Al-Hijr 15:78

Al-Hijr · from ayah 78

15:78

وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَ ۟ۙوَاِنۡ كَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَيۡكَةِ لَظٰلِمِيۡنَۙ

اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the companions of the thicket were [also] wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:78

اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اَیکَہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ﻇالم تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ایکہ کے باشندے (بھی) بڑے ظالم تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک جھاڑی والے ضرور ظالم تھے، ف۸۲)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک باشندگانِ اَیکہ (یعنی گھنی جھاڑیوں کے رہنے والے) بھی بڑے ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک ایکہ والے یقینا ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایکہ والے بھی یقینا ظالم تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک بن والے بھی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور أیکہ والے (شعیب کی قوم کے لوگ) بھی بڑے ظالم تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک بن والے بھی (بڑے) ظالم تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بیشک بن والے بھی ظالم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بن کے رہنے والے، یعنی قوم شعیب کے لوگ بھی ظالم تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And the people of Aykah were also wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the people of Aikah were (also) transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

And the people of Aikah were (also) transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Dwellers of Al-Aykah, were also wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the dwellers in the wood indeed were evil-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the companions of the thicket were [also] wrongdoers.

— Saheeh International

Since the People of the Forest were unjust,

— Muhammad Sarwar

And the dwellers of the thicket also were most surely unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And the dwellers of the wood surely were wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Companions of the Wood were also wrong-doers;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 78–79

اصحاب ایکہ کا المناک انجام اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شرارتوں کی وجہ سے عذاب الہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–79

سورة الْحِجْر 42 یعنی حجاز سے شام اور عراق سے مصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتا ہے اور عموما قافلوں کے لوگ تباہی کے ان آثار کو دیکھتے ہیں جو اس پورے علاقے میں آج تک نمایاں ہیں۔ یہ علاقہ بحر لوط (بحیرہ مردار) کے مشرق اور جنوب میں واقع ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے جنوبی حصے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–86

خلاصہ تفسیر قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 78 تا 96: آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض دوسری قوموں کا اجمالی تذکرہ اور ان کی اس تکذیب کے انجام کا بیان ہے پھر نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم اپنی دعوت حق پر جمے رہو، اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے بھی اپنی پیش رو قوموں ہی کی تقلید کی تو ان کا بھی وہی انجام ہونا ہے جو ان کا ہوا اور تم ان کے رویہ سے بددل نہ ہو بلکہ خوبصورتی سے درگزر کرو۔ انجام کار کی کامیابی تمہارا اور تمہارے ساتھیوں ہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلات کیجیے۔ وَإِنْ كَانَ أَصْحَابُ الأيْكَةِ لَظَالِمِينَ۔ " اصحٰب الایکۃ " سے مراد۔ " اصحب الایکۃ " سے مراد اصحاب مدین ہیں جن کی طرف حضرت شعیب ؑ رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

78۔ 1 أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انھیں (اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ) 15۔ الحجر :78) (بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑگیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوگیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–78

26: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف آیت 85 تا 93 میں گذر گیا ہے تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–84

