Al-Hijr 15:8

Al-Hijr · from ayah 8

15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ۟مَا نُنَزِّلُ الۡمَلٰۤئِكَةَ اِلَّا بِالۡحَـقِّ وَمَا كَانُوۡۤا اِذًا مُّنۡظَرِيۡنَ‏

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

— Fateh Muhammad Jalandhari

We do not send down the angels except with truth; and the disbelievers would not then be reprieved.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:8

ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وه مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم فرشتوں کو اتارتے ہیں تو برحق فیصلہ دے کر اتارتے ہیں، اور ایسا ہوتا تو ان کو مہلت بھی نہ ملتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر (فیصلۂ) حق کے ساتھ (یعنی جب عذاب کی گھڑی آپہنچے تو اس کے نفاذ کے لئے اتارتے ہیں) اور اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جاتی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(حالانکہ) ہم فرشتے صرف حق (فیصلہ) کے وقت ہی اتارتے ہیں۔ پھر اس وقت انھیں مہلت نہیں دی جاتی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر فیصلہ کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(حالانکہ ہمارا دستور یہ ہے کہ) ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ، اور اس وقت ایسے منکروں کو کوئی مہلت بھی نہیں ملتی،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر (فیصلہ) حق کے لئے اور اس وقت ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نہیں اتارا کرتے فرشتوں کو مگر حق کے ساتھ اور (اگر فرشتے نازل ہوگئے تو) پھر انہیں مہلت نہیں دی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We do not send down the angels (in frivolity); and when We do send them down, We do so with Truth; then people are granted no respite.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We do not send down the angels except with truth, and then they shall be given no respite.

— Muhammad Taqi Usmani

We do not send down the angels except with truth, and then they shall be given no respite.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We do not send the angels down except with the truth, and in that case, they (the disbelievers) would have no respite!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We send not down the angels save with the Fact, and in that case (the disbelievers) would not be tolerated.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We do not send down the angels except with truth; and the disbelievers would not then be reprieved.

— Saheeh International

We do not send down angels except for a genuine purpose, at which time none will be given any further respite.

— Muhammad Sarwar

We do not send the angels but with truth, and then they would not be respited.

— Muhammad Habib Shakir

We send not the angels down save with judgment, and then they would not be respited.

— Abdul Majid Daryabadi

We send not the angels down except for just cause: if they came (to the ungodly), behold! no respite would they have!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–9

