ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لئے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کردیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سورة الْحِجْر 7
عام طور پر مترجمین و مفسرین نے نَسْلُکُہ کی ضمیر استہزاء کی طرف اور لَا یُوْمِنُوْنَ بِہ کی ضمیر ذکر کی طرف پھیری ہے، اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”ہم اسی طرح اس استہزاء کو مجرمین کے دلوں میں داخل کرتے ہیں اور وہ اس ذکر پر ایمان نہیں لاتے“۔ اگرچہ نحوی قاعدے کے لحاظ سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن ہمارے نزدیک نحو کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح یہ ہے کہ دونوں ضمیریں ذکر کی طرف پھیری جائیں۔
سلک کے معنی عربی زبان میں کسی چیز کو دوسری چیز میں چلانے، گزارنے اور پرونے کے ہیں، جیسے تاگے کو سوئی کے ناکے میں گزارنا۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے اندر تو یہ ذکر قلب کی ٹھنڈک اور روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللغات
الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
تفسیر آیت 14 تا 15: منکرین کے انکار کا اصلی سبب : وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ۔ لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔ یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کردی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عوتوں سب پر، جادو کردیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 1 یعنی ان کے ہلاک کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اللہ نے پہلے مقرر کر رکھا ہے کہ تکذیب و استہزاء کے بعد وہ قوموں کو ہلاک کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
5: مطلب یہ ہے کہ ان کے سارے مطالبات محض ضد پر مبنی ہیں۔ فرشتے اتارنا تو درکنار، اگر خود ان کو آسمان پر لے جایا جائے تب بھی یہ آنحضرت ﷺ کو جھٹلانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ لیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
الر تلک ایت الکتب وقران مبین (15 : 1) ” ا۔ ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی “۔ یعنی یہ حروف اور ان جیسے دوسرے حروف ہی دراصل قرآن اور کتاب الٰہی ہیں اور یہ حروف سب انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ لیکن یہی حروف قرآن کریم کی شکل میں عظیم آیات الٰہی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ، ایسی ترکیبات اور جملوں کی شکل اختیار کرتے ہیں کہ کسی کے لئے ایسا کلام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان حروف کا کوئی ذاتی مفہوم نہیں ہے لیکن یہی حروف قرآن مجید میں موضع ، بیان کنندہ اور کشاف بن جاتے ہیں۔
لوگوں میں سے بعض لوگ آج ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1 یعنی فرشتوں کا اتارنا تو اس قدر عجیب نہیں، اگر ہم آسمان کے دروازے کھول کر خود انھیں اوپر چڑھا دیں اور یہ دن بھر اسی شغل میں رہیں، تب بھی ضدی اور معاند لوگ حق کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ اس وقت کہہ دیں گے کہ ہم پر نظر بندی یا جادو کیا گیا ہے۔ یا شاید ابتداء میں نظر بندی سمجھیں اور آخر میں بڑا جادو قرار دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
آیت 13 لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُـنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ
انبیاء و رسل کے مخاطبین کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے۔ جس طرح ہم نے اپنے رسول محمد پر یہ ”الذکر“ نازل کیا ہے اسی طرح پہلے بھی ہم اپنے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کی قوموں کے لوگ اکثر انکار ہی کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6 کافروں کی ایمان نہ لانے کے لئے کٹ حجتیاں :۔ جس طرح منکرین حق اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کبھی آپ پر اختراغ کا الزام لگاتے ہیں کبھی کہتے ہیں یہ محض جادوگری اور جادو بیانی ہے۔ کبھی کسی معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی فرشتوں کے نزول کا، کبھی بشر ہونے کی بنا پر آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور کبھی جادوگر اور کبھی دیوانہ کہہ دیتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے آیات الٰہی کو نہ ماننے کے لیے کٹ حجتیاں ہیں اور ایسا استہزاء صرف آپ سے ہی نہیں کیا جارہا بلکہ منکرین حق پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ اللہ کی آیات سن لینے کے بعد انھیں سوجھتا ہی یہی کچھ ہے۔ ایسی آیات کو نازل کرنے کا ایک اہم…
