Al-Hijr 15:13

Al-Hijr · from ayah 13

15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ ۟لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ‌ۚ وَقَدۡ خَلَتۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will not believe in it, while there has already occurred the precedent of the former peoples.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:13

وہ اِس پر ایمان نہیں لایا کرتے قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه اس پر ایمان نہیں ﻻتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور پچھلے لوگوں کا بھی یہی طریقہ چلا آیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ لوگ اِس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے اور بیشک پہلوں کی (یہی) روش گزر چکی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقینا (یہی) پہلے لوگوں کا طریقہ گزرا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے، پہلی قوموں کی بھی یہی روش چلی آرہی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگلوں کی سنت گزر چکی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اس پر ایمان نہیں لاتے، اور یہی طریقہ (و دستور) رہا ہے پہلے لوگوں کا،

— مولانا اسحاق مدنی

(چنانچہ) یہ اس (قرآن) پر ایمان نہیں لاتے (یہ) دستور پہلوں سے چلا آتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(تو اے نبی !) یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور پہلے لوگوں کی سنت گزر چکی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

they do not believe in it. This has been the wont of people of this kind from ancient times.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(whereby) they do not believe in it (the Qur‘an), and this has been the way of earlier people.

— Muhammad Taqi Usmani

(whereby) they do not believe in it (the Qur‘an), and this has been the way of earlier people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They would not believe in it (the Qur'an); and already the example of the ancients has gone forth.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They believe not therein, though the example of the men of old hath gone before.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will not believe in it, while there has already occurred the precedent of the former peoples.

— Saheeh International

They do not believe in the Truth and they exactly follow the tradition of the ancient (unbelievers)

— Muhammad Sarwar

They do not believe in it, and indeed the example of the former people has already passed.

— Muhammad Habib Shakir

They believe not therein, and already the example of the ancients hath gone forth.

— Abdul Majid Daryabadi

That they should not believe in the (Message); but the ways of the ancients have passed away.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسکین دیتا ہے کہ جس طرح لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول ﷺ کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء نجات پا گئے اور ایمان دار عافیت حاصل کر گئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی ﷺ کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی کی مخالفت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–15

سورة الْحِجْر 7 عام طور پر مترجمین و مفسرین نے نَسْلُکُہ کی ضمیر استہزاء کی طرف اور لَا یُوْمِنُوْنَ بِہ کی ضمیر ذکر کی طرف پھیری ہے، اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”ہم اسی طرح اس استہزاء کو مجرمین کے دلوں میں داخل کرتے ہیں اور وہ اس ذکر پر ایمان نہیں لاتے“۔ اگرچہ نحوی قاعدے کے لحاظ سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن ہمارے نزدیک نحو کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح یہ ہے کہ دونوں ضمیریں ذکر کی طرف پھیری جائیں۔ سلک کے معنی عربی زبان میں کسی چیز کو دوسری چیز میں چلانے، گزارنے اور پرونے کے ہیں، جیسے تاگے کو سوئی کے ناکے میں گزارنا۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے اندر تو یہ ذکر قلب کی ٹھنڈک اور روح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–15

اللغات الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔ خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–13

تفسیر آیات 10 تا 13: انبیاء کی سرگزشتوں کا حوالہ : تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انہیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔ جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

13۔ 1 یعنی ان کے ہلاک کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اللہ نے پہلے مقرر کر رکھا ہے کہ تکذیب و استہزاء کے بعد وہ قوموں کو ہلاک کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–15

5: مطلب یہ ہے کہ ان کے سارے مطالبات محض ضد پر مبنی ہیں۔ فرشتے اتارنا تو درکنار، اگر خود ان کو آسمان پر لے جایا جائے تب بھی یہ آنحضرت ﷺ کو جھٹلانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ لیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔ لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی ہمیشہ یوں ہی جھٹلاتے اور ہنسی کرتے آئے ہیں اور سنت اللہ یہ رہی ہے کہ متمردین ہلاک و رسوا کیے جاتے رہے اور انجام کار حق کا بول بالا رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 13–15

آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

6 کافروں کی ایمان نہ لانے کے لئے کٹ حجتیاں :۔ جس طرح منکرین حق اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کبھی آپ پر اختراغ کا الزام لگاتے ہیں کبھی کہتے ہیں یہ محض جادوگری اور جادو بیانی ہے۔ کبھی کسی معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی فرشتوں کے نزول کا، کبھی بشر ہونے کی بنا پر آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور کبھی جادوگر اور کبھی دیوانہ کہہ دیتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے آیات الٰہی کو نہ ماننے کے لیے کٹ حجتیاں ہیں اور ایسا استہزاء صرف آپ سے ہی نہیں کیا جارہا بلکہ منکرین حق پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ اللہ کی آیات سن لینے کے بعد انھیں سوجھتا ہی یہی کچھ ہے۔ ایسی آیات کو نازل کرنے کا ایک اہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–13

10۔ ایک مخلص وہوا خواہ قوم مصلح جب اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی ہوا خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ اور حیران رہ جاتا ہے، چہ جائیکہ وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہوا ہے ! آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزر رہی ہوگی ! قرآن کریم اسی لئے بار بار آپ کی تسکین وتشفی کے لئے تاریخی نظیروں پر توجہ دلاتا ہے، (آیت) ” نسلکہ فی قلوب المجرمین “۔ یہ مجرموں کے دل میں استہزاء کا القاء بالکل اسی طرح کا ہے، جیسے ہر معصیت، ہر فسق، ہر کفر کا القاء نظام تکوینی میں مسبب الاسباب ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ نعوذ باللہ یہ مراد نہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یؤمنون بہ اسی وجہ سے یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ وقد خلت سنۃ الاولین اور گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی (ایسا ہی) گزرا ہے۔ یعنی اللہ کا طریقہ ان کے ساتھ بھی یہی رہا ہے کہ اللہ نے ان کی مدد نہیں کی اور کفر کو ان کے دلوں میں داخل کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 12۔ 13) اور کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق نہ کیا، اسی طرح ہم یہ جھٹلانا اور مذاق ان مشرکین مکہ والوں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں جس کی بنا پر یہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم اور نزول عذاب پر ایمان نہیں لاتے اور جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کے وقت اللہ تعالیٰ کا بھی قانون ان قوموں کی ہلاکت اور ان پر نزول عذاب کا چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ۔۔ : ”نَسْلُكُهٗ“ میں ”ہٗ“ ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ ”ہٗ“ کی ضمیر ”اَالذِّکْرَ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کردیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق ”نَسْلُكُهٗ“ اور ”لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ“ میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ نے بھی یہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–13

آیت نمبر 12 تا 13 قولہ تعالیٰ : کذلک نسلکہ اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں گمراہی، کفر، استہزاء اور شرک فی قلوب المجرمین مجرموں کے دلوں میں جو آپ کی قوم میں سے ہیں ؛ یہ حضرت حسن اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، یعنی جس طرح ہم نے اسے ان لوگوں کے دلوں میں داخل کیا جو پہلی امتوں میں سے گزر چکے ہیں اسی طرح ہم اسے آپ کی قوم کے مشرکوں کے دلوں میں بھی داخل کریں گے تاکہ وہ آپ کے ساتھ ایمان نہ لائیں، جیسا کہ ان سے پہلے والے لوگ اپنے رسولوں کے ستاھ ایمان نہیں لائے۔ اور ابن جریج نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا : ہم تکذیب (جھٹلانا) داخل کرتے ہیں۔ اور السلک کا معنی ہے : ایک شے کو دوسری شے میں داخل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–13

1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “ سے مراد ہے پہلی امتیں۔ 2:۔ امام ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12) ۔ لا یومنون بہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم مشرکین کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 3:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ “ سے مراد ہے کہ وہ شرک جس کو ہم ان کے دلوں میں چلاتے ہیں۔ 4:۔ امام عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “ (12)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَا يُؤْمِنُوْنَ : یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] [بِهٖ : اس پر ] [وَقَدْ : اور گزر چکی ہے ] [خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کی عادت ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–15

سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–15

ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–13

7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ 13؀ خلا الخلاء : المکان الذي لا ساتر فيه من بناء ومساکن وغیرهما، والخلوّ يستعمل في الزمان والمکان، لکن لما تصوّر في الزمان المضيّ فسّر أهل اللغة : خلا الزمان، بقولهم : مضی الزمان وذهب، قال تعالی: وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [ آل عمران/ 144] ( خ ل و ) الخلاء ۔ خالی جگہ جہاں عمارت و مکان وغیرہ نہ ہو اور الخلو کا لفظ زمان و مکان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چونکہ زمانہ میں مضی ( گذرنا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے اہل لغت خلاالزفان کے معنی زمانہ گزر گیا کرلیتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما مُحَمَّدٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔ کفار کے استہزاء کے چند اسباب : تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–13

