Al-Hijr 15:81

Al-Hijr · from ayah 81

15:81

وَاٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ ۟ۙوَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَۙ‏

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We gave them Our signs, but from them they were turning away.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:81

ہم نے اپنی آیات اُن کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظر انداز ہی کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وه ان سے روگردانی ہی کرتے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ موڑے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں (بھی) اپنی نشانیاں دیں مگر وہ ان سے رُوگردانی کرتے رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں مگر وہ اعراض ہی کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے روگردان ہی رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے ان کو بھی اپنی نشانیاں عطاء کی تھیں، مگر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے گئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں پر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہیں ہم نے اپنی آیات عطا کیں لیکن وہ ان سے اعراض ہی کرتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھیرتے رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We also gave them Our Signs, yet they turned away from them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We provided them with Our signs, yet they kept turning away from them.

— Muhammad Taqi Usmani

We provided them with Our signs, yet they kept turning away from them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We gave them Our signs, but they were averse to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we gave them Our revelations, but they were averse to them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We gave them Our signs, but from them they were turning away.

— Saheeh International

We showed them miracles but they ignored them.

— Muhammad Sarwar

And We gave them Our communications, but they turned aside from them;

— Muhammad Habib Shakir

And We brought Our signs unto them, yet they were averting themselves therefrom.

— Abdul Majid Daryabadi

We sent them Our Signs, but they persisted in turning away from them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–84

آل ثمود کی تباہیاں حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے حضرت صالح ؑ کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت حضرت صالح ؑ نے فرمایا بس اب تین دن کے اندر اندر قہرے الہی نازل ہوگا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–83

سورة الْحِجْر 45 یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–86

خلاصہ تفسیر قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ۔ " آیات " سے مراد عقلی و فطری دلائل بھی ہیں اور حسی معجزات بھی۔ حسی معجزات میں سے ناقۂ ثمود کا ذکر تو خود قرآن میں آیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کو معجزے دکھائے گئے ہوں لیکن قرآن نے ان کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے صرف ان کی طرف اشارہ کردیا ہے، اس لیے کہ یہاں مقصود صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ سارے دلائل و معجزات ان پر بےاثر ہی رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

81۔ 1 ان نشانیوں میں وہ اونٹنی بھی تھی جو ان کے کہنے پر ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی، لیکن ظالموں نے اسے قتل کر ڈالا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–85

29: یعنی اس کائنات کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا دی جائے، لہذا آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ان کافروں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں، بلکہ ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔ 30: درگزر سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کی جائے ؛ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو سزا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، مکی زندگی میں ان سے لڑنے کی بھی اجازت نہیں تھی، اور ان کی طرف سے جو اذیتیں مسلمانوں کو پہنچ رہی تھیں، ان کا بدلہ لینے کا بھی حکم نہیں تھا، در گزر کرنے سے یہ مراد ہے کہ فی الحال ان سے کوئی بدلہ بھی نہ لو، اس طرح مسلمانوں کو تکلیفوں کی بھٹی سے گزار…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–84

آیت نمبر 78 تا 84 قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔ وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 81 وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ قوم ثمود کو بطور خاص اونٹنی کی صورت میں حسی معجزہ دکھایا گیا تھا کہ ایک چٹان شق ہوئی اور اس کے اندر سے ایک خوبصورت گابھن اونٹنی برآمد ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

43 یہ نشانیاں اللہ کی اونٹنی اور اس کا بچہ تھیں۔ اور یہ معجزہ ان کے مطالبہ پر انھیں عطا ہوا تھا علاوہ ازیں رسولوں پر منزل من اللہ تعلیم پر بھی ان الفاظ یعنی آیات اللہ کا اطلاق ہوتا ہے ان کے انکار کا قصہ بھی پہلے سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ یعنی ہمارے رسولوں نے معجزات و دلائل ہر طرح کے پیش کر کرکے انہیں راہ راست پر لانا چاہا، لیکن وہ برابر ہٹ اور انکار ہی پر قائم رہے :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–99

