Explained with ayahs 78–79
اصحاب ایکہ کا المناک انجام
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شرارتوں کی وجہ سے عذاب الہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
سورة الْحِجْر 42
یعنی حجاز سے شام اور عراق سے مصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتا ہے اور عموما قافلوں کے لوگ تباہی کے ان آثار کو دیکھتے ہیں جو اس پورے علاقے میں آج تک نمایاں ہیں۔ یہ علاقہ بحر لوط (بحیرہ مردار) کے مشرق اور جنوب میں واقع ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے جنوبی حصے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
خلاصہ تفسیر
قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر
اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…
Read the full tafseer →فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ۔ " انتقام " سے مراد یہاں وہ پاداش عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ان کے لیے ظاہر ہوئی۔ " وانہما " میں مثنی کی ضمیر سے اصحاب الایکہ کے ساتھ قوم لوط کی بستی کی طرف بھی اشارہ کردیا جس کا ذکر اوپر گزرچکا ہے کہ ان دونوں ہی بستیوں کے آثار و نشانات ڈھکے چھپے نہیں ہیں بلکہ ایک کھلی شاہراہ پر واقع ہیں جس سے اہل عرب کے قافلوں کو آئے دن گزرنے کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ امام مبین کا مفہوم بالکل وہی ہے جو اوپر سبیل مقیم کا بیان ہوچکا ہے۔ کھلی شاہراہ، عام گزرگاہ، چلتا راستہ۔ راستہ چونکہ رہنما ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے " امام " کا لفظ…
Read the full tafseer →79۔ 1 امام مُبِیْنٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہی تھے۔
Read the full tafseer →27: دونوں سے مراد حضرت لوط ؑ اور حضرت شعیب ؑ کی بستیاں ہیں۔ جیسا کہ اوپر گزرا۔ حضرت لوط ؑ کی بستیاں تو بحیرہ مردار کے پاس تھیں، اور حضرت شعیب ؑ کی بستی مدین بھی اردن میں واقع تھی، اور اہل عرب شام جاتے ہوئے ان دونوں کے پاس سے گذرا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔
وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…
Read the full tafseer →7 یعنی حجاز و شام کے جس راستہ پر قوم لوط کی بستیاں تھیں، وہیں ذرا نیچے اتر کر قوم شعیب کا مسکن تھا دونوں کے آثار راستہ چلنے والوں کو نظر آتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 79 فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۘ وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ
اس سے مراد وہی تجارتی شاہراہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوا ہے۔ یہ اصحاب حجر کے مساکن سے بھی ہو کر گزرتی تھی جبکہ اہل مدین کی آبادیاں اور قوم لوط کی بستیاں بھی اسی شاہراہ پر واقع تھیں۔
Read the full tafseer →41 اہل مدین اور مدین کا علاقہ :۔ حجاز سے شام و فلسطین نیز عراق سے مصر کو جو تجارتی راستہ جاتا ہے۔ قوم لوط کا تباہ شدہ علاقہ اسی راستہ میں پڑتا ہے۔ وہیں ذرا نیچے اتر کر قوم شعیب کا مسکن تھا۔ دونوں کے آثار راستہ چلنے والوں کو نظر آتے ہیں۔
Read the full tafseer →67۔ (جن سے اہل عرب کے قافلہ اکثر گزرتے رہتے ہیں) (آیت) ” انھما “۔ دونوں بستیاں، یعنی قوم، لوط اور اصحب الایکہ کی بستیاں یعنی قری قوم لوط والایکۃ (کشاف) (آیت) ” لبامام مبین “۔ امام کہتے ہیں وسیع راستہ یا شاہراہ کو۔ اور طریق کو امام عجب نہیں کہ اس لیے کہا گیا ہو کہ اس کا اتباع کیا جاتا ہے۔ الامام الطریق الواسع (تاج) قال الفراء جعل الطریق امام لانہ یؤم ویتبع (تاج) الامام اسم لما یؤتم بہ فسمی بہ الطریق (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →فانتقمنا منھم پس ہم نے ان سے انتقام لیا (ان کو ان کے جرم کی سزا دی) اللہ نے سات روز تک ان پر سخت گرمی کو مسلط کردیا۔ سات روز کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا آیا ‘ لوگ آرام لینے اور کچھ سکھ پانے کیلئے اس کے سایہ میں آگئے ‘ لیکن اللہ نے اس بادل سے ان پر آگ برسائی اور سب جل بھن کر خاک ہوگئے۔ اس عذاب کو عذاب یوم الظلہ (سایہ کے دن کا عذاب) کہا گیا ہے۔
