Explained with ayahs 89–93
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے
حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الہٰی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الہٰی کے شکار ہوں گے۔ المستعین سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء ؑ کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کرلیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صلح اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے اسی طرح قرآن میں ہے کہ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں الخ۔ اور جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
سورة الْحِجْر 52
اس گروہ سے مراد یہود ہیں۔ ان کو مُقْتَسِمِیْن اس معنی میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے دین کو تقسیم کر ڈالا، اس کی بعض باتوں کو مانا، اور بعض کو نہ مانا، اور اس طرح طرح کی کمی و بیشی کر کے بیسیوں فرقے بنا لیے۔ ان کے ”قرآن“ سے مراد توراۃ ہے جو ان کو اسی طرح دی گئی تھی جس طرح امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا ہے۔ اور اس ”قرآن“ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے سے مراد وہی فعل ہے جسے سورة بقرہ آیت 85 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ اَفَتُؤْ مِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ؟)۔ پھر یہ جو فرمایا کہ یہ تنبیہ جو آج تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
خلاصہ تفسیر
اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
تفسیر آیات 90 تا 91:۔ كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ (90) الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ (91)۔ اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 87 سے ہے یعنی پوری بات یوں ہے کہ ہم نے تمہیں سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح ان لوگوں پر اپنا کلام اتارا تھا جنہوں نے اس کے حصے بخرے کرکے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لیے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب بھی بدل ڈالی اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کرکے اس کے بعض کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے۔ سورة انعام آیت 92 میں ان کی اس شرار کا ذکر گزر چکا ہے۔ دوسرے آسمانی صحیفوں کے لیے لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
90۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کردیا، اس کے بعض حصے کے شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیر الأولین (پہلوں کی کہانیاں (قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح ؑ کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم
کھائی تھی کہ صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کردیں گے (تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ) 27۔ النمل :49) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
32: اس سے مراد یہود اور عیسائی ہیں، انہوں نے اپنی کتابوں کے حصے بخرے اس طرح کئے تھے کہ اس کے جس حکم کو چاہتے مان لیتے اور جس کی چاہتے خلاف ورزی کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر 90 تا 93
یعنی ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم دیا ہے۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جسے ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی۔ آپ اکیلے نبی نہ تھے جس کو کتاب دی گئی دوسرے انبیاء کو بھی دی گئی اور ان تمام کتابوں کی اصل الکتاب ہے۔ یہ واحد ہے اس کا مرجع ایک ہے کیونکہ سب کتب اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ اس لیے جن لوگوں پر اس سے قبل کتاب نازل ہوچکی ہے ، ان کا تو حق نہیں ہے کہ وہ کسی کتاب کا انکار کریں کیونکہ کتاب نازل کرنے والا خالق حقیقی بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کس دور میں لوگوں کو کس ضابطے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور اس کو تقسیم کرلیا ہے ، ایک حصے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