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ 53؀) 43۔ الزخرف :53) اس پر سونے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْحِجْر 5 ”یعنی فرشتے محض تماشا دکھا نے کے لیے نہیں اتارے جاتے کہ جب کسی قوم نے کہا بلاؤ فرشتوں کو اور وہ فورا حاضر ہوئے۔ نہ فرشتے اس غرض کے لیے کبھی بھیجے جاتے ہیں کہ وہ آکر لوگوں کے سامنے حقیقت کو بےنقاب کریں اور پردہ غیب کا چاک کر کے وہ سب کچھ دکھا دیں جس پر ایمان لانے کی دعوت انبیاء (علیہم السلام) نے دی ہے۔ فرشتوں کو بھیجنے کا وقت تو وہ آخری وقت ہوتا ہے جب کسی قوم کا فیصلہ چکا دینے کا ارادہ کرلیا جاتا ہے۔ اس وقت بس فیصلہ چکایا جاتا ہے، یہ نہیں کہا جاتا کہ اب ایمان لاؤ تو چھوڑے دیتے ہیں۔ ایمان لانے کی جتنی مہلت بھی ہے اسی وقت تک ہے جب تک کہ حقیقت بےنقاب نہیں ہوجاتی۔ اس کے بےنقاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (الا بالحق۔ میں لفظ حق سے مراد فیصلہ عذاب ہے اور بعض مفسرین نے قرآن یا رسالت کو مراد قرار دیا ہے بیان القرآن میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے یہ معنی حضرت حسن بصری سے منقول ہیں تفسیر آیات یہ ہے) اور ان کفار (مکہ) نے (رسول کریم ﷺ سے) یوں کہا اے وہ شخص جس پر (اس کے دعوے کے مطابق) قرآن نازل کیا گیا ہے تم (نعوذ باللہ) مجنون ہو (اور نبوت کا غلط دعوی کرتے ہو ورنہ) اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے (جو ہمارے سامنے تمہارے صدق کی گواہی دیں کقولہ تعالیٰ (آیت) لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) ہم فرشتوں کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ۔ یہ مذکورہ بالا مطالبہ کا جواب ہے۔ " حق " کے معنی یہاں فیصلہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل اور سمجھ سے کا لیں اور آفاق وانفس میں جو نشانیاں موجود ہیں اور جن کی طرف قرآن توجہ دلا رہا ہے ان پر غور کریں اور ان کی روشنی میں آیمان لائیں۔ ایمان لانے کے لیے فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ نہ کریں۔ فرشتے تو ہم لوگوں پر صرف اس وقت بھیجتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے اور عذاب کے سوا ان کے لیے کوئی اور چیز باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس وقت فرشتے خدا کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم نیست و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے ہم حق کے ساتھ بھیجتے ہیں یعنی جب ہماری حکمت و مشیت عذاب بھیجنے کا تقاضا کرتی ہے تو پھر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور پھر وہ مہلت نہیں دیئے جاتے، فوراً ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اتارنے کی فرمائش کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا ہو، اس کے پاس ہم فرشتے اس وقت اتارتے ہیں جب اس قوم کی نافرمانی حد سے گذر جاتی ہے، اور اس فیصلے کا وقت آجاتا ہے کہ اب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ اور جب یہ فیصلہ کر کے فرشتے بھیج دئیے جاتے ہیں تو پھر اس قوم کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان بالغیب ہے جس میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کو کام میں لا کر اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ اگر غیب کی ساری چیزیں دنیا میں دکھا دی جائیں تو امتحان ہی کیا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ماننے والوں کے لیے اب بھی کافی سے زائد نشان موجود ہیں۔ باقی جن کا ارادہ ہی ماننے کا نہیں وہ فرشتوں کے آنے پر بھی نہ مانیں گے پھر ان کے اتارنے میں کیا فائدہ ہے۔ حق تعالیٰ فرشتوں کو زمین پر اپنی حکمت کے موافق کسی غرض صحیح کے لیے بھیجتے ہیں، یوں ہی بےفائدہ تماشا دکھلانا مقصود نہیں ہوتا۔ عموماً عادت اللہ یہ رہی ہے کہ جب کسی قوم کی سرکشی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے اور سارے مراحل تفہیم و ہدایت کے طے ہوجاتے ہیں تو فرشتوں کی فوج اس کے ہلاک کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہے پھر اس کو قطعًا مہلت نہیں دی جاتی۔ اگر تمہاری خواہش کے موافق فرشتے اتارے جائیں تو اس سے صرف یہ ہی ایک مقصد ہوسکتا ہے کہ تم کو بلاتا،…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ یعنی یہ لوگ فرشتوں کو بلانا چاہتے ہیں یا اپنی شامت کو ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عاد وثمود اور قوم لوط پر فرشتے نازل ہوئے تو کس غرض سے نازل ہوئے ! انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فرشتے جب کسی قوم پر نازل ہوتے ہیں تو آخری فیصلے کے نفاذ کے لیے نازل ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 فرشتے کن کن حالات میں آتے ہیں ؟ ہم فرشتے نہ تو تماشہ دکھانے کے لیے اتارتے ہیں اور نہ اس لیے اتارتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کردیں۔ بلکہ فرشتے تو مجرموں پر قہرالٰہی بن کر آتے ہیں۔ جیسے غزوہ بدر میں آئے تھے یا تمہاری جانیں نکالنے کے لیے آتے ہیں یا پھر کسی قوم کو صفحہ ئہستی سے نیست و نابود کرنے کے لیے آتے ہیں۔ پھر جب یہ آجاتے ہیں تو تمہارا کام تمام کرکے چھوڑتے ہیں۔ اس وقت ان کے آنے کی نہ تمہیں آرزو ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے آنے کا تمہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے نہیں آتے۔ لیکن جب وہ آتے ہیں تو اپنا کام کرکے جاتے ہیں۔ اس وقت مہلت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طریقہ پر یہ کافر فرمائش کررہے ہیں، اس طرح فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں، فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں، اور ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے، تو یہ لوگ تو معا ہلاک کردیئے جاتے، (آیت) ” الا بالحق “۔ یعنی کسی حکیمانہ مقصود کے ساتھ اور وہ مقصود آخر کار ان نافرمانوں کے حق میں عذاب ہی ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ان لوگوں پر رد ہے، جو ایسے شخص سے خوارق کے طالب رہتے ہیں، جس کی حقانیت پر دلائل صحیح قائم ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما نزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین ہم (عذاب کے) ملائکہ کو نہیں اتارتے ہیں مگر حق (عذاب) کے ساتھ (یعنی اسی عذاب کے ساتھ جس کے نازل کرنے کا قطعی فیصلہ اللہ کے نزدیک ہوچکا ہوتا ہے) اور اس وقت (کافروں کو) مہلت نہیں دی جاتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ ہم فرشتوں کو صرف ہلاکت اور تمہاری ارواح قبض کرنے کے لیے نازل کیا کرتے ہیں اور جب ان پر فرشتے نازل کیے جاتے تو پھر ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بالْحَقِّ۔۔ : یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی شخص کی موت کا وقت آگیا ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہو، اس کے بعد انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 8 حفص، حمزہ اور کسائی نے ماننزل الملئکۃ الا بالحق پڑھا ہے اور اسے ابو عبید نے اختیار کیا ہے۔ اور ابوبکر اور مفضل نے ماتنزل الملائکۃ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے ما تنزل الملائکۃ پڑھا ہے۔ اور اس کی تقدیر یہ ہے : ماتتنذل یعنی دو تاء کے ساتھ پھر ان میں سے ایک کو تخفیفاً حذف کردیا گیا ہے، اور بزی نے تاکو مشدد کردیا ہے۔ اور اسے ابو حاتم نے اس قول پر قیاس کرتے ہوئے اختیار کیا ہے : تنزل الملئکۃ والروح (القدر :4) (اترتے ہیں فرشتے اور روح) اور الا بالحق کا معنی الا بالقرآن ہے (یعنی ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر قرآن کے ساتھ) اور بعض نے کہا ہے : رسالۃ (پیغام) کے ساتھ ؛ یہ حضرت مجاہد سے منقول ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

