Al-Hijr 15:85

Al-Hijr · from ayah 85

15:85

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ ؕ— وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ ۟وَمَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ‌ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have not created the heavens and earth and that between them except in truth. And indeed, the Hour is coming; so forgive with gracious forgiveness.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:85

ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ ہی پیدا فرمایا ہے، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن وخوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اس کو کسی برحق مقصد کے بغیر پیدا نہیں کیا، اور قیامت کی گھڑی آکر رہے گی۔ لہذا (اے پیغمبر ! ان کافروں کے طرز عمل پر) خوبصورتی کے ساتھ درگزر سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے تو تم اچھی طرح درگزر کرو، ف۹۳)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عبث پیدا نہیں کیا، اور یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، سو (اے اخلاقِ مجسّم!) آپ بڑے حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کرتے رہئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور یقینا قیامت ضرور آنے والی ہے۔ پس درگزر کر، خوبصورت طریقے سے درگزر کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے جو آسمانوں زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے انھیں کسی مصلحت سے ہی پیدا کیا ہے اور قیامت یقینا آنے والی ہے۔ لہذا (اے نبی !) ان کافروں کی بیہودگیوں پر شریفانہ درگزر سے کام لو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے اور بلاشبہ قیامت شدنی ہے تو ان سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان (کی اس عظیم الشان کائنات) کو مگر حق کے ساتھ، اور (فیصلے کی) اس گھڑی نے (اپنے وقت پر) بہرحال آکر رہنا ہے، پس آپ (اے پیغمبر ﷺ شریفانہ درگزر ہی سے کام لیتے رہیں (ان لوگوں کی بیہودگیوں پر) ،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےمقصد نہیں پیدا کردیا ہے اور قیامت ضرور آنے والی ہے پس آپ خوبی کے ساتھ درگزر کیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے نہیں تخلیق کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور یقیناً قیامت آکر رہے گی تو (اے نبی !) آپ ان سے خوبصورتی کے ساتھ در گزر کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ (تدبیر سے پیدا کیا ہے) اور بیشک قیامت تو آنے ہی والی ہے، پس آپ ان کے ساتھ عمدگی سے درگز کریں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have not created the heavens and the earth and all that is in between them except with Truth. Surely the Hour will come. So, (O Muhammad), do graciously overlook them (despite their misdeeds).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not create the heavens and the earth and all that is in between them without a truthful purpose. The Hour is sure to come. Therefore, overlook (their evil behavior) in a gracious manner.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not create the heavens and the earth and all that is in between them without a truthful purpose. The Hour is sure to come. Therefore, overlook (their evil behavior) in a gracious manner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We did not create the heavens and the earth and all that is between them except with the truth, and the Hour is surely coming, so overlook their faults with gracious forgiveness.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We created not the heavens and the earth and all that is between them save with truth, and lo! the Hour is surely coming. So forgive, (O Muhammad), with a gracious forgiveness.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have not created the heavens and earth and that between them except in truth. And indeed, the Hour is coming; so forgive with gracious forgiveness.

— Saheeh International

We have created the heavens and the earth and all that is between them, for a genuine purpose. The Day of Judgment will certainly approach, so (Muhammad) forgive them graciously.

— Muhammad Sarwar

And We did not create the heavens and the earth and what is between them two but in truth; and the hour is most surely coming, so turn away with kindly forgiveness.

— Muhammad Habib Shakir

And We have not created the heaven and the earth and that which is in between them save with a purpose. And verily the Hour is surely coming; so overlook thou with a seemly overlooking,

— Abdul Majid Daryabadi

We created not the heavens, the earth, and all between them, but for just ends. And the Hour is surely coming (when this will be manifest). So overlook (any human faults) with gracious forgiveness.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 85–86

