Explained with ayahs 80–84
آل ثمود کی تباہیاں
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا کہ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے حضرت صالح ؑ کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت حضرت صالح ؑ نے فرمایا بس اب تین دن کے اندر اندر قہرے الہی نازل ہوگا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
سورة الْحِجْر 45
یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر العلاء سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ”یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انہوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
خلاصہ تفسیر
قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر
اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ۔ حجر شمالی عرب اور شام کے درمیانی علاقہ کو کہتے ہیں۔ یہ علاقہ قوم ثمود کا مسکن تھا جن کے اندر حضرت صالح ؑ کی بعثت ہوئی۔ اوپر ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں قریش کو معذب اقوام کے ان آثار و نشانات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن پر سے ان کو برابر گزرنے کے مواقع ملتے رہتے تھے۔ اسی وجہ سے قوم ثمود کا ذکر بھی ان کے مسکن کی نسبت کے ساتھ ہوا، سرزمین لوط، سرزمین شعیب اور علاقہ حجریہ تینوں خطے باہم متصل ہیں اور عرب قافلوں کی یہ عام گزرگاہ تھے۔
ایک سوال اور اس کا جواب : ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قوم ثمود نے تکذیب تو صرف حضرت…
Read the full tafseer →80۔ 1 حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود کی بستیوں کا نام تھا۔ انھیں (اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ) 15۔ الحجر :80) (حجر والے) کہا گیا ہے۔ یہ بستی مدینہ اور تبوک کے درمیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب ایسے ہی ہے جیسے سارے پیغمبروں کی تکذیب۔
Read the full tafseer →28: حِجر (حا کے نیچے زیر) قوم ثمود کی ان بستیوں کا نام تھا جن کے پاس حضرت صالح ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، ان کا واقعہ بھی سورة اعراف آیت نمبر 73 تا 79 میں گزر چکا ہے، ان کے تعارف کے لئے اسی سورت کی مذکورہ آیات پر ہمارے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…
Read the full tafseer →8 " حجر والے " فرمایا " ثمود " کو۔ ان کے ملک کا نام " حجر " تھا جو مدینہ سے شمال کی طرف واقع ہے۔ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ایک نبی کا جھٹلانا سب انبیاء کا جھٹلانا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 80 وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ
اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ قوم ثمود حجر کے علاقے میں آباد تھی اور ان کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے تھے۔ جیسے حضرت ہود کی قوم عاد کا ذکر ”احقاف“ کے حوالے سے بھی ہوا ہے ملاحظہ ہو سورة الاحقاف جو اس قوم کا علاقہ تھا ‘ اسی طرح قوم ثمود کا ذکر یہاں ”اصحاب الحجر“ کے نام سے ہوا ہے۔ یہاں پر ”مرسلین“ کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم میں پہلے بہت سے انبیاء آئے اور پھر آخر میں رسول کی حیثیت سے حضرت صالح تشریف لائے۔
Read the full tafseer →42 وادی حجر کے لوگوں سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا اور یہاں جو ایک رسول کے بجائے کئی رسولوں کا ذکر فرمایا تو یہ اس لحاظ سے ہے کہ تمام رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک ہی رہی ہے لہذا ایک رسول کو جھٹلانا سب رسولوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
Read the full tafseer →68۔ (آیت) ” الحجر “۔ شمالی عرب اور شام کے درمیان کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت قوم ثمود کا مسکن تھا۔ شام سے مدینہ کو آنے لگئے تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی، پھر سر زمین شیعب (علیہ السلام) (مدین) ملے گی اور سب سے آخر میں علاقہ حجر یا مسکن قوم ثمود۔ تینوں عبرت انگیز خطے باہم متصل ہیں۔ اور شاید اسی مناسبت سے تینوں کا ذکر بھی یہاں ایک ساتھ ہے۔ (آیت) ” المرسلین “۔ کے صیغہ جمع سے متعلق امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ ممکن ہے یہ قوم ہندی برہمنوں کی طرح کل سلسلہ رسالت ہی کی منکر ہو۔ لعل القوم کانوا براھمۃ منکرین لکل الرسل (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین اور حجر والوں نے بلاشبہ پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا۔ یعنی حضرت صالح اور ان پیغمبروں کی تکذیب کی جن کو حضرت صالح نے سچا بتایا تھا۔ اصحاب الحجر سے مراد ہے : قوم ثمود۔ حجر ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(80۔ 81) اور حضرت صالح ؑ کی قوم نے بھی حضرت صالح ؑ اور تمام رسولوں کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں یعنی اونٹنی وغیرہ دیں، سو وہ لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ : ”الْحِـجْرِ“ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے گھیرا گیا ہو، جیسا کہ حطیم کو بھی حجر کہہ لیتے ہیں۔ ”حَجَرَ یَحْجُرُ“ کا معنی روکنا بھی ہے، تو ”الْحِـجْرِ“ وہ جگہ جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ممنوع ہو۔ یہ اس سورت میں چوتھا قصہ ہے۔ ”الْحِـجْرِ“ شام اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے، جو صالح ؑ کی قوم ثمود کے لوگوں کا مرکز تھا، یہ جگہ خیبر سے تبوک جانے والی سڑک پر واقع ہے اور اب ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ ”العُلاء“ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے شام کو جو قافلے جاتے ہیں وہ لازماً یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
الحجر کا اطلاق کئی معانی پر ہوتا ہے : اس میں سے ایک حجر الکعبہ ہے، ایک الحرام ہے ؛ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : حجرا محجورا۔ (الفرقان) یعنی حرام جو کہ حرام کیا گیا ہے۔ اور الحجر کا معنی عقل ہے ؛ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لذی حجر (صاحب عقل کے لئے) اور الحجر کا معنی حجر القمیص (قمیص کی بلکھی) ہے ؛ اور فتحہ زیادہ فصیح ہے۔ اور الحجر کا معنی گھوڑی بھی ہے۔ اور الحجر سے مراد دیا ثمور بھی ہیں۔ اور یہاں یہی مراد ہیں، یعنی (قوم ثمود کا شہر) ؛ یہ ازہری نے کہا ہے۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو مکہ مکرمہ اور تبوک کے درمیان ہے، اور یہی وہ وادی ہے جس میں ثمود آباد تھے۔ علامہ طبری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ كَذَّبَ : اور یقینا جھٹلا چکے ہیں ] [ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ : حجر والے ] [ الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کو ]
نوٹ۔ 2: حجر قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہ راہ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں مگر نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوئے یہاں پہنچا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں جو انھوں نے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش ونگار اس وقت تک ایسے تازہ ہیں جیسے آج بنائے گئے ہوں ۔ ان مکانات میں اب بھی سڑی گلی ہوئی انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
اصحاب الحجر کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب
ان آیات میں اصحاب الحجر کی تکذیب پھر ان کی تعذیب کا ذکر ہے اصحاب الحجر سے قوم ثمود مراد ہے یہ لوگ وادی حجر میں رہتے تھے قوم عاد کی بربادی کے بعد یہ لوگ زمین میں بسے اور پھلے پھولے طاقتور بھی بہت تھے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنالیتے تھے، سورة الفجر میں فرمایا (وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ ) (اور قوم ثمود کے ساتھ تیرے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی میں پتھروں کو کاٹا) اس بات کو یہاں سورة حجر میں یوں نقل فرمایا ہے (وَکَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ ) (اور وہ لوگ پہاڑوں سے تراش کر گھر بنالیتے تھے۔ امن وامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر
قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
27:۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ ” اَلْحِجْرُ “ ایک وادی کا نام ہے جس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود آباد تھی۔ قال المفسرون الحجر اسم واد کان یسکنہ ثمود (کبیر) ۔ قوم ثمود کے پاس بھی ہم نے اپنا پیغام بھیجا مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس سے اعراض کیا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر رہنے کے لیے مکان بنا لیتے تھے اور نہایت پر امن اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر مسئلہ توحید کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عتاب کے مورد ٹھہرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–89
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ 80ۙ
صدق وکذب
الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ص دق) الصدق ۔ الکذب
یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال
ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِالْمُرْسَلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 80)
(اور حجر والوں نے بھی رسولوں کی تکذیب کی۔ )
اصحاب الحجر سے مراد
” حجر “ شمالی عرب اور شام کے درمیانی علاقہ کو کہتے ہیں۔ یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈر مدینہ کے شمال مغرب میں موجودہ شہر ” العلا “ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ یہ علاقہ قوم ثمود کا مسکن تھا جن کے اندر حضرت صالح (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہراہِ عام پر ملتا ہے اور قافلے اس وادی میں سے ہو کر گزرتے ہیں، مگر نبی کریم ﷺ کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔
اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ…
Read the full tafseer →قوم صالح کا تذکرہ :
80: وَلَقَدْ کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ (اور حجروالوں نے جھٹلایا) وہ قوم ثمود ہے ] الحجر[ اس وادی کا نام ہے۔ جو مدینہ اور شام کے درمیان ہے۔ اَلْمُرْسَلِیْنَ (رسولوں کو) صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے کیونکہ ہر رسول تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان کی دعوت دیتا ہے پس جس نے ان میں سے کسی ایک کو جھٹلایا تو گویا اس نے تمام کو جھٹلایا۔ نمبر 2۔ صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والے مؤمنین مراد ہیں۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ الخبیبیون سے مراد ابن الزبیر اور ان کے ساتھی۔
Read the full tafseer →(80) ” ولقد کذب اصحاب الحجر “ اصحاب الحجر سے مراد قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔ حجر ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی۔ ” المرسلین “ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی تصدیق حضرت صالح (علیہ السلام) نے کی۔ یہاں لفظ جمع کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی۔ گویا اس نے سب کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–85
73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
آیت 79
یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری…
Read the full tafseer →64۔ حجر والوں کے جرم انکاروتکذیب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حجروالوں نے بھی جھٹلایا رسولوں کو کہ ایک رسول کی تکذیب سب کی تکذیب ہے کہ سب انبیائے کرام کی دعوت اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے ایک ہی تھی۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) " حجر " ایک بستی کا نام ہے جو کہ مدینہ اور شام کے درمیان واقع تھی۔ اور آج کل اس کو مدائن صالح بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بستی قوم ثمود کا مسکن تھی جو اپنے دور کی بڑی تمدن اور ترقی یافتہ قوم تھی، اس کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے ان کی تکذیب ہی کی۔ جس کے نتیجے میں آخرکار اس قوم کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →ف 11 اس سورة میں یہ چوتھا قصہ ہے۔ حجر قوم ثمود کا مرادی شہر تھا جو اب ” مدائن صالح “ کے نام سے مشہور ہے اور وہاں اس قوم کے تباہ شدہ آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ علاقہ ” العلا “ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے جو قافلے شام جاتے ہیں وہ لازماً اس سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو مدینہ سے دمشق کو جاتی ہے۔12 ایک پیغمبر کیت کذیب چونکہ سب کی تکذیب ہے اس لئے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ (روح)
Read the full tafseer →(15:80) اصحب الحجر۔ مضاف مضاف الیہ۔ حجر والے۔ حجر کے رہنے والے ۔ تمام مفسرین کے نزدیک اور مؤرخین کے نزدیک اصحاب حجر سے مراد قوم ثمود ہے۔ لیکن مولانا سید سلیمان ندوی (رح) کی تحقیق کے مطابق یہ قوم ثمود نہیں ہے بلکہ وہ نبطی ہیں جنہوں نے حجر کو اپنا مرکز قرار دیا تھا۔ اگرچہ قوم ثمود کا دار السلطنت بھی یہی شہر تھا۔ یہ شہر اس وادی میں ہے جو حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 86
معرضین منہ پھیر کر چلنے والے۔ نظر انداز کرنے والے الجبال (الجبل) ۔ پہاڑ۔ امنین امن و سکون سے رہنے والے۔ ما اغنی کام نہ آیا ۔ یکسبون وہ کماتے ہیں۔ الساعۃ قیامت۔ اصفع درگذر کر۔ الصفح الجمیل اچھی طرح خوبی سے درگزر کرنا۔
تشریح :- آیت نمبر 80 تا 86
