Explained with ayahs 80–84
آل ثمود کی تباہیاں
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے حضرت صالح ؑ کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت حضرت صالح ؑ نے فرمایا بس اب تین دن کے اندر اندر قہرے الہی نازل ہوگا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ان…
Read the full tafseer →سورة الْحِجْر 46
یعنی ان کے سنگین مکانات جو انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر بنائے تھے ان کی کچھ بھی حفاظت نہ کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
خلاصہ تفسیر
قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر
اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
تفسیر آیات 83 تا 84: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ (83) فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (84)۔ یعنی بالآخر وہی ہوا جس سے پیغمبر نے ان کو ڈرایا تھا یعنی ایک دن عذاب الٰہی ان پر آ دھمکا اور اس نے ان کے سارے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آسکی۔ ان پر نازل ہونے والے عذاب کو یہاں " صیحۃ " سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اوپر بھی اشارہ کر آئے ہیں، یہ ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ان کے لیے ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
83۔ 1 حضرت صالح ؑ نے انھیں کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا، چناچہ چوتھے روز ان پر یہ عذاب آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
29: یعنی اس کائنات کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، لہذا آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان کافروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔
30: درگزر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، مکی زندگی میں ان سے لڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی، اور ان کی طرف سے جو اذیتیں مسلمانوں کو پہنچ رہی تھیں، ان کا بدلہ لینے کا بھی حکم نہیں تھا، در گزر کرنے سے یہ مراد ہے کہ فی الحال ان سے کوئی بدلہ بھی نہ لو، اس طرح مسلمانوں کو تکلیفوں کی بھٹی سے گزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
11 یعنی مال و دولت، مستحکم عمارات، جسمانی قوت اور دوسرے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی خدا کے عذاب کو دفع نہ کرسکی۔ ان کا قصہ بھی پہلے گزر چکا۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تبوک جاتے ہوئے " وادی حجر " پر سے گزرے۔ آپ نے سر ڈھانپ لیا۔ سواری کی رفتار تیز کردی اور صحابہ کو فرمایا کہ معذب قوم کی بستیوں پر مت داخل ہونا مگر (خدا کے خوف سے) روتے ہوئے اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی صورت بنالو۔ خدا نہ کرے وہ چیز تم کو پہنچے جو ان کو پہنچی تھی۔ یہ آپ نے مسلمانوں کو ادب سکھلایا کہ آدمی اس قسم کے مقامات میں پہنچ کر عبرت حاصل کرے اور خدا کے خوف سے لرزاں و ترساں ہو، محض سیرو تماشا نہ سمجھے۔
Read the full tafseer →آیت 84 فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ
وہ خوشحال قوم تھی مگر انہوں نے جو مال و اسباب جمع کر رکھا تھا وہ انہیں عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے کچھ بھی مفید ثابت نہ ہوسکا۔
اس سورة مبارکہ میں اب تک تین رسولوں کا ذکر ”انباء الرسل“ کے انداز میں ہوا ہے۔ ان میں سے حضرت شعیب اور حضرت صالح کا نام لیے بغیر ان کی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ حضرت لوط کا ذکر نام لے کر کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم کا ذکر یہاں بھی قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح سورة ہود میں آیا تھا۔
Read the full tafseer →45 قوم ثمود کی تباہ شدہ بستیاں :۔ ان پر جو عذاب الٰہی نازل ہوا وہ ایک زبردست قسم کی دہشت ناک آواز تھی ان کے مکان جو باقی ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات سے مامون تھے اس عذاب کے لیے کچھ بھی کارآمد ثابت نہ ہوسکے۔ اللہ نے ان پر عذاب ہی ایسا بھیجا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا۔ اور اس کے مقابلہ میں ان کی کوئی تدبیر بھی کارگر نہ ہوسکتی تھی۔ چناچہ وہ اپنے گھروں میں ہی مرگئے اور وہیں گلتے سڑتے رہے۔ ان کا علاقہ اس راستہ پر پڑتا ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے اور ان کے بہت سے آثار طویل مدت تک دوسروں کے لیے باعث عبرت بنے رہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے :
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →72۔ یعنی ان کے دنیوی علوم وفنون، ان کی ہنر مندی اور صناعیاں، ان کی ہندسہ دانی اور انجینئری، کوئی چیز بھی انہیں خدائی قانون کی گرفت سے پناہ نہ دے سکی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون سو ان کے (دنیوی) ہنر ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے۔ یعنی مضبوط مکانوں کی تعمیر اور مال کی فراوانی اور تعداد کی کثرت ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔ ہم نے سورة توبہ میں غزوۂ تبوک کے بیان کے سلسلہ میں لکھ دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تبوک کو جاتے ہوئے حجر میں سے گذرے تھے اور صحابہ سے فرمایا تھا : جن لوگوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا ‘ تم ان کے گھروں میں اور بستی میں داخل ہو تو روتے ہوئے جانا۔ کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت اونٹنی پر سوار تھے ‘ چادر سے منہ چھپا کر تیزی کے ساتھ اونٹنی کو دوڑاتے ہوئے وادی سے گزر گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(83۔ 84) سو ان کو صبح کے وقت ان پر عذاب خداوندی نازل ہوا اور ان کے قول و فعل اور غیر اللہ کی پرستش عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
آیت نمبر 82 تا 84
کلام عرب میں النحت کا معنی تراشنا اور چھیلنا ہے۔ نحتہ ینحتہ (یہ عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ ہے) نحتا یعنی اس نے اسے تراشا۔ اور النحاتۃ کا معنی البرایۃ (تراشنا) ہے۔ اور المنحت سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ کھودا اور تراشا جاتا ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے اتعبدون ما تنحتون۔ (الصافات) (یعنی کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود تراشتے اور بناتے ہو) ۔ پس وہ اپنی شدید قوت کے ساتھ اپنے لئے پہاڑوں میں اپنے گھر بناتے تھے۔ امنین یعنی وہ ان کے ان پر گرنے سے یا خراب ہونے سے پرامن اور بےخوف و خطر رہتے تھے۔ فاخذتھم الصیحۃ مصبحین یعنی صبح کے وقت انہیں ایک خوفناک چنگھاڑنے پکڑ لیا، اور مصبحین حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[فَمَآ اَغْنٰى: پھر کام نہ آیا ] [ عَنْهُمْ : ان کے ] [ مَا : وہ جو ] [ كَانوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ لوگ کماتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب
ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر
قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →28:۔ ” مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ “ سے شرک اور اعمال مشرکانہ (معبودان باطلہ کو پکارنا وغیرہ) اور افعال خبیثہ مراد ہیں۔ ” مَا کَانُوْا یکسبون من الشرک والاعمال الخببیثة “ (معالم و خازن ج 4 ص 72) یعنی جب ہمارا عذاب آگیا تو غیر اللہ کی پکار سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور نہ ان کے مزعونہ کارسازوں نے ان کی مدد اور دستگیری کی مشرکین مکہ ! تمہارا بھی یہی حشر ہوگا اور جن کو تم نے خدا کے سوا کارساز اور متصرف سمجھ رکھا ہے آڑے وقت میں ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہیں آئے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ مثلاً ” فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…
Read the full tafseer →فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 84ۭ
كسب ( عمل رزق)
الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی:
أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُصْبِحِیْنَ ۔ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔
(سورۃ الحجر : 83۔ 84)
(پس پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک چنگھاڑ نے، جب وہ صبح اٹھ رہے تھے۔ پس ان کے کام نہ آیا جو کچھ وہ کررہے تھے۔ )
مضبوط مکان بھی انھیں نہ بچا سکے
انھیں اپنے پہاڑوں میں تراشیدہ مکانوں پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ کسی حادثے کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھے۔ نہایت بےخوف زندگی گزار رہے تھے کہ دنیا کا کوئی خطرہ ہمارے لیے خطرہ نہیں ہوسکتا کہ اچانک انھیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ عذاب چاہے زلزلے کی صورت میں آئے یا تیز آندھی کی شکل میں، ہمیشہ ایک چنگھاڑ ضرور سنائی دیتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔
اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ…
Read the full tafseer →84: فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (نہ ان کو کام دیا ان کے کسی ہنر نے) مضبوط مکانوں کی تعمیر اور نفیس اموال کو جمع کرنے نے۔
Read the full tafseer →(84)” فما اغنی عنھم ما کانو ایکسبون “ شرک اور برے اعمال ان کو اس عذاب سے نجات نہ دلا سکے۔ سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے حجر میں سے گزر رہے تھے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے فرمایا تھا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان کی بستی میں داخل ہو تو وہ روتے ہوئے جانا کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا۔ حضور ﷺ اس وقت اونٹنی پر سوار تھے، چادر سے منہ چھپا کر تیزی کے ساتھ اونٹنی کو دوڑاتے ہوئے وادی سے گزر گئے۔ یہ قول عبدالرزاق نے معمر رحمہما اللہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–85