Read the full tafseer →11۔ (آسمان پر) (آیت) ” ظلوا “۔ کے معنی ہیں کہ کسی فعل کو روز روشن میں کیا۔ یعنی یہ خارق عادت عمل میں آئے اور ہوش وبیداری کے عالم میں پوری روشنی میں عمل میں آئے نیند کی بیہوشی اور تاریکی وغیرہ سے شبہات کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ لاتقول العرب ظل یظل الا لکل عمل عمل بالنھار (کبیر) یعبر بہ عمایفعل بالنھار (راغب) مطلب یہ ہوا کہ یہ کافر معاند اگر اپنے فرمایشی معجزہ یعنی کافروں کے نزول زمینی سے کہیں بڑھے ہوئے خارق عادت یعنی اسرار و عجائب آسمانی کو بہ چسم خود جاکر دیکھ لیں۔ (آیت) ” لو فتحنا “۔ الخ ‘ یہ سب باتیں بہ طور فرض کے کہی گئی ہیں، اور مخاطبین اول کے عام انسانی خیالات اور علمی تحقیقات کے مطابق کہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیات قرآن کی آیتیں ہیں، اور اضافت بمعنی من ہے اور قرآن مبین کی (آیتیں ہیں) جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے یہ زیادتی صفت کے ساتھ عطف ہے بعید نہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن جب اپنے حال کو اور مسلمانوں کے حال کو دیکھیں تو تمنا کریں کاش ہم سر تسلیم خم کردیتے (ربما) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے، رُب تکثیر کیلئے ہے بایں صورت کہ ان کی جانب سے اس کی کثرت سے تمنا ہو اور کہا گیا ہے کہ (رُب) تقلیل کیلئے ہے امر واقعہ یہ ہے کہ (قیامت کی) ہولناکیاں ان کی مدہوش کئے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہوش ہی نہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →ولو فتحنا علیھم بابا من السمآء فظلوا فیہ یعرجون اور اگر ان (طلبگاران آیت) پر ہم آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور (فرشتے) اس میں چڑھنے لگیں۔ یعنی ان کافروں کو اپنی آنکھوں سے فرشتے چڑھتے دکھائی دیں۔
حسن نے کہا : یَعْرُجُوْنَ اور ظَلُّوْا کی ضمیریں کافروں کی طرف لوٹ رہی ہیں ‘ یعنی کافر خود آسمان کی طرف چڑھنے لگیں اور دن کی روشنی میں عجائب آسمانی دیکھتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14۔ 15) اور اگر اہل مکہ کے لیے ہم آسمان میں ان کے داخل ہونے کے لیے کوئی دروازہ کھول دیں اور فرشتوں کی طرح یہ کفار دن کے وقت اوپر جانے اور اترنے لگیں، تب بھی یوں کہہ دیں گے کہ ہماری نظربندی کردی گئی تھی، بلکہ ہم لوگوں پر تو بالکل جادو کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہماری عقل جاتی رہی۔
Read the full tafseer →وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ۔۔ : ”ظَلَّ“ اور ”بَاتَ“ میں وقت بھی ملحوظ ہوتا ہے۔ ”ظَلَّ“ دن کو ہونا، ”بَاتَ“ رات کو ہونا۔ اب ایک عجیب انداز میں ان کی ہٹ دھرمی اور ہر دلیل دیکھ کر بھی ایمان نہ لانے کا بیان ہوتا ہے، یعنی ان کا مطالبہ تو صرف فرشتے لانے کا ہے، اگر اس سے بڑھ کر عین دن کے بارہ بجے روشنی میں سب کے سامنے ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ لوگ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھنے لگیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت نمبر 14 تا 15
کہا جاتا ہے : ظل یفعل کذا، یعنی وہ اسے دن بھر کرتا رہا۔ اور مصدر الظلول ہے۔ یعنی اگر وہ علامات اور نشانیاں جو انہوں نے تجویز کی ہیں پوری کر بھی دی جائیں تو وہ یقیناً کفر پر مصر رہیں اور خیالات (اور توہمات) کے ساتھ مشغول ہوجائیں، جیسا کہ قرآن معجز کے بارے انہوں نے کہا : بیشک یہ سحر اور جادو ہے۔ یعرجون یہ عرج یعرج سے ہے اس کا معنی چڑھنا ہے۔ اور المعارج سیڑھیوں کو کہتے ہیں، یعنی اگر وہ آسمان کی طرف چڑھ جائیں اور ملکوت و ملائکہ کا مشاہدہ کرلیں تو پھر بھی یقیناً کفر پر اصرار کریں ؛ یہ حسن (رح) وغیرہ سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علیھم میں ضمیر مشرکین کے لئے ہے اور فظلوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1:۔ امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء فظلوفیہ یعرجون “ سے مراد ہے کہ اگر ہم ان پر آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ فرشتوں کو آسمان پر آتا جاتا دیکھ بھی لیں پھر بھی مشرکین یہی کہیں گے ہماری نظر بندی کردی گئی اور ہم پر شبہ ڈال دیا گیا اور ہم پر جادو کردیا گیا۔
2:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ولو فتحنا علیہم بابا من السمآء فظلوفیہ یعرجون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ (آیت ) ” لوما تاتینا بالملٓئکۃ “ ہے ابن جریج (رح) نے کہا…