آیت نمبر 78 تا 84 قرآن کریم نے دوسری جگہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور قوم شعیب اہل مدین اور اصحاب ایکہ کا قصہ مفصل بیان کیا ہے۔ یہاں ان کے واقعہ ظلم اور ان کی ہلاکت کی طرف صرف اشارہ مطلوب ہے۔ ثابت یہی کرنا ہے کہ جب عذاب الٰہی کا اعلان ہوجائے تو وہ آکر رہتا ہے ، جیسا کہ اس سورة کے آغاز میں اس اصول کا ذکر ہوا کہ جب کسی قوم کی مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو پھر اس پر عذاب آنا سنت الہٰیہ کے مطابق لازم ہوجاتا ہے۔ مدین اور ایکہ دونوں بستیاں علاقہ لوط کے قریب تھیں اور یہ بات اس اشارہ سے معلوم ہوتی ہے۔ وانھما لبامام مبین (15 : 79) “ ان دونوں قوموں کے علاقے کھلے راستے پر موجود ہیں ”۔ ان دونوں قوموں سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 بن کے رہنے والے یعنی قوم شعیب شہر " مدین " میں رہتے تھے جس کے نزدیک درختوں کا بن تھا کچھ وہاں رہتے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں " اصحاب أیکہ " اور " اصحاب مدین " دو جدا گانہ قومیں ہیں۔ حضرت شعیب دونوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان لوگوں کا گناہ شرک و بت پرستی، ڈاکہ زنی اور ناپ تول میں فریب اور دھوکہ کرنا تھا۔ پہلے سورة ہود و اعراف میں ان کا مفصل قصہ گزر چکا ہے ملاحظہ کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 78 وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ ”اصحاب الایکہ“ سے اہل مدین مراد ہیں۔ یہ حضرت شعیب کی قوم تھی مگر یہاں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا نام نہیں لایا گیا۔ ان سب اقوام کا تذکرہ یہاں پر انباء الرسل کے انداز میں ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 اصحاب الایکہ کون تھے ؟ یعنی بن کے رہن والے۔ یعنی ایسی قوم جو درختوں کے ذخیرہ کے پاس رہتی تھی اور یہ مدین کے پاس ہی تھے اور ان کی طرف بھی شعیب ہی مبعوث ہوئے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں تھیں اور بعض کے نزدیک ایک ہی قوم تھی۔ ان کا جرم شرک کے علاوہ تجارتی بددیانتیاں نیز ناپ تول میں کمی بیشی کرنا تھا۔ ان کا حال پہلے سورة اعراف کی آیت 85 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (جو مدین سے متصل رہتے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی کی امت میں تھے) (آیت) ” اصحب الایکۃ “۔ نولڈی کی وغیرہ اہل فرنگ نے اصحاب ایکہ کو اصحاب مدین ہی قرار دیا ہے۔ ہمارے ائمہ تفسیر کی ہاں یہ دو قومیں الگ الگ تھیں گومتقارب، لیکن بعض اقوال ہمارے ہاں بھی ایسے ملتے ہیں کہ ان دو ناموں کی قومیں دو تھیں، ایک ہی نہیں۔ وھم قوم شعیب (علیہ السلام) (مدارک) (آیت) ” ان “۔ اور ل دونوں تاکید کے لئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان کان اصحاب الایکۃ لظلمین اور بلاشبہ ایکہ والے بھی ظالم تھے۔ انہوں نے حضرت شعیب کی تکذیب اور اللہ کی توحید کا انکار کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دوزخ کے مستحق بنے تھے۔ الْاَیْکَۃ گھنے درخت ‘ جھاڑی۔ اصحاب الایکہ سے مراد حضرت شعیب کی قوم ہے جو گھنے جنگل میں رہتی تھی ‘ وہاں عموماً درخت گوگل کے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 78–79

(78۔ 79) اور بن والے یعنی حضرت شعیب ؑ کی قوم بھی بڑے مشرک تھے سو ہم نے ان پر عذاب نازل کرکے ان سے دنیا میں بدلہ لیا اور لوط ؑ کی قوم کی بستیاں اور حضرت شعیب ؑ کی قوم کی بستیاں صاف سڑک پر واقع ہیں اور اس سے لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ۔۔ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ تھا، اس کا اسم ضمیر شان ”ہٗ“ محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو ”ظَالِمِیْنَ“ پر آیا ہے، جو ”کَانَ“ کی خبر ہے۔ ”اَلْأَیْکُ“ اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے ”تَمْرٌ“ اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے ”الْاَيْكَةِ“ کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے ”تَمَرْۃٌ“ ایک کھجور۔ 3 بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–79

آیت نمبر 76 تا 79 قولہ تعالیٰ : وانھا مرا دحضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ لبسبیل مقیم یعنی اے محمد ! ﷺ آپ کی قوم کے راستے پر شام کی طرف واقع ہیں۔ ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین یعنی یقیناً یہ تصدیق کرنے والوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ وان کان اصحب الایکۃ لظلمین اس میں اصحاب الایکہ سے مراد حجرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے، وہ جنگلوں، باغوں اور پھلدار درختوں کے مالک لوگ تھے۔ اور الایکہ سے مراد الغیضۃ ہے اور اس سے مراد درختوں کا جھنڈ ہے۔ اور جمع الایک ہے۔ روایت ہے کہ ان کے درخت کھجور کے درخت کے مشابہ تھے اور وہ گوگل کے درخت تھے۔ نابغہ نے کہا ہے : تجلو بقادمتی حمامۃ أیکۃ بردا أسف لثاتہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–87

