Explained with ayahs 6–9
سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے
کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53) 43۔ الزخرف :53) اس پر سونے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سورة الْحِجْر 6
یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم مجنون کہہ رہے ہو، یہ ہمارا نازل کیا ہوا ہے، اس نے خود نہیں گھڑا ہے۔ اس لیے یہ گالی اس کو نہیں ہمیں دی گئی ہے۔ اور یہ خیال تم اپنے دل سے نکال دو کہ تم اس ”ذکر“ کا کچھ بگاڑ سکو گے۔ یہ براہ راست ہماری حفاظت میں ہے۔ نہ تمہارے مٹائے مٹ سکے گا، نہ تمہارے دبائے دب سکے گا، نہ تمہارے طعنوں اور اعتراضوں سے اس کی قدر گھٹ سکے گی، نہ تمہارے روکے اس کی دعوت رک سکے گی، نہ اس میں تحریف اور ردوبدل کرنے کا کبھی کسی کو موقع مل سکے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور (یہ دعوی بلا دلیل نہیں بلکہ اس کا معجزہ ہونا اس پر دلیل ہے اور قرآن کے ایک اعجاز کا بیان تو دوسری سورتوں میں مذکور ہے کہ کوئی انسان اس کی ایک سورة کی مثل نہیں بنا سکتا دوسرا اعجاز یہ ہے کہ) ہم اس (قرآن) کے محافظ (اور نگہبان) ہیں (اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے یہ ایسا صریح معجزہ ہے جس کو ہر عام و خاص سمجھ سکتا ہے پہلا معجزہ کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور جامعیت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اس کو تو اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں مگر کمی بیشی نہ ہونے کو تو ایک ان پڑھ جاہل بھی دیکھ سکتا ہے)
معارف و مسائل
مامون کے دربار کا ایک…
Read the full tafseer →قرآن کی حفاظت کا ذمہ دار خود خدا ہے : اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو نہایت پرزور الفاظ میں تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (قریش) اس قرآن عظیم کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ یہ کتاب، تمہاری طرف سے کسی طلب و تمنا کے بغیر، ہم ہی نے تم پر اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کر رد کر رہے ہیں تو رد کردیں، خدا اس کے لیے دوسروں کو کھڑا کردے گا جو اس کو قبول کریں گے اور اس کی دعوت و حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی مضمون سورة انعام میں یہاں بیان ہوا ہے " فان یکفر بہا ھؤلا فقد وکلنا بہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی اس کو دست برد زمانہ سے اور تغیر وتبدل سے بچانا ہمارا کام ہے۔ چناچہ قرآن آج تک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح یہ اترا تھا، گمراہ فرقے اپنے اپنے گمراہانہ عقائد کے اثبات کے لئے اس کی آیات میں معنوی تحریف تو کرتے رہتے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں لیکن پچھلی کتابوں کی طرح یہ لفظی تحریف اور تغیر سے محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں اہل حق کی ایک جماعت بھی تحریفات معنوی کا پردہ چاک کرنے کے لئے ہر دور میں موجود رہی ہے، جو ان کے گمراہانہ عقائد اور غلط دلائل اور ثبوت بکھیرتی رہی ہے اور آج بھی وہ اس محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کو یہاں ' ذکر ' (نصیحت) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن…
Read the full tafseer →3: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم سے پہلے بھی آسمانی کتابیں بھیجی گئی تھیں، لیکن چونکہ وہ خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لیے آئی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، بلکہ ان کی حفاظت کا کام انہی لوگوں کو سونپ دیا گیا تھا جو ان کے مخاطب تھے، جیسا کہ سورة مائدہ آیت 44 میں فرمایا گیا ہے لیکن قرآن کریم چونکہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے، چنانچہ اس میں قیامت تک کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اس طرح فرمائی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…