وانھما لبامام مبین اور دونوں (قوموں کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں۔ ھُمَا (دونوں) سے مراد ہیں :
قوم لوط کی بستی سدوم اور قوم شعیب کی بستی ایکہ۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ ایکہ اور مدین مراد ہیں کیونکہ ان دونوں شہروں کی اصلاح کیلئے حضرت شعیب کو پیغمبر بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(78۔ 79) اور بن والے یعنی حضرت شعیب ؑ کی قوم بھی بڑے مشرک تھے سو ہم نے ان پر عذاب نازل کرکے ان سے دنیا میں بدلہ لیا اور لوط ؑ کی قوم کی بستیاں اور حضرت شعیب ؑ کی قوم کی بستیاں صاف سڑک پر واقع ہیں اور اس سے لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ”اِمَامٌ“ کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت نمبر 76 تا 79
قولہ تعالیٰ : وانھا مرا دحضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ لبسبیل مقیم یعنی اے محمد ! ﷺ آپ کی قوم کے راستے پر شام کی طرف واقع ہیں۔ ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین یعنی یقیناً یہ تصدیق کرنے والوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ وان کان اصحب الایکۃ لظلمین اس میں اصحاب الایکہ سے مراد حجرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے، وہ جنگلوں، باغوں اور پھلدار درختوں کے مالک لوگ تھے۔ اور الایکہ سے مراد الغیضۃ ہے اور اس سے مراد درختوں کا جھنڈ ہے۔ اور جمع الایک ہے۔ روایت ہے کہ ان کے درخت کھجور کے درخت کے مشابہ تھے اور وہ گوگل کے درخت تھے۔ نابغہ نے کہا ہے :
تجلو بقادمتی حمامۃ أیکۃ بردا أسف لثاتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔
2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔
3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[فَانتَقَمْنَا : پھر انتقام لیا ہم نے ] [ مِنْهُمْ ۘ: ان سے ] [ وَانهُمَا : اور بیشک وہ دونوں (بستیاں)] [ لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ایک واضح راستہ کے ساتھ ہیں ]
Read the full tafseer →حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم والی بستیاں اور اصحاب الایکہ شاہراہ عام پر واقع ہیں
(وَ اِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ) اور بلاشبہ یہ دونوں قومیں یعنی قوم لوط (علیہ السلام) اور اصحاب الایکہ ایک آباد واضح شاہراہ پر ہیں۔ یہ وہی شاہراہ ہے جس پر قافلے چلتے تھے اور اہل مکہ ان قافلوں میں شامل ہو کر شام جایا کرتے ہیں راستہ میں یہ بستیاں پڑتی ہیں مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اصحاب الایکہ کا زمانہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے بعد ہی تھا زمانہ بھی قریب تھا اور علاقہ بھی، جہاں وہ لوگ رہتے تھے وہ علاقہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے مقابل تھا اس طرح سے شاہراہ عام سے دوسری طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر
قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
26:۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ ” اَصْحٰبُ الْاَیْکَةِ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ ” اَلْاَیکَةَ “ درختوں کے جھرمٹ کو کہتے ہیں یہ درختوں کے جھرمٹوں میں آباد تھے اس لیے اس نام سے موسوم کیے گئے اصحاب الایکة ھم قوم شعیب (علیہ السلام) (کبیر ج 5 ص 412) ان لوگوں نے بھی پیغام توحید کی تکذیب کی اور ہلاک کردئیے گئے یہ دونوں آبادیاں (یعنی قوم لوط اور قوم شیعب کی) شاہراہ اعظم پر واقع ہیں تم اپنے سفروں میں ان کے پاس سے گذرتے ہو پھر عبرت کیوں نہیں پکڑتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–79
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،
(لوط (علیہ السلام) کی پیش کش)
اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…
Read the full tafseer →فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۘ وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ 79ۉ
نقم
نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ «2» : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ [ الزخرف/ 25] .