1:۔ امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر “ میں ذکر سے مراد ہے قرآن۔ 2:۔ امام ابوعبید، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ اس آیت سے لے کر (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء “ تا کی تقدیم اور تاخیر ہے اور فرمایا (آیت) ” فظلوا فیہ یعرجون “ یعنی اگر ہم کھول بھی دیتے ہیں ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ سارا دن اس میں اوپر چڑھتے رہتے (یعنی فرشتے) (آیت ) ” لقالوا انما سکرت ابصارنا “ تو یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔ 3:۔ امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَا نُنَزِّلُ : ہم نہیں اتارتے ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةَ : فرشتوں کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَمَا كَانوْٓا : اور وہ نہ ہوئے ] [ اِذًا : پھر تو ] [ مُّنْظَرِيْنَ : مہلت دیئے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–8

جو بستیاں ہلاک کی گئیں ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا اس کے بعد فرمایا (وَمَآ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ ) (الآیۃ) اور ہم نے جتنی بھی بستیوں کو ہلاک کیا ہے ان کے لیے ایک اجل معین ہے جو ہمارے علم میں ہے جس قوم کی ہلاکت کے لیے جو بھی اجل مقرر کر رکھی تھی اسی کے مطابق ان کی ہلاکت ہوئی اس مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا (مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَھَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ ) (کوئی امت اپنی مقررہ اجل سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں) اس آیت کے جو الفاظ ہیں ان کے عموم نے یہ بتادیا کہ آئندہ بھی اگر کوئی قوم ہلاک ہوگی تو اس کی ہلاکت کا جو وقت مقرر اور مقدر ہے وہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–15

ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

6:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ماننے کے بجائے الٹا آنحضرت ﷺ سے استہزاء کرتے اور آپ کو دیوانہ ہونے کا طعن دیتے اور پھر ازراہ عناد آپ سے مطالبہ کرتے کہ آپ کی تصدیق کرنے کے لیے فرشتے آئیں جو بآواز بلند آپ کی صداقت و رسالت کا اعلان کریں۔ ” مَانُنَزِّلُ الْمَلٰئِکَةَ “ یہ جواب شکوی ہے۔ فرشتوں کا اتارنا ہماری حکمت بالگہ کے ما تحت ہوتا ہے اور فرشتوں کے نازل نہ ہونے ہی میں تمہارا بھلا ہے کیونکہ جب فرشتوں کی آمد کے بعد بھی تم نہ مانو گے تو پھر فوراً ہلاک کردئیے جاؤ گے اور ہرگز مہلت نہ ملے گی۔ ای لو تنزلت الملائکۃ تشھد لک فکفروا بعد ذلک لم ینظروا۔ (قرطبی ج 10 ص 4) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوْٓا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ ۝ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔ بروز قیامت کفار کی حسرت : تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَانُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَا کَانُـْوٓا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 8) (ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر حق کے ساتھ، اور انھیں اس کے بعد مزید مہلت نہیں دی جاتی۔ ) فرشتے کب اترتے ہیں یہ قریش کے سوال اور طنز کا جواب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے فرشتے یونہی بےمقصد زمین پر نہیں اتارے جاتے اور نہ وہ اس لیے اتارے جاتے ہیں کہ وہ زمین پر جا کر ان حقائق کو منکشف کردیں جن کی دعوت دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کا نبی ( علیہ السلام) آتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ لوگ اپنے فہم و شعور سے کام لے کر ان باتوں پر غور کریں جن کی دعوت لے کر اللہ تعالیٰ کا نبی مبعوث…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : حق کا انکار اور دنیا پرستی کی وجہ سے لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مجنوں کہا کرتے تھے۔ حق کے منکر اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے دنیا کی جاہ و حشمت، وسائل اور ترقی ہی سب کچھ ہوا کرتی ہے۔ وہ انبیاء (علیہ السلام) اور مصلحین حضرات کو پاگل قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو مقدم سمجھا جائے۔ ظاہر ہے یہ بات دنیا پرست شخص کو کسی صورت گوارا نہیں ہوتی۔ اس لیے حق کے منکر اور دنیا پرست لوگ درج ذیل وجوہات کی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پاگل کہا کرتے تھے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء ( علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نزولِ ملائکہ پر مہلت ختم ہوجاتی ہے : 8: مَانُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ (ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے) قراءت : ابوبکر کے علاوہ قراء نے ماننزل پڑھا ابوبکر تنزل تنزل کا معنی تتنزل غیرھم ان کے غیر پر اترتے ہیں۔ اِلَّا بِالْحَقِّ (مگر حق کے ساتھ) مگر وہ اترناجو حق و حکمت کے ساتھ ملا ہوا ہو وَمَا کَانُوْا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ ( اور اس وقت ان کو مہلت نہیں دی جاتی) اِذًا یہ ان کا جواب ہے اور شرط کی جزاء مقدر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لونزلنا الملائکۃ اگر ہم فرشتوں کو اتاریں ما کانوا منظرین تو ان کو پھر مہلت نہ دی جاتی اس وقت اور نہ ان سے عذاب مؤخر کیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8۔” ما نزل الملائکۃ “ اہل کوفہ میں سے ابی بکر کے علاوہ دونوں کے ساتھ پڑھا ہے۔ الملائکہ منصوب ہے اور ابوبکر نے ان کو تنزل پڑھا تھا اور ملائکہ کو مرفوع پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے بھی تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور الملائکۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ ” الا بالحق “ اس سے مراد عذاب ہے ، اگر ان پر فرشتے نازل ہوتے تو یہ عذاب لانے میں جلدی کرتے۔ ” وما کانو ا اذا منظرین ‘ ‘ عذاب کو موخر کرنے والے ، کفار فرشتوں کے نزول کے متعلق یہ مطالبہ کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح جواب دیا ۔ معنی یہ ہوگا کہ اگر کفار کو ہم فرشتے سامنے رکھا دیں تو کفار سے مہلت ختم کردی جائے گی اور ان کو فی الحال عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 7–9

