Explained with ayahs 73–77
آل ہود کا عبرتناک انجام
سو رج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کردینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہوگیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورة ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لئے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
سورة الْحِجْر 42
یعنی حجاز سے شام اور عراق سے مصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتا ہے اور عموما قافلوں کے لوگ تباہی کے ان آثار کو دیکھتے ہیں جو اس پورے علاقے میں آج تک نمایاں ہیں۔ یہ علاقہ بحر لوط (بحیرہ مردار) کے مشرق اور جنوب میں واقع ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے جنوبی حصے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔
Read the full tafseer →آج کل آثار قدیمہ کے محکمہ نے کچھ رہائشی عمارتیں ہوٹل وغیرہ بھی بنا دئیے ہیں اور آخرت سے غافل مادہ پرست طبیعتوں نے آج کل اس کو ایک سیر گاہ بنایا ہوا ہے لوگ تماشے کے طور پر اسے دیکھنے جاتے ہیں قرآن کریم نے اسی غفلت شعاری پر تنبیہ کیلئے آخر میں فرمایا (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی درحقیقت تو یہ واقعات و مقامات ہر چشم بصیرت رکھنے والے کیلئے عبرت آموز ہیں لیکن اس عبرت سے فائدہ اٹھانے والے مؤمنین ہی ہوتے ہیں دوسرے لوگ ان مقامات کو ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر روانہ ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
تفسیر آیات 75 تا 77: إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (75) وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُقِيمٍ (76)إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ (77)۔ " توسم " کے معنی بھانپنے تاڑنے اور کسی عبرت انگیز چیز سے درس عبرت حاصل کرنے کے ہیں۔ " سبیل مقیم " چلتا راستہ، عام گزرگاہ۔
قریش کے لیے درس عبرت : قوم لوط کی سرگزشت سنانے کے بعد اب یہ پہلے کفار قریش کو توجہ دلائی کہ اگر وہ آنکھیں رکھتے ہیں تو معذب بستیوں سے درس عبرت حاصل کریں جو ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں بلکہ وہ ایسے چلتے راستہ پر واقع ہیں جن سے آئے دن ان کو گزرنا پڑتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ سدوم اور عمورہ کی بستیاں حجاز اور شام کے تجارتی راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76۔ 1 مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ نے اپنے بازو پر انھیں اٹھایا اور آسمان پر چڑھ گئے حتٰی کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں اور پھر ان کو زمین پردے مارا (ابن کثیر) مگر اس بات کی کوئی سند نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
26: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف آیت 85 تا 93 میں گذر گیا ہے تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
آیت نمبر 75 تا 77
یہ تھی تصدیق ایک سچے ڈرانے والے کی ، فرشتوں کا نزول دراصل اعلان نزول عذاب الٰہی تھا اور جب یہ عذاب آتا ہے تو پھر وہ ٹلتا نہیں اور نہ اس میں تاخیر ممکن ہوتی ہے اور نہ پھر مہلت عمل ملتی ہے۔
٭٭٭
یہی صورت حال اصحاب ایکہ کو پیش آئی جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دعوت تھے۔ (ایکہ کا مفہوم گھنے جنگلات والے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب ایکہ اور قوم مدین کی طرف بھیجے گئے تھے ) یہی حالات قوم صالح کے ساتھ پیش آئے جنہیں حجر والے بھی کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی ان کھنڈرات کو دیکھ کر بالخصوص مومنین کو عبرت ہوتی ہے، کیونکہ وہ ہی سمجھتے ہیں کہ اس قوم کی بدکاری اور سرکشی کی سزا میں یہ بستیاں الٹی گئیں۔ مومنین کے سوا دوسرے لوگ تو ممکن ہے انھیں دیکھ کر محض بخت و اتفاق یا اسباب طبیعہ کا نتیجہ قرار دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
آیت 76 وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ
قوم لوط کی یہ بستیاں اس شاہراہ عام پر واقع تھیں جو یمن بحیرۂ عرب اور شام بحیرۂ روم کے ساحلوں کو آپس میں ملاتی تھی۔ مشرقی ممالک ہندوستان ‘ چین ‘ جاوا ‘ ملایا وغیرہ سے یورپ جانے کے لیے جو سامان آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اتارا جاتا تھا اور پھر اس راستے سے تجارتی قافلے اسے شام اور فلسطین کے ساحل پر پہنچا دیتے تھے۔ اسی طرح یورپ سے مشرقی ممالک کے لیے آنے والا سامان شام کے ساحل پر اترتا تھا اور یہی قافلے اسے یمن کے ساحل پر پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ اس وقت نہر سویز بھی نہیں بنی تھی اور ”راس امید“ والا راستہ Around the Cape of Good Hope بھی دریافت نہیں ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
39 متوسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرائن و علامات اور آثار سے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہوں یعنی غور و فکر اور دھیان کرنے والے اہل دانش کے لیے اس واقعہ لوط میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔
Read the full tafseer →65۔ کہ وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، اور اسے بخت واتفاق یا اسباب طبعی پر محمول نہیں کرتے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین بلاشبہ اس بیان میں مؤمنوں کیلئے نشانی ہے۔ یعنی ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ بیان اللہ کی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(76۔ 77) اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی یہ بستیاں ایک آباد سڑک پر ملتی ہیں جس پر ہر وقت لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے اور ان کی ہلاکت میں اہل ایمان کے لیے بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی ابراہیم اور لوط ؑ کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ ”لَاٰيَةً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں ”لَاٰيَةً“ واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت نمبر 76 تا 79
قولہ تعالیٰ : وانھا مرا دحضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ لبسبیل مقیم یعنی اے محمد ! ﷺ آپ کی قوم کے راستے پر شام کی طرف واقع ہیں۔ ان فی ذلک لایۃ للمؤمنین یعنی یقیناً یہ تصدیق کرنے والوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ وان کان اصحب الایکۃ لظلمین اس میں اصحاب الایکہ سے مراد حجرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے، وہ جنگلوں، باغوں اور پھلدار درختوں کے مالک لوگ تھے۔ اور الایکہ سے مراد الغیضۃ ہے اور اس سے مراد درختوں کا جھنڈ ہے۔ اور جمع الایک ہے۔ روایت ہے کہ ان کے درخت کھجور کے درخت کے مشابہ تھے اور وہ گوگل کے درخت تھے۔ نابغہ نے کہا ہے :
تجلو بقادمتی حمامۃ أیکۃ بردا أسف لثاتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيَةً : یقینا ایک نشانی ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
رحمتہ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا اعزاز، اللہ جل شانہ نے آپ کی جان کی قسم کھائی ہے
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں اپنے حبیب مصطفیٰ ﷺ کی جان کی قسم کھائی ہے صاحب روح المعانی ص 42 ج 14 نے امام بیہقی کی دلائل النبوۃ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے بڑھ کر کوئی معزز و مکرم جان پیدا نہیں فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کے علاوہ کسی بھی حیات کی قسم نہیں کھائی، یہاں سرسری طور پر جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا تو ممنوع ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی قسم کیوں کھائی ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
25:۔ ترتیب قصہ میں یہ ” مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ “ کے بعد ہے۔ ” مُشْرِقِیْنَ “ یہ ” اَخَذْتُھُمْ “ میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی عذاب نے ان کو سورج چمکنے تک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عذاب کی ابتداء صبح صادق سے ہوئی اور سورج چمکنے تک ان کا کام تمام کردیا گیا۔ قیل اول العذاب کان عند الصبح وامتد الی شروق الشمس فکان تمام الہلاک عند ذلک (قرطبی ج 10 ص 42) ۔ ” اَلْمُتَوَسِّمِیْنَ اي الْمُتَفَکِّرِیْنَ “ یعنی دھیان دینے اور غور و فکر کرنے والے اصل میں اس کے معنی ہیں الناظرین الی سمۃ الشیء۔ یہاں سوچ بچار سے کنایہ ہے۔ ” سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ “ شاہراہ عام جرنیلی سڑک، قائم اور ثابت راستہ جو ابھی تک موجود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–79
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،
(لوط (علیہ السلام) کی پیش کش)
اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 77ۭ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
2 ؎ بحیرہ مردار اس کے کنارے چند بستیاں تھیں سدوم و عمورہ وغیرہ ان کی ہدایت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا لوط (علیہ السلام) کی بیوی انہیں بستیوں کی رہنے والی تھی دو بیٹیوں کے سوا اور کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تھی ان بستیوں کے لوگوں میں علاوہ کفروبت پرستی کے اغلام کی بھی سخت عادت تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نصیحت کرتے تھے مگر وہ کب ماننے والے تھے۔ آخر ان کی بربادی کے لیے فرشتے لڑکوں کی صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس بھی آئے۔ لوط (علیہ السلام) قوم کی عادت سے واقف تھے اول تو ان مہمانوں کے آنے سے ناخوش ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ ۔ فَجَعَلْنَا عَلِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ۔ وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 73۔ 74۔ 75۔ 76۔ 77)
(پس آلیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا۔ پس ہم نے ان کی بستی کو زیروزبر کردیا اور ہم نے ان پر برسائے کھنگر کے پتھر۔ بیشک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ اور یہ بستی ایک شاہراہِ عام پر ہے بیشک اس سرگزشت کے اندر اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔ )
نزولِ عذاب
قومِ لوط (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدمعاشوں کی بدمعاشی کا منظر پیش کرنے کے بعد ان کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
ملائکہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ صبح کے وقت آپ کی قوم کو اللہ کا عذاب آلے گا۔ جونہی عذاب کی گھڑی آپہنچی تو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے پوری بستی کو اٹھایا اور اس قدر اونچا لے جا کر اسے الٹ کر زمین پردے مارا کہ بستی والوں کے چیخنے کی آوازیں آسمان کے ملائکہ تک نے سنیں۔