4 اس آیت کے معنی کئی طرح کیے گئے ہیں۔ بعض نے کہا کہ " مُقْتَسِمِیْن " (بانٹنے والوں) سے مراد آپ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ وغیرہ ہیں جنہوں نے قرآن کی تقسیم و تحلیل کر رکھی تھی۔ یعنی جو مضمون قرآنی ان کی تحریفات یا آراء و اہواء کے موافق پڑجائے مان لو، جو خلاف ہو نہ مانو۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے " سبع مثانی " اور " قرآن عظیم " دے کر بھیجا جیسے ان لوگوں پر بھی پہلے کتابیں نازل کی تھیں۔ آپ ﷺ پر کتاب اتارنا یا وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں جس کا انکار کیا جائے بعض نے " مُقْتَسِمِیْنَ " سے یہود و نصاریٰ مراد لے کر لفظ قرآن سے کتب سابق مراد لی ہیں۔ یعنی انہوں نے تحریف کر کے اپنی کتابوں کو پارہ…
Read the full tafseer →آیت 91 الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ
اس آیت کے مفہوم کے سلسلے میں مفسرین نے مختلف آراء بیان کی ہیں۔ اس ضمن میں زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ یہاں لفظ ”قرآن“ کا اطلاق تورات پر ہوا ہے۔ جیسا کہ سورة سبا کی آیت 31 میں فرمایا گیا : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ یعنی کفار کہتے ہیں کہ نہ اس قرآن پر ایمان لاؤ اور نہ اس پر جو اس سے پہلے تھا۔ تو گویا تورات بھی قرآن ہی تھا اور یہود نے اپنے مفادات کے لیے اپنے اس قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا۔ ان کے اس کارنامے کا تذکرہ سورة الانعام کی آیت 91 میں اس طرح ہوا ہے : تَجْعَلُوْنَہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
49 قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول :۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے، قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے، بعض آیات کو چھپا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
79۔ (اور بعض ٹکڑوں کو جو اپنی مرضی کے مطابق ہوتے تھے، لے لیتے تھے، اور جن حصوں کو اپنے لیے ناخوشگوار پاتے تھے، ان سے انکار کردیتے تھے) یہ حال شروع شروع میں سب ہی منکرین قرآن کا تھا۔ اس کی صداقت کے وہ سو فیصدی منکر نہ تھے، جن حصوں کو چاہتے مان لیتے اور جسے نہ چاہتے نہ مانتے۔ یہاں انہی کا ذکر ہے کہ بالآخر وہ کیسے پارہ پارہ اور معذب ہو کر رہے۔ آیت اگر مدنی ہے جب تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ صاف منکرین تباہ شدہ وہلاک شدہ کے انجام کی جانب اشارہ ہے۔ لیکن اگر مکی ہے تو مستقبل کا جو واقعہ یقنی طور پر قطعی ہوتا ہے۔ اس کے لیے عربی اسلوب بیان میں ماضی کا صیغہ لانا عام ہے اور قرآن مجید میں اس کی مثالیں ایک آدھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
آیت نمبر 80 تا 99
ترجمہ : اور حجر والوں نے حجر، مدینہ اور شام کے درمیان ایک وادی ہے اور وہ ثمود تھے صالح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کرکے (سب) رسولوں کی تکذیب کی، اسلئے کہ صالح (علیہ السلام) کی تکذیب باقی رسولوں کی بھی تکذیب ہے اسلئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں اور ہم نے ان کو ناقہ کی شکل میں اپنی نشانیاں بھی دیں مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے یعنی انہوں نے ان نشانیوں میں غور و فکر نہیں کیا، اور لوگ بےخوف ہو کر پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے آخر انھیں بھی صبح ہوتے ایک زور دار آواز نے آپکڑا پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے ان کو عذاب دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیا یعنی ان کے قلعوں نے…
Read the full tafseer →الذین جعلوا القران عضین یعنی آسمانی کتاب کے مختلف اجزاء قرار دئیے تھے (بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے ‘ تم پر بھی نازل کریں گے) ۔
سائل نے دریافت کیا : عِضِیْنَ کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا : بعض حصہ پر ایمان لائے ‘ بعض کا انکار کردیا۔