آیت نمبر 80 تا 99 ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واتینھم ایتنا فکانوا معرضین اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں لیکن وہ نشانیوں سے کترا گئے۔ آیات سے مراد وہ کتاب ہے جو ان کے نبی پر اتاری گئی تھی (یعنی حضرت صالح کے صحیفے) یا پیغمبر کے معجزات مراد ہیں۔ پتھر سے اونٹنی اور اس کے بچے کا برآمد کرنا ‘ اس اونٹنی کا دودھ بکثرت ہونا اور تالابوں کا سارا پانی پی جانا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 80–81

(80۔ 81) اور حضرت صالح ؑ کی قوم نے بھی حضرت صالح ؑ اور تمام رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں یعنی اونٹنی وغیرہ دیں، سو وہ لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا : ”اٰيٰتِنَا“ ہماری نشانیاں، ان نشانیوں میں اونٹنی کا معجزہ ہی کئی معجزوں پر مشتمل تھا۔ پیغمبر پر نازل شدہ آیات بھی اور ان کی وادی میں زراعت کا عمدہ انتظام اور پہاڑ تراش کر مکان بنانے کا سلیقہ جن کا ذکر سورة شعراء میں ہے، سب شامل ہیں۔ وہ عقلی دلائل بھی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو توحید کی طرف رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔ فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ : یعنی انھوں نے کوئی عبرت حاصل نہ کی، بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور صالح ؑ کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 81 قولہ تعالیٰ : واتینھم ایتنا ای بایتنا (اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں عطا کیں) یہ قول اس قول کی طرح ہے : آتنا غذأٓنا ای بغذدائنا۔ (تو ہمارے پاس ہماری غذا لے آ) اور یہاں مراد ناقہ (اونٹنی) ہے۔ اور اس میں بہت سی نشانیاں تھیں : اس کا پتھر کی چٹان سے نکلنا، اور اس کے نکلنے کے وقت ہی اس کا حامل ہونا اور بچہ جننے کی حالت کے قریب ہونا، اور اس کا عظیم ہونا یہاں تک کہ کوئی اونٹنی اس کے مشابہ نہ تھی۔ اور اس کے دودھ کا کثیر ہونا یہاں تک کہ وہ ان تمام کو کافی ہوتا تھا۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے ناقہ کے علاوہ دوسرے معجزے بھی ہوں، جیسا کہ کنواں وغیرہ فکانوا عنھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–87

1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاٰتَيْنٰهُمْ : اور ہم نے دی تھیں ان کو ] [ اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیاں ] [ فَكَانوْا : تو وہ لوگ تھے ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ مُعْرِضِيْنَ : اعراض کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–84

اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–84

قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–83

27:۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ ” اَلْحِجْرُ “ ایک وادی کا نام ہے جس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود آباد تھی۔ قال المفسرون الحجر اسم واد کان یسکنہ ثمود (کبیر) ۔ قوم ثمود کے پاس بھی ہم نے اپنا پیغام بھیجا مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس سے اعراض کیا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر رہنے کے لیے مکان بنا لیتے تھے اور نہایت پر امن اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر مسئلہ توحید کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عتاب کے مورد ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–89

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ (اہل حجر کی تکذیب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ 81؀ۙ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 80–84

ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاٰتَیْنٰہُمْ اٰیٰـتِنَا فَکَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 81) (اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں، مگر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔ ) آیات سے مراد اس آیت کریمہ میں قوم ثمود کے جرمِ تکذیب کی شناعت کو بیان کیا جارہا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہ مت سمجھو کہ ہم نے قوم ثمود کو محض تکذیب کے پہلے مرحلے ہی میں عذاب کا شکار کردیا، ایسا ہرگز نہیں۔ ہمارے پیغمبر نے تو مسلسل انھیں سمجھایا عقلی اور فکری دلائل سے انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی اور ان میں سادہ لوح عوام کو حسی معجزات دکھا کر بھی ہر طرح سے یقین دلایا کہ دیکھو اس پیغمبر کے یہ معجزات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے عظیم منصب کے لیے سند ماموریت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–84

فہم القرآن ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

81: وَاٰتَیْنٰھُمْ اٰیٰتِنَا فَکَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ (اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں پس وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے) یعنی انہوں نے ان نشانات سے اعراض کیا اور ان پر ایمان نہ لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (81)” واتیناھم ایاتنا “ آیات سے مراد اونٹنی کا بچہ ہے۔ پتھر سے اونٹنی کا برآمد ہونا اور بچہ دینا اور اس کا دودھ بکثرت سے ہونا۔ ” فکانوا عنھا معرضین “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 79–83

