Al-Hijr 15:12

Al-Hijr · from ayah 12

15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۟ۙكَذٰلِكَ نَسۡلُكُهٗ فِىۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ‏

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Thus do We insert denial into the hearts of the criminals.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:12

مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

مجرم لوگوں کے دلوں میں یہ بات ہم اسی طرح داخل کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں کے دلوں میں راہ دیتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی طرح ہم اس (تمسخر اور استہزاء) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم مجرموں کے دلوں میں ایسی ہی باتیں داخل کردیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح اتارتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی طرح اتار دیتے ہیں ہم اس (تکذیب و استہزاء) کو مجرموں کے دلوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اسی طرح یہ (استہزا) ہم (ان) مجرموں کے دلوں میں ڈالے دیتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی طرح ہم اس کو چبھو دیتے تھے مجرموں کے دلوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی طرح ہم اس کو گنہگاروں کے دل میں بٹھا دیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Even so We make a way for it (that is, the Admonition) in the hearts of the culprits (like a hot rod);

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Likewise, We make it (i.e. disbelief) enter into the hearts of the sinners,

— Muhammad Taqi Usmani

Likewise, We make it (i.e. disbelief) enter into the hearts of the sinners,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus We allow it to enter the hearts of the guilty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus do We make it traverse the hearts of the guilty:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Thus do We insert denial into the hearts of the criminals.

— Saheeh International

This is how We cause the hearts of the guilty ones to behave.

— Muhammad Sarwar

Thus do We make it to enter into the hearts of the guilty;

— Muhammad Habib Shakir

Even so we make a way for it in the hearts of the culprits.

— Abdul Majid Daryabadi

Even so do we let it creep into the hearts of the sinners -

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسکین دیتا ہے کہ جس طرح لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول ﷺ کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء نجات پا گئے اور ایمان دار عافیت حاصل کر گئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی ﷺ کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی کی مخالفت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة الْحِجْر 6 یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم مجنون کہہ رہے ہو، یہ ہمارا نازل کیا ہوا ہے، اس نے خود نہیں گھڑا ہے۔ اس لیے یہ گالی اس کو نہیں ہمیں دی گئی ہے۔ اور یہ خیال تم اپنے دل سے نکال دو کہ تم اس ”ذکر“ کا کچھ بگاڑ سکو گے۔ یہ براہ راست ہماری حفاظت میں ہے۔ نہ تمہارے مٹائے مٹ سکے گا، نہ تمہارے دبائے دب سکے گا، نہ تمہارے طعنوں اور اعتراضوں سے اس کی قدر گھٹ سکے گی، نہ تمہارے روکے اس کی دعوت رک سکے گی، نہ اس میں تحریف اور ردوبدل کرنے کا کبھی کسی کو موقع مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–15

اللغات الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔ خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–13

تفسیر آیات 10 تا 13: انبیاء کی سرگزشتوں کا حوالہ : تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انہیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی کفر اور رسولوں کا استہزاء ہم مجرموں کے دلوں میں دیتے ہیں یا رچا دیتے ہیں، یہ نسبت نے اپنی طرف اس لئے کی کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے گو ان کا فعل ان کی مسلسل معصیت کے نتیجے میں اللہ کی مشیت سے رونما ہوا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–12

4: ”یہ بات“ سے قرآن کریم بھی مراد ہوسکتا ہے، یعنی قرآن کریم ان کے دلوں میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ انہیں ایمان کی دولت نہیں بخشتا۔ اور ”یہ بات“ سے ان کے مذاق اڑانے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور کفر و بغاوت اور استہزاء ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے ہم ان کے دلوں میں اسی طرح استہزاء و تکذیب کی عادت جاگزیں کردیتے ہیں۔ جب ان کے دل میں کانوں کے راستہ سے وحی الٰہی جاتی ہے تو ساتھ ساتھ تکذیب بھی چلی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ حق کی دعوت اپنی تاثیر کی وجہ سے ہمیشہ مخاطبین کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ چناچہ جو لوگ انبیاء کی دعوت کو ٹھکراتے رہے ‘ وہ اس کی حقانیت کو خوب پہچان لینے کے بعد ٹھکراتے رہے۔ اس لیے کہ حق کو حق تسلیم کرنے سے ان کے مفادات پر زد پڑتی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–12

