Explained with ayahs 10–13
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسکین دیتا ہے کہ جس طرح لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول ﷺ کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء نجات پا گئے اور ایمان دار عافیت حاصل کر گئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی ﷺ کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی کی مخالفت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سورة الْحِجْر 6
یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم مجنون کہہ رہے ہو، یہ ہمارا نازل کیا ہوا ہے، اس نے خود نہیں گھڑا ہے۔ اس لیے یہ گالی اس کو نہیں ہمیں دی گئی ہے۔ اور یہ خیال تم اپنے دل سے نکال دو کہ تم اس ”ذکر“ کا کچھ بگاڑ سکو گے۔ یہ براہ راست ہماری حفاظت میں ہے۔ نہ تمہارے مٹائے مٹ سکے گا، نہ تمہارے دبائے دب سکے گا، نہ تمہارے طعنوں اور اعتراضوں سے اس کی قدر گھٹ سکے گی، نہ تمہارے روکے اس کی دعوت رک سکے گی، نہ اس میں تحریف اور ردوبدل کرنے کا کبھی کسی کو موقع مل سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللغات
الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
تفسیر آیات 10 تا 13: انبیاء کی سرگزشتوں کا حوالہ : تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انہیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 1 یعنی اس کو دست برد زمانہ سے اور تغیر وتبدل سے بچانا ہمارا کام ہے۔ چناچہ قرآن آج تک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح یہ اترا تھا، گمراہ فرقے اپنے اپنے گمراہانہ عقائد کے اثبات کے لئے اس کی آیات میں معنوی تحریف تو کرتے رہتے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں لیکن پچھلی کتابوں کی طرح یہ لفظی تحریف اور تغیر سے محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں اہل حق کی ایک جماعت بھی تحریفات معنوی کا پردہ چاک کرنے کے لئے ہر دور میں موجود رہی ہے، جو ان کے گمراہانہ عقائد اور غلط دلائل اور ثبوت بکھیرتی رہی ہے اور آج بھی وہ اس محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کو یہاں ' ذکر ' (نصیحت) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
4: ”یہ بات“ سے قرآن کریم بھی مراد ہوسکتا ہے، یعنی قرآن کریم ان کے دلوں میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ انہیں ایمان کی دولت نہیں بخشتا۔ اور ”یہ بات“ سے ان کے مذاق اڑانے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور کفر و بغاوت اور استہزاء ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9 آپ کو تسلی دی گئی کہ ان کی تکذیب و استہزاء سے دلگیر نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ منکرین کی عادت رہی ہے کہ جب کوئی پیغمبر آیا اس کی ہنسی اڑائی، کبھی مجنون کہا۔ کبھی محض دق کرنے کے لیے لغو اور دورازکار مطالبے کرنے لگے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کہا تھا " اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ" (شعراء، رکوع 2 ' آیت 27) اور وہ ہی فرشتوں کی فوج لانے کا مطالبہ کیا جو قریش آپ سے کر رہے تھے۔ (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ ) 43 ۔ الزخرف :53)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ
شِیَع ‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔ جیسے حضرت نوح کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گروہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پر پھیلتے گئے۔ اردو الفاظ ”اشاعت“ اور ”شائع“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘ چناچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
5 ذکر اور قرآن کا فرق :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بجائے ذکر کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا لغوی معنی یاددہانی یا نصیحت ہے۔ اگرچہ صفاتی پہلو سے قرآن کریم کا ایک نام ذکر بھی ہے تاہم یہ دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ جیسے سورة قمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17) 54 ۔ القمر :17) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذکر جب یاد دہانی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ یعنی کتاب بھی اور وہ بصیرت بھی جو اللہ تعالیٰ کتاب کے بیان کے لیے اپنے رسولوں کو عطا فرماتا ہے۔…
Read the full tafseer →9۔ (اور ان کی بھی برابر تکذیب ہی ہوتی رہی۔ سو آپ کی تکذیب پیغمبروں کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین اور ہم نے آپ سے پہلے بھی پچھلی امتوں میں پیغمبر بھیجے۔
شِیَعِ جمع ہے ‘ شیعۃٌ مفرد۔ شیعہ وہ جماعت ہے جو متفق الرائے ہو اور کسی بات پر متحد ہو۔ شاعَہ ٗ اس کا اتباع کیا ‘ اس کے پیچھے چلا۔ چھوٹی لکڑیاں جن کو آگ لگا کر بڑی لکڑیوں کو ان کے ذریعہ سے جلایا جاتا ہے ‘ شیاع کہلاتی ہیں۔
Read the full tafseer →(10) اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی رسولوں کو پچھلے لوگوں کے بہت سے گروہوں میں بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ :”شِيَعِ“ ”شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ) [ الأنعام : 159] ”بیشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔“ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے : (وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيم) [ الصآفات : 83 ] ”اور بیشک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔“ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
