Al-Hijr 15:83

Al-Hijr · from ayah 83

15:83

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَ ۟ۙفَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَۙ‏

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But the shriek seized them at early morning.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:83

آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آ لیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا

— مولانا محمد جوناگڑہی

آخر انہیں صبح صبح ایک چنگھاڑ نے آپکڑا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہیں صبح ہوتے چنگھاڑ نے آلیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو انہیں (بھی) صبح کرتے ہی خوفناک کڑک نے آپکڑا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس انھیں صبح ہوتے ہی چیخ نے پکڑ لیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ صبح کے وقت انھیں زبردست دھماکہ نے آلیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ان کو صبح تڑکے ہماری ڈانٹ نے آپکڑا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار (تکذیب حق کی پاداش میں) آپکڑا ان کو صبح ہوتے ہی ایک ہولناک آواز نے،

— مولانا اسحاق مدنی

سو ان کو صبح کے وقت آواز سخت نے آپکڑا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہیں آپکڑا ایک چنگھاڑ نے صبح کے وقت

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو چیخ نے صبح ہوتے ہوتے ان کو آپکڑا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then the Blast caught them in the morning

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, the Cry seized them by the morning.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, the Cry seized them by the morning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But the Sayhah (torment - awful cry) overtook them in the early morning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But the (Awful) Cry overtook them at the morning hour,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But the shriek seized them at early morning.

— Saheeh International

An explosion struck them in the morning.

— Muhammad Sarwar

So the rumbling overtook them in the morning;

— Muhammad Habib Shakir

Then the shout took hold of them in the early morn.

— Abdul Majid Daryabadi

But the (mighty) Blast seized them of a morning,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–84

آل ثمود کی تباہیاں حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے حضرت صالح ؑ کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت حضرت صالح ؑ نے فرمایا بس اب تین دن کے اندر اندر قہرے الہی نازل ہوگا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–83

سورة الْحِجْر 45 یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–86

خلاصہ تفسیر قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 83–84

تفسیر آیات 83 تا 84: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ (83) فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (84)۔ یعنی بالآخر وہی ہوا جس سے پیغمبر نے ان کو ڈرایا تھا یعنی ایک دن عذاب الٰہی ان پر آ دھمکا اور اس نے ان کے سارے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آسکی۔ ان پر نازل ہونے والے عذاب کو یہاں " صیحۃ " سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی ڈانٹ اور چیخ کے ہیں۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اوپر بھی اشارہ کر آئے ہیں، یہ ہے کہ ثمود پر اللہ تعالیٰ نے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ان کے لیے ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 83–84

83۔ 1 حضرت صالح ؑ نے انھیں کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا، چناچہ چوتھے روز ان پر یہ عذاب آگیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–85

29: یعنی اس کائنات کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، لہذا آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان کافروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔ 30: درگزر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، مکی زندگی میں ان سے لڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی، اور ان کی طرف سے جو اذیتیں مسلمانوں کو پہنچ رہی تھیں، ان کا بدلہ لینے کا بھی حکم نہیں تھا، در گزر کرنے سے یہ مراد ہے کہ فی الحال ان سے کوئی بدلہ بھی نہ لو، اس طرح مسلمانوں کو تکلیفوں کی بھٹی سے گزار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–84

آیت نمبر 78 تا 84 قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔ وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 83–84

11 یعنی مال و دولت، مستحکم عمارات، جسمانی قوت اور دوسرے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی خدا کے عذاب کو دفع نہ کرسکی۔ ان کا قصہ بھی پہلے گزر چکا۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تبوک جاتے ہوئے " وادی حجر " پر سے گزرے۔ آپ نے سر ڈھانپ لیا۔ سواری کی رفتار تیز کردی اور صحابہ کو فرمایا کہ معذب قوم کی بستیوں پر مت داخل ہونا مگر (خدا کے خوف سے) روتے ہوئے اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی صورت بنالو۔ خدا نہ کرے وہ چیز تم کو پہنچے جو ان کو پہنچی تھی۔ یہ آپ نے مسلمانوں کو ادب سکھلایا کہ آدمی اس قسم کے مقامات میں پہنچ کر عبرت حاصل کرے اور خدا کے خوف سے لرزاں و ترساں ہو، محض سیرو تماشا نہ سمجھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 82–83

آیت 82 وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ قوم ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–83

44 اصحاب الحجر یا قوم ثمود :۔ یہ لوگ بڑے طویل القامت، مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے۔ سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے۔ اور اس فن میں اتنے ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے گھر بنالیتے تھے۔ اور یہ گھر اتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان بادوباراں وغیرہ کا مقابلہ کرسکتے تھے لہذا ہر طرح کے خوف و خطر سے نڈر ہو کر ان میں رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاخذتھم الصیحۃ مصبحین پھر ان کو بھی (عذاب کی) ایک سخت آواز نے صبح ہوتے ہی پکڑ لیا (یعنی صبح شروع ہوتے ہی عذاب آگیا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–84

(83۔ 84) سو ان کو صبح کے وقت ان پر عذاب خداوندی نازل ہوا اور ان کے قول و فعل اور غیر اللہ کی پرستش عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 82–84