Read the full tafseer →8 یعنی تمہارا استہزاء و تعنت اور قرآن لانے والے کی طرف جنون کی نسبت کرنا، قرآن و حامل قرآن پر قطعًا اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ یاد رکھو اس قرآن کے اتارنے والے ہم ہیں اور ہم ہی نے اس کی ہر قسم کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے جس شان اور ہیئت سے وہ اترا ہے بدون ایک شوشہ یا زبر زیر کی تبدیلی کے چار دانگ عالم میں پہنچ کر رہے گا اور قیامت تک ہر طرح کی تحریف لفظی و معنوی سے محفوظ و مضمون رکھا جائے گا۔ زمانہ کتنا ہی بدل جائے مگر اس کے اصول و احکام کبھی نہ بدلیں گے، زبان کی فصاحت و بلاغت اور علم و حکمت کی موشگافیاں کتنی ہی ترقی کرجائیں، پر قرآن کی صوری و معنوی اعجاز میں اصلاً ضعف و انحطاط محسوس نہ ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →آیت 9 اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ
یہ آیت مبارکہ بہت اہم ہے۔ جہاں تک اس کے پہلے حصے کا تعلق ہے تو یہ حکم تورات پر بھی صادق آتا ہے اور انجیل پر بھی۔ یعنی یہ دونوں کتابیں بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ قرآن میں اس کی بار بار تصدیق بھی کی گئی ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 44 میں تورات کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق اس طرح کی گئی ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ۔ سورة آل عمران کی آیت 3 میں ان دونوں کتابوں کا ذکر فرمایا گیا : وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں جو حکم آیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کی شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5 ذکر اور قرآن کا فرق :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بجائے ذکر کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا لغوی معنی یاددہانی یا نصیحت ہے۔ اگرچہ صفاتی پہلو سے قرآن کریم کا ایک نام ذکر بھی ہے تاہم یہ دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ جیسے سورة قمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54 ۔ القمر :17) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذکر جب یاد دہانی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ یعنی کتاب بھی اور وہ بصیرت بھی جو اللہ تعالیٰ کتاب کے بیان کے لیے اپنے رسولوں کو عطا فرماتا ہے۔…
Read the full tafseer →8۔ (کہ نہ آج مخالفین کے ہجوم شدید سے اسے مٹنے دیں گے، نہ قیامت تک اس کے کسی لفظ، کسی حرف کو کم ہونے دیں گے) قرآن کی جامعیت اکملیت، ابلغیت وغیرہ سے قطع نظر اس کی محفوظیت کامل، اور پھر شروع ہی سے دھڑلے سے اس کا اعلان بجائے خود ایک معجز دلیل اس کے کلام الہی ہونے کی ہے۔ دنیا کے کتب خانے کسی دوسری کتاب کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں، جو ساڑھے تیرہ سو سال سے، اپنے الفاظ، حروف نقوش سب کے لحاظ سے جوں کی توں چلی آرہی ہو۔ میور، پامر، آرنلڈ وغیرہ مشاہیر فرنگ کی راؤں کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی (آیت) ” انالہ لحفظون “۔ حفاظ وغیرہ انسانی مدد سے قرآن کا محفوظ رہ جانا، یہ وعدہ حفاظت الہی کے منافی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →انا نحن نزلنا الذکروا انا لہ لحفظون بلاشبہ ہم نے ہی قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اس کلام سے پرزور طور پر کافروں کے انکار اور استہزاء کی تردید کردی گئی۔ حفاظت کرنے سے مراد ہے : ہر قسم کی الفاظ کے تغیر ‘ ردّوبدل اور کمی بیشی سے حفاظت اب کسی طور پر بگاڑ اور تغیر اس میں ممکن نہیں۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں تحریف و تغیر کا امکان ہوتا اور دین کے دشمن نکتہ چینی کرسکتے۔ افسوس کہ رافضی گروہ اس آیت کے باوجود قرآن کو بگڑا ہوا (اور ناقص) قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (چالیس پارے تھے) حضرت عثمان نے دس پارے جلوا دئیے۔
بعض اہل تفسیر…
Read the full tafseer →(9) اے محمد ﷺ ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں کہ شیاطین میں سے کوئی بھی اس قرآن کریم میں کمی زیادتی نہیں کرسکتا اور نہ اس کے حکم میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے یا یہ کہ ہم کفار اور شیاطین سے رسول اکرم ﷺ کے محافظ ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ۔۔ : یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ ”قرآن“ کے بجائے لفظ ”ذکر“ استعمال فرمایا، جس میں سب سے پہلے قرآن آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ) [ یوسف : 2 ] ”بیشک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔“ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال یعنی حدیث بھی ذکر (نصیحت) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ ﷺ کو اپنا نازل کردہ ذکر قرار دیا، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۙرَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ) [ الطلاق : 10، 11 ]…
