خدا کی ثنائِ وصف بھی ہے اور قرآن عظیم بھی عطا کیا جس کے مقابلہ میں اور کوئی دولت و نعمت نہیں اس لیے لاتمدن ان کے اسباب دنیا اور اس کے تجملات کی طرف اے پیغمبر ! (خطاب گو حضرت ﷺ کی طرف ہے مگر مراد اہل ایمان ہیں) نظر بھی نہ ڈال اور…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰ تَیْنٰـکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ۔ (سورۃ الحجر : 87)
(ہم نے عطا فرمائی ہیں آپ کو سات آیتیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم بھی۔ )
سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ سے کیا مراد ہے
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس بات سے تسلی دی کہ بظاہر حالات آپ ﷺ یہ دیکھتے ہیں کہ کفر کی سرکشی میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی بےبسی اور مظلومیت بڑھتی جارہی ہے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش میں ایک مقصد حق کے ساتھ وابستگی شامل ہے اور یہی وابستگی اس کی زندگی میں طوالت کا باعث ہے۔ وقتی طور پر باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی و اطمینان دیتے ہوئے سورة کے اختتام میں گذشتہ تمام مضامین کو سمیٹا جا رہا ہے۔
اے پیغمبر ! آپ کو منکرین کے ساتھ اس لئے بھی نہیں الجھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سورة الفاتحہ اور قرآن مجید کی صورت میں عظیم دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جس میں منکرین کا انجام اور اللہ کے بندوں کا انعام بیان کیا گیا ہے۔
نبوت کا منصب بذات خود اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ دنیا کا کوئی منصب اور نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مزید انعام و احسان یہ کہ نبوت کے منصب کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس شخصیت کو اپنی کتاب بھی عطا فرما دے۔ صاحب کتاب نبی جسے ”…
Read the full tafseer →سورة فاتحہ کی عظمت :
87: وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا (بلاشبہ ہم نے آپ کو سات دیں) یعنی سات آیات وہ سورة فاتحہ ہے۔ نمبر 2۔ سات بڑی سورتیں سبع طوال۔ ساتویں میں اختلاف ہے نمبر 1۔ انفال وبراء ت۔ کیونکہ انکاحکم ایک سورت والا ہے اس لئے کہ بسم اللہ درمیان میں نہیں۔
نمبر 2۔ سورة یونس نمبر 3۔ قرآن کے سات حصے مِّنَ الْمَثَانِیْ (مثانی میں سے) یہ تثنیہ سے ہے اور معنی بار بار دھرانا ہے۔ کیونکہ فاتحہ نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہے۔ نمبر 2۔ الثناء سے ہے کیونکہ فاتحہ اللہ تعالیٰ کی ثناء پر مشتمل ہے۔ اس کا واحد مثناۃ ہے یا مثنیۃ ہے۔ یہ آیت کی صفت ہے باقی سورة یا سات اجزاء قرآن تو ان میں قصص ومواعظ، وعدہ، وعید…
Read the full tafseer →(87) ” ولقد اتیناک سبعاً من المثانی “ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ نے مثانی سے مراد سورة فاتحہ لی ہے۔ یہی قول قتادہ، عطائ، حسن اور سعید بن جبیر رحمہم اللہ کا ہے۔
سبع مثانی اور قرآن عظیم کی تفسیر میں مختلف اقوال
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ام القرآن وہ سات آیات ہیں اور مثانی بار بار پڑھی جانے والی ہے۔
” والقرآن العظیم “ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ سبع مثانی سے مراد فاتحۃ الکتاب ہے اور قرآن عظیم ہے۔ سورة فاتحہ کو مثانی کیوں کہتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ، حسن، قتادہ کے نزدیک نماز میں بار بار یعنی ہر رکعت میں اس کو پڑھا جاتا ہے، اس لیے مثانی کہا گیا ہے۔ بعض نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
87۔ 88۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے خاص اپنے رسول برحق کو عطا کی ہیں اس لئے فرمایا کہ ” ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا اکثر مفسرین نے { سبعا من المثانی } کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے سورت فاتحہ مراد ہے کیونکہ سورت فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دوہرائی جاتی ہے خواہ فرض ہو خواہ نفل اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتداء میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں جن کو مفسروں نے بیان کیا ہے مثلاً اس کی آیتیں دو قسم کی ہیں خدا کی تعریف اور دعا اس لئے بندے اور اس کے رب کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