نبی اکرم ﷺ کو تسلیاں اللہ نے تمام مخلوق عدل کے ساتھ بنائی ہے، قیامت آنے والی ہے، بروں کو برے بدلے نیکوں کو نیک بدلے ملنے والے ہیں۔ مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لئے ویل دوزخ ہے۔ اور آیت میں ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے ؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایزا اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کرلیجئے۔ جیسے اور آیت میں ہے ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئے انہیں ابھی معلوم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 47 یہ بات نبی ﷺ کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت بظاہر باطل کا جو غلبہ تم دیکھ رہے ہو اور حق کے راستہ میں جن مشکلات اور مصائب سے تمہیں سابقہ پیش آ رہا ہے، اس سے گھبراؤ نہیں۔ یہ ایک عارضی کیفیت ہے، مستقل اور دائمی حالت نہیں ہے۔ اس لیے زمین و آسمان کا یہ پورا نظام حق پر تعمیر ہوا ہے نہ کہ باطل پر۔ کائنات کی فطرت حق کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے نہ کہ باطل کے ساتھ۔ لہٰذا یہاں اگر قیاس و دوام ہے تو حق کے لیے نہ کہ باطل کے لیے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حواشی 25 – 26 – 35 تا 39)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–86

خلاصہ تفسیر قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خاتمۂ سورة اور پیغمبر کو تسلی : وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلا بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ۔ اب یہاں سے براہ راست پیغمبر ﷺ کی طرف خطاب التفات ہے اور اس کی حیثیت خاتمۂ سورة کی ہے جس نے سورة کے تمام مطالب اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں۔ آپ کو مخاطب کرکے صبرواستقامت اور مخالفوں کی مخالفت سے خوب صورتی کے ساتھ درگزر کرنے کی تلقین فرمائی جا رہی ہے۔ تمہید کلام یوں ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو جو پیدا کیا تو یوں ہی بےمقصد، عبث اور بےغایت نہیں پیدا کیا ہے بلکہ غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ دنیا کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 85–86

85۔ 1 حق سے مراد وہ فوائد و صالح ہیں جو آسمان و زمین کی پیدائش سے مقصود ہیں۔ یا حق سے مراد محسن (نیکوکار) کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی برائی کا بدلہ دینا ہے۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا ' اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے تاکہ بروں کو ان کی برائیوں کا اور نیکوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے (النجم۔ 31)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–85

29: یعنی اس کائنات کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، لہذا آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان کافروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔ 30: درگزر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، مکی زندگی میں ان سے لڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی، اور ان کی طرف سے جو اذیتیں مسلمانوں کو پہنچ رہی تھیں، ان کا بدلہ لینے کا بھی حکم نہیں تھا، در گزر کرنے سے یہ مراد ہے کہ فی الحال ان سے کوئی بدلہ بھی نہ لو، اس طرح مسلمانوں کو تکلیفوں کی بھٹی سے گزار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 85–86

درس نمبر 118 ایک نظر میں یہ ہیں وہ سنن الٰہیہ جن میں تخلف ممکن نہیں ہے۔ یہ کائنات اللہ کے ان نوامیس اور سنن کے مطابق چلتی ہے۔ یہی قوانین و نوامیس کائنات اور زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جماعت اور تحریکات کو بھی یہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے نتائج بھی ان نوامیس الٰہیہ کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ اقوام کا انجام اور آخرت کا حساب و کتاب بھی انہی نوامیس فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس سورة کا ہر سبق انہی نوامیس فطرت اور سنت الٰہیہ کے مطابق اختتام پذیر ہوتا ہے اور مختلف اسالیب میں سنن الٰہیہ کو پیش کرتا ہے۔ یہ نوامیس فطرت اللہ کی تمام مخلوقات کے اندر پائے جاتے ہیں اور یہی حق ہے اور فطرت کائنات اسی حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " پہلی امتوں کا حال سنا کر فرمایا کہ یہ جہاں یوں ہی خالی نہیں پڑا۔ سر پر ایک مدبر ہے۔ ہر چیز کا تدارک کرنے والا، مکمل اور آخری تدارک کا نام قیامت ہے " اور کفار سے کنارہ کرنے کو فرمایا جب خدا کا حکم پہنچا چکے، تبلیغ کا فرض ادا کردیا اور کافر ضد پر اڑا رہے، تب حکم ہوا کہ زیادہ جھگڑنے سے فائدہ نہیں اب وعدہ کی راہ دیکھو اور ان کی تکلیف و ایذا پر صبر کرو، حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ یہاں تک کہ خدا کا فیصلہ پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اس سورة کی آخری پندرہ آیات دعوت دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں آیت 85 وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ یہ کائنات ایک با مقصد تخلیق ہے کوئی کھیل تماشا نہیں۔ ہندو مائتھالوجی کی طرز پر یہ کوئی رام کی لیلا نہیں ہے کہ رام جی جس کو چاہیں راجہ بنا کر تخت پر بٹھا دیں اور جسے چاہیں تخت سے نیچے پٹخ دیں بلکہ یہ کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تخلیق با معنی اور با مقصد ہے۔ اس حقیقت کو سورة آل عمران میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ ”اے ہمارے رب ! تو نے یہ کائنات بےمقصد نہیں بنائی تیری ذات اس سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 85–86

