Al-Hijr 15:11

Al-Hijr · from ayah 11

15:11

وَمَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And no messenger would come to them except that they ridiculed him.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:11

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کہ پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وه اس کا مذاق اڑاتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آتا تھا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو، (پس آپ ان کی تکذیب سے غمزدہ و افسردہ نہ ہوں) ،

— مولانا اسحاق مدنی

اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا کہ اسکے ساتھ انہوں نے تمسخر نہ کیا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں آیا ان کے پاس کوئی بھی رسول مگر وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا، مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And whenever a Messenger came to them, they never failed to mock him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No messenger came to them but they used to mock at him.

— Muhammad Taqi Usmani

No messenger came to them but they used to mock at him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there never came a Messenger to them but that they mocked him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And never came there unto them a messenger but they did mock him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And no messenger would come to them except that they ridiculed him.

— Saheeh International

No Messenger went to them whom they did not mock.

— Muhammad Sarwar

And there never came an apostle to them but they mocked him.

— Muhammad Habib Shakir

And not an apostle came unto them but at him they were wont to mock.

— Abdul Majid Daryabadi

But never came a messenger to them but they mocked him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسکین دیتا ہے کہ جس طرح لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول ﷺ کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء نجات پا گئے اور ایمان دار عافیت حاصل کر گئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی ﷺ کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی کی مخالفت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة الْحِجْر 6 یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم مجنون کہہ رہے ہو، یہ ہمارا نازل کیا ہوا ہے، اس نے خود نہیں گھڑا ہے۔ اس لیے یہ گالی اس کو نہیں ہمیں دی گئی ہے۔ اور یہ خیال تم اپنے دل سے نکال دو کہ تم اس ”ذکر“ کا کچھ بگاڑ سکو گے۔ یہ براہ راست ہماری حفاظت میں ہے۔ نہ تمہارے مٹائے مٹ سکے گا، نہ تمہارے دبائے دب سکے گا، نہ تمہارے طعنوں اور اعتراضوں سے اس کی قدر گھٹ سکے گی، نہ تمہارے روکے اس کی دعوت رک سکے گی، نہ اس میں تحریف اور ردوبدل کرنے کا کبھی کسی کو موقع مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–15

اللغات الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔ خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–13

تفسیر آیات 10 تا 13: انبیاء کی سرگزشتوں کا حوالہ : تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انہیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 یہ گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ صرف آپ ہی کی تکذیب نہیں کی گئی، ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–12

4: ”یہ بات“ سے قرآن کریم بھی مراد ہوسکتا ہے، یعنی قرآن کریم ان کے دلوں میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ انہیں ایمان کی دولت نہیں بخشتا۔ اور ”یہ بات“ سے ان کے مذاق اڑانے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور کفر و بغاوت اور استہزاء ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

9 آپ کو تسلی دی گئی کہ ان کی تکذیب و استہزاء سے دلگیر نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ منکرین کی عادت رہی ہے کہ جب کوئی پیغمبر آیا اس کی ہنسی اڑائی، کبھی مجنون کہا۔ کبھی محض دق کرنے کے لیے لغو اور دورازکار مطالبے کرنے لگے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت کہا تھا " اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ" (شعراء، رکوع 2 ' آیت 27) اور وہ ہی فرشتوں کی فوج لانے کا مطالبہ کیا جو قریش آپ سے کر رہے تھے۔ (فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ ) 43 ۔ الزخرف :53)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ شِیَع ‘ شِیْعَۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی الگ ہو کر پھیلنے والے گروہ کے ہیں۔ جیسے حضرت نوح کے بیٹوں کی نسلیں بڑھتی گئیں تو ان کے قبیلے اور گروہ علیحدہ ہوتے گئے اور یوں تقسیم ہو ہو کر روئے زمین پر پھیلتے گئے۔ اردو الفاظ ”اشاعت“ اور ”شائع“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہیں ‘ چناچہ ان الفاظ میں بھی پھیلنے اور پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–12