Read the full tafseer →آیت نمبر 9
قولہ تعالیٰ : انا نحن نزلنا الذکر یعنی ہم نے ہی اس قرآن مجید کو نازل کیا ہے۔ وانا لہ لحفظون اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اس سے کہ اس میں کوئی اضافہ اور زیادتی کی جائے یا اس سے کوئی کمی کی جائے۔ حضرت قتادہ اور ثابت بنانی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے کہ شیاطین اس میں کسی باطل کا اضافہ کریں یا اس سے کسی حق کی کمی کریں ؛ پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود اس کا ولی اور محافظ ہے اس لیے یہ ہمیشہ محفوظ رہے گا اور قرآن کریم کے علاوہ دوسری کتب کے بارے فرمایا : بما استحفظوا (المائدہ :44) پس ان کی حفاظت ان کے سپرد کردی تو انہوں نے انہیں بدل دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر “ میں ذکر سے مراد ہے قرآن۔
2:۔ امام ابوعبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ اس آیت سے لے کر (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء “ تا کی تقدیم اور تاخیر ہے اور فرمایا (آیت) ” فظلوا فیہ یعرجون “ یعنی اگر ہم کھول بھی دیتے ہیں ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ سارا دن اس میں اوپر چڑھتے رہتے (یعنی فرشتے) (آیت ) ” لقالوا انما سکرت ابصارنا “ تو یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔
3:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد…
Read the full tafseer →[انا نَحْنُ : بیشک ہم نے ہی ] [ نَزَّلْنَا : اتارا ] [ الذِّكْرَ : اس نصیحت کو ] [وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَهٗ : اس کی ] [ لَحٰفِظُوْنَ : یقینا حفاظت کرنے والے ہیں ]
نوٹـ1: حفاظت قرآن کے وعدے میں حفاظت حدیث بھی داخل ہے کیونکہ تمام اہل علم اس پر متفق ہیں کہ قرآن نہ تو صرف الفاظ قرآنی کا نام ہے اور نہ ہی صرف معانی ئِ قرآنی کا، بلکہ دونوں کے مجموعے کو قرآن کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معانی اور مضامین قرآنیہ تو دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں اور اسلامی تصانیف میں تو عموماً مضامین قرآنیہ ہی ہوتے ہیں، مگر ان کو قرآن نہیں کہا جاتا کیونکہ الفاظ قرآن کے نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا محافظ ہے
یہ چار آیات ہیں ان میں سے پہلی آیت میں منکرین رسالت کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ اے وہ شخص جس پر ذکر یعنی قرآن نازل کیا گیا ہے ہمیں تیرے دیوانہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ان کا اصل مقصود دیوانہ بتانا تھا آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی بتانے کی بجائے جو انہوں نے (الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ) (جس پر ذکر نازل کیا گیا) کہا ان کا یہ کہنا بطور تمسخر کے تھا کیونکہ وہ اس بات کو مانتے ہی نہیں تھے کہ اللہ کی طرف سے آپ پر وحی آتی ہے، دوسری آیت میں منکرین اور معاندین کی کٹ حجتی بیان فرمائی ہے اور تیسری آیت میں ان کی کٹ حجتی کا جواب دیا ہے ان لوگوں نے کٹ حجتی کے طور پر یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت
قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
(ربط آیات)
سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
[ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔
کفار کے استہزاء کے چند اسباب :
تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 9)
(بیشک ہم ہی نے اتارا ہے اس ذکر ( قرآن مجید) کو اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ )
قریش کی گالی کا جواب