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَدْخَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 10۔ 11۔ 12۔ 13) (اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ ہم اسی طرح مجرموں کے دلوں میں اس کو اتارتے ہیں۔ یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور گزر چکی ہے پہلوں کی یہی روش۔ ) استہزا ہر قوم کا شیوہ قرآن کریم کی تمام تر جلالتِ قدر اور غیرمعمولی حفاظت کے باوجود جس کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : تحفظ اور ضبط قرآن کی گارنٹی دینے کے بعد رسول محترم ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔ سرورِ دو عالم ﷺ کو اس بات کی تسلّی دینے کے بعد کہ جس قرآن مجید کی یہ لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ رہے گا۔ جس کا دوسرے الفاظ میں معنیٰ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنا کام اطمینان کے ساتھ کرتے جائیں کیونکہ آپ کا کام اور پیغام ہمیشہ رہے گا اور ان لوگوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ہم نے آپ سے پہلی اقوام کی طرف بھی رسول بھیجے اور انہوں نے اپنے رسولوں کو استہزءا کا نشانہ بنایا۔ اس رویہ کی پاداش میں وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ یہی حالت آپ ﷺ کے مخالفین کی ہے۔ یہ بھی پہلے لوگوں کی روش اختیار کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مکہ والوں کی تکذیب پر وعید : 13: لَایُؤْمِنُوْنَ بِہٖ (یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے) نمبر 1۔ یا اللہ تعالیٰ پر یہ حال ہے وَقَدْ خَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ (گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی گزرا) یہ ان کے اس راستہ پر چلے جو ہلاکت کے لئے مقرر کیا گیا تھا جب کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یہ دراصل اہل مکہ کیلئے ان کی تکذیب پر وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔” لا یومنون بہ “ یہ ایمان نہیں لائیں گے محمد ﷺ پر اور نہ ہی قرآن پر ۔ ” وقد خلت “ اس سے ما قبل گزر چکی ہیں ۔ ” سنۃ الاولین “ اللہ تعالیٰ نے ما قبل امتوں کو انبیاء کے جھٹلانے کے بسبب ہلاک کیا ۔ اس کے ذریعے اہل مکہ کو ڈرانا مقصود ہے ( کہ اگر تم نے بھی اپنے نبی کو جھٹلایا تو تمہیں بھی ما قبل امتوں کی طرح ہلاک کر دیاجائے گا)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 13۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے تم ان کی دل لگی سے بددل نہ ہو اور جس طرح ان رسولوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو ان کے مسخراپن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیتے ہیں کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

آیت 13 جب مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ (ولقد ارسلنا من قبلک فی سیع الاولین) ” اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔ “ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کرچکے ہیں۔ (وما یاتیھم من رسول) ” اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا “ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ (الا کانوا بہ یستھرءون) ” تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔ “ (کذلک نسلکہ) ” اسی طرح داخل کردیتے ہیں ہم اس کو “ یعنی جھٹلانے کو (فی قلوب المجرمین) ” گناہ گاروں کے دلوں میں “ ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–14

14۔ (نسلکہ) کی ضمیر منصوب کے مرجع میں دو قول و احتمال : اسی طرح ہم اتار دیتے ہیں اس۔ تکذیب واستہزاء کو مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی (نسلکہ) میں ضمیر منصوب کا مرجع تکذیب واستہزاء ہے۔ یعنی ان بدبخت لوگوں نے جب حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب اور اس کے استہزاء ہی کو اپنایا تو ہم نے ان کے اس اختیار کے مطابق اسی چیز کو ان کے دلوں میں اتار دیا۔ کیونکہ ہمارا قانون و دستور یہی ہے کہ انسان جدھر جانا چاہئے ہم اس کو ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں (نولہ ماتولی) بہرکیف یہ ایک قول و احتمال ہے جس کو مفسرین کرام کے ایک گروہ نے اختیار کیا (ابن کثیر، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) جب کہ دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–15

مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔ ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:13) لا یؤمنون بہ۔ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الذکر (ایۃ 9) ہے۔ خلت۔ خلا یخلو (باب نصر) خلو سے ماضی۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ گذر گئی۔ الخلا خالی جگہ ۔ جہاں عمارت ومکان وغیرہ نہ ہو۔ اور الخلو۔ کا لفظ زمان اور مکان دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ چونکہ زمانہ گذرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس لئے قد خلت سنۃ الاولین کے معنی ہوں گے۔ پہلوں کی یہی روش گذر چکی ہے یعنی وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ یہی ہوا۔ سنۃ۔ دستور۔ طریقہ جاریہ۔ رسم ۔ اس کی جمع سنن ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–15

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15 شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 15 کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–13

آنحضرت ﷺ سے قریش کا مسخرا پن ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی دی کہ کفار اور مشرکین جو تمہارے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہیں اور تمہیں چھیڑتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو۔ ان کے مسخرا پن کرنے سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم وحی کا بھیجنا اور قرآن کا اتارنا بند کردیں گے۔ یہ لوگ جس بات پر جمے ہوئے ہیں جمنے دو ہم ان کے بہکے ہوئے خیال کو اور بھی پختہ کردیں گے کہ تم پر اور قرآن پاک پر یہ لوگ ایمان نہ لائیں اور اس ایمان نہ لانے کا جو نتیجہ پہلی قوموں کا ہوا وہ ان لوگوں کو معلوم ہے۔ کہیں ایسا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[5] یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے وہ اس ذکر کو سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، گویا ایک گرم سلاخ ان کے دل کے پار ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–14

قرآن کیونکر محفوظ ہے ! (ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13 ۔ اس لئے یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ طریقہ پہلے ہی لوگوں سے ہوتا چلا آتا ہے اور یہ رسم پہلوں سے ہی ہوتی آئی ہے۔ یعنی جرائم پر اصرار کی وجہ سے ان پر یہ نحوست مسلط ہوجاتی ہے اور کفر و ضلال ان پر مسلط ہوجاتا ہے نیک باتوں کے ساتھ ساتھ کفر و انکار بھی دل میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ طریقہ جو پہلوں کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے یہی سلوک مکہ کے مجرموں کے ساتھ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اور قرآن کریم کو نہیں مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ قرآن کسی کے دل میں حق تعالیٰ اسی طرح سناتا ہے کہ ساتھ اس کے انکار چلا آوے نیک راہی اور گمراہی اس کے اختیار ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–15

ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ بھی پہلوں کی طرح اس پر ایمان لانے والے نہیں : 13۔ بلاشبہ وہ پہلے گروہوں اور قوموں کی طرح ایمان لانے والے نہیں اور ہم بھی ان کو یقینا کھلا استہزاء کرتے رہنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے ، وہ ایمان نہ لا کر گزشتہ لوگوں کے طریقہ پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی اپنی سنت کے مطابق ان کے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو پہلوں کے ساتھ کیا گیا ۔ ایسا نہیں کہ ہمارا ان کے ساتھ کوئی بیر تھا اور ان کے ساتھ ہمیں زیادہ پیار ہے ہم بھی کسی طرف جھکنے والے نہیں ہر عمل کرنے والے کو اس کے نتیجہ کے ساتھ وابستہ کردیتے ہیں ، اور پھر جیسا اس کا عمل ہوتا ہے ویسی ہی اس کو جزا بھی مل کر رہتی ہے اور قیامت کے بپا کرنے کا یہی مقصد ہے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–15

A Lexical Note of Explanation The word: اَلشِيَعِ in the first verse (10) is the plural form of: شِیعہ (shah) which means the follower or helper of a person. Then, it is also used to denote a group which agrees upon particular beliefs and theoretical assumptions. So, the sense of the statement is that Allah Ta’ ala has sent messengers among every group or sect. Here, by using the word: فِی in فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( in place of اِلٰی : ila: to (translated as 'among the groups of earlier peoples' ), the hint given is that the messenger for every group was sent from among that particular…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

7. The majority of the translators and commentators are of the opinion that the pronoun“it”(Ayat 12), refers to their mockery, occurring in (Ayat 11), and in“they would not believe in it”in (Ayat 13), refers to the admonition occurring in (Ayat 9). Then (Ayats 12-13) will be rendered like this:“Thus we cause mockery enter into the hearts of the criminals and they do not believe in the admonition”. Though grammatically there is nothing wrong with this version, yet our version of“it”will be better even grammatically. According to this (Ayat 12) will mean, when the admonition enters into the…

Read the full tafseer →