اس کا معنی ہے : ولقد ارسلنا من قبلک رسلا بیشک ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے، پس رسلا کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور شیع، شیعۃ کی جمع ہے اور اس کا معنی امت ہے یعنی پہلی امتوں میں ؛ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : پہلے گروہوں اور فرقوں میں، اور الشیعۃ کا معنی فرقہ، لوگوں کا ایسا گروہ ہے جو باہم محبت کرنے والے اور کلام میں متفق ہوں تو گویا الشیع سے مراد الفرق (فرقے) ہوا ؛ اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : او یلبسکم شیعا (الانعام :65 اور یہ اصل میں الشیاع سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جن کے ساتھ بڑی جلائی جاتی ہیں، جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “ سے مراد ہے پہلی امتیں۔
2:۔ امام ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) ۔ لا یومنون بہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم مشرکین کے دلوں میں چلاتے ہیں۔
3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم ان کے دلوں میں چلاتے ہیں۔
4:۔ امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12)…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور یقینا ہم بھیج چکے ہیں (رسولوں کو)] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت
قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
(ربط آیات)
سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ 10
شيع
الشِّيَاعُ : الانتشار والتّقوية . يقال : شاع الخبر، أي : كثر وقوي، وشَاعَ القوم : انتشروا وکثروا، وشَيَّعْتُ النّار بالحطب : قوّيتها، والشِّيعَةُ : من يتقوّى بهم الإنسان وينتشرون عنه، ومنه قيل للشّجاع : مَشِيعٌ ، يقال : شِيعَةٌ وشِيَعٌ وأَشْيَاعٌ ، قال تعالی: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ
[ الصافات/ 83] ، هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] ، فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] ، وقال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] .
( ش ی ع )
الشیاع کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔
کفار کے استہزاء کے چند اسباب :
تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَدْخَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 10۔ 11۔ 12۔ 13)
(اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔ یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔ )
استہزا ہر قوم کا شیوہ
قرآن کریم کی تمام تر جلالتِ قدر اور غیرمعمولی حفاظت کے باوجود جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : سرور دوعالم ﷺ کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔
سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ ﷺ کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کو ” الصادق “ اور ” الامین “ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ…
Read the full tafseer →نبوت کا سلسلہ پہلے سے چلا آتا ہے :
10: وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ (ہم نے آپ سے پہلے بھی پچھلی امتوں میں پیغمبر بھیجے) یعنی ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف گروہوں میں انبیاء (علیہم السلام) بھیجے۔ الشیعۃؔ وہ گروہ جو کسی مذہب و طریقہ پر متفق ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔” انا نحن نزلنا الذکر “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” وانا لہ لحافظون “ کہ ہم اس قرآن کو شیطان سے محفوظ کرلیں گے کہ نہ وہ اس میں زیادتی کرسکے گا اور نہ اس میں کمی کرسکے گا اور نہ اس کو تبدیل کرسکے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “ والباطل سے مراد ابلیس ہے کہ وہ قرآن میں کسی قسم کی زیادتی پر قادر ہوگا نہ ہی وہ اس قرآن سے کسی قسم کی کمی کرسکے گا ۔ بعض نے کہا کہ ” لہ “ کی ضمیر محمد ﷺ کی طرف راجع ہے ۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا کہ ہم محمد ﷺ کی حفاظت فرمائیں گے ان کے ساتھ کوئی برائی کا ارادہ نہیں کرسکتا ، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ” واللہ یعصمک من الناس “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے تم ان کی دل لگی سے بددل نہ ہو اور جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ان کے مسخراپن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیتے ہیں کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9
رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ (یایھا الذی نزل علیہ الذکر) ” اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن “ یعنی تیرے زعم کے مطابق (انک لمجنون) ” بیشک تو دیوانہ ہے “ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذبہ کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (لوما تاتینا بالمآئکۃ) ” کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو “ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے “ اور چونکہ تیری تائید کیلئے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لئے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
12۔ قرآن حکیم کا محافط خود اللہ تعالیٰ :