دو آیتیں پہلے ہم نے پڑھا ہے کہ قریش نے آنحضرت ﷺ کو اس بات پر مجنون قرار دیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر قرآن نازل کیا گیا ہے۔ اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے نہیں بلکہ خود پروردگار نے نہایت زوردار طریقے سے دیا ہے۔ اس مختصر آیت میں تین مرتبہ ضمیر متکلم کو استعمال کیا گیا جس سے تاکید بالائے تاکید ثابت ہوتی ہے اور پھر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ اس بات کا اعلان فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یقینا یقینا یقینا ہم ہی نے اسے نازل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : سرور دوعالم ﷺ کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔
سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ ﷺ کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کو ” الصادق “ اور ” الامین “ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ…
Read the full tafseer →قرآن کے ہم محافظ :
9: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ (بیشک ہم نے ہی ذکرکو اتارا) ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں) اس میں ان کے انکار اور استہزاء کا رد ہے۔ جیسا کہ اس ارشاد میں یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ] الحجر : 6[ اسی لئے تو فرمایا : انا نحن۔ تاکیدات سے یہ پختہ کردیا کہ وہی قطعی طور پر اتارنے والے ہیں اور اسی نے ہی اس کو شیاطین سے محفوظ اتارا ہے۔ اور ہر وقت وہی اسکی کسی قسم کے اضافے و نقصان سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ اور تحریف و تبدیل سے بچانے والے ہیں۔ بخلاف پہلی کتابوں کے کہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی گئی۔ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔” انا نحن نزلنا الذکر “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” وانا لہ لحافظون “ کہ ہم اس قرآن کو شیطان سے محفوظ کرلیں گے کہ نہ وہ اس میں زیادتی کرسکے گا اور نہ اس میں کمی کرسکے گا اور نہ اس کو تبدیل کرسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “ والباطل سے مراد ابلیس ہے کہ وہ قرآن میں کسی قسم کی زیادتی پر قادر ہوگا نہ ہی وہ اس قرآن سے کسی قسم کی کمی کرسکے گا ۔ بعض نے کہا کہ ” لہ “ کی ضمیر محمد ﷺ کی طرف راجع ہے ۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا کہ ہم محمد ﷺ کی حفاظت فرمائیں گے ان کے ساتھ کوئی برائی کا ارادہ نہیں کرسکتا ، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ” واللہ یعصمک من الناس “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7۔ 9۔ اس سے پہلے ذکر تھا کہ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ تم پر قرآن وغیرہ کچھ نہیں اترا ہے سب جھوٹ ہے اور تم دیوانے ہوگئے ہو جو یہ دعویٰ رسالت کا کرتے ہو اور اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی باپ دادا کے پرانے مذہب بت پرستی سے چھڑا کر ایک خدا کی عبادت کو کہتے ہو اگر سچ مچ تم سچے ہو اور خدا نے تمہیں رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا ہے تو خدا تو تمہاری ہر ایک بات کو فوراً مان لے گا جو کہو گے وہ سنے گا تم اس سے کہو کہ آسمان سے فرشتہ کو بھیج دے وہ یہاں آکر ہم لوگوں سے تمہارا سب جھوٹ سچ کہہ دے فرشتے کے کہنے سے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ہاں تم خدا کے رسول ہو اور ہدایت کو بھیجے گئے ہو اور جس کتاب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ (یایھا الذی نزل علیہ الذکر) ” اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن “ یعنی تیرے زعم کے مطابق (انک لمجنون) ” بیشک تو دیوانہ ہے “ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذبہ کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (لوما تاتینا بالمآئکۃ) ” کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو “ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے “ اور چونکہ تیری تائید کیلئے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لئے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
12۔ قرآن حکیم کا محافط خود اللہ تعالیٰ :
