Explained with ayahs 85–86
نبی اکرم ﷺ کو تسلیاں
اللہ نے تمام مخلوق عدل کے ساتھ بنائی ہے، قیامت آنے والی ہے، بروں کو برے بدلے نیکوں کو نیک بدلے ملنے والے ہیں۔ مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لئے ویل دوزخ ہے۔ اور آیت میں ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے ؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایزا اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کرلیجئے۔ جیسے اور آیت میں ہے ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئے انہیں ابھی معلوم ہوجائے…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 48
یعنی خالق ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی مخلوق پر کامل غلبہ و تسلط رکھتا ہے، کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکے۔ اور اس کے ساتھ وہ پوری طرح باخبر بھی ہے، جو کچھ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے تم کر رہے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے اور جن ہتھکنڈوں سے یہ تمہاری سعی اصلاح کو ناکام کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ان کا بھی اسے علم ہے۔ لہٰذا تمہیں گھبرانے اور بےصبر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مطمئن رہو کہ وقت آنے پر ٹھیک ٹھیک انصاف کے مطابق فیصلہ چکا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
خلاصہ تفسیر
قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر
اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…
Read the full tafseer →إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِيمُ۔ یہ دلیل ہے اس بات کی جو اوپر والی آیت میں ارشاد ہوئی ہے کہ قیامت آ کے رہے گی۔ فرمایا کہ تمہارا خداوند خالق بھی ہے اور علیم بھی۔ جس نے یہ ساری دنیا پیدا کی ہے اور برابر پیدا کررہا ہے اس کے لیے لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ازسر نو پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اور وہ علیم بھی ہے، ہر ایک کے ایک ایک قول وفعل سے اچھی طرح باخبر، تو اس کے لیے لوگوں کے اقوال و اعمال کا مواخذہ و محاسبہ بھی کچھ دشوار نہیں۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ جو خالق ہے لازم ہے کہ وہ اپنی خلق سے پوری طرح باخبر بھی ہو الا یعلم من خلق۔ یعنی کیا وہ جس نے سب کو پیدا کیا ان سے بیخبر ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85۔ 1 حق سے مراد وہ فوائد و صالح ہیں جو آسمان و زمین کی پیدائش سے مقصود ہیں۔ یا حق سے مراد محسن (نیکوکار) کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی برائی کا بدلہ دینا ہے۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا ' اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے تاکہ بروں کو ان کی برائیوں کا اور نیکوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے (النجم۔ 31)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
31: اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں، غالباً اس موقع پر سورة فاتحہ کا خصوصی حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سورت میں بندوں کو ایاک نعبد وایاک نستعین کے ذریعے ہر بات اللہ سے مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے، گویا یہ ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ جب کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آئے، اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اسی سے مدد مانگو، اور اسی سے صراط مستقیم پر قائم رہنے کی دعا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
درس نمبر 118 ایک نظر میں
یہ ہیں وہ سنن الٰہیہ جن میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ان نوامیس اور سنن کے مطابق چلتی ہے۔ یہی قوانین و نوامیس کائنات اور زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جماعت اور تحریکات کو بھی یہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے نتائج بھی ان نوامیس الٰہیہ کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ اقوام کا انجام اور آخرت کا حساب و کتاب بھی انہی نوامیس فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سورة کا ہر سبق انہی نوامیس فطرت اور سنت الٰہیہ کے مطابق اختتام پذیر ہوتا ہے اور مختلف اسالیب میں سنن الٰہیہ کو پیش کرتا ہے۔ یہ نوامیس فطرت اللہ کی تمام مخلوقات کے اندر پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے اور فطرت کائنات اسی حق…
Read the full tafseer →13 جس کو تیرے صبر اور ان کی ایذاء کی سب خبر ہے، ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس آیت میں گویا معاد کی تقریر فرما دی، یعنی جس نے ایک مرتبہ پیدا کیا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور جس چیز کے اجزاء منتشر ہوگئے ہوں اس کو ہر جزء کی خبر ہے، جہاں کہیں ہوگا سب کو جمع کردے گا۔ دوسری جگہ فرمایا (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ ) 36 ۔ یس :81)
Read the full tafseer →آیت 86 اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ
وہ جو پیدا کرنے والا ہے اپنی مخلوق کو خوب جانتا بھی ہے۔ سورة الملک میں فرمایا گیا : اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ”کیا اسی کے علم میں نہیں ہوگا جس نے پیدا کیا ؟ بلکہ وہ تو نہایت باریک بین باخبر ہے“۔ کسی مشین کو بنانے والا اس کے تمام کل پرزوں سے خوب واقف ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
46 ان قوموں پر عذاب الٰہی نازل کرکے ان کی بیخ وبن سے اکھاڑ دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا طرز زندگی کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی نہیں تھا بلکہ اوہام پرستی اور باطل پر تھا جبکہ کائنات کی ہر ایک چیز ٹھوس حقائق پر پیدا کی گئی ہے اور انہی حقائق سے یہ دلیل بھی ملتی ہے کہ یہ کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور قائم ہونا چاہیے اور مجرم لوگ تو ہمیشہ روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کے تصور کے منکر رہے ہیں۔ لہذا ان کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اور اب یہ مشرکین مکہ جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں ان کا بھی وہی انجام ہونے والا ہے لہذا ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ…
Read the full tafseer →74۔ (جس کے احاطہ علم سے نہ آپ کا صبر و تحمل باہر رہ سکتا ہے نہ ان معاندین کی شقاوتیں اور شرارتیں) (آیت) ” الخلق “۔ جزو وکل “۔ صغیر وکبیر۔ جو ہر وعرض، سب ہی کا خالق۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی وجود ہو اور وہ وجود اپنی تخلیق میں اس سے بےنیاز ہو۔ اس قسم کے تمام صفات کے اثبات سے ایک مقصود اہل شرک کے شرک فی الصفات کی ترید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →ان ربک ھو الخلق کوئی شبہ نہیں کہ آپ کا رب ہی بہت بڑا خالق ہے ‘ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا اور آپ کے دشمنوں کو بھی۔ اسی کے ہاتھ میں تمام امور ہیں۔
العلیم وہی (نیک و بد اور نیکوکار و بدکار کو) خوب جاننے والا ہے۔ پس ہر ایک کو اس کے اعمال کے موافق جزا و سزا دے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ کو اور آپ کے مخالفوں کو خوب جانتا ہے ‘ لہٰذا آپ کو اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کردینا چاہیے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسی نے آپ کو پیدا کیا ہے اور وہی جانتا ہے کہ آپ کیلئے کیا مناسب اور مفید ہے۔ پس اس وقت درگذر کرنا ہی مناسب ہے ‘ آپ درگذکیجئے۔
Read the full tafseer →(86) آپ کا پروردگار مومن و کافر سب کو قیامت کے دن زندہ کردے گا اور انکے ثواب و عذاب کا وہ بڑا عالم ہے اور ہم نے آپ کو ایک عظیم الشان نعمت دی ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ : تو پھر اس کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (81)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
آیت نمبر 85 تا 86
قولہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق یعنی (ہم نے ہر شے کو) زوال اور فناہ ہونے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یعنی تاکہ میں نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کو جزا اور بدلہ دوں ؛ جیسا کہ ارشاد فرمایا : وللہ ما فی السموت وما فی الارض، لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی۔ (النجم) (اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ بدلہ دے بدکاروں کو ان کے اعمال کا اور بدلہ دے نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا) ۔ وان الساعۃ لاتیۃ بیشک قیامت ہو کر رہنے والی ہے پس ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[ان رَبَّكَ : بیشک آپ ﷺ کا رب ] [ هُوَ الْخَلّٰقُ : ہی خوب تخلیق کرنے والا ہے ] [ الْعَلِيْمُ : جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکمت کے موافق پیدا فرمایا ہے
آیت بالا میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور کچھ ان کے درمیان ہے صرف حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، حق کے ساتھ پیدا فرمانے کا یہ مطلب ہے کہ ان کی پیدائش حکمت کے موافق ہے عبرت کے لیے ہے، ان کی تخلیق میں خالق تعالیٰ شانہٗ کی توحید پر دلائل ہیں اور ان کا وجود معرفت حاصل کرنے کے لیے جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا) (عقل والے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب آپ نے یہ سب بےفائدہ پیدا نہیں فرمایا) صاحب روح المعانی نے ص 77 ج 14 آیت کا مطلب بتاتے ہوئے اس انداز سے بات کی ہے کہ ما سبق سے بھی ارتباط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
29:۔ تخویف دنیوی کے تین نمونے ام سابقہ سے بیان کرنے کے بعد دوسری مختصرف عقلی دلیل کا ذکر فرمایا۔ یعنی ہم نے زمین و آسمان کو اظہار حق اور اثبات توحید کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہماری قدرت کاملہ پر شہادت دے ” وَ اِنَّ السَّاعَةَ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلِ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پہلی تسلی ہے کہ معاندین استہزاء کرتے ہیں تو آپ درگذر فرمائیں استہزاء کا بدلہ ہم ان کو دے دیں گے۔” ھُوَ الْخَلَّاُقُ الْعَلِیْمُ “ الخلاق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنا اس پر کوئی دشوار نہیں اس کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ ساری کائنات کو پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ 86