1:۔ امام ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدین اور ایکہ والے دو امتیں تھیں ان کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ “ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے (اور) الایکۃ سے مراد جھاڑیوں اور درختوں والے اس علاقے میں گھنے درخت، وہ لوگ تھے جس میں وہ رہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر نے خصیف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اصحب الایکۃ “ سے مراد ہیں درخت گرمی کے موسم میں تر پھل کھاتے تھے اور سردی کے موسم میں خشک پھل کھاتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور بیشک ] [ كَان : تھے ] [ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ : گھنے درخت والے ] [ لَظٰلِمِيْنَ : یقینا ظلم کرنے والے ] ع ی ک [اَیْکًا : (ک) درختوں کا گھنا اور گنجان ہونا۔] [ اَیْکَۃٌ صفت ہے۔ گھنا درخت۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت لوط (علیہ السلام) اور اصحاب الایکہ کی بستیاں شاہراہ عام پر واقع ہیں اصحاب الایکہ ظالم تھے اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہلاک کیے گئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کی ہلاکت اور بربادی کا تذکرہ کرنے کے بعد اس آیت میں اصحاب الایکہ کے ظلم اور ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ” ایکہ “ اس جنگل کو کہتے ہیں جن میں درخت آپس میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہوں اصحاب الایکہ جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں درخت ہی درخت تھے اسی لیے بعض حضرات نے اصحاب الایکہ کا ترجمان بن والوں سے فرمایا ہے ان بن والوں کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ اصحاب مدین کی طرف بھی ان کی بعثت ہوئی تھی یہ دونوں قومیں ناپ تول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 78–84

قصہ اصحاب ایکہ واصحاب حجر قال اللہ تعالیٰ : وان کان اصحب الایکۃ لظلمین .... الیٰ .... فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے کا ذکر تھا اب اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں مقصود سب سے تحقیق رسالت ہے کہ جو نبی کو نہ مانے وہ مستحق عذاب ہے۔ ” ایکہ “ اس بستی کا نام ہے جہاں شعیب (علیہ السلام) پہنچ گئے تھے۔ اصل میں یہ شہر مدین کا ایک مقام ہے چونکہ یہاں درخت زیادہ تھے اس لئے اس کو ایکہ فرمایا۔ ایکہ عرب میں درختوں کے بن کو کہتے ہیں اور ” حجر “ اس وادی کو کہتے ہیں جو شام اور عرب کے درمیان واقع ہے اور اصحاب حجر سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

26:۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ ” اَصْحٰبُ الْاَیْکَةِ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ ” اَلْاَیکَةَ “ درختوں کے جھرمٹ کو کہتے ہیں یہ درختوں کے جھرمٹوں میں آباد تھے اس لیے اس نام سے موسوم کیے گئے اصحاب الایکة ھم قوم شعیب (علیہ السلام) (کبیر ج 5 ص 412) ان لوگوں نے بھی پیغام توحید کی تکذیب کی اور ہلاک کردئیے گئے یہ دونوں آبادیاں (یعنی قوم لوط اور قوم شیعب کی) شاہراہ اعظم پر واقع ہیں تم اپنے سفروں میں ان کے پاس سے گذرتے ہو پھر عبرت کیوں نہیں پکڑتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–79

(ربط آیات) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ، (لوط (علیہ السلام) کی پیش کش) اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ لَظٰلِمِيْنَ 78؀ۙ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 78–79

ترکیب : الایکہ مجمع الشجر و مجمع الشی والجمع الایک و فی الاصل اسم للشجر الملتف والمراد بھا الموضعۃ التی ہی محل اشجار مزوجۃ وقیل اسم قریۃ قال ابوعبیدہ ایکہ و لی کہ مدینتھم کمکۃ و بکۃ واھلھا قوم شعیب کما ان اہل مدین امۃ (علیہ السلام) والحجر دیارثمود قال ابن جریرھی ارض بین الحجازوالشام۔ کما انزلنا کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی۔ ای لقد آیتناک سبعًا من المثانی اتیانا کما انزلنا لان آیتناک بمعنی انزلنا۔ وقیل ھو وصف المفعول الندیر اقیم مقامہ ای مثل العذاب الذی انزلنا علیھم عضین اجزاء جمع عضۃٍ واصلھا عضوۃ، بما تو مر ماصدر یہ ہے تو خدف نہیں اور جو بمعنی الذی ہے تو عائد محذوف۔ والمثانی جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 78–79

وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ لَظٰلِمِیْنَ ۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ م وَاِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ الحجر : 78۔ 79) (بیشک ایکہ کے باشندے بھی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ تو ہم نے ان سے بھی انتقام لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔ ) قوم لوط کے بعد دوسری معذب قوموں کا اجمالی تذکرہ قومِ لوط کی تباہی کے تذکرے کے بعد بعض دوسری قوموں کا اجمالی تذکرہ اور ان کی تکذیب کے انجام کو بیان کیا جارہا ہے اور اس طرح سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں، ہر پیغمبر ( علیہ السلام) کے ساتھ اس کی قوم نے ہمیشہ یہی کچھ کیا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 78–79