عِضِیْن ‘ عضَۃٌ کی جمع ہے۔ عضَۃٌ کا معنی ہے : ٹکڑا ‘ ایک پارہ (قاموس) عضَۃٌ کی اصل عِضْوَۃٌ تھی۔ عضی الشاۃ اس نے بکری کے اعضاء جدا جدا کر دئیے۔ یہود و نصاریٰ نے بھی قرآن کے دو ٹکڑے کر دئیے تھے ‘ ایک کو حق اور دوسرے کو باطل کہتے تھے۔ جس کو حق کہتے تھے ‘ اس کے متعلق کہتے تھے : یہ توریت و انجیل کے موافق ہے ‘ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور جس حصہ کو باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
(88۔ 89۔ 90۔ 91۔ 92۔ 93۔ 94۔) اور ہم نے جو اموال بنی قریظہ اور نضیر یا یہ کہ قریش کے لوگوں کو دے رکھے ہیں آپ ان کی طرف رغبت سے اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں کیوں کہ ہم نے آپ کو نبوت واسلام اور قرآن کریم کے ذریعے سے جو اعزاز واکرام عطا کیا ہے، وہ ان کے عطا کردہ اموال سے کہیں بڑھ کر ہے اور اگر یہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے اور مسلمانوں پر شفقت کیجیے اور ان پر مہربان ہوجائیے اور فرمائیے اور فرما دیجیے کہ میں تمہیں ایسی زبان میں جس کو تم جانتے ہو، عذاب الہی سے ڈرانے والا رسول ہوں۔
جیسا کہ ہم نے اپنا عذاب بدر کے دن اصحاب عقبہ یعنی ابوجہل، ابن ہشام، ولید بن مغیرہ بن مخزومی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ۔۔ : ”الْمُقْتَسِمِيْنَ“ یہ ”قَسْمٌ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، ”تقسیم کرنے والے۔“ قرطبی نے فرمایا : ”عِضِیْنَ“ ”عِضَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کسی چیز کا جز یا ٹکڑا ہے۔ ”عَضَا یَعْضُوْ عَضْوًا الشَّیْءَ“ اور ”عَضّٰی یُعَضِّی الشَّیْءَ“ ”کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔“ ہر ٹکڑا ”عِضَۃٌ“ کہلاتا ہے، اس کے آخر سے واؤ حذف کرکے تاء لائی گئی ہے۔ ”اَلْقُرْاٰنَ“ قرآن مجید کا نام ہے، پہلے انبیاء کی کتابوں کو بھی ”قرآن“ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی پڑھی جاتی تھیں، گویا کتاب اور قرآن کا لفظ سب کے لیے ہے۔ ہمارے قرآن کے لیے عموماً ”ھٰذَا الْقُرْآنُ“ یا ”ذٰلِکَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 91
یہ باٹنے والوں کی صفت ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہے اور اسکی خبر لنسئلنھم ہے۔ اور عضین کی واحد عضۃ ہے، یہ عضیت الشئ تعضیۃ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اسے متفرق کردیا اور ہر فرقہ (اور گروہ) عضۃ کہلاتا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ اصل میں عضوۃ تھا پس اس سے واؤ کم کردی گئی، اور اسی وجہ سے اس کی جمع عضین ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا ہے : عذین عذۃ کی جمع ہے۔ اور یہ اصل میں عزوۃ تھا، اور اسی طرح ثبۃ اور اس کی جمع ثبین ہے۔ اور معنی اسی کی طرف لوٹتا ہے جو ہم نے مقتسمین کے ضمن میں ذکر کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ بعض (قرآن) کے ساتھ ایمان لائے اور بعض کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تمدن عینیک “ سے مراد ہے کہ آدمی کو منع کردیا گیا کہ وہ کسی دوسرے کے مال کی تمنا کرے۔
دنیا کے مال ومتاع سے نظریں بچانا :
2:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبیلہ کے اونٹ کے پاس سے گذرے ان کو بنوالملوح یا بنو المصطلق کہا جاتا تھا موٹاپے کی وجہ سے وہ اونٹ اپنے پیشاب کی جگہ میں روکا گیا آپ ﷺ نے اپنا کپڑا چہرہ مبارک پر ڈالا اور آپ گزرے اور ان کی طرف نہ دیکھا اس قول کی وجہ سے (آیت) ” لا تمدن عینیک “ (الآیۃ)
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ازواجا منہم “…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ جَعَلُوا : بنایا ] [ الْقُرْاٰنَ : قرآن کو ] [ عِضِيْنَ : ٹکڑے ٹکڑے ]
ع ض و
[عَضْوًا : (ن) متفرق کرنا۔ الگ الگ کرنا۔]
[ عِضْۃٌ ج عِضُوْنَ ۔ حصّہ۔ ٹکڑا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 91 ۔]
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ عضین جمع عضۃ واصلھا عضوۃ بکسر العین وفتح الضاد بمعنی جزء فھو معتل اللام من عضاہ بالتشدید جعلہ اعضاء و اجزاء اللہ تعالیٰ کا ارشاد عضین یہ عضۃ کی جمع ہے اس کی اصل عضوۃً ہے عین کے کسرہ اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ اس کا معنی ہے جزء اور وہ معتل اللام ہے اس کو کہتے ہیں جسے اسے سختی سے حصوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہو۔ (کذا فی الروح ص 83 ج 14)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–99