7۔ 9۔ اس سے پہلے ذکر تھا کہ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ تم پر قرآن وغیرہ کچھ نہیں اترا ہے سب جھوٹ ہے اور تم دیوانے ہوگئے ہو جو یہ دعویٰ رسالت کا کرتے ہو اور اپنے ساتھ ہم لوگوں کو بھی باپ دادا کے پرانے مذہب بت پرستی سے چھڑا کر ایک خدا کی عبادت کو کہتے ہو اگر سچ مچ تم سچے ہو اور خدا نے تمہیں رسول بنا کر لوگوں کی ہدایت کو بھیجا ہے تو خدا تو تمہاری ہر ایک بات کو فوراً مان لے گا جو کہو گے وہ سنے گا تم اس سے کہو کہ آسمان سے فرشتہ کو بھیج دے وہ یہاں آکر ہم لوگوں سے تمہارا سب جھوٹ سچ کہہ دے فرشتے کے کہنے سے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ ہاں تم خدا کے رسول ہو اور ہدایت کو بھیجے گئے ہو اور جس کتاب کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت 5 جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انہوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہوجائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔ پس (ذرھم یاکلوا ویتمتعوا) ” چھوڑ دیں ان کو، کھالیں اور فائدہ اٹھا لیں “ اپنی لذتوں سے (ویلھھم الامل) ” اور امیدان کو غفلت میں ڈالے رکھے “ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–8

7۔ کفار کے پیغمبروں سے مذاق واستہزاء کے ایک نمونے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یہ ذکر اتارا گیا ہے یقینا تو پرلے درجے کا دیوانہ ہے، سو کفار ناہنجار کا حضرت محمد ﷺ سے ایسا کہنا مذاق واستہزاء کے طور پر تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس سے ان بدبختوں کے اس مزاح واستہزاء کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے۔ جس کا ارتکاب وہ حضرت رسالت مآب ﷺ کی جناب اقدس واعلیٰ کے بارے میں کیا کرتے تھے، کیوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا ٹھٹھا اور مذاق کے طور پر تھا۔ یعنی اے وہ شخص جو اپنے اوپر قرآن کے اترنے کا دعویدار ہے (صفوۃ، محاسن، جامع ور مراغی وغیرہ) اور اس طرح انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–9

