Al-Hijr 15:82

Al-Hijr · from ayah 82

15:82

وَكَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ۟وَكَانُوۡا يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they used to carve from the mountains, houses, feeling secure.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:82

وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر بےخوف و خطر مکان بنایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ پہاڑوں سے مکان تراشتے تھے، اس حال میں کہ بےخوف تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر امن سے ان میں رہتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر چین سے گھر بناتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر اپنے گھر بنایا کرتے تھے، اور اپنے طور پر وہ بڑے بےخوف (اور مطمئن) تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے کہ (ان میں) امن چین سے رہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے امن و سکون کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن و سکون سے رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They used to hew out houses from the mountains and lived in security.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They used to hew out houses from the hills peacefully.

— Muhammad Taqi Usmani

They used to hew out houses from the hills peacefully.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they used to hew out dwellings from the mountains, (feeling) secure.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they used to hew out dwellings from the hills, (wherein they dwelt) secure.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they used to carve from the mountains, houses, feeling secure.

— Saheeh International

They would carve secure houses out of the mountains.

— Muhammad Sarwar

And they hewed houses in the mountains in security.

— Muhammad Habib Shakir

And they were hewing out houses from mountains feeling secure.

— Abdul Majid Daryabadi

Out of the mountains did they hew (their) edifices, (feeling themselves) secure.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–84

آل ثمود کی تباہیاں حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے حضرت صالح ؑ کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت حضرت صالح ؑ نے فرمایا بس اب تین دن کے اندر اندر قہرے الہی نازل ہوگا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–83

سورة الْحِجْر 45 یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–86

خلاصہ تفسیر قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ۔ یعنی پیغمبر کے انذار سے کان بند کیے ہوئے بےخوف اور چنت ہو کر اپنی تعمیری سرگرمیوں میں منہمک رہے۔ ان کو سنگ تراشی کے فن میں کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر نہایت مستحکم اور شاندار مکانات بناتے تھے اور اپنے اس فن پر ان کو بڑا ناز اور فخر تھا۔ بھلا ان لوگوں کے دل پر پیغمبر کے اس ڈراوے کا کیا اثر پڑ سکتا تھا کہ یہی مستحکم اور شاندار مکانات اگر عذاب الٰہی آگیا تو ان کے لیے قبروں کی صورت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ ﷺ اس بستی سے گزرے تو آپ ﷺ نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–85

29: یعنی اس کائنات کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، لہذا آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان کافروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔ 30: درگزر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، مکی زندگی میں ان سے لڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی، اور ان کی طرف سے جو اذیتیں مسلمانوں کو پہنچ رہی تھیں، ان کا بدلہ لینے کا بھی حکم نہیں تھا، در گزر کرنے سے یہ مراد ہے کہ فی الحال ان سے کوئی بدلہ بھی نہ لو، اس طرح مسلمانوں کو تکلیفوں کی بھٹی سے گزار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–84

آیت نمبر 78 تا 84 قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔ وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی دنیاوی زندگی پر مغرور ہو کر تکبر و تجبر کی نمائش کے لیے پہاڑوں کو تراش کر بڑے عالی شان مکان بناتے تھے۔ گویا کبھی یہاں سے جانا نہیں یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ ایسی مضبوط و مستحکم عمارتوں میں کوئی آفت کہاں پہنچ سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 82–83

آیت 82 وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ قوم ثمود کے یہ گھر آج بھی موجود ہیں اور دیکھنے والوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔ میں نے خود بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–83

44 اصحاب الحجر یا قوم ثمود :۔ یہ لوگ بڑے طویل القامت، مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے۔ سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے۔ اور اس فن میں اتنے ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے گھر بنالیتے تھے۔ اور یہ گھر اتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان بادوباراں وغیرہ کا مقابلہ کرسکتے تھے لہذا ہر طرح کے خوف و خطر سے نڈر ہو کر ان میں رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70۔ (ہر قسم کی سختیوں اور تکلیفوں سے محفوظ ہوکر) قوم ثمود بڑی صناع قوم تھی۔ ہر قسم کے انجینئر اور ماہرین ریاضیات وتعمیرات ان میں موجود تھے۔ قوم ثمود پر حاشیے سورة الاعراف میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکانوا ینحتون من الجبال بیوتا امنین وہ لوگ پہاڑ تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔ یعنی نہایت مضبوط مکان بناتے تھے۔ نہ ان کے گرنے کا اندیشہ ہوتا تھا ‘ نہ نقب زنی کا خوف ‘ نہ دشمنوں کی طرف سے ڈھا دینے کا ڈر۔ اٰمِنِیْن کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ انتہائی غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی طرف سے بےخوف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر طرح کے عذاب سے پہاڑوں کے اندر وہ اپنی حفاظت کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(82) اور وہ لوگ پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ مصیبت کے وقت سے امن میں رہیں یا یہ کہ عذاب سے امن میں رہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 82–84