تلقین صبر بر ایذائے اہل استہزاء و تمسخر
قال اللہ تعالیٰ : وما خلقنا السموت والارض .... الیٰ .... حتی یاتیک الیقین۔
(ربط) گزشتہ رکوعات میں پہلی امتوں کے معاندین کے حال اور مال کو بیان کیا۔ اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو عفو اور صبر کی تلقین فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے زمانے کے معاندین کی ایذاء اور تمسخر پر صبر کریں اور کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جو لوگ آپ ﷺ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں ان کی فکر نہ کریں ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ آپ ﷺ بےخوف و خطر تبلیغ اور دعوت کو جاری رکھیں اور تسبیح وتحمید اور عبادت میں لگے رہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور نہیں بنایا ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
34:۔ یہ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ کی صفت کاشفہ ہے انہوں نے قرآن مجید کے بھی حصے بخرے کر رکھے تھے۔ کبھی کہتے یہ جاو ہے، کبھی شاعری بتاتے اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ دیتے۔ ” فَلَنَسْاَلَنَّھُمْ “ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ صَدْعٌ کے معنی اظہار کے ہیں یعنی جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو علانیہ اور برملا بیان کریں۔ اور مشرکین کے استہزاء و تمسخر کی پروا نہ کریں۔ یا صدع الزجاجۃ سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح شیشے کو توڑ کر اس کے اجزاء کو الگ الگ کردیا جاتا ہے آپ مسئلہ توحید کو اس طرح واضح کر کے بیان کریں کہ حق و باطل الگ الگ ہوجائیں (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ 91
عض
العَضُّ : أَزْمٌ بالأسنان . قال تعالی: عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنامِلَ [ آل عمران/ 119] ، وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ [ الفرقان/ 27] ، وذلک عبارة عن النّدم لما جری به عادة الناس أن يفعلوه عند
ذلك، والعُضُّ للنّوى «1» ، والذي يَعَضُّ عليه الإبلُ ، والعِضَاضُ : مُعَاضَّةُ الدّوابِّ بعضها بعضا، ورجلٌ مُعِضٌّ: مبالغٌ في أمره كأنّه يَعَضُّ عليه، ويقال ذلک في المدح تارة، وفي الذّمّ تارة بحسب ما يبالغ فيه، يقال : هو عِضُّ سفرٍ ، وعِضٌّ في الخصومة «2» ، وزمنٌ عَضُوضٌ: فيه جدب، والتَّعْضُوضُ : ضربٌ من التّمر يصعُبُ مَضْغُهُ.
( ع ض ض ) العض ۔ کسی چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
کَمَا اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ ۔
(سورۃ الحجر : 90۔ 91)
(اسی طرح ہم نے اتارا تھا ان تقسیم کرلینے والوں پر۔ جنھوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیے۔ )
مقتسمین سے کیا مراد ہے
مفسرین نے ان آیتوں کے مختلف مطالب بیان کئے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد اشرافِ قریش ہیں۔ انھوں نے قرآن کریم کا راستہ روکنے اور لوگوں کو انحضرت ﷺ سے بدگمان کرنے کے لیے عجیب طریقہ اختیار کیا۔ ولید بن مغیرہ کو اس سازش کا سرغنہ ٹھہرایا گیا۔ اس نے ایک اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی ڈیوٹیاں لگائیں اور ان کو مکہ کی مختلف وادیوں میں پھیلا دیا۔ ممکن ہے یہ انتظام حج کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورة فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔
ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر…
Read the full tafseer →91: الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ (وہ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا) عضین جمع عضۃ بمعنی جزء۔ اصل میں یہ عضوۃ بروزن فعلۃ ہے۔ یہ عضی الشاۃ سے لیا جبکہ اس کے اعضاء الگ الگ کر دئیے جائیں جبکہ انہوں نے اپنے عناد کی وجہ سے کہا کہ قرآن کا بعض حصہ تورات و انجیل کے موافق ہے اور بعض حصہ اس کے مخالف اور باطل ہے۔ انہوں نے حق و باطل کی طرف اسکی تقسیم کردی۔ اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