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ترکیب : الایکہ مجمع الشجر و مجمع الشی والجمع الایک و فی الاصل اسم للشجر الملتف والمراد بھا الموضعۃ التی ہی محل اشجار مزوجۃ وقیل اسم قریۃ قال ابوعبیدہ ایکہ و لی کہ مدینتھم کمکۃ و بکۃ واھلھا قوم شعیب کما ان اہل مدین امۃ (علیہ السلام) والحجر دیارثمود قال ابن جریرھی ارض بین الحجازوالشام۔ کما انزلنا کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی۔ ای لقد آیتناک سبعًا من المثانی اتیانا کما انزلنا لان آیتناک بمعنی انزلنا۔ وقیل ھو وصف المفعول الندیر اقیم مقامہ ای مثل العذاب الذی انزلنا علیھم عضین اجزاء جمع عضۃٍ واصلھا عضوۃ، بما تو مر ماصدر یہ ہے تو خدف نہیں اور جو بمعنی الذی ہے تو عائد محذوف۔ والمثانی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ لَظٰلِمِیْنَ ۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ م وَاِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔
(سورۃ الحجر : 78۔ 79)
(بیشک ایکہ کے باشندے بھی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ تو ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔ )
قوم لوط کے بعد دوسری معذب قوموں کا اجمالی تذکرہ
قومِ لوط کی تباہی کے تذکرے کے بعد بعض دوسری قوموں کا اجمالی تذکرہ اور ان کی تکذیب کے انجام کو بیان کیا جارہا ہے اور اس طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر ( علیہ السلام) کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی کچھ کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے بعد اصحاب ایکہ کا انجام۔
” اصحاب الایکۃ “ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ جنہیں تاریخ میں قوم مدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل مدین عرب کے باشندے تھے۔ مدین حجاز کی سر زمین کے متصل اور بحیرۂ لوط کے قریب ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے علاقہ میں نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف خطیب الانبیاء حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ یہ لوگ عقیدہ کے اعتبار سے کافر تھے۔ پرلے درجے کے راہزن، ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والے، خیانت اور ملاوٹ میں ملوث اپنے علاقے کے خاص قسم کے درخت کو متبرک سمجھ کر اس کی پوجا کرتے۔ اس درخت…
Read the full tafseer →79: فَانْتَقَمْنَا مِنھُمْ (ہم نے ان سے انتقام لیا) جب انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ وَ اِنَّھُمَا (اور بیشک یہ دونوں) اقوام یعنی قوم لوط، اصحاب ایکہ لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ (واضح راستے میں) صاف سڑک پر ہیں۔ الامامؔ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی اقتداء کی جائے راستہ کو امام کہا گیا ہے۔ اور معمار کی گنیے کی ڈور جس سے تعمیر کو ناپا جاتا ہے۔ اور راستہ پر بھی لوگ چلتے ہیں راہ سب کا راہ نما ہے۔ گویا یہ ڈور اور راستہ دونوں راہنمائی کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →(79) فانتقمنا منھم “ ہم نے عذاب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات دن گرمی کو مسلط کیا۔ پھر ان پر ایک بادل نمو دار ہوا، لوگ آرام لینے اور کچھ سانس لینے کے لیے بادل کے نیچے آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بادل سے آگ برسائی اور سب جل بھن کر خاک ہوگئے۔ اس عذاب کو عذاب یوم الظلہ کہا گیا۔ ” فاخذھم عذاب یوم الظللۃ “…” وانھما “ قوم لوط اور اصحاب الایکہ یعنی سدوم اور ایکہ ” لبامام مبین “ کھلا ہوا راستہ واضح راستہ جس کو دیکھ کر مکہ والے عبرت حاصل کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–85
73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
آیت 79
یہ حضرت شعیب کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الایکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الایکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت طشعیب ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ (فانتقمنا منھم) ” پس ہم نے ان سے بدلہ لیا “ اور چھتری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