آیت 79 یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–83

65۔ آیات الہی سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ،۔ والعیاذ باللہ : ؎ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی اپنی نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے روگردانی ہی برتتے گئے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کررہے ہم نے بہرحال ان کو حق کو واضح کرنے والی نشانیاں دی تھیں، مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی کی بناء پر حق کو مان کے نہ دیا اور وہ برابر روگردانی ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ کررہے اپنے آخری انجام کو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک کی نشانیوں سے اعراض برتنے اور روگردانی کرنے کا آخری نتیجہ اور انجام ہولناک تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " آیات " یعنی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–99

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اونٹنی کا معجزہ کسی معجزوں پر مشتمل تھا اس لئے اس کو آیات فرمایا اور ان سے مراد وہ دلائل عقلیہ بھی ہوسکتے ہیں جو توحید پر دال ہیں۔ (روح) 2 یعنی کوئی عبرت حاصل نہ کی بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور حضرت صالح کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے آئو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:81) معرضین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اعراض کرنے والے۔ رخ پھیر لینے والے۔ منہ موڑنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–86

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86 معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–82

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجر کے رہنے والے قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر بیان فرما کی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ حجر والوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ہم نے ثمود کو قدرت کے دلائل بتلائے اور نشان قدرت کے دکھائے۔ پتھر سے اونٹنی کا نکلنا بہت عجیب و غریب باتوں پر شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ سب نشانیاں ہم نے ثمود کو دکھائی پھر انہوں نے اعتراض کیا اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ مکانوں کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ رہے اور نہ بھی خیال تھا کہ عذاب الٰہی سچ بھی ہوگا تو بھی ان مکانوں کی بدولت امن رہے گا مگر جب عذاب آیا تو ان کے کچھ فائدہ نہ دیا اور یک شنبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–84

[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ [26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–84

(ف 3) اصحاب الحجر ، قوم ثمود کا نام ہے ، ان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہو کر آئے ، یہ قوم خوشحال تھی پہاڑوں میں رہتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) سے انہیں سخت عناد تھا ، یہی وجہ ہے باوجود منع کرنے کے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ذبح کردیا ، جس کا نتیجہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی ، ان کے گناہ حد اعتدال سے تجاوز کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔ حل لغات : لبامام : راستہ ۔ طریق ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

81 ۔ اور ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل توحید و نبوت بھی دیئے سو وہ لوگ ان دلائل سے اعراض اور روگردانی ہی کرتے رہے۔ یعنی دلائل توحید و نبوت وغیرہ پر توجہ ہی نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–83

ف 5۔ کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو سب ہی کو جھوٹا بتلایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے نشانیاں ان کو دکھائیں لیکن وہ انکار ہی کرتے رہے : 81۔ ہمارے رسولوں نے ان کو مختلف نشانات دکھائے لیکن وہ ہمیشہ ان سے روگردانی کرتے رہے ۔ یہ خطاب تینوں قوموں سے ہے یا صرف قوم مدین سے یا اصحاب الحجر سے ۔ قرآن کریم نے یہ وضاحت نہیں فرمائی لیکن انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ نشانات کا ہونا کوئی بعید از قیاس بات نہیں کیونکہ ہر نبی مستقل طور پر ایک نشان تھا اپنی قوم کی طرف خود ہوتا ہے ، اگر قوم اس کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کرتی ہے تو دین و دنیا میں سرفراز وکامیاب ہوتی ہے ورنہ انجام کار اس کو ہلاکت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور پھر نبی کی پوری زندگی مختلف نشانات سے لبریز ہوتی ہے اور بالاخر ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–86

Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

45. Al-Hijr was the capital city of the people of Thamud, and its ruins are found near the modern city of Al-Ula which is to the north west of Al-Madinah, and lies on the route from AI-Madinah to Tabuk. Though the caravans had to pass through the valley of Al-Hijr, the Prophet (peace be upon him) had forbidden the Muslims to stay in the valley on their journey. When Ibn Batutah reached there in the eighth century of Hijrah on his way to Makkah, he wrote: I have seen the buildings of Thamud hewed into red mountains; the paintings look so bright as if they have been put on only recently, and…

Read the full tafseer →