46 ان قوموں پر عذاب الٰہی نازل کرکے ان کی بیخ وبن سے اکھاڑ دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا طرز زندگی کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی نہیں تھا بلکہ اوہام پرستی اور باطل پر تھا جبکہ کائنات کی ہر ایک چیز ٹھوس حقائق پر پیدا کی گئی ہے اور انہی حقائق سے یہ دلیل بھی ملتی ہے کہ یہ کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور قائم ہونا چاہیے اور مجرم لوگ تو ہمیشہ روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کے تصور کے منکر رہے ہیں۔ لہذا ان کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اور اب یہ مشرکین مکہ جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں ان کا بھی وہی انجام ہونے والا ہے لہذا ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ (ان کی شرارتوں سے۔ اور ان کا فیصلہ ہمارے اوپر حشر میں چھوڑے رہیے) اب خطاب درمیان میں پھر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوگیا ہے (آیت) ” وما خلقنا۔۔ بالحق “۔ ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ عقلوں کو دنگ کردینے والا اور دماغوں کو چکر میں لے آنے والا عظیم الشان نظام کائنات، آسمان و زمین، سورج اور چاند، یوں ہی بےمقصد اور خود بخود نہیں، یہ سب ایک حکیمانہ نظم کے ماتحت ایک متعین مقصود کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور وہ منزل آخرت کی ہے جب سب کا حساب کتاب، امتحان یقینی ہے۔ (آیت) ” ان الساعۃ لاتیۃ “۔ یعنی ان سب کے آخری فیصلہ کا دن آرہا ہے، آپ ان کے عناد ومخالفت سے زیادہ غم میں نہ پڑیئے۔ (آیت) ” الصفح الجمیل “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما خلقنا السموات والارض وما بینھما الا بالحق اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کی درمیانی چیزوں کو بغیر مصلحت کے نہیں پیدا کیا۔ یعنی ہم نے آسمان و زمین کی تخلیق حق کے ساتھ کی ہے تاکہ صانع اور اس کی صفات پر اس سے استدلال کیا جاسکے اور منکروں کے خلاف دلیل قائم ہو سکے اور ان کی ” جہالت “ کے عذر کا ازالہ ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ کائنات (ہم نے اس طرح صحیح بنائی ہے کہ یہ) شر و فساد کے مقتضی نہیں ہے بلکہ حکمت تخلیق کا تقاضا ہے کہ ایسے مفسد اور بربادی آفرین لوگوں کو ہلاک کردیا جائے اور ان کی فساد انگیزی کا خاتمہ کردیا جائے۔ وان الساعۃ لاتیۃ اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے۔ اس روز اللہ مشرکوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(85) اور ہم نے تمام مخلوقات اور ان عجائبات کو حق و باطل کے اظہار اور ان کفار پر حجت قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اور قیامت ضرور آنے والی ہے تو آپ خوبی کے ساتھ انھیں معاف کیجیے، یہ آیت، آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : ”بِالْحَقِّ“ کا معنی صحیح، با مقصد کام جو ہو کر رہنے والا ہو، جو بےکار، بےمقصد نہ ہو اور جسے کوئی روک نہ سکے۔ اس کے بالمقابل باطل ہے، فرمایا : (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ) [ الأنبیاء : 18] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں۔“ چار انبیاء کے واقعات کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق آسمان و زمین اور ان کے درمیان بیشمار مخلوقات کی طرف توجہ دلائی، جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت و قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا کہ یہ سب ہم نے بےمقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سب کچھ تمہاری ضروریات کے لیے ہے اور ان میں سے ہر چیز کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–86