5 ذکر اور قرآن کا فرق :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بجائے ذکر کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا لغوی معنی یاددہانی یا نصیحت ہے۔ اگرچہ صفاتی پہلو سے قرآن کریم کا ایک نام ذکر بھی ہے تاہم یہ دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ جیسے سورة قمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17؀) 54 ۔ القمر :17) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذکر جب یاد دہانی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ یعنی کتاب بھی اور وہ بصیرت بھی جو اللہ تعالیٰ کتاب کے بیان کے لیے اپنے رسولوں کو عطا فرماتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–13

10۔ ایک مخلص وہوا خواہ قوم مصلح جب اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی ہوا خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ اور حیران رہ جاتا ہے، چہ جائیکہ وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہوا ہے ! آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزر رہی ہوگی ! قرآن کریم اسی لئے بار بار آپ کی تسکین وتشفی کے لئے تاریخی نظیروں پر توجہ دلاتا ہے، (آیت) ” نسلکہ فی قلوب المجرمین “۔ یہ مجرموں کے دل میں استہزاء کا القاء بالکل اسی طرح کا ہے، جیسے ہر معصیت، ہر فسق، ہر کفر کا القاء نظام تکوینی میں مسبب الاسباب ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزء ون اور جو پیغمبر بھی ان کے پاس پہنچا ‘ وہ اس سے ٹھٹھول کرتے رہے۔ جیسا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس جملے میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسلی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 12۔ 13) اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق نہ کیا، اسی طرح ہم یہ جھٹلانا اور مذاق ان مشرکین مکہ والوں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں جس کی بنا پر یہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم اور نزول عذاب پر ایمان نہیں لاتے اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کے وقت اللہ تعالیٰ کا بھی قانون ان قوموں کی ہلاکت اور ان پر نزول عذاب کا چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ :”شِيَعِ“ ”شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ) [ الأنعام : 159] ”بیشک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کرلیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔“ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے : (وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيم) [ الصآفات : 83 ] ”اور بیشک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔“ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 11 یہ حضور نبی رحمت ﷺ کے لئے باعث تسلی ہے ؛ یعنی جس طرح آپ کے ساتھ ان مشرکین نے کیا اسی طرح آپ سے قبل بھی رسولوں کے ساتھ کیا جاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–13

1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “ سے مراد ہے پہلی امتیں۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) ۔ لا یومنون بہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم مشرکین کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم ان کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 4:۔ امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا يَاْتِيْهِمْ : اور نہیں آتا ان کے پاس ] [ مِّنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : وہ لوگ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–15

سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–15

ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–13

7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 11؀ اسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] والِاسْتِهْزَاءُ من اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔ کفار کے استہزاء کے چند اسباب : تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–13

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَدْخَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 10۔ 11۔ 12۔ 13) (اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔ یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔ ) استہزا ہر قوم کا شیوہ قرآن کریم کی تمام تر جلالتِ قدر اور غیرمعمولی حفاظت کے باوجود جس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : سرور دوعالم ﷺ کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔ سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ ﷺ کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کو ” الصادق “ اور ” الامین “ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11: وَمَا یَاْتِیْھِمْ (اور نہیں آتا رہا ان کے پاس) یہ ماضی کی حکایت ہے کیونکہ ماؔ مضارع پر نہیں آسکتا مگر وہ معنی حال میں ہے لا ماضی پر داخل ہو تو وہ بھی معناً حال کے قریب ہوجاتا ہے۔ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (کوئی رسول مگر کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے ہیں) اس جملے میں آنحضرت ﷺ کو پیام تسلی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 11۔” وما یاتیھم من رسول اللہ الا کانوا بہ یستھزون “ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی کا بیان ہے، جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے تم ان کی دل لگی سے بددل نہ ہو اور جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ان کے مسخراپن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیتے ہیں کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