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ۔۔ : یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز (اَلطَّاغِیَۃُ) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 82–84

آیت نمبر 82 تا 84 کلام عرب میں النحت کا معنی تراشنا اور چھیلنا ہے۔ نحتہ ینحتہ (یہ عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ ہے) نحتا یعنی اس نے اسے تراشا۔ اور النحاتۃ کا معنی البرایۃ (تراشنا) ہے۔ اور المنحت سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ کھودا اور تراشا جاتا ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے اتعبدون ما تنحتون۔ (الصافات) (یعنی کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں خود تراشتے اور بناتے ہو) ۔ پس وہ اپنی شدید قوت کے ساتھ اپنے لئے پہاڑوں میں اپنے گھر بناتے تھے۔ امنین یعنی وہ ان کے ان پر گرنے سے یا خراب ہونے سے پرامن اور بےخوف و خطر رہتے تھے۔ فاخذتھم الصیحۃ مصبحین یعنی صبح کے وقت انہیں ایک خوفناک چنگھاڑنے پکڑ لیا، اور مصبحین حال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–87

1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَانوْا يَنْحِتُوْنَ : اور وہ تراشتے تھے ] [ مِنَ الْجبالِ : پہاڑوں سے ] [ بُيُوْتًا : کچھ گھر ] [ اٰمِنِيْنَ : امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–84

اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–84

قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–83

27:۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ ” اَلْحِجْرُ “ ایک وادی کا نام ہے جس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود آباد تھی۔ قال المفسرون الحجر اسم واد کان یسکنہ ثمود (کبیر) ۔ قوم ثمود کے پاس بھی ہم نے اپنا پیغام بھیجا مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس سے اعراض کیا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر رہنے کے لیے مکان بنا لیتے تھے اور نہایت پر امن اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر مسئلہ توحید کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عتاب کے مورد ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–89

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ (اہل حجر کی تکذیب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ 82؀ نحت نَحَتَ الخَشَبَ والحَجَرَ ونحوهما من الأجسام الصَّلْبَة . قال تعالی: وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] والنُّحَاتَةُ : ما يسقط من المَنْحُوتِ ، والنَّحِيتَة : الطّبيعة التي نُحِتَ عليها الإنسان کما أنّ الغریزة ما غُرِزَ عليها الإنسانُ ( ن ح ت ) نحت ( ض ) کے معنی لکڑی پتھر یا اس قسم کی سخت چیزوں کو تراشنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبالِ بُيُوتاً فارِهِينَ [ الشعراء/ 149] اور تکلیف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو ۔ نحاتۃ تراشہ ۔ وہ ریزے جو کاٹنے سے گریں اور انسانی فطرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–84

ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 82) (وہ پہاڑوں کو کھود کر اپنے گھر بناتے تھے ( اور) بےخوف و خطر رہا کرتے تھے۔ ) قومِ ثمود کا فنِ تعمیر اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے تصور نے انھیں یہ راستہ دکھایا تھا کہ پہاڑوں کو کھود کر گھر بنائے جائیں کیونکہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے سب سے مضبوط کوئی مکان اگر تعمیر کیا ہے تو وہ پہاڑ ہیں جنھیں ان کی جگہ سے ہلانا آسان نہیں۔ صدیوں سے اپنی جگہ ایستادہ ہیں۔ مضبوط سے مضبوط مادہ تعمیر سے بنے ہوئے مکانات بھی کہنگی یا حوادث شکار ہو کر زمین بوس ہوجاتے ہیں لیکن جب تک پہاڑ قائم ہیں اس میں کھدا ہوا گھر بھی قائم ہے کیونکہ دونوں کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–84