آیت نمبر 85 تا 86 قولہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق یعنی (ہم نے ہر شے کو) زوال اور فناہ ہونے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یعنی تاکہ میں نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کو جزا اور بدلہ دوں ؛ جیسا کہ ارشاد فرمایا : وللہ ما فی السموت وما فی الارض، لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی۔ (النجم) (اور اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ وہ بدلہ دے بدکاروں کو ان کے اعمال کا اور بدلہ دے نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں کا) ۔ وان الساعۃ لاتیۃ بیشک قیامت ہو کر رہنے والی ہے پس ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–87

1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا خَلَقْنَا : اور نہیں پیدا کیا ہم نے ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ بَيْنَهُمَآ : ان دونوں کے درمیان ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِالْحَقِّ ۭ : حق کے ساتھ ] [وَان : اور یقینا ] [ السَّاعَةَ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [ لَاٰتِيَةٌ: ضرور آنے والی ہے ] [ فَاصْفَحِ : تو آپ ﷺ نظر انداز کریں ] [ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ : خوبصورت نظر انداز کرنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 85–86

اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حکمت کے موافق پیدا فرمایا ہے آیت بالا میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور کچھ ان کے درمیان ہے صرف حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، حق کے ساتھ پیدا فرمانے کا یہ مطلب ہے کہ ان کی پیدائش حکمت کے موافق ہے عبرت کے لیے ہے، ان کی تخلیق میں خالق تعالیٰ شانہٗ کی توحید پر دلائل ہیں اور ان کا وجود معرفت حاصل کرنے کے لیے جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا) (عقل والے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب آپ نے یہ سب بےفائدہ پیدا نہیں فرمایا) صاحب روح المعانی نے ص 77 ج 14 آیت کا مطلب بتاتے ہوئے اس انداز سے بات کی ہے کہ ما سبق سے بھی ارتباط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–99

تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔ (ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 85–86

29:۔ تخویف دنیوی کے تین نمونے ام سابقہ سے بیان کرنے کے بعد دوسری مختصرف عقلی دلیل کا ذکر فرمایا۔ یعنی ہم نے زمین و آسمان کو اظہار حق اور اثبات توحید کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہماری قدرت کاملہ پر شہادت دے ” وَ اِنَّ السَّاعَةَ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلِ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پہلی تسلی ہے کہ معاندین استہزاء کرتے ہیں تو آپ درگذر فرمائیں استہزاء کا بدلہ ہم ان کو دے دیں گے۔” ھُوَ الْخَلَّاُقُ الْعَلِیْمُ “ الخلاق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنا اس پر کوئی دشوار نہیں اس کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ ساری کائنات کو پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–89

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ (اہل حجر کی تکذیب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ 85؀ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 85–86

وماخلقنا السموات الی ھو الخلاق العلیم صرف ان قصوں کو سن کر مکہ کے مشرک یہ خیال کرتے ہوں گے (اور منکر بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں) کہ پہلی قوموں کے لیے خدا تعالیٰ نشانیاں دکھلاتا تھا اب کیوں نہیں دکھلاتا اور پھر ان کی سرکشی پر ہلاک کردیتا تھا اب ایسا کیوں نہیں کرتا اور اس پر بہت اصرار کر کے پیغمبر (علیہ السلام) سے تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بس جو کچھ انسان کے لیے سعادت و شقاوت ہے وہ اسی دنیا میں ہے۔ قیامت کیسی اور دار آخرت کیسا ؟ اور اچھا یوں ہے تو پھر دنیا میں منکروں کو کیوں پیدا کرتا ہے اور کیوں ان کو عیش و آرام دیتا ہے ؟ ان چاروں باتوں کا جواب اس آیت کے چاروں جملوں میں کس لطف اور شان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلاَّ بِالْحَقِّ ط وَ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰ تِیَۃٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ ۔ (سورۃ الحجر : 85) (اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے غایت کے ساتھ ہی پیدا کیا، بیشک قیامت آنے والی ہے، آپ ان سے خوبصورتی سے درگزر کریں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اب یہاں سے نبی کریم ﷺ کی طرف براہ راست التفات ہے۔ یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ اس کی تمہید یوں اٹھائی جارہی ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کو بےمقصد اور بےغایت پیدا نہیں کیا۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں کہ اس نے محض تفریح کے لیے یہ کائنات پیدا کی ہو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–86