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط کے بعد اصحاب ایکہ کا انجام۔ ” اصحاب الایکۃ “ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ جنہیں تاریخ میں قوم مدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل مدین عرب کے باشندے تھے۔ مدین حجاز کی سر زمین کے متصل اور بحیرۂ لوط کے قریب ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے علاقہ میں نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف خطیب الانبیاء حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ یہ لوگ عقیدہ کے اعتبار سے کافر تھے۔ پرلے درجے کے راہزن، ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والے، خیانت اور ملاوٹ میں ملوث اپنے علاقے کے خاص قسم کے درخت کو متبرک سمجھ کر اس کی پوجا کرتے۔ اس درخت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تذکرہ قوم شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی ہلاکت : 78: وَاِنْ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ (بلاشبہ اصحاب الایکہ) بلاشبہ معاملہ اور حالت شان یہ ہے۔ کَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْکَۃِ یعنی جھاڑی والے لَظٰلِمِیْنَ (البتہ ظالم تھے) وہ قوم شعیب (علیہ السلام) ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(78) ” وان کان “ اور تھے ایکہ بستی والے ” اصحاب الایکۃ “ اس سے مراد گھنے درخت جھاڑ ی والے ” لظالمین “ کافر تھے۔ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جو گھنے جنگل میں رہتی تھی وہاں عموماً درخت گوگل کے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–85

73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 77–79

63۔ غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دل ودماغ کی دنیا ایمان و یقین کے نور سے منور ومعمور ہوتی ہے۔ ورنہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایسی تباہ شدہ بستیوں کے آثار و کھنڈرات کو محض ظاہری آنکھوں سے اور حیوانوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ وہاں پر پکنک کرتے، خرمستیاں کرتے، فوٹوگرافی کرتے اور اس طرح سبق لینے کی بجائے الٹامزید غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس قسم کے واقعات کو یونہی قدرتی حوادث قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں اور اس کی وہ طرح طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 77–78

ف 9 مراد ہیں اس علاقے کے رہنے والے جہاں اب شہر تبوک واقع ہے۔ اس علاقے میں ” ایکہ “ یعنی ایک گھنا جنگل تھا، اس لئے ان کو ” اصحاب ایکہ “ (بن والے) کہا گیا یہ اور اصحاب مدین دو الگ الگ قومیں تھیں اور ان دونوں کی طرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ (قرطی کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 77–78

(15:78) ان۔ ان کا مخفّف ہے۔ اصحب الایکۃ۔ ایکہ۔ بن۔ جنگل۔ گھنا جنگل۔ درختوں کا جھنڈ۔ جنگل کے بسنے والے یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 72–78

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[23] ایکہ کے لغوی معنی گھنے جنگل کے ہیں۔ یہ تبوک کا قدیم نام تھا۔ یہ علاقہ مدین سے متصل تھا اور یہاں کے لوگ شعیب (علیہ السلام) ہی کی امت تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 78–79

(ف 2) اصحاب ایکہ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جو جنگلوں میں آباد تھی ، ان کا اصل مسکن مدین تھا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

78 ۔ اور بلا شبہ بن کے رہنے والے بھی بڑے ظالم اور سرکش تھے ، یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–78

ف 2۔ یعنی عرب سے شام کو جاتے ہوئے ان کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

گھنے جنگل کے باشندے بھی بڑے ہی ظالم تھے : 78۔ یہ لوگ مدین سے متصل رہتے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی کی امت میں شامل تھے ۔ یہ مدین قوم بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد مدین مین جو بنو قطورا میں سے ایک تھے اور انہیں لوگوں کو دوسری جگہ اصحابہ الایکہ یعنی بند والے بھی کہا گیا ہے لیکن بعض ائمہ تفسیر کے ہاں یہ دو قومیں الگ الگ تھیں اگرچہ متقارب تھیں لیکن بعض اقوال ایسے بھی ملتے ہیں کہ ان ناموں کی قومیں مختلف نہیں تھیں بلکہ ایک ہی قوم کے دو نام تھے ، بہرحال یہ لوگ بڑے ظالم تھے ، ایکہ لغت میں گھنے درختوں کی جگہ کو کہتے ہیں ، مدین کا علاقہ بڑا زرخیز اور گنجان آباد تھا ہر طرف باغات اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–86

Commentary Aikah means a dense forest. There are other views too. Some commentators say that there was a dense forest near Madyan, therefore, Aikah is actually the title of the people of Madyan. Others have said that the people of Aikah and the people of Madyan were two different people. It was after the destruction of one of them that Sayyidna Shu'ayb (علیہ السلام) was sent to the other. In Tafsir Ruh al-Ma’ ani, the following marfu` hadith appears with reference to Ibn ` Asakir: اِنَّ مَدیَنَ و اَصحَابَ الاَیکَۃِ اُمَّتَان بَعَثَ اللہُ تَعَالٰی اِلَیھِمَا شُعَیباً Madyan and the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43. The people of Al-Aikah were the community of Prophet Shuaib (peace be upon him) and were called Midianites after the name of their capital city and their territory. As regards Al-Aikah, it was the ancient name of Tabuk and literally means a thick forest.

Read the full tafseer →