نمبر 3۔ مشرکین قرآن کا مذاق اڑاتے اور آپس میں کہتے تھے سورة بقرہ تو میرے لئے دوسرا کہتا سورة آل عمران میرے لئے نمبر 3۔ قرآن سے مراد وہ لیا جائے جو وہ اپنی کتابوں میں پڑھتے تھے۔ اور اس کو بھی انہوں نے تقسیم کر رکھا…
Read the full tafseer →(91)” الذین جعلو ا القرآن عضین “ یعنی اس کے اجزاء اور اعضاء کردئیے ۔ یعنی بعض پر وہ ایمان لے آئے اور بعض کا انکار کیا۔
مقتسمین اور عضین کی مختلف تفسیریں
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ” المقتسمین “ سے مراد یہودو نصاریٰ ہیں اور قرآن سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اہل کتاب پڑھتے تھے۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتاب کو پہچان تو لیا تھا مگر اس کو چھوڑ دیا تھا۔
بعض علماء نے کہا کہ ” المقتسمین “ سے مراد ہیں قرآن کے مختلف خیالات رکھنے والے کافر، کوئی قرآن کو جادو کہتا تھا کوئی شاعری، کوئی کہانت اور کوئی داستان پارینہ اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقتسام سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق ان کے اقوال بٹے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
89۔ 91۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول صلعم کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلاً جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورت النحل میں آوے گا۔{ کما انزلنا علی المقتسمین } کی تفسیر میں مفسروں کا بہت اختلاف ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ قول کہ یہ لوگ وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے قرآن کی طرح سے تقسیم کر ڈالی کہ بعض احکام پر اس کے ایمان لائے اور بعض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
آیت 86
یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بےپایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بیشک آنے والی ہے “ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
75۔ منکریں و مکذبین کے لیے بڑی تنبیہ : سو اس میں یہ تنبہیہ ہے کہ موجودہ دور کے منکرین پر بھی عذاب اسی طرح آسکتا ہے جیسا کہ پہلوں پر آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے ایک ہے۔ اور جس جرم کا ارتکاب ان لوگوں نے کیا تھا آج اسی کے مرتکب یہ لوگ ہورہے ہیں، پس ان کو سنبھل جانا چاہئے اور اپنی روش بدل لینی چاہیے۔ یہ (کما انزلنا) کی تفسیر کا ایک احتمال ہے۔ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ نے اپنے ترجمہ کے اندراسی کو اختیار فرمایا ہے، جب کہ اس میں دوسرا احتمال جس کو دوسرے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے یہ بھی کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم اسی طرح عطا کیا جس طرح کہ ہم نے اس سے پہلے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
اعلانیہ تبلیغ کا حکم
تشریح : ان آیات میں کفار کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اسلام کی اشاعت و تبلیغ علانیہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آخر میں مصیبت و پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ قرآن کے ٹکڑے کرنے والوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کے احکامات کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، یعنی جو دل چاہا حکم مان لیا اور جو دل نہ چاہا حکم نہ مانا۔ اس کام کی پوچھ ان سے ضرور ہوگی کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک انسان ہی تھے۔ رسالت کے بعد آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر جو کچھ ظلم و ستم ہوا وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تو آپ بھی پریشان ہوجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–99
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