اسی لیے یہ کتاب حکیم آج تک جوں کی توں محفوظ ہے، اور قیامت تک انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح محفوظ رہے گی، بخلاف پہلے والی آسمانی کتابوں کے، کہ ان کی حفاظت کی ذمہ خود ان کے حاملین پر ڈالی گئی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (بما استحفظوا من کتاب اللہ) الایۃ (المائدۃ : 44) یعنی " ان سابقہ کتابوں کا محافظ ان کے محافظین ہی کو بنایا گیا تھا " اس لئے ان کتابوں کو بدل کر کچھ کا کچھ بنادیا گیا ہے یہاں تک کہ موجودہ بائبل کے نام سے پائی جانے والی تورات و انجیل کی کتابیں ان میں حاملین کی تحریف وتلبیس اور دست برد سے آسمانی اور الہامی کی بجائے جنس (sex) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
کفار کا نبی ﷺ کو مجنون کہنا اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ
تشریح : اسی مضمون کی آیات پچھلے اسباق میں بھی گزر چکی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کفار مکہ اور آج کل کے کفار میں کوئی خاص فرق نہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ وہ ان پڑھ جاہل اور انتہائی وحشی لوگ تھے۔ ان کو سیدھے راستے پر لانا نبی اکرم ﷺ کا ہی حوصلہ تھا۔ آجکل کے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی صرف اپنی ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے، حالانکہ قرآن حکیم اتنا زبردست معجزہ ان کے سامنے ہے اسی سے سائنس اور حکمت کے بنیادی اصول لے کر بڑی بڑی سائنسی ایجادات کر رہے ہیں۔ مگر مانتے نہیں۔ قرآن میں جو کچھ حقائق بتائے گئے ہیں وہ اتنے محکم، پکے اور لازوال ہیں کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔
ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ اب رہا ” یہ ذکر “ جس کے لانے والے کو تم دیوانہ کہہ رہے ہو تو یہ ہمارا ہی نازل کردہ ہے۔ جس طرح قرآن اپنے نظم اور معنی کے اعتبار سے معجز ہے کہ جن و انس جمع ہو کر بھی اس جیسی ایک سورة نہیں بناسکتے۔ اسی طرح اس کا یہ بھی اعجاز ہے کہا اس میں ردو بدل نہیں ہوسکے گا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ وعدہ حیرت انگیز طریقہ پر پورا ہوا اور ہو رہا ہے۔ قرآن کے علاوہ دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جو چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود اس طرح محفوط ہو کہ اس کے کسی ایک حرف میں ردو بدل نہ ہوا ہو اور دنیا بھر میں قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں ادنیٰ سا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سینوں…
Read the full tafseer →(15:9) الذکر۔ آیت (6) میں کافروں نے قرآن مجید کو الذکر تعریضاً اور استہزاء کہا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسی لفظ کو دہرا کر فرمایا کہ یہ بیشک الذکر ہے یعنی یہ ایسی پندونصائح سے پُر اور شرف وعزت بخشنے والی کتا ہے کہ اس کے بعد کسی اور کتاب کو الذکر نہیں کہا جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9
یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔
تشریح : آیت نمبر 6 تا 9
جب نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
کفار کا حضور ﷺ سے تمسخر
مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قریش کو قرآن شریف کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور قریش سے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو قریش نے دو باتیں کہیں : اول تو یہ کہ اللہ کے رسول کو انہوں نے دیوانہ بتلایا۔ دوسری بات یہ کہی جس کا ذکر نیچے کی آیت میں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو تمہارے کلام کی تصدیق کو آسمان سے فرشتے ہماری آنکھوں کے سامنے کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اپنے رسول کریم ﷺ کو تسلی دی اور قریش کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ اے محبوب ﷺ ان لوگوں کے دیوانہ کہنے سے تم کو کچھ رنج والم میں نہ پڑنا چاہیے۔ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو اللہ کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[3] یعنی وہ اللہ کا برحق فیصلہ لے کر اترتے ہیں اور اس وقت اترتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور عذاب کے سوا ان کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔
[4] یعنی فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں۔ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ چناچہ ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے تو یہ لوگ معاً ہلاک کردیئے جاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
قرآن کیونکر محفوظ ہے !
(ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…
Read the full tafseer →9 ۔ بلا شبہ ہم نے یہ قرآن کریم نازل کیا ہے اور ہم ہی اس قرآن کریم کے محافظ اور نگہبان ہیں ۔ یعنی اس قرآن کریم میں تغیر و تبدل اور تحریف وغیرہ ہوجائے ایسا نہیں ہوسکتا قرآن کریم خود بھی اعجاز ہے کہ اس کا جواب بشر کی طاقت سے باہر ہے ۔ مزید برآں یہ ایک پیشین گوئی ہے کہ قرآن کریم ہمیشہ محفوظ رہے گا اور بیشمار سینوں میں اس کا محفوظ کردینا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی اس کا نگہبان اور محافظ ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لہ لحافظون سے محمد ﷺ کی حفاظت کا اعلان ہو جیسا کہ بعض نے اشارہ فرمایا ہے۔
بہر حال ! اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے شر سے اپنے پیغمبر کو بھی محفوظ رکھا اور قرآن کریم کی بھی حفاظت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →اس ذکر کو ہم نے اتارا ہے اور ہم خود ہی اس کے محافظ ونگہبان بھی ہیں :
9۔ ہم نے اس نصیحت نامہ کو نازل کیا ہے یہ گویا بڑے زور دار الفاظ میں کفار کے اس اعتراض کا بطلان ہے کہ قرآن کریم کلام الہی نہیں ہے فرمایا بلاشبہ ہم ہی نے اس کو اتارا ہے اس پر تین بار ضمیر متکلم کا بیک وقت تکرار اور تاکید ہی کیلئے ہے یعنی (آیت) ” انا نحن نزلنا “۔ بلکہ تاکید کو مزید پکا کرنے کیلئے اور پھر ضمیریں بھی جمع متکلم کی استعمال ہوئی ہیں جو نازل کرنے والے کی عظمت وکبریائی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ قرآن کریم کی جامعیت ‘ اکملیت وابلغیت وغیرہ سے قطع نظر اس کی محفوظیت کامل اور پھر شروع ہی سے بےدھڑک اس کا اعلان بجائے خود ایک معجز…
Read the full tafseer →Commentary
An Episode from the Court of Ma'mun
Imam Al-Qurtubi has authentically reported an event from the court of ` Abbasi Khalifah, Al-Ma'mun. He was used to patronizing occasional debates on intellectual issues at his court where all scholars were welcome. It so happened that a Jew came to attend one of these debates. By his looks, dress and manners, he seemed to be an elegant person. Then, his address during the debate was eloquent and intellectually bright. When the meeting was over, Ma'mun called for him and asked him if he was an Israelite, which he confirmed. To test him, Ma'mun…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
6. That is, you should note it well that it is We Who have sent down this zikr. Thus it is not Our Messenger whom you are calling insane but in fact this abusive remark applies to Us. Moreover, you should know that it is Our Word and We are preserving it. Therefore, you can do no harm to it, nor can you discredit it by your ridicules, taunts and objections, nor can you hamper its progress. Whatever you may do against it, no one will ever be able to change or tamper with it.
Read the full tafseer →