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مجرموں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور قیامت برپا نہیں ہوگی۔ حالانکہ قیامت یقیناً برپا ہو کر رہے گی۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید و رسالت کے بعد جس عقیدہ پر سب سے زیادہ زور دیتے تھے وہ مر کر اٹھنا اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ جسے عرف عام میں فکر آخرت کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ انسان جب آخرت کی جواب دہی کی فکر سے آزاد ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے بلکہ وہ ہر کام میں من مرضی کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ دنیا پرستی اور لذت نفس کی خاطر وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ بالآخر وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخلیق کائنات فضول نہیں : 85: وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ (اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ) مگر ہم نے ان کو حق سے ملا ہوا پیدا کیا۔ بےکار اور فضول نہیں بنایا۔ نمبر 2۔ بدلے کے دن اعمال پر عدل و انصاف کے ساتھ جزاء دینے کیلئے۔ وَاِنَّ السَّاعَۃَ (اور بیشک قیامت) یعنی قیامت جس کی آمد کی توقع ہر گھڑی ہے لَاٰتِیَۃٌ ( ضرورآنے والی ہے) اور بیشک اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں سے اس دن انتقام لے گا۔ اور آپ کو آپ کی نیکیوں پر بدلہ اور ان کو ان کی سیئات پر سزا دے گا۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو اسی بدلے کیلئے پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(85)” وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق وان الساعۃ “ اس سے مراد قیامت ہے۔” لا تیۃ “ اس دن احسان کرنے والے کو احسان کے ساتھ بدلہ دیاجائے گا اور برائی کرنے والے کو برا بدلہ دیاجائے گا۔ ” فا صفع الصفح الجمیل “ آپ ان سے اعراض کریں اور ان سے بدلہ لینے میں جلدی نہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 84–85

آیت 84 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل حجر یعنی صالح کی قوم کے بارے میں آگا فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انہوں نے اپنے رسولوں، یعنی صالح کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک سرول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انہوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انہوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔ (واتینھم ایتنا) اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنہیں صالح لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ (فکانوا عنھا معرضین) ” پس وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 85–86

68۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نہیں پیدا کیا آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس کائنات کو مگر حق کے ساتھ۔ اور بڑا اور بنیادی مقصد اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق کا یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اور اس میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کو اور اس کی عظمت شان اور وسعت رحمت کو پہچانے۔ اور دل وجان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور حیات مستعار کی فرصت محدود کو اس کی عبادت و بندگی میں صرف کرکے اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ہونے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کی دائمی نعمتوں سے سرفراز ہونے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 85–86

تخلیق ِکائنات کا مقصد تشریح : جیسا کہ اس سورت میں جگہ جگہ حکمت اور توازن کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آسمان، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں حق کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں، یعنی یہ تمام کائنات ایک انتہائی موزوں اور بہترین کاریگری کا نمونہ ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اللہ نے یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا ؟ یہ سوچنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔ وہ ہمارا رب ہے اور ہم اس کے بندے۔ ہمیں تو بس یہ سوچنا چاہیے کہ اس کو کس طرح خوش کریں کہ ہماری دنیا و آخرت سنور جائے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بندے کو اپنے رب سے پیار ہونا چاہیے۔ جب ہم اس سے پیار کریں گے تو اس کے احکامات کو دل و جان سے مانیں گے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی یہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ صبر اور درگزر سے کام لیجیے وقت آنے پر ان کو ضرور بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 85–86

(15:85) اصفح۔ صفح سے امر واحد مذکر حاضر۔ تو درگذر کر۔ تو کنارہ کشی کر ( باب فتح) ۔ الصفح الجمیل۔ ایسی کنارہ کشی، ایسا درگذر کہ اس میں غم وتردّد یا شکوہ شکایت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–86

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86 معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–85

اس آیت کے ٹکڑے کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کی تباہی کے قصے سنا کر ان مشرکین مکہ کو تنبیہ کردی گئی ہے۔ اس پر بھی یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں تو ضعف اسلام کے زمانے تک درگزر کو کام میں لایا جاوے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–86