5 ذکر اور قرآن کا فرق :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بجائے ذکر کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا لغوی معنی یاددہانی یا نصیحت ہے۔ اگرچہ صفاتی پہلو سے قرآن کریم کا ایک نام ذکر بھی ہے تاہم یہ دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ جیسے سورة قمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17؀) 54 ۔ القمر :17) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذکر جب یاد دہانی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ یعنی کتاب بھی اور وہ بصیرت بھی جو اللہ تعالیٰ کتاب کے بیان کے لیے اپنے رسولوں کو عطا فرماتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–13

10۔ ایک مخلص وہوا خواہ قوم مصلح جب اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی ہوا خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ اور حیران رہ جاتا ہے، چہ جائیکہ وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہوا ہے ! آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزر رہی ہوگی ! قرآن کریم اسی لئے بار بار آپ کی تسکین وتشفی کے لئے تاریخی نظیروں پر توجہ دلاتا ہے، (آیت) ” نسلکہ فی قلوب المجرمین “۔ یہ مجرموں کے دل میں استہزاء کا القاء بالکل اسی طرح کا ہے، جیسے ہر معصیت، ہر فسق، ہر کفر کا القاء نظام تکوینی میں مسبب الاسباب ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین اسی طرح ہم یہ استہزاء ان مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ الْمُجْرِمِیْنَ سے مراد ہیں : مشرکین مکہ ‘ یعنی جس طرح گزشتہ کافر امتوں کے دلوں میں ہم نے کفر و استہزاء کو داخل کردیا تھا ‘ اسی طرح مکہ کے ان مشرکوں کے دلوں میں بھی ہم کفر و استہزاء کو داخل کرتے ہیں۔ سِلْک (پرونا) ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا ‘ جیسے سوئی میں ڈورے کو اور زخمی میں نیزے کی نوک کو داخل کردینا۔ اس آیت میں فرقۂ قدریہ کے قول کا رد ہے (فرقۂ قدریہ قائل ہے کہ وہ اپنے افعال کا خود خالق ہے) آیت بتارہی ہے کہ کافروں کے دلوں میں کفر و استہزاء کو پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 12۔ 13) اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق نہ کیا، اسی طرح ہم یہ جھٹلانا اور مذاق ان مشرکین مکہ والوں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں جس کی بنا پر یہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم اور نزول عذاب پر ایمان نہیں لاتے اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کے وقت اللہ تعالیٰ کا بھی قانون ان قوموں کی ہلاکت اور ان پر نزول عذاب کا چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔۔ : ”نَسْلُكُهٗ“ میں ”ہٗ“ ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ ”ہٗ“ کی ضمیر ”اَالذِّکْرَ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کردیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق ”نَسْلُكُهٗ“ اور ”لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ“ میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ نے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

آیت نمبر 12 تا 13 قولہ تعالیٰ : کذلک نسلکہ اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں گمراہی، کفر، استہزاء اور شرک فی قلوب المجرمین مجرموں کے دلوں میں جو آپ کی قوم میں سے ہیں ؛ یہ حضرت حسن اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، یعنی جس طرح ہم نے اسے ان لوگوں کے دلوں میں داخل کیا جو پہلی امتوں میں سے گزر چکے ہیں اسی طرح ہم اسے آپ کی قوم کے مشرکوں کے دلوں میں بھی داخل کریں گے تاکہ وہ آپ کے ساتھ ایمان نہ لائیں، جیسا کہ ان سے پہلے والے لوگ اپنے رسولوں کے ستاھ ایمان نہیں لائے۔ اور ابن جریج نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہم تکذیب (جھٹلانا) داخل کرتے ہیں۔ اور السلک کا معنی ہے : ایک شے کو دوسری شے میں داخل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–13