جس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سورج نکلنے کے قریب ہی وہ پکڑے گئے اور ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اور پھر ان پر پتھر برسائے گئے جن پر مخصوص نشان لگے ہوئے تھے۔ (الذاریات…
Read the full tafseer →77: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ایمان والوں کیلئے) کیونکہ وہی اس سے فائدہ (عبرت) حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(77)” ان فی ذلک لایۃ للمومنین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–85
73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
63۔ غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ایمان والوں کے لیے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جن کے دل ودماغ کی دنیا ایمان و یقین کے نور سے منور ومعمور ہوتی ہے۔ ورنہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایسی تباہ شدہ بستیوں کے آثار و کھنڈرات کو محض ظاہری آنکھوں سے اور حیوانوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ وہاں پر پکنک کرتے، خرمستیاں کرتے، فوٹوگرافی کرتے اور اس طرح سبق لینے کی بجائے الٹامزید غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس قسم کے واقعات کو یونہی قدرتی حوادث قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں اور اس کی وہ طرح طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 9 مراد ہیں اس علاقے کے رہنے والے جہاں اب شہر تبوک واقع ہے۔ اس علاقے میں ” ایکہ “ یعنی ایک گھنا جنگل تھا، اس لئے ان کو ” اصحاب ایکہ “ (بن والے) کہا گیا یہ اور اصحاب مدین دو الگ الگ قومیں تھیں اور ان دونوں کی طرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ (قرطی کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(15:78) ان۔ ان کا مخفّف ہے۔ اصحب الایکۃ۔ ایکہ۔ بن۔ جنگل۔ گھنا جنگل۔ درختوں کا جھنڈ۔ جنگل کے بسنے والے یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے…
Read the full tafseer →[22] لوط (علیہ السلام) کا قصہ سورة ہود آیت 77 تا 83 صفحہ 508 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →قوم کا وجود اخلاق سے تعبیر ہے :
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے ذکر کیا ہے ، تاکہ بدکردار لوگوں کو معلوم ہو کہ بدکرداری کا حشر کیا ہوتا ہے ، وہ قوم جس میں فواحش پھیل جائیں ، اور اخلاقی روحانیت کا اس میں خاتمہ ہوجائے ، اس کی ہلاکت قطعی اور یقینی ہے ، قومیں اپنے مادی سازوسامان کی وجہ سے زندہ نہیں رہتیں ، بلکہ ان کا قیام وبقاء دراصل اپنی اخلاقی قوتوں پر موقوف ہوتا ہے ، اس لئے بلاتخصیص کے یہ کلیہ درست ہے کہ جو قوم بگڑ چکی ہے جس کی حس اخلاقی مردہ ہوچکی ہے ، اس کے تن مردہ میں بقاء وحیات کے روح نہیں پھونکی جاسکتی ، اس کا ہٹ جانا حتمی اور لابدی ہے ۔
Read the full tafseer →77 ۔ یقینا ان عذاب شدہ بستیوں میں اہل ایمان کے لئے بڑی سبق آموز نشانی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ سے شام کو جاتے ہوئے وہ بستی راہ پر نظر آتی تھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ف 2۔ یعنی عرب سے شام کو جاتے ہوئے ان کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →بلاشبہ اس میں ایمان لانے والوں کیلئے بہت ہی نشانیاں ہیں :
77۔ اس میں ان لوگوں کیلئے جو اس کلام کو اللہ کا کلام سمجھتے ہیں بہت ہی نشانیاں ہیں ۔ اس سورت میں تین قوموں کے ایام ووقائع کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ان کے انکار و بدعملی اور شرارت وسرکشی کا نتیجہ کیسے درد ناک عذابوں کی شکل میں ظاہر ہوا اس وقت لوط (علیہ السلام) کی آبادیوں کا ذکر ہوا جن کی آبادیوں پر عرب کے قافلے گزرتے تھے اور ان کی ہولناک ہلاکتوں کے مناظر ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھے یعنی قوم لوط جس کی بستیاں عرب اور فلسطین کے درمیان شاہراہ عام پر واقع تھیں اس کے بعد قبیلہ مدین جس کی بستی بحر قلزم کے کنارے تھی اور حجاز سے فلسطین کی طرف…
Read the full tafseer →The local Department of Archaeology has set up some hotels and residential quarters at this site to attract tourists. The result is that people with an incorrigible infatuation with the material and who are equally dismissive of the concerns of the Hereafter have made this site a place of fun and frolic. People go there to enjoy the sights of the ancient. Lest such heedlessness becomes a habit, the Holy Qur’ an has served a warning towards the end by saying: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ (Surely, in it there are signs for the believers). It means: In reality, these sites and the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
42. That is, that smitten territory lies on the high road from Hijaz (Arabia) to Syria and Egypt. Travelers come across these signs of destruction which are very prominent in the territory that lies to the southeast of the Dead Sea. The geographers are of the opinion that there is no other land on the surface of the Earth which looks desolate as this territory, especially its southern part.
Read the full tafseer →