کفار کا نبی ﷺ کو مجنون کہنا اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ تشریح : اسی مضمون کی آیات پچھلے اسباق میں بھی گزر چکی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کفار مکہ اور آج کل کے کفار میں کوئی خاص فرق نہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ وہ ان پڑھ جاہل اور انتہائی وحشی لوگ تھے۔ ان کو سیدھے راستے پر لانا نبی اکرم ﷺ کا ہی حوصلہ تھا۔ آجکل کے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی صرف اپنی ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے، حالانکہ قرآن حکیم اتنا زبردست معجزہ ان کے سامنے ہے اسی سے سائنس اور حکمت کے بنیادی اصول لے کر بڑی بڑی سائنسی ایجادات کر رہے ہیں۔ مگر مانتے نہیں۔ قرآن میں جو کچھ حقائق بتائے گئے ہیں وہ اتنے محکم، پکے اور لازوال ہیں کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا قطعی فیصلہ ہوجائے۔ اس کے بعد انہیں مہلت نہیں دی جاتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:8) ما کانوا۔ کی ضمیر فاعل کا مرجع کفار و منکرین مکہ ہیں۔ اذا۔ تب۔ اس وقت۔ جواب وجزاء کے لئے بھی آتا ہے۔ جواب ان کے سوال کا کہ لو ما تأتینا بالملئکۃ ان کنت من الصادقین اور جزاء شرط مقدر کی۔ تقدیر کلام یوں ہے ! ولو نزلنا الملئکۃ ما کانوا منظرین وما اخر عذابہم۔ اور اگر ہم فرشتے اتار دیں تو نہ ان کو مہلت دی جائے گی اور نہ ان کا عذاب ٹل سکے گا۔ منظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ انظار (افعال) مصدر۔ مہلت دیئے ہوئے۔ جن کو مہلت دی گئی ہو۔ منصوب بوجہ خبر کانوا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–9

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 9 یایھا اے (حرف ندا) ۔ نزل نازل کیا گیا، اتارا گیا ۔ الذکر یاد دھانی کی چیز۔ قرآن مجید۔ مجنون دیوانہ، اگل۔ تاتینا تو ہمارے پاس آتا ہے۔ ماننزل ہم نازل نہیں کرتے اذا اس وقت۔ انا بیشک ہم۔ نحن ہم سب حافظون حفاظت کرنے والے ۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 9 جب نبی کریم ﷺ مکی زندگی میں کفار اور مشرکین کو اللہ کے دین اور آخرت کی ابدی سچائیوں کی طرف بلاتے تب وہ اپنی روایتی ضد، عناد، ہٹ دھرمی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتوں کو ہونا چاہئے تھا جو اس بات کی علامت ہوتے کہ آپ سچے نبی ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو یہ سوائے جنون اور دیوانگی کے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–9

کفار کا حضور ﷺ سے تمسخر مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قریش کو قرآن شریف کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور قریش سے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو قریش نے دو باتیں کہیں : اول تو یہ کہ اللہ کے رسول کو انہوں نے دیوانہ بتلایا۔ دوسری بات یہ کہی جس کا ذکر نیچے کی آیت میں ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو تمہارے کلام کی تصدیق کو آسمان سے فرشتے ہماری آنکھوں کے سامنے کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اپنے رسول کریم ﷺ کو تسلی دی اور قریش کی پہلی بات کا جواب یہ دیا کہ اے محبوب ﷺ ان لوگوں کے دیوانہ کہنے سے تم کو کچھ رنج والم میں نہ پڑنا چاہیے۔ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو اللہ کے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[3] یعنی وہ اللہ کا برحق فیصلہ لے کر اترتے ہیں اور اس وقت اترتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور عذاب کے سوا ان کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ [4] یعنی فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں۔ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ چناچہ ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے تو یہ لوگ معاً ہلاک کردیئے جاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