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح اور قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا ان ہی میں اصحاب الحجر بھی تھے ” الحجر “ قوم ثمود کے اس مرکزی شہر کا نام ہے جس کے کھنڈرات آج بھی مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں تبوک جاتے ہوئے پڑتے ہیں۔ یہ جگہ چونکہ اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئی تھی اس لئے جب نبی کریم ﷺ اس مقام سے گذرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجر کے رہنے والے قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر بیان فرما کی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ حجر والوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ہم نے ثمود کو قدرت کے دلائل بتلائے اور نشان قدرت کے دکھائے۔ پتھر سے اونٹنی کا نکلنا بہت عجیب و غریب باتوں پر شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ سب نشانیاں ہم نے ثمود کو دکھائی پھر انہوں نے اعتراض کیا اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ مکانوں کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ رہے اور نہ بھی خیال تھا کہ عذاب الٰہی سچ بھی ہوگا تو بھی ان مکانوں کی بدولت امن رہے گا مگر جب عذاب آیا تو ان کے کچھ فائدہ نہ دیا اور یک شنبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[25] یہ قوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔
[26] ایک پیغمبر کے نہ ماننے سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ سب کا دین ایک تھا گو زمانے کے لحاظ سے شریعت بدلتی رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
(ف 3) اصحاب الحجر ، قوم ثمود کا نام ہے ، ان کی جانب حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہو کر آئے ، یہ قوم خوشحال تھی پہاڑوں میں رہتی ، حضرت صالح (علیہ السلام) سے انہیں سخت عناد تھا ، یہی وجہ ہے باوجود منع کرنے کے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ذبح کردیا ، جس کا نتیجہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ۔
دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں اللہ کے رسولوں کی مخالفت کی ، ان کے گناہ حد اعتدال سے تجاوز کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔
حل لغات : لبامام : راستہ ۔ طریق ۔
Read the full tafseer →80 ۔ اور یقینا حجر والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ، یعنی ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی یا تو ایک پیغمبر کی تکذیب کو سب کی تکذیب فرمایا کیونکہ سب کا مسلک ایک ہی ہے یا حضرت صالح (علیہ السلام) کے علاوہ اور بھی پیغمبر آئے ہوں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں آیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حجر والے ثمود کو فرمایا ان کے ملک کا نام حجر تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ف 5۔ کیونکہ جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو سب ہی کو جھوٹا بتلایا۔
Read the full tafseer →دیکھو حجر کے لوگوں نے بھی رسولوں کی بات جھٹلائی :
80۔ ” الحجر “ شمالی عرب اور شام کے درمیان کا علاقہ کہلاتا ہے یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت قوم ثمود کا مسکن ہے اور شام سے مدینہ کو آئیں تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی پھر سرزمین شعیب (علیہ السلام) یعنی مدین ملے گی اور کا مسکن ہے اور شام سے مدینہ کو آئیں تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی پھر سرزمین شعیب (علیہ السلام) یعنی مدین ملے گی اور سب سے آخر میں علاقہ حجر یا مسکن قوم ثمود آئے گا ، یہ تینوں عبرت انگیز خطے باہم متصل ہیں اور شاید اسی مناسبت سے تینوں کا ذکر بھی یہاں ایک ساتھ کیا گیا ہے ” المرسلین “ کے صیغہ جمع سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
Commentary
Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other.
In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir:
اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً
Madyan and the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
45. Al-Hijr was the capital city of the people of Thamud, and its ruins are found near the modern city of Al-Ula which is to the north west of Al-Madinah, and lies on the route from AI-Madinah to Tabuk. Though the caravans had to pass through the valley of Al-Hijr, the Prophet (peace be upon him) had forbidden the Muslims to stay in the valley on their journey.
When Ibn Batutah reached there in the eighth century of Hijrah on his way to Makkah, he wrote: I have seen the buildings of Thamud hewed into red mountains; the paintings look so bright as if they have been put on only recently, and…
Read the full tafseer →