73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
آیت 84
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل حجر یعنی صالح کی قوم کے بارے میں آگا فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انہوں نے اپنے رسولوں، یعنی صالح کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک سرول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انہوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انہوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔ (واتینھم ایتنا) اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنہیں صالح لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ (فکانوا عنھا معرضین) ” پس وہ…
Read the full tafseer →67۔ محض مادی ترقی عذاب الہی سے نہیں بچا سکتی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے کچھ کام نہ آسکی ان کی زندگی بھر کی کمائی عذاب الہی اور اس کی گرفت سے چھڑانے کے سلسلے میں۔ پس مادی ترقی کو سب کچھ سمجھ لینا اور اسی پر مست ومگن ہوجانا دراصل پیش خیمہ ہوتا ہے بڑی ہولناک تباہی اور خوفناک انجام کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ اصل چیز جس پر سب دارومدار ہے وہ ایمان و عقیدہ کی دولت اور عمل و کردار کی وہ پونجی ہے جس پر فرد وملت سب کی صلاح و فلاح کا مدارو انحصار ہے۔ جو کہ موقوف ومنحصر ہے نوروحی و ہدایت پر۔ بہرکیف اس بدبخت قوم پر اس کی تکذیب وانکار کے نتیجے میں آخرکار ہولنا اور تباہ کن عذاب آکر رہا جس سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
ف 3 ان پر عذاب کی تفصیل کے لئے دیکھتے اعراف رکوع 10 سورة ہود رکوع 7
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
(15:83) الصیحۃ۔ ملاحظہ ہو۔ 15:73 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86
معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔
تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
اس آیت کے ٹکڑے کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کی تباہی کے قصے سنا کر ان مشرکین مکہ کو تنبیہ کردی گئی ہے۔ اس پر بھی یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں تو ضعف اسلام کے زمانے تک درگزر کو کام میں لایا جاوے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔
[26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(ف 3) اصحاب الحجر ، قوم ثمود کا نام ہے ، ان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہو کر آئے ، یہ قوم خوشحال تھی پہاڑوں میں رہتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) سے انہیں سخت عناد تھا ، یہی وجہ ہے باوجود منع کرنے کے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ذبح کردیا ، جس کا نتیجہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ۔
دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی ، ان کے گناہ حد اعتدال سے تجاوز کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔
حل لغات : لبامام : راستہ ۔ طریق ۔
Read the full tafseer →84 ۔ سورة اعمال اور ان کی کاریگری جو وہ مکان بنانے میں کیا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئی۔ یعنی چنگھاڑ کو پہاڑ کیا روکتے سب کو برابرکر دیا گیا اور وہ ان کا ہنر عذاب الٰہی کو نہ روک سکا۔
Read the full tafseer →ف 6۔ ان ہی مستحکم گھروں میں عذاب سے کام تمام ہوگیا، اس آفت سے ان کے گھروں نے نہ بچا لیا، بلکہ اس آفت کا ان کو احتمال بھی نہ تھا اور اگر ہوتا بھی تو کیا کرتے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا :
84۔ انہوں نے کن کن چیزوں کو اپنے لئے پناہ گاہ ٹھہرایا تھا اور وہ باپ دادا سے لے کر کن کن بزرگوں کی عبادت کرتے چلے آرہے تھے اور کون کون ان کا حاجت روا اور مشکل کشا تھا اور ان کو جن گھروں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی نہ پہاڑ کھود کر بنائے گئے تہ خانے اور نہ فلک بوس عمارتیں اور مضبوط قلعے اور پناہ گاہیں جو انہوں نے تعمیر کر رکھی تھیں جب اللہ کا عذاب آدھمکا تو سب کو نابود کرکے رکھ دیا اور ان کو کہیں بھی پناہ نہ مل سکی گویا ان کی دنیوی علوم وفنون اور ان کی ساری ہنرمندیاں اور صناعیاں ‘ ان کی ہندسہ دانی اور انجینری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
Commentary
Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other.
In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir:
اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً
Madyan and the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–84
46. That is, their strong and secure buildings, which they had hewed into the mountains, could not protect them from the blast.
Read the full tafseer →