1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “ سے مراد ہے پہلی امتیں۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) ۔ لا یومنون بہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم مشرکین کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم ان کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 4:۔ امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَسْلُكُهٗ : ڈال دیتے ہیں ہم اس کو ] [ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کے دلوں میں ] س ل ک [سَلْکًا : (ن) (1) کسی راستہ پر چلنا۔ کسی چیز میں داخل ہونا۔ پڑنا۔ (لازم) (2) کسی راستہ پر چلانا۔ کسی چیز میں داخل کرنا۔ ڈالنا۔ (متعدی) زیر مطالعہ آیت۔ 12]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–15

سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–15

ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–13

7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ 12۝ۙ سلك السُّلُوكُ : النّفاذ في الطّريق، يقال : سَلَكْتُ الطّريق، وسَلَكْتُ كذا في طریقه، قال تعالی: لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] ، يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] ، وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] ، ومن الثاني قوله : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقوله : كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ [ الحجر/ 12] ، كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] ، فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] ، يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] . قال بعضهم : سَلَكْتُ فلانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔ کفار کے استہزاء کے چند اسباب : تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–13

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَدْخَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 10۔ 11۔ 12۔ 13) (اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔ یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔ ) استہزا ہر قوم کا شیوہ قرآن کریم کی تمام تر جلالتِ قدر اور غیرمعمولی حفاظت کے باوجود جس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : سرور دوعالم ﷺ کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔ سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ ﷺ کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کو ” الصادق “ اور ” الامین “ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجرموں میں تکذیب چلی آرہی ہے : 12: کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ (اسی طرح (استہزاء) ڈال دیتے ہیں مجرمین کے دلوں میں) جیسا کفر کو چلایا ان کے دلوں میں نمبر 2۔ استہزاء کو پہلے گروہوں میں نسلکہؔ ہم اس کفر یا استہزاء کو ڈال دیں گے مجرموں کے دلوں میں جو اس کو پسند کریں گے آپ کی امت میں سے۔ کہا جاتا ہے سلکت الخیط فی الابرۃ واسلکتہ میں نے دھاگہ سوئی میں ڈال دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے عقیدہ اصلح اور خلق افعال کے خلاف اہل سنت کی واضح حجت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔” کذک نسلکۃ “ جس طرح گزشتہ کافر امتوں کے دلوں میں ہم نے تکذیب اور استہزاء کو داخل کردیا تھا اسی طرح مکہ کے ان مشرکوں کے دلوں میں بھی ہم کفر اور استہزاء کو داخل کرتے ہیں ۔ ” فی قلوب المجرمین “ اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں ۔ اس آیت میں فرقہ قدریہ کی تردید ہے کیونکہ ان کے نزدیک بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے تم ان کی دل لگی سے بددل نہ ہو اور جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ان کے مسخراپن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیتے ہیں کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

آیت 9 رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ (یایھا الذی نزل علیہ الذکر) ” اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن “ یعنی تیرے زعم کے مطابق (انک لمجنون) ” بیشک تو دیوانہ ہے “ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذبہ کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (لوما تاتینا بالمآئکۃ) ” کیوں نہیں لے آتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو “ جو اس چیز کی صداقت اور صحت کی گواہی دیں جو تو لے کر آیا ہے (ان کنت من الصدقین) ” اگر تو سچا ہے “ اور چونکہ تیری تائید کیلئے تیرے ساتھ فرشتے نہیں آئے اس لئے تو سچا نہیں ہے اور ان کا یہ کہنا سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–14