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
وماخلقنا السموات الی ھو الخلاق العلیم صرف ان قصوں کو سن کر مکہ کے مشرک یہ خیال کرتے ہوں گے (اور منکر بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں) کہ پہلی قوموں کے لیے خدا تعالیٰ نشانیاں دکھلاتا تھا اب کیوں نہیں دکھلاتا اور پھر ان کی سرکشی پر ہلاک کردیتا تھا اب ایسا کیوں نہیں کرتا اور اس پر بہت اصرار کر کے پیغمبر (علیہ السلام) سے تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بس جو کچھ انسان کے لیے سعادت و شقاوت ہے وہ اسی دنیا میں ہے۔ قیامت کیسی اور دار آخرت کیسا ؟ اور اچھا یوں ہے تو پھر دنیا میں منکروں کو کیوں پیدا کرتا ہے اور کیوں ان کو عیش و آرام دیتا ہے ؟ ان چاروں باتوں کا جواب اس آیت کے چاروں جملوں میں کس لطف اور شان…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّکَ ھُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۔ (سورۃ الحجر : 86)
(بیشک تیرا رب وہ بڑا پیدا کرنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔ )
دو اعتراضوں کا جواب
اس آیت میں دو اعتراضوں کا جواب دیا گیا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصدوغایت کے ساتھ کائنات کو پیدا کیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک نہ ایک دن قیامت آئے تاکہ اہل خیر کو خیر کا صلہ ملے اور اہل شر کو شر کی سزا ملے۔ مجرم اپنے جرائم کی سزا کو پہنچیں اور قربانی دینے والے اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں۔ اس پر اعتراض کرنے والوں نے یہ اعتراض کیا کہ آپ ہمیں جس قیامت سے ڈراتے رہتے ہیں اس قیامت کا آنا کیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مجرموں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور قیامت برپا نہیں ہوگی۔ حالانکہ قیامت یقیناً برپا ہو کر رہے گی۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید و رسالت کے بعد جس عقیدہ پر سب سے زیادہ زور دیتے تھے وہ مر کر اٹھنا اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ جسے عرف عام میں فکر آخرت کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ انسان جب آخرت کی جواب دہی کی فکر سے آزاد ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے بلکہ وہ ہر کام میں من مرضی کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ دنیا پرستی اور لذت نفس کی خاطر وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ بالآخر وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا…
Read the full tafseer →86: اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْخَلّٰقُ (بیشک آپ کا رب بہت بڑا خالق ہے) جس نے آپ کو اور ان کو پیدا کیا۔ الْعَلِیْمُ (وہ ہر بات کو جاننے والا ہے) آپ اور ان کی حالت سے باخبر ہے۔ اس پر تمہارے مابین ہونے والے احوال مخفی نہیں۔ وہی تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
Read the full tafseer →(86)” ان ربک ھو الخلاق العلیم “ اپنی مخلوقات کو خوب جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →86۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قیامت ضرور ہونے والی ہے خدا ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے اس کو قیامت کے قائم کرنے پر کامل قدرت ہے کیونکہ وہ کسی چیز کے پیدا کرنے سے نہ پہلی دفعہ عاجز تھا نہ دوسری دفعہ عاجز ہے اس کا علم بہت وسیع ہے دنیا میں کوئی چیز اس سے پنہاں نہیں ہے اپنے اس علم کے موافق وہ سب کچھ دوبارہ پیدا کرے گا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب سب کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے اس جہان کو پیدا کردیا تو جو لوگ دوبارہ پیدا کئے جانے کے منکر ہیں وہ بڑے نادان ہیں 1 ؎ اور اپنی نادانی کے سبب وہ اس باب میں خلاف عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
آیت 86
یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
68۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس کائنات کو مگر حق کے ساتھ۔ اور بڑا اور بنیادی مقصد اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق کا یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اور اس میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کو اور اس کی عظمت شان اور وسعت رحمت کو پہچانے۔ اور دل وجان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور حیات مستعار کی فرصت محدود کو اس کی عبادت و بندگی میں صرف کرکے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ہونے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی دائمی نعمتوں سے سرفراز ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
تخلیق ِکائنات کا مقصد