دانائے عرب کے متعلق جاہلوں کا فتوی : (ف 3) مجنون کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی مادی آنکھیں روحانی قوتوں کو محسوس نہیں کرسکتیں ، جب انہوں نے نبوت کی حقیقت کو نہ سمجھا ، تو سہل کاروں سے کہہ دیا ، کتاب کا دماغ مختمل ہے ۔ ضرورت یہ تھی کہ یہ لوگ خود دیوانے اور عقل وبصیرت سے بیگانہ تھے نبوت چونکہ ایک فرق العقل حساسئہ بصیرت وادراک کا نام ہے ، اس لئے یہ کوتاہ فہم اس کو نہیں سمجھ سکے ، کیا یہ جنون ہے کہ بصائر ومعارف کا دریا بہا دیا جائے ، لوگوں کو سکون خاطر کی نعمت سے سرفراز کیا جائے انسان کو پورا کیا جائے ، اور انسانوں کو زندگی کا مکمل بروکر عنایت فرمایا جائے ۔ جس کی امت کے ادنی افراد فلسفہ و حکمت کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8 ۔ ہم فرشتے نہیں نازل کیا کرتے مگر آخری فیصلے کے لئے اور اس وقت جبکہ فرشتے آجائیں اور ہم فرشتوں کو اتاردیں تو اس کے بعد یہ لوگ مہلت بھی نہیں دیئے جاتے ۔ یعنی فرشتے بلا کسی صحیح وجہ کے نہیں اتارے جاتے وہ تو جب کسی قوم کے متعلق آخری فیصلہ ہوجاتا تو عذاب لیکر اترتے ہیں پھر اس وت مہلت اور ڈھیل کہاں ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ فرشتے کھلم کھلا ہمارے سامنے آئیں ۔ جواب دیا گیا کہ فرشتے تو انسانوں پر یا عذاب کے وقت اترتے ہیں یا موت کے وقت پھر اس وقت مہلت بھی نہیں ملتی۔ اس مطالبہ کا جواب قرآن کریم میں اور بھی بہت جگہ دیا گیا ہے یہ بات ان کے عناد اور لعنت سے ظاہر تھی کہ یہ فرشتوں کے آنے کے بعد ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–8

ف 4۔ بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور معلوم ہوگا کہ اس کی علت کفر ہے تب ہی اسلام نہ لانے پر تازہ حسرت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے فرشتوں کو بیکار تو کبھی نہیں اتارا کہ صرف تمہاری ضد کیلئے انکو اتار کر دکھائیں : 8۔ جس طرح تم فرمائش کر رہے ہو اس طرح فرمائشی نزول فرشتوں کا ہوتا ہی کب ہے ؟ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد خاص اعلان کے مطابق اتارے جاتے ہیں اور جب وہ اترتے ہیں تو وہ وقت ہوتا ہے کہ نافرمان قوم کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” الا بالحق “ یعنی کسی فیصلہ شدہ بات کے بعد اور وہ فیصلہ ہمیشہ نافرمان قوموں کے حق میں عذاب ہی کا ہوتا ہے ، اگر تمہاری خواہش کے مطابق فرشتہ اتارا جاتا اور پھر بھی تم ایمان نہ لاتے جیسا کہ تمہاری ضد اور تعصب سے عیاں ہے تو پھر تمہیں اسی وقت تہس نہس کرکے رکھ دیا جاتا ۔ یہ تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explanatory Notes 1. The word: الْحَقِّ (what is true) in: إِلَّا بِالْحَقِّ (ilia bi al-l aqq: translated as 'except with what is true' ) means the decision to send down punishment. Some commentators take them to be denoting the Qur’ an, or prophethood. In Bayan al-Qur'an, preference has been given to the first meaning which has been reported from al-Hasan al-Basri (رح) . Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) has explained these verses as given below. And these disbelievers (of Makkah) said to the Holy Prophet ﷺ : "0 you to whom the Qur’ an has been revealed, (as you claim, then,) you are…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4. This was a sarcastic remark that was made by the opponents, for they did not acknowledge that the admonition had been sent down to the Prophet (peace be upon him): otherwise they could not say that he was insane. What they really meant by this remark was: You, who claim that the admonition has been sent down to you, are insane. A similar remark was also made by Pharaoh concerning Prophet Moses (peace be upon him). Addressing his courtiers, he said: The Messenger who has been sent to you is insane. (Surah Ash-Shuara, Ayat 27). 5.“We do not send down the angels.”We do not send down the…

Read the full tafseer →