63۔ غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دل ودماغ کی دنیا ایمان و یقین کے نور سے منور ومعمور ہوتی ہے۔ ورنہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایسی تباہ شدہ بستیوں کے آثار و کھنڈرات کو محض ظاہری آنکھوں سے اور حیوانوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ وہاں پر پکنک کرتے، خرمستیاں کرتے، فوٹوگرافی کرتے اور اس طرح سبق لینے کی بجائے الٹامزید غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس قسم کے واقعات کو یونہی قدرتی حوادث قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں اور اس کی وہ طرح طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →ف 10 قوم لوط اور اصحاب ایکہ کا علاقہ قریش دن دونوں سے گزر کر شام آتے جاتے تھے۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(15:79) انتقمنا۔ ماضی۔ جمع متکلم۔ ہم نے انتقام لیا۔ ہم نے سزا دی۔
نقم۔ (ضرب۔ سمع) من۔ سزا دینا۔ ونقم الامر علی فلان ومن فلان فلان۔ ملامت کرنا۔ عیب لگانا۔ مکروہ جاننا۔ جیسے وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ۔ (85:8) ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔
انتقم۔۔ من۔ سزا دینا۔ بدلہ دینا۔ انتقام لینا۔ (افتعال) ۔
انہما۔ میں ضمیر تثنیہ مؤنث۔ قوم لوط اور اصحاب الایکہ (کی بستیوں ) کی طرف راجع ہے۔ ہر دو قوم کی بستیاں یا ہر دوقومیں امام مبین پر واقع ہے۔
امام۔ الامام اس کو کہتے ہیں کہ جس کی اقتدار کی جا وے۔ ای من یؤتم بہ (جس کا قصد کیا جاوے) چونکہ مقتدا اور رہنما کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حجر کے رہنے والے قوم ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کا قصہ مختصر طور پر بیان فرما کی قریش کو تنبیہ فرمائی کہ حجر والوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ہم نے ثمود کو قدرت کے دلائل بتلائے اور نشان قدرت کے دکھائے۔ پتھر سے اونٹنی کا نکلنا بہت عجیب و غریب باتوں پر شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ سب نشانیاں ہم نے ثمود کو دکھائی پھر انہوں نے اعتراض کیا اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ مکانوں کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ رہے اور نہ بھی خیال تھا کہ عذاب الٰہی سچ بھی ہوگا تو بھی ان مکانوں کی بدولت امن رہے گا مگر جب عذاب آیا تو ان کے کچھ فائدہ نہ دیا اور یک شنبہ…
Read the full tafseer →[24] یعنی قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں جو مدینہ سے شام کو جانے والے راستے پر واقع ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(ف 2) اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جو جنگلوں میں آباد تھی ، ان کا اصل مسکن مدین تھا ۔
Read the full tafseer →79 ۔ لہٰذا ہم نے ان سے انتقام اور بدلہ لیا اور دونوں بستیاں کھلے شارع عام پر واقع ہیں ۔ یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) کی دونوں برباد شدہ بستیاں اسی طویل اور سیدھی راہ پر واقع ہیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بن کے رہنے والے یعنی قوم شعیب (علیہ السلام) مدین میں رہتے تھے اور پاس شہر کے درختوں کا بن تھا وہاں بھی رہتے تھے۔ 12
Read the full tafseer →ف 3۔ اور ان کو عذاب سے ہلاک کردیا۔
4۔ اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کو بھی سزا دی گئی اور ان بستیوں کو تباہ وبرباد کردیا گیا :
79۔ یہ لوگ شام کے متصل ایک ایسی جگہ آباد تھے جس کا عرض البلد افریقہ کے جنوبی صحرا کے عرض البلد کے مطابق پڑتا ہے اور بعض کے نزدیک شام کے متصل معانی کے حصہ زمین پر آباد تھا ، قرآن کریم نے اس قبیلہ کی آبادی کے متعلق ہم کو دو باتوں سے تعارف کرایا ہے ایک یہ کہ وہ ” امام مبین “ پر آباد تھا ” اور لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین دونوں بڑی شاہراہ پر آباد تھے ۔ “ دوسرے یہ کہ وہ ” اصحاب ایکہ “ گھنے درختوں والے تھے ، عربی میں ایکہ ان سرسبز و شاداب جھاڑیوں کو کہتے ہیں جو ہرے بھرے درختوں کی کثرت کی وجہ سے جنگلوں اور بنوں میں اگی رہتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
Commentary
Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other.
In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir:
اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً
Madyan and the people of…
Read the full tafseer →44. Midian lay on the route from Hijaz to Palestine and Syria.
Read the full tafseer →