اور اصحاب حجر بھی جنہیں ثمود کہا گیا ہے نے بھی اللہ جل جلالہ کے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ انہیں بہت روشن معجزات عطا ہوئے تھے مگر ان لوگوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ محض دنیاوی اسباب پہ بھروسہ کرنے میں لگے رہے ان لوگوں نے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے کہ یہ مضبوط مکان انہیں امن وسلامتی مہیا کریں گے مگر انہیں بھی ویسی ہی زبردست چنگھاڑ نے صبح کے وقت آلیا اور حفاظت کے جس قدر مادی اسباب انہوں نے بنائے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آسکے کہ یہ ارض وسما کی تخلیق یا یہ نظام عالم بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے اور بظاہر اسباب خواہ کیسے نظر آ رہے ہوں کفر اور برائی پر ہمیشہ سزا ملتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
ف 7 یعنی کفار مکہ کے چالی یا سولہ آدمی جنہوں نے ولید بن مغیرہ کے حکم سے حج کے موقع پر مکہ کے راستے بانٹ لئی تھے کہ آنحضرت تک کسی کو نہ پہنچنے دیں گے اور قرآن کی تکابوٹی کرنے کے یہ معنی ہیں کہ کسی نے قرآن کو سحر کہا اور کسی نے شعراء اور کسی نے پہلوان کی کہانیاں الغرض اس طرح انہوں نے قرآن کی تکذیب کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے اور مختلف عنوانوں سے اسے باطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن کے حصے کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مرضی کے موافق ہوا اسے مان لیا اور جسے اپنی مرضی کے خلاف پایا اس سے انکار کردیا اور پہلے انبیاء کی مخالفت کی وجہ سے ان پر مختلف عذاب آچکے تھے اس صورت میں قرآن…
Read the full tafseer →(15:91) یہ آیت المقتسمین کی صفت ہے۔
عضین۔ پارہ پارہ۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ یہ العضۃ سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کا ٹکڑا۔ اس کی جمع عضون وعضین ہے اسی سے العضو اور العضو ہے جس کا معنی ہیں۔ بدن کا ایک حصہ یا ٹکڑا۔ جعلوا القران عضین جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ یعنی کسی نے کہا کہ جادو ہے اور کسی نے کہا کہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور قصے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بعض نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مفہوم یہ بیان کیا کہ انہوں نے بعض باتیں مان لیں اور بعض کا انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–99
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 99
اتینک ہم نے تجھے دیا۔ سبع سات۔ المثانی بار بار پڑھی جانے والی چیز۔ لاتمدن ہرگز نہ پھیلا، ہرگز نہ بڑھا۔ عینیک اپنی آنکھیں۔ متعنا ہم نے سامان دیا ۔ ازواج جوڑے۔ قسم قسم کی چیزیں۔ اخفض جھکائے رکھ۔ جناح پر، بازو۔ المقتسمین تقسیم کرنے والے۔ بانٹنے والے، عضین (عضو) ۔ ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔ نسئلن ہم ضرور پوچھیں گے۔ اصدع صاف صاف کہہ دے ۔ اعرض منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے۔ کفیناک ہم تیرے لئے کافی ہیں یضیق تنگ ہوتا ہے۔ الیقین یقینی بات۔ موت۔
تشریح :- آیت نمبر 87 تا 99
سورۃ الحجر کی آخری آیات جن پر اس سورت کو مکمل فرمایا گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زیب وزینت اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
آنحضرت ﷺ کو نصیحت کرنے کا حکم
اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو حکم فرمایا کہ تم لوگوں سے کہہ دو کہ میں ویسا ہی ڈرانے والا ہوں جس طرح پہلے رسولوں نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا اور قوم نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایذا رسانی پر قسمیں کھا بیٹھے۔ آخر ان پر عذاب نازل ہوا مثلا جیسے ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت پر آپس میں قسما قسمی کی تھی جس کا ذکر سورة النحل میں آوے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بانٹنے والوں سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں چونکہ وہ قرآن کریم کے کچھ حصہ پر ایمان لائے جو ان کے خیال میں ان کی کتابوں کے موافق تھا کچھ کے منکر ہوگئے۔ بعض مفسروں (مفسرین) نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