(ف 1) یعنی اس کار گاہ حیات کو کسی مقصد کے ماتحت پیدا کیا گیا ہے ، اور وہ مقصد انسان کی تکمیل ہے ، انسانی جدوجہد کا امتحان ہے ، تقوی وپرہیزگاری کی آزمائش ہے ، یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا کارخانہ چل رہا ہو ، جس میں لاکھوں قانون کام کر کررہے ہیں ، اور اس کا کوئی مقصد نہ ہو ، انسان کے لئے یہی کافی نہٰں کہ وہ کھائے پئے اور مر جائے ، بلکہ ضروری ہے کہ وہ دنیا میں اپنے اصل موقف کو معلوم کرے ، اپنی اہمیت کو جانے اور اپنے فرائض محسوس کرے ، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کس سمندر کا قطرہ اور کس کل کا جزو ہے ، وہ کیوں زندہ ہے ، اور اس کی زندگی کو کیونکر مفید و دائمی بنایا جاسکتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

85 ۔ اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ اس کے مابین ہے بغیر کسی حکمت و مصلحت اور تدبیر کے نہیں پیدا کیا اور یقینا قیامت آنے والی ہے آپ خوبی اور سنجیدگی کے ساتھ ان کافروں کو در گزر کیجئے اور ان سے کنارہ کیجئے یہ تسلی کے طور پر فرمایا کہ قیامت آنے والی ہے۔ وہاں ان نافرمانوں کو پورا پورا بدلہ ملے گا آپ ان سے عفو و صفح کا معاملہ کیجئے۔ صفح جمیل یہ کہ کنارا کرنے میں کوئی خوف و گھبراہٹ نہ ہو شکایت و شکوہ نہ ہو اور انتقام کی سعی اور کوشش نہ ہو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلی امتوں کا حال سنا کر فرمایا کہ یہ جہان خالی نہیں سر پر ایک مدبر ہے۔ ہر چیز کا تدراک کرنے والا پورا تدراک آخر کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–86

ف 7۔ بلکہ اس مصلحت سے پیدا کیا کہ ان کو دیکھ کر صانع کے عالم کے وجود اور وحودت اور عظمت پر استدلال کر کے اس کے احکام کی اطاعت کریں اور بعد اقامت اس حجت کے جو ایسا نہ کرے وہ معذب ہو۔ 8۔ درگزر کا مطلب یہ ہے کہ اس غم میں نہ پڑیئے، اس کا خیال نہ کیجئے اور خوبی یہ کہ شکوہ شکایت بھی نہ کیجئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے آسمان و زمین کو بیکار نہیں بنایا قیامت یقینی ہے آپ ﷺ خوبی سے وقت پاس کیجئے : 85۔ اے پیغمبر اسلام گزشتہ سرگزشتیں آپ کو اس لئے سنائی گئیں ہیں کہ میں وہی اللہ ہوں جو پہلی قوموں کا تھا اور ایسا نہیں کہ ان کے ساتھ مجھے کچھ بیر تھا اور ان لوگوں کی محبت میں ریجھ گیا ہوں ؟ نہیں جس طرح وہ میرے بندے تھے یہ بھی ہیں ان کی شرارتوں کا نتیجہ ان کو مل گیا اور یہ لوگ جو شرارتیں کر رہے ہیں ان کو ہم جانتے ہیں اور ہم نے آسمان و زمین میں کوئی چیز بھی ناحق اور بیکار پیدا نہیں کی غور کرو کہ یہ عقلوں کو دنگ کردینے والا اور دماغوں کو چکرا دینے والا یہ نظام معمولی نظام نہیں بلکہ ایک شاندار نظام کائنات ہے ‘ آسمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–86

Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47. This was to reassure the Prophet (peace be upon him) that ultimately he would come out successful because he was propagating the truth, and the entire universe was based on truth. Such an assurance was urgently needed because at that time falsehood appeared to be triumphant over the truth. This implies: O Prophet, do not worry at all at the apparent success of falsehood for this is temporary. Likewise the difficulties, the obstacles and the troubles in the way of truth are not permanent. Take courage, and have confidence in the cause of the truth and you will triumph over falsehood…

Read the full tafseer →