اسی لیے یہ کتاب حکیم آج تک جوں کی توں محفوظ ہے، اور قیامت تک انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح محفوظ رہے گی، بخلاف پہلے والی آسمانی کتابوں کے، کہ ان کی حفاظت کی ذمہ خود ان کے حاملین پر ڈالی گئی تھی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (بما استحفظوا من کتاب اللہ) الایۃ (المائدۃ : 44) یعنی " ان سابقہ کتابوں کا محافظ ان کے محافظین ہی کو بنایا گیا تھا " اس لئے ان کتابوں کو بدل کر کچھ کا کچھ بنادیا گیا ہے یہاں تک کہ موجودہ بائبل کے نام سے پائی جانے والی تورات و انجیل کی کتابیں ان میں حاملین کی تحریف وتلبیس اور دست برد سے آسمانی اور الہامی کی بجائے جنس (sex) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب
تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔
ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 9 ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ان کے تکذیب و استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہر زمانہ میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔
Read the full tafseer →(15:10) قد ارسلنا۔ کے بعد اس کا مفعول محذوف ہے۔ ای ولقد ارسلنا رسلاً ۔ بیشک ہم نے رسول بھیجے۔
شیع۔ شیعۃ کی جمع۔ فرقے۔ گروہ۔ شیعۃ۔ وہ فرقہ یا گروہ جو کسی بات پر باہم متفق ہو۔
اس کا اصل شیاع ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جن کے ذریعے سے بڑی بڑی لکڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونا اور تقویت دینا کے بھی ہیں۔ جیسے شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی۔ یا شاع القوم قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی۔ اسی سے اشاعۃ خبر کا پھیلانا ہے۔
گروہ کے معنی میں اور جگہ قرآن میں آیا ہے وجعل اہلھا شیعا۔ (28:4) وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا۔ قوم اور فرقہ کے معنوں میں آیا ہے ھذا من شیعتہ و ھذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15
شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 15
کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
آنحضرت ﷺ سے قریش کا مسخرا پن
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ ان کے مسخرا پن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے۔ یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیں گے کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم ہے۔ کہیں ایسا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[3] یعنی وہ اللہ کا برحق فیصلہ لے کر اترتے ہیں اور اس وقت اترتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور عذاب کے سوا ان کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔
[4] یعنی فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں۔ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ چناچہ ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے تو یہ لوگ معاً ہلاک کردیئے جاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
قرآن کیونکر محفوظ ہے !
(ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…
Read the full tafseer →10 ۔ اور یقینا ہم نے گزشتہ لوگوں کے بہت سے فرقوں اور گروہوں میں آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →تفسیر :
10۔ ” اور اے پیغمبر اسلام ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی پچھلے گروہوں میں رسول بھیجے تھے ، “ اور ان کی بھی انکی قوموں نے تکذیب کی تھی اس لئے آپ ﷺ کی تکذیب پیغمبروں کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے ، پھر ان تکذیب کرنے والوں کا حال ، آپ ﷺ نے پڑھا اور سنا ؟ پھر یاد رکھو کہ جو حال ان کا ہوا تھا وہی حال انکا بھی ہوگا لیکن وہ وقت تم کو بتایا نہیں گیا اور یہ بات یقینی ہے کہ جب وقت آئے گا تو وہی کچھ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہونا طے شدہ ہے اور یہ بھی کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کا اعلان بھی کردیا جائے گا کہ تم نے میرے رسول کی مخالفت کی اس لئے تمہارے لئے اس طرح کا عذاب مقرر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
A Lexical Note of Explanation
The word: اَلشِيَعِ in the first verse (10) is the plural form of: شِیعہ (shah) which means the follower or helper of a person. Then, it is also used to denote a group which agrees upon particular beliefs and theoretical assumptions. So, the sense of the statement is that Allah Ta’ ala has sent messengers among every group or sect. Here, by using the word: فِی in فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( in place of اِلٰی : ila: to (translated as 'among the groups of earlier peoples' ), the hint given is that the messenger for every group was sent from among that particular…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
6. That is, you should note it well that it is We Who have sent down this zikr. Thus it is not Our Messenger whom you are calling insane but in fact this abusive remark applies to Us. Moreover, you should know that it is Our Word and We are preserving it. Therefore, you can do no harm to it, nor can you discredit it by your ridicules, taunts and objections, nor can you hamper its progress. Whatever you may do against it, no one will ever be able to change or tamper with it.
Read the full tafseer →