فہم القرآن ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیاوی حالت : 82: وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا (وہ لوگ پہاڑ تراش کر مکان بناتے تھے) وہ پہاڑوں کو کھود کر گھر بناتے یا پتھروں سے بناتے۔ اٰمِنِیْنَ (تاکہ امن میں رہیں) کیونکہ پتھروں کے گھر مضبوط اور گرنے کے اندیشے سے خالی اور دشمنوں کے گرانے اور چوروں کی نقب لگانے سے محفوظ ہوتے ہیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مامون و محفوظ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ پہاڑ عذاب الٰہی سے ان کی حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(82) ” وکانوا ینحتون من الجبال بیوتاً آمنین “ وہ لوگ پہاڑ تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–83

آیت 79 یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–83

65۔ آیات الہی سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ،۔ والعیاذ باللہ : ؎ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی اپنی نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے روگردانی ہی برتتے گئے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کررہے ہم نے بہرحال ان کو حق کو واضح کرنے والی نشانیاں دی تھیں، مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی بناء پر حق کو مان کے نہ دیا اور وہ برابر روگردانی ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ کررہے اپنے آخری انجام کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک کی نشانیوں سے اعراض برتنے اور روگردانی کرنے کا آخری نتیجہ اور انجام ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " آیات " یعنی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:82) ینحتون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کانوا ینحتون۔ ماضی استمراری۔ وہ تراشتے تھے۔ وہ تراش کر بنایا کرتے تھے۔ نحت سے۔ (باب ضرب) کانوا ینحتون من الجبال بیوتا۔ وہ پہاروں کو تراش گھر بنایا کرتے تھے۔ امنین۔ امن کی جمع ہے۔ بےخوف۔ مطمئن ۔ دلجمعی۔ ینحتون سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ اپنے آپ کو بےخوف و مطمئن محسوس کرتے تھے۔ (اس امر کی دلجمعی محسوس کرتے تھے کہ پہاروں میں ان کے مکانات چوری چکاری۔ اعدائ۔ عذاب الٰہی سے ان کو بچائے رکھیں گے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–86

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86 معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–82

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجر کے رہنے والے قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر بیان فرما کی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ حجر والوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ہم نے ثمود کو قدرت کے دلائل بتلائے اور نشان قدرت کے دکھائے۔ پتھر سے اونٹنی کا نکلنا بہت عجیب و غریب باتوں پر شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ سب نشانیاں ہم نے ثمود کو دکھائی پھر انہوں نے اعتراض کیا اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ مکانوں کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ رہے اور نہ بھی خیال تھا کہ عذاب الٰہی سچ بھی ہوگا تو بھی ان مکانوں کی بدولت امن رہے گا مگر جب عذاب آیا تو ان کے کچھ فائدہ نہ دیا اور یک شنبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–84

[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ [26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–84

(ف 3) اصحاب الحجر ، قوم ثمود کا نام ہے ، ان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہو کر آئے ، یہ قوم خوشحال تھی پہاڑوں میں رہتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) سے انہیں سخت عناد تھا ، یہی وجہ ہے باوجود منع کرنے کے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ذبح کردیا ، جس کا نتیجہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی ، ان کے گناہ حد اعتدال سے تجاوز کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔ حل لغات : لبامام : راستہ ۔ طریق ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

82 ۔ اور یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان پہاڑوں میں مکان بناتے تھے کہ بےخوف ہوکر امن کے ساتھ رہیں ، یعنی خارجی اثرات سے محفوظ رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–83

ف 5۔ کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو سب ہی کو جھوٹا بتلایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم ثمود عمارات کے فن کی بڑی ماہر تھی اور پہاڑوں کو کھود کر محل بنانا ان کا مخصوص مشغلہ تھا : 82۔ بلاشبہ ان لوگوں نے پہاڑ کھود کھود کر بڑے بڑے مضبوط محلات تیار کر رکھے تھے اور میدانی علاقوں میں فلک بوس عمارتیں بنانے میں وہ ماہر تھے لیکن جب انکی ہلاکت کا وقت آیا تو ایسا نہیں ہوا کہ انکو ان کی عمارتوں سے نکال باہر کردیا گیا نہیں بلکہ وہ اپنے انہیں مضبوط قلعوں کے اندر رہے اور جب ہمارا عذاب آیا تو نہ ان کی فلک بوس عمارتیں اور پہاڑوں کے اندر بنائے گئے تہ خانے کچھ بھی کام نہ آئے بلکہ نتیجتا نہ ان کے مسکن ہی رہے اور نہ سکونت اختیار کرنے والے اور جو ان کے نبی ورسول نے کہا تھا وہ اپنے وقت پر پورا ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–86

Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–84

46. That is, their strong and secure buildings, which they had hewed into the mountains, could not protect them from the blast.

Read the full tafseer →