14۔ (نسلکہ) کی ضمیر منصوب کے مرجع میں دو قول و احتمال : اسی طرح ہم اتار دیتے ہیں اس۔ تکذیب واستہزاء کو مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی (نسلکہ) میں ضمیر منصوب کا مرجع تکذیب واستہزاء ہے۔ یعنی ان بدبخت لوگوں نے جب حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب اور اس کے استہزاء ہی کو اپنایا تو ہم نے ان کے اس اختیار کے مطابق اسی چیز کو ان کے دلوں میں اتار دیا۔ کیونکہ ہمارا قانون و دستور یہی ہے کہ انسان جدھر جانا چاہئے ہم اس کو ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں (نولہ ماتولی) بہرکیف یہ ایک قول و احتمال ہے جس کو مفسرین کرام کے ایک گروہ نے اختیار کیا (ابن کثیر، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) جب کہ دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–15

مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ ” نسلکہ “ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ یعنی جب بدکاری سے باز نہیں آتے تو اس کی سزا یہدیتے ہیں کہ انہیں قرآن اور رسول کے ساتھ کفر و استہزا کا عادی بنادیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:12) نسلکہ۔ مضارع جمع متکلم ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس ضمیر کا مرجع الاستھزاء ہے جو یستھزء ون کا مصدر ہے۔ ہم (اس استہزا و تکذیب کو گنہگاروں کے دلوں میں) ڈال دیتے ہیں ۔ السلوک (باب نصر) کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ جیسے لتسلکوا منہا سبلا فجاجا (71:20) تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں پر چلوپھرو۔ یہ فعل متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ما سلککم فی سفر۔ (74:42) تمہیں کس چیز نے دوزخ میں لا ڈالا۔ اسی سے ہے سلکت الخیط فی الابرۃ۔ میں نے سوئی میں دھاگہ ڈالا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–15

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15 شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 15 کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–13

آنحضرت ﷺ سے قریش کا مسخرا پن ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ ان کے مسخرا پن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے۔ یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیں گے کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم ہے۔ کہیں ایسا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[5] یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے وہ اس ذکر کو سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، گویا ایک گرم سلاخ ان کے دل کے پار ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–14

قرآن کیونکر محفوظ ہے ! (ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

12 ۔ جس طرح ہم نے گزشتہ منکروں کے قلوب میں استہزاء اور تکذیب کو داخل کردیا تھا اسی طرح ہم ان مجرموں کے قلوب میں بھی کفر و ضلال استہزاء اور تکذیب کو داخل کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–15

ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : دیکھو ہم مجرموں کے دلوں میں اس طرح مخالفت کی بات بٹھا دیتے ہیں : 12۔ ایک مخلص اور قوم کا سچا مخلص مصلح اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی بہی خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ رہ جاتا ہے اور اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور پھر وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہے آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزری ہوگی ؟ قرآن کریم اس لئے بار بار آپ کی تسکین وتشی کیلئے تاریخی نظیروں پر توجہ فرماتا ہے ” مجرموں کے دلوں میں کلام حق کی مخالفت کا بٹھانا “ کیا ہے ؟ وہی استہزاء کا القا بالکل اس طرح کا جیسے ہر معصیت ‘ ہر فسق ‘ ہر کفر کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

A Lexical Note of Explanation The word: اَلشِيَعِ in the first verse (10) is the plural form of: شِیعہ (shah) which means the follower or helper of a person. Then, it is also used to denote a group which agrees upon particular beliefs and theoretical assumptions. So, the sense of the statement is that Allah Ta’ ala has sent messengers among every group or sect. Here, by using the word: فِی in فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( in place of اِلٰی : ila: to (translated as 'among the groups of earlier peoples' ), the hint given is that the messenger for every group was sent from among that particular…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

6. That is, you should note it well that it is We Who have sent down this zikr. Thus it is not Our Messenger whom you are calling insane but in fact this abusive remark applies to Us. Moreover, you should know that it is Our Word and We are preserving it. Therefore, you can do no harm to it, nor can you discredit it by your ridicules, taunts and objections, nor can you hamper its progress. Whatever you may do against it, no one will ever be able to change or tamper with it.

Read the full tafseer →