آیت 9 رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ (یایھا الذی نزل علیہ الذکر) ” اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن “ یعنی تیرے زعم کے مطابق (انک لمجنون) ” بیشک تو دیوانہ ہے “ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذبہ کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (لوما تاتینا بالمآئکۃ) ” کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو “ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے “ اور چونکہ تیری تائید کیلئے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لئے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : کہ تکذیب واستہزاء کا یہ سلوک کوئی نئی چیز نہیں۔ بلکہ یہ اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے۔ پس اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ (ابن کثیر، محاسن، صفوۃ اور جامع وغیرہ) پہلے انبیاء ورسل کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی اور ان کو بھی اسی طرح ستایا گیا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک) (حم السجدہ : 43) یعنی " آپ کو بھی اے پیغمبر وہی کچھ کہا جارہا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں کو کہا گیا " لہذا آپ بھی اسی طرح صبر و برداشت سے کام لیں جس طرح کہ انہوں نے لیا جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (فاصبر کما صبر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–15

مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 9 ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ان کے تکذیب و استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہر زمانہ میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:11) یستھزء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب استہزاء (استفعال) مصدر وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ کانوا یستھزء ون۔ ماضی استمراری۔ وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–15

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15 شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 15 کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–13

آنحضرت ﷺ سے قریش کا مسخرا پن ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ ان کے مسخرا پن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے۔ یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیں گے کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم ہے۔ کہیں ایسا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[3] یعنی وہ اللہ کا برحق فیصلہ لے کر اترتے ہیں اور اس وقت اترتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور عذاب کے سوا ان کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وقت فرشتے اللہ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ [4] یعنی فرمائشی نزول تو فرشتوں کا ہوتا ہی نہیں۔ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد عذاب ہی لے کر ان کی ہلاکت کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ چناچہ ان پر اگر فرشتے نازل ہوتے تو یہ لوگ معاً ہلاک کردیئے جاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–14

قرآن کیونکر محفوظ ہے ! (ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 1 ۔ اور ان فرقوں کی حالت یہ تھی کہ رسول ان کے پاس نہیں آیا مگر یہ کہ انہوں نے اس کے ساتھ استہزاء کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ یعنی ان آیتوں میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی شان میں جو گستاخی اور دریدہ دہنی یہ کفار کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہمیشہ منکرین دین حق کا یہی شیوہ رہا ہے اور جس طرح سابقہ انبیاء نے صبر و تحمل سے کام لیا ہے اور کامیابی حاصل کی ہے یہی طرز آپ کو بھی اختیار کرنا چاہئے اور ان کی بیہودگیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے آخر میں کامیابی آپ ہی کو حاصل ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–15

ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر رسول کی ہنسی اڑائی گئی اور پھر ہنسی اڑانے والوں کا انجام بھی سب کے سامنے ہے : 11۔ گزشتہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کی ہر گزشیں پڑھ جاؤ اور ایک ایک کا مطالعہ کرو کسی نبی کی قوم نے نبی ورسول کو کیا جواب دیا اور جو مخالفت شروع کی اس کو کیا کیا کہا اور پھر جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو ان کو کس طرح پکڑ لیا گیا ، کیا پکڑنے سے قبل ان کو اطلاع دی یا نہیں دی ؟ اور پھر جو اطلاع ان کو دی گئی تھی کیا کہیں اس کا خلاف بھی ہوا ؟ یہ ساری باتیں تم کو اس وقت بتائی جارہی ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور باز آجاؤ ورنہ پھر وہی دمادم مست قلندر ہوگی اور ایک ہی جست میں تم کو اچک لیاجائے گا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

A Lexical Note of Explanation The word: اَلشِيَعِ in the first verse (10) is the plural form of: شِیعہ (shah) which means the follower or helper of a person. Then, it is also used to denote a group which agrees upon particular beliefs and theoretical assumptions. So, the sense of the statement is that Allah Ta’ ala has sent messengers among every group or sect. Here, by using the word: فِی in فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( in place of اِلٰی : ila: to (translated as 'among the groups of earlier peoples' ), the hint given is that the messenger for every group was sent from among that particular…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

6. That is, you should note it well that it is We Who have sent down this zikr. Thus it is not Our Messenger whom you are calling insane but in fact this abusive remark applies to Us. Moreover, you should know that it is Our Word and We are preserving it. Therefore, you can do no harm to it, nor can you discredit it by your ridicules, taunts and objections, nor can you hamper its progress. Whatever you may do against it, no one will ever be able to change or tamper with it.

Read the full tafseer →