آیت 86
یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
70۔ (سبع مثانی) سے مقصود و مراد ؟۔ ایک قول کے مطابق (سبع مثانی) سے مراد " سبع طوال " یعنی " سات بڑی سورتیں " ہیں یعنی بقرہ، ال عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف، اور یونس۔ یہ قول ابن مسعود ابن عمر، ابن عباس اور مجاہد وغیرہ کا ہے۔ پھر اس میں آگے " سبع طوال " کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ چناچہ ایک قول یہ ہے کہ جس کے مطابق ساتویں سورت اس میں سورة توبہ ہے۔ اور انفال اس کے ساتھ شامل ہے۔ دوسرے قول کے مطابق اس میں توبہ کی بجائے سورة یونس شامل ہے بہرکیف (سبع مثانی) سے مراد اس قول کے مطابق یہ سات سورتیں ہیں، جبکہ دوسرے قول کے مطابق اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو نماز وغیرہ میں بار بار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
اللہ کا بہترین انعام
تشریح : اکثر مفسرین اور علمائے کرام سات آیتوں سے مراد سورة فاتحہ لیتے ہیں۔ یہاں اس کا ذکر آنا بذات خود اس کی فضیلت کی نشانی ہے۔ یہ سورت بہترین دعا اور شفاء ہے اسی لیے اس کو امّ القرآن کا درجہ ملا ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مجموعہ ہے حمدو ثنا، اقرار ربوبیت، اقرار حاکمیت، اقرار توحید اور دعا کا اس سورت کی بیشمار فضیلتیں ہیں اسی لیے نماز پنجگانہ میں چالیس دفعہ پڑھی جاتی ہے اور فرمان رسول بھی ہے جو اپنی نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ (صحیح بخاری) حتی کہ اگر امام کے پیچھے بھی نہ پڑھے تو بھی نماز نہیں ہوتی۔ ( جزء القرأۃ للبہقی)
اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو تسلی دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →ف 6 ” سبع مثانی “ اور ” بڑے قرآن “ سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ ابوسعید بن العلی سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : (الحمد للہ رب العلمین یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا اور یہی اکثر صحابہ اور بعد کے مفسرین کا قول ہے۔ بعض نے سبع طوال یعنی سات لمبی سورتیں (بقرہ تا) العا و توبہ) مراد لی ہیں۔ مگر جب صحیح حدیث میں اس سے سورة فاتحہ مراد ہونے کی تصریح ہے تو کوئی دوسری تفسیر اختیار کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کذافی شو فی۔ اس کی تفسیر میں اور بھی اقوال سقول ہیں۔ (دیکھیے المعانی)
Read the full tafseer →(15:87) مثانی۔ جمع منصوب۔ نکرہ۔ مثنیٰ واحد ثنی یا ثناء مصدر ثنی کا معنی دوہرا کرنا۔ تکرار کرنا۔ اعادہ کرنا۔ چھانٹ لینا۔ اور ثناء کا معنی بار بار کسی کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا۔
یہ مثانی اس لئے ہے کہ نماز میں بار بار اس کی تکرار کی جاتی ہے یا یہ مثانی اس لئے کہ اللہ کی ذات وصفات اور اسماء حسنیٰ کی ثناء ہے اور یہ ثناء بار بار دہرائی جاتی ہے۔ سبعا من المثانی بار بار دوہرائی جانے والی آیات میں سے سات۔
اکثریت کی رائے ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے جس کی سات آیات ہیں اور اس کی تلاوت نہ صرف بہ تکرار ہر نماز میں ہر رکعت میں کی جاتی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اکثر بطور ورد ودعا پڑھی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–99
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99
اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔
تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99
سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر
ان آیتوں میں اللہ پاک نے ان نعمتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے خاص اپنے رسول ﷺ برحق کو عطا کی ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ ہم نے دیں تم کو سات آیتیں وظیفہ کی اور قرآن بڑے درجہ کا عنایت کیا۔ اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں اور ہر نماز میں یہ دہرائی جاتی ہیں خواہ فرض ہو خواہ نفل، اور ہر ختم قرآن میں یہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے ایک ابتدا میں اور پھر ختم کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ اور بھی چند باتیں ہیں بہرحال اس نعمت کا بیان کر کے اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اے مسلمانو ! دنیا میں جو اور لوگوں کو مال و دولت حاصل ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو شاید تمہیں اس کی…
Read the full tafseer →[29] سات آیتوں سے مراد سورة فاتحہ ہے جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) ” سبع مثانی “ کے معانی میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس سے مقصود فاتحہ ہے ، بعض کے نزدیک سات سورتیں ہیں بعض کہتے ہیں اس سے غرض سات مضامین ہیں بعض کہتے ہیں سارا قرآن مقصود ہے مگر قوی قول یہ ہے کہ اس سے مراد فاتحہ ہے ۔ واللہ اعلم ۔
Read the full tafseer →87 ۔ اور بلا شبہ ہم نے آپ کو سات آیتیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں اور نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطا فرمایا ۔ کافروں کی بیجاز یادتیوں کے مقابلہ میں حضرت حق نے اپنا احسان یاد دلایا تا کہ آپ کا غم پہلے اور صدمہ دور ہوسورۂ فاتحہ کو سبع مثالی فرمایا کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور چونکہ قرآن کے تمام مضامین پر مشتمل ہے اور قرآن کا اہم جزو ہے اس لئے اسی کو قرآن عظیم فرمایا ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ نعمت بڑی دیکھ اور کافروں کی ضد سے خفا نہ ہو سات آیتیں وظیفہ کہا سورة فاتحہ کو اور بڑا قرآن بھی اسی کو کہا ہر سورة قرآن ہے یہ سب سے بڑا ہے درجہ میں رسول ﷺ نے فرمایا جسکو اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
ف 9۔ مراد اس سے سورة فاتحہ ہے۔
Read the full tafseer →آپ کو سات دہرائی جانے والی آیتیں اور قرآن عظیم دیا گیا ہے :
87۔ آیت 87 سے سورت کے آخر تک اس سورت کی تمام موعظت و ارشاد کا خلاصہ ہے اور خطاب اگرچہ پیغمبر اسلام سے ہے مگر فی الحقیقت مومنوں کی وہ ابتدائی جماعت مخاطب ہے جو مکہ میں ایمان لائی تھی اور مظلومی وبے سروسامانی کی زندگی بسر کر رہی تھی ، فرمایا تم دیکھتے ہو کہ مخالفوں کے پاس ہر طرح کی دنیوی آسائشیں اور دنیوی طاقتیں ہیں۔ تمہارے پاس ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں لیکن تم بھولتے ہو تمہارے پاس بھی ایک چیز ہے جس سے تمہارے مخالف یک قلم تہی دست ہیں اور وہ اللہ کا کلام ہے ۔ (آیت) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم “۔ پھر جب یہ نعمت تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
Commentary
Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an
That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l
1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…
Read the full tafseer →49. These seven verses which are recited over and over again in every prescribed salat are the verses of Surah Al- Fatihah. Though some of the commentators are of the view that this Al-Mathani, refers to the seven Surahs which contain two hundred or more verses, that is, Surahs 2-7 and (8-9) or 10. But the majority of the early commentators opine that it refers to Al-Fatihah. Imam Bukhari has cited two authentic traditions in support of the view that it refers to Al-Fatihah.
50. The mention of the precious gift of the glorious Quran has been made also to console the Prophet (peace be upon…
Read the full tafseer →