تشریح : جیسا کہ اس سورت میں جگہ جگہ حکمت اور توازن کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آسمان، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں حق کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں، یعنی یہ تمام کائنات ایک انتہائی موزوں اور بہترین کاریگری کا نمونہ ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اللہ نے یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا ؟ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔ وہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے۔ ہمیں تو بس یہ سوچنا چاہیے کہ اس کو کس طرح خوش کریں کہ ہماری دنیا و آخرت سنور جائے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بندے کو اپنے رب سے پیار ہونا چاہیے۔ جب ہم اس سے پیار کریں گے تو اس کے احکامات کو دل و جان سے مانیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →ف 5 تو پھر اس کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(15:85) اصفح۔ صفح سے امر واحد مذکر حاضر۔ تو درگذر کر۔ تو کنارہ کشی کر ( باب فتح) ۔ الصفح الجمیل۔ ایسی کنارہ کشی، ایسا درگذر کہ اس میں غم وتردّد یا شکوہ شکایت نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86
معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔
تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ قیامت ضرور قائم ہونے والی ہے۔ خدا ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے اس کو قیامت کے قائم کرنے پر کامل قدرت ہے کیونکہ وہ کسی چیز کے پیدا کرنے سے نہ پہلی دفعہ عاجز تھا نہ دوسری دفعہ عاجز ہے۔ اس کا علم بہت وسیع ہے دنیا میں کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →[28] یعنی اس کے احاطہ علم سے نہ تمہارا صبر و تحمل باہر رہ سکتا ہے نہ کفار کی شرارتیں اور شقاوتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(ف 1)
یعنی اس کار گاہ حیات کو کسی مقصد کے ماتحت پیدا کیا گیا ہے ، اور وہ مقصد انسان کی تکمیل ہے ، انسانی جدوجہد کا امتحان ہے ، تقوی وپرہیزگاری کی آزمائش ہے ،
یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا کارخانہ چل رہا ہو ، جس میں لاکھوں قانون کام کر کررہے ہیں ، اور اس کا کوئی مقصد نہ ہو ، انسان کے لئے یہی کافی نہٰں کہ وہ کھائے پئے اور مر جائے ، بلکہ ضروری ہے کہ وہ دنیا میں اپنے اصل موقف کو معلوم کرے ، اپنی اہمیت کو جانے اور اپنے فرائض محسوس کرے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کس سمندر کا قطرہ اور کس کل کا جزو ہے ، وہ کیوں زندہ ہے ، اور اس کی زندگی کو کیونکر مفید و دائمی بنایا جاسکتا ہے ۔
Read the full tafseer →86 ۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار ہی بڑاخالق اور بڑا جاننے والا ہے۔ یعنی سب کو وہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کا حال جاننے والا ہے وہ آپ کے صبر و تحمل کو بھی جانتا ہے اور ان کی ضد اور شرارت کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 7۔ بلکہ اس مصلحت سے پیدا کیا کہ ان کو دیکھ کر صانع کے عالم کے وجود اور وحودت اور عظمت پر استدلال کر کے اس کے احکام کی اطاعت کریں اور بعد اقامت اس حجت کے جو ایسا نہ کرے وہ معذب ہو۔
8۔ درگزر کا مطلب یہ ہے کہ اس غم میں نہ پڑیئے، اس کا خیال نہ کیجئے اور خوبی یہ کہ شکوہ شکایت بھی نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →تمہارا پروردگار ہی سب کا پیدا کرنے والا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے :
86۔ خالق سب کا ایک ہی ہے اگر نیک اس نے پیدا کئے ہیں تو بد بھی اس کی پیدائش ہیں ۔ اچھے اخلاق والے اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں تو بداخلاق بھی کسی اور کی پیدائش نہیں ۔ اگر وہ لوگ ستانے سے باز نہیں آتے اگر اسلام کے خلاف ان کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں تو اے پیغمبر اسلام ! آپ تو بلند اخلاق اور بلند کردار کے مالک ہیں آپ ان سے یہ سمجھ کر درگزر کرتے رہئے کہ یہ ضدی بھی اس کی پیدائش ہیں اور اس کا دیا ہوا رزق کھا رہے ہیں اگر وہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باوجود ان کو رزق دے رہا ہے تو آپ بھی بلند اخلاق ہونے کے باعث درگزر کرتے رہئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
Commentary
Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other.
In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir:
اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً
Madyan and the people of…
Read the full tafseer →48. These attributes of Allah have been mentioned to reassure the Prophet (peace be upon him) as if to say: As Allah is the Creator, He has complete power over all his creatures, and no one is able to escape His punishment. Moreover, He is All-Knowing. He is fully aware that you are exerting your utmost for their reform, and He knows also their evil machinations against your efforts for reform. Therefore, you need not worry on this account, but you should wait patiently and with confidence that at the appropriate time they will be dealt with justly.
Read the full tafseer →