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 82–84

آیت نمبر 82 تا 84 کلام عرب میں النحت کا معنی تراشنا اور چھیلنا ہے۔ نحتہ ینحتہ (یہ عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ ہے) نحتا یعنی اس نے اسے تراشا۔ اور النحاتۃ کا معنی البرایۃ (تراشنا) ہے۔ اور المنحت سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ کھودا اور تراشا جاتا ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے اتعبدون ما تنحتون۔ (الصافات) (یعنی کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود تراشتے اور بناتے ہو) ۔ پس وہ اپنی شدید قوت کے ساتھ اپنے لئے پہاڑوں میں اپنے گھر بناتے تھے۔ امنین یعنی وہ ان کے ان پر گرنے سے یا خراب ہونے سے پرامن اور بےخوف و خطر رہتے تھے۔ فاخذتھم الصیحۃ مصبحین یعنی صبح کے وقت انہیں ایک خوفناک چنگھاڑنے پکڑ لیا، اور مصبحین حال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–87

1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَخَذَتْهُمُ : پھر پکڑا ان کو ] [ الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [ مُصْبِحِيْنَ : صبح کرنے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–84

اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–84

قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–83

27:۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ ” اَلْحِجْرُ “ ایک وادی کا نام ہے جس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود آباد تھی۔ قال المفسرون الحجر اسم واد کان یسکنہ ثمود (کبیر) ۔ قوم ثمود کے پاس بھی ہم نے اپنا پیغام بھیجا مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس سے اعراض کیا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر رہنے کے لیے مکان بنا لیتے تھے اور نہایت پر امن اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر مسئلہ توحید کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عتاب کے مورد ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–89

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ (اہل حجر کی تکذیب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِيْنَ 83؀ۙ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–84

ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 83–84

فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُصْبِحِیْنَ ۔ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 83۔ 84) (پس پکڑ لیا انھیں ایک خوفناک چنگھاڑ نے، جب وہ صبح اٹھ رہے تھے۔ پس ان کے کام نہ آیا جو کچھ وہ کررہے تھے۔ ) مضبوط مکان بھی انھیں نہ بچا سکے انھیں اپنے پہاڑوں میں تراشیدہ مکانوں پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ کسی حادثے کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھے۔ نہایت بےخوف زندگی گزار رہے تھے کہ دنیا کا کوئی خطرہ ہمارے لیے خطرہ نہیں ہوسکتا کہ اچانک انھیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ عذاب چاہے زلزلے کی صورت میں آئے یا تیز آندھی کی شکل میں، ہمیشہ ایک چنگھاڑ ضرور سنائی دیتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–84

فہم القرآن ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب سے ہلاکت : 83: فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے پکڑ لیا) یعنی عذاب نے۔ مُصْبِحِیْنَ (صبح سویرے) چوتھے دن صبح کے وقت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(83)” فاخذتھم الصحیۃ “ اس عذاب کی چیخ ” مصبحین “ وہ اس بستی میں داخل ہوئے صبح کے وقت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–83

آیت 79 یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–83

65۔ آیات الہی سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ،۔ والعیاذ باللہ : ؎ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی اپنی نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے روگردانی ہی برتتے گئے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کررہے ہم نے بہرحال ان کو حق کو واضح کرنے والی نشانیاں دی تھیں، مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی بناء پر حق کو مان کے نہ دیا اور وہ برابر روگردانی ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ کررہے اپنے آخری انجام کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک کی نشانیوں سے اعراض برتنے اور روگردانی کرنے کا آخری نتیجہ اور انجام ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " آیات " یعنی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–86

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86 معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–85

اس آیت کے ٹکڑے کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں کی تباہی کے قصے سنا کر ان مشرکین مکہ کو تنبیہ کردی گئی ہے۔ اس پر بھی یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں تو ضعف اسلام کے زمانے تک درگزر کو کام میں لایا جاوے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–84

[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ [26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–84

(ف 3) اصحاب الحجر ، قوم ثمود کا نام ہے ، ان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہو کر آئے ، یہ قوم خوشحال تھی پہاڑوں میں رہتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) سے انہیں سخت عناد تھا ، یہی وجہ ہے باوجود منع کرنے کے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ذبح کردیا ، جس کا نتیجہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی ، ان کے گناہ حد اعتدال سے تجاوز کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔ حل لغات : لبامام : راستہ ۔ طریق ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

83 ۔ پھر ان کو صبح ہوتے ایک ہولناک آواز اور چنگھاڑنے آپکڑا ۔ یعنی صبح کے وقت یا دن کے نکل آنے کے بعد ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–83

ف 5۔ کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو سب ہی کو جھوٹا بتلایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک صبح کو وہ اٹھے ہی تھے کہ انکی ہلاکت نے ان کو آلیا : 83۔ سونا اور جاگنا تو انسان کی زندگی کے ساتھ جانے والی چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جب پکڑ آتی ہے تو وہ کہیں باہر سے نہیں آجاتی بلکہ ان کے اندر ہی پیدا ہوجاتی ہے اس ڈرائی گئی قوم کا بھی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ایک رات وہ بڑی آرام کی نیند سوئے تھے اور صبح ہوتے ہی اٹھ رہے تھے یا اٹھنے ہی والے تھے کہ دھر لئے گئے اور صبح ہوتے ہی ہمارے ہولناک عذاب نے ان کو ایسا پکڑا کہ ان میں سے ایک بھی نہ تھا جو اس پکڑ سے بچ گیا ہوتا وہ عذاب کیا تھا ؟ فرمایا کہ بس ایک ہولناک آواز ہی تھی کہ وہ بلند ہونے لگی اور اس نے بلند ہوتے ہوتے ان کے اوسان خطا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–86

Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–84

46. That is, their strong and secure buildings, which they had hewed into the mountains, could not protect them from the blast.

Read the full tafseer →