[33] یہ اشارہ یہود کی طرف ہے جنہوں نے حق کو چھپانے کے لئے اپنے قرآن یعنی تورات کی ترتیب کو بھی بدل ڈالا اور اس کو مختلف اجزا میں تقسیم کر کے اس کے بعض حصے کو چھپاتے اور بعض کو ظاہر کرتے۔ سورة انعام آیت 19 میں ان کی اس شرارت کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں ضمناً یہود کے اس اعتراض کا بھی جواب آگیا کہ تورات کے بعد اب کسی اور قرآن کی کیا ضرورت باقی رہی۔ جواب یہ ہے کہ اول تو وہ قرآن اپنی اصل شکل میں باقی کہاں رہا جن پر ان کو ناز ہے۔ اس کے تو انہوں نے حصے بخرے کر ڈالے۔ اگر وہ اپنی صحیح صورت میں باقی ہوتا تو خود اس میں اس نئے قرآن کی ضرورت کا ثبوت بھی مل جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–99
(ف 1) مقتسمین “۔ سے مرا دم کے والوں کا وہ گروہ ہے ، جو مکہ کی پہاڑیوں میں پھیل جاتا تھا ، اور حضور ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتا تھا ، جب دیکھتا کہ لوگ حضور ﷺ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں تو طرح طرح کے الزام تراشتے کبھی کہتے ، ساحر ہے کبھی کہتے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے ، بدعقیدہ ہے ، غرض یہ ہوتی کہ کسی نہ کسی طریق سے لوگ حضور ﷺ سے متنفر ہوجائیں ، اور حق کی پکار کو نہ سنیں ۔
(آیت) ” جعلوا القرآن عضین “۔ کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کے اعتراض والے حصوں کو اپنے زعم باطل کے مطابق چھانٹ لیتے ، اور لوگوں کے سامنے رنگ آمیزی کے ساتھ انہیں پیش کرتے ۔
مگر باوجود ان مکاریوں اور خباثتوں کے اسلام پھیل کر رہا ،…
Read the full tafseer →91 ۔ جنہوں نے قرآن کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر رکھا ہے۔ یعنی سابقہ اقوام کو جو آسمانی کتابیں عطا ہوئی تھیں اس میں لوگوں نے تقسیم کردی کہ کتاب کے بعض احکام مانے اور بعض نہیں مانے تو ہم نے ان پر عذاب بھیجا اسی طرح قرآن کریم کے ساتھ بھی یہ لوگ سلوک کر رہے ہیں ۔ اسی لئے پیغمبر ان کو عذاب سے ڈراتا ہے اور ہم بتاتے ہیں کہ عذاب کو دور نہ سمجھو جس طرح پہلے لوگوں پر عذاب نازل کیا گیا ہے اسی طرح ان لوگوں پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہے جنہوں نے قرآن کی تکا بوٹی کر رکھی ہے۔
حضرات مفسرین نے آیت کا ترجمہ کئی طرح سے کیا ہے حتیٰ کہ بعض حضرات نے مقتسمین کا ترجمہ بجائے تقسیم کے قسم کھانے والوں کیا ہے ہم نے ان اقوال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
ف 10۔ ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو خلاف مرضی ہوا اس سے انکار کردیا، مراد یہود و نصاری ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر :
ان لوگوں نے قرآن کریم کو بھی پارہ پارہ کردیا ہے :
91۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو پارہ پارہ کردیا ہے ” عضین “ ” عضۃ کی جمع ہے اور عضۃ کے معنی ہی ایک حصہ یا ایک پارہ اس کی اصل دراصل عضوۃ جس کے معنی اعضاء کو جدا جدا کرنا ہے ۔ اہل کتاب خصوصا اور مکہ لوگ عموما ایسا کرتے تھے کہ جو بات مطلب کی ہوتی اس کو بیان کرتے اور تائید قرآن کریم سے حاصل کرتے اور اگر قرآن کریم کی بات ان کے بنائے ہوئے خیال اور گھڑے ہوئے دین کے مخالف ہوتی تو فورا اس کا انکار کردیتے گویا جس معیار کیلئے قرآن کریم آیا تھا وہی معیار اس پر انہوں نے آزمانا شروع کردیا۔ قرآن کریم کی تعلیم الہی کا مطلب تو یہ تھا کہ اس الہی تعلیم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
Commentary
Surah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'an
That Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l
1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–98
52. The schismatic were the Jews for they had split their religion into many parts and caused division in it. They believed in certain parts and rejected the other parts, and detracted some things from it and added others to it. Thus they had been divided into many sectarian groups, which were opposed to one another.
“They have made the Quran (Torah) into pieces”means that they believe in certain parts of it and reject other parts. The same thing has been stated in (Surah Al- Baqarah, Ayat 85) like this: Do you then believe in one part of the Scriptures and disbelieve in the other parts.
This…
Read the full tafseer →