Read the full tafseer →[وَلَوْ : اور اگر ] [ فَتَحْنَا : ہم کھول دیں ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ بَابًا : ایک دروازہ ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان میں سے ] [ فَظَلُّوْا : پھر وہ لگیں ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ يَعْرُجونَ : اوپر چڑھنے ]
ع ر ج
[عُرُوْجًا : (ن۔ ض) اوپر چڑھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔] [مِعْرَجْ : ج مَعَارِجُ ۔ چڑھنے کا آلہ۔ سیڑھی۔ مِنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ (اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں والا ہے یعنی مالک ہے) 70:3 ۔] [عَرَجًا : (س) لنگڑانا۔ لنگڑا کر چلنا۔] [اَعْرَجُ : اَفْعَلُ الوان و عیوب پر صفت ہے۔ لنگڑا۔ لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ (اندھے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
سابقہ امتوں نے بھی اپنے رسولوں کا استہزاء کیا معاندین اگر آسمان پر چڑھ جائیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ استہزاء اور تمسخر کا معاملہ کرتے تھے آپ کو اس سے تکلیف ہوتی تھی اللہ جل شانہ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی قوموں نے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا۔ رسولوں کی تکذیب بھی کی اور ان کا تمسخر بھی کیا جو حال ان لوگوں کا تھا وہی ان لوگوں کا حال ہے، جیسے ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں تکذیب داخل کی اسی طرح ان مجرمین یعنی کفار مکہ کے قلوب میں بھی داخل کردی، یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی عادت رہی ہے کہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
ذکر اقوال کفار ناہنجار دربارہ بارگاہ رسالت
قال اللہ تعالیٰ : وقالوا یا یھا الذی نزل علیہ الذکر .... الیٰ .... بل نحن قوم مسحورون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفار کے انکار قرآن اور اس پر تہدید کا ذکر تھا اب ان آیات میں کفار کے ان اقوال فاسدہ اور شبہات کا سدہ کا ذکر کرتے ہیں جو وہ صاحب قرآن آنحضرت ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے جس سے ان کا مقصود انکار رسالت تھا ان آیت میں ان کے اقوال کو مع جواب کے ذکر فرماتے ہیں تاکہ خود ان پر ان کا عناد اور کج فہمی ظاہر ہوجائے کہ جن کو پم اپنی جہالت کے نشہ میں سرشار ہو کر مجنون کہا کرتے تھے وہ مجنون نہ تھے چونکہ نزول وحی کے وقت آنحضرت ﷺ پر ایک ربودگی کی کیفیت طاری ہوتی…
Read the full tafseer →8:۔ یہ زجر ہے جو شکوہ مذکورہ سے متعلق ہے اس میں مشرکین مکہ کے انتہائی عناد و الحاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین کا مطالبہ تھا کہ اگر فرشتے محمد ﷺ کی رسالت کی تصدیق کردیں تو ہم مان لیں گے فرمایا فرشتوں کا نازل کرنا بےسود ہے کیونکہ ان معاندین کا عناد اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ فرشتے نازل کرنا تو ایک طرف اگر ہم آسمان میں ایک دروازہ کھول دیں اور یہ مشرکین اس میں سے اوپر چرھ جائیں اور ملکوت سمٰوات کا اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں، وہاں فرشتوں کو دیکھ لیں اور پوری حقیقت واضح اور روشن ہو کر ان کے سامنے آجائے تو بھی یہ لوگ نہیں مانیں گے اور فرط تعصب وعناد کی وجہ سے پھر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–15
(ربط آیات)
سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر…
Read the full tafseer →وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14ۙ
فتح
الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65]
(ت ح )
الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔
ظلل
الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔
کفار کے استہزاء کے چند اسباب :
تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَلَوْفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآئِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ ۔ لَقَا لُوْا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُ نَابَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُرْرُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 14۔ 15)
( اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول بھی دیتے اور وہ سارا دن اس میں سے اوپر چڑھتے رہتے۔ تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں مدہوش کردی گئیں، ہم ایسی قوم ہیں جن پر جادو کردیا گیا۔ )
نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نصیب نہیں ہوتا
جب تک قریش اور دیگر مشرکین سنجیدگی اور متانت سے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر غور و فکر کے لیے آمادہ نہیں ہوتے اور وہ دنیا اور آخرت کی حقیقت پر تدبر سے کام نہیں لیتے اور قرآن کریم کی تعلیم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : تحفظ اور ضبط قرآن کی گارنٹی دینے کے بعد رسول محترم ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔
سرورِ دو عالم ﷺ کو اس بات کی تسلّی دینے کے بعد کہ جس قرآن مجید کی یہ لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ رہے گا۔ جس کا دوسرے الفاظ میں معنیٰ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنا کام اطمینان کے ساتھ کرتے جائیں کیونکہ آپ کا کام اور پیغام ہمیشہ رہے گا اور ان لوگوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ہم نے آپ سے پہلی اقوام کی طرف بھی رسول بھیجے اور انہوں نے اپنے رسولوں کو استہزءا کا نشانہ بنایا۔ اس رویہ کی پاداش میں وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ یہی حالت آپ ﷺ کے مخالفین کی ہے۔ یہ بھی پہلے لوگوں کی روش اختیار کرتے…
Read the full tafseer →واضح ترین نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے :
14: وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآئِ ( اور اگر ہم کھول دیں ان پر آسمان سے کوئی دروازہ) اگرچہ ہم ان کے سامنے واضح ترین نشانی پیش کردیں جو کہ آسمان سے دروازہ کھلنے کی صورت میں ہو۔ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ (وہ اس میں چڑھنے لگیں) چڑھنے لگیں۔
Read the full tafseer →14۔” ولو فتحنا علیھم “ یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے۔” بابا من السماء فظلوا فیہ یعرجون “ ان کافروں کو اپنی آنکھوں سے فرشتے چڑھتے دکھائی دیں۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ” یعرجون “ اور ” ظلوا “ کی ضمیریں کافروں کی طرف لوٹ رہی ہیں ۔ مطلب یہ ہوگا کہ کافر خود آسمان کی طرف چڑھنے لگیں ( اور دن کی روشنی میں عجائب آسمانی دیکھتے رہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
14۔ 15۔ اس آیت میں اللہ پاک ان کفار اور مشرکین کے انتہا درجے کی گمراہی کو بیان فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے معجزہ تو کیا چیز ہے اگر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیا جائے اور اپنی آنکھ سے یہ لوگ وہاں کے عجائبات کو آسمان پر چڑھ کر دیکھ لیں جب بھی تو کفر سے باز نہیں آئیں گے بلکہ ان عجائبات کو دیکھ کر یہ کہنے لگیں گے کہ ہماری نظر بندی کی گئی ہے آنکھیں اپنی اصلی حالت پر نہیں ہیں ہم پر جادو کردیا گیا ہے جو ایسے ایسے تماشے ہم کو نظر آرہے ہیں جب ان کے کفرو سرکشی کی یہ حالت ہے تو کوئی قدرتی نشان ان کے ایمان لا نے کو کار آمد نہیں ہوسکتی فرشتے آسمان سے آئیں یا یہ خود آسمان پر چڑھ جاویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 13
جب مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ (ولقد ارسلنا من قبلک فی سیع الاولین) ” اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔ “ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کرچکے ہیں۔ (وما یاتیھم من رسول) ” اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا “ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ (الا کانوا بہ یستھرءون) ” تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔ “ (کذلک نسلکہ) ” اسی طرح داخل کردیتے ہیں ہم اس کو “ یعنی جھٹلانے کو (فی قلوب المجرمین) ” گناہ گاروں کے دلوں میں “ ہم نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
14۔ (نسلکہ) کی ضمیر منصوب کے مرجع میں دو قول و احتمال :
اسی طرح ہم اتار دیتے ہیں اس۔ تکذیب واستہزاء کو مجرموں کے دلوں میں۔ یعنی (نسلکہ) میں ضمیر منصوب کا مرجع تکذیب واستہزاء ہے۔ یعنی ان بدبخت لوگوں نے جب حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کی تکذیب اور اس کے استہزاء ہی کو اپنایا تو ہم نے ان کے اس اختیار کے مطابق اسی چیز کو ان کے دلوں میں اتار دیا۔ کیونکہ ہمارا قانون و دستور یہی ہے کہ انسان جدھر جانا چاہئے ہم اس کو ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں (نولہ ماتولی) بہرکیف یہ ایک قول و احتمال ہے جس کو مفسرین کرام کے ایک گروہ نے اختیار کیا (ابن کثیر، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) جب کہ دوسرا قول اس میں یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
مشرکین کی حجتیں اور معجزات پر تعصب
تشریح : ان آیات میں اللہ جل شانہٗ پیارے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ بد فطرت، نافرمان اور گمراہ لوگ ہمیشہ ایک ہی ذہنیت کے ہوتے ہیں یہ ہمیشہ پیغمبروں کو تنگ کرتے رہے ہیں یہ ان کی پرانی خصلت ہے کیونکہ یہ ہدایت کی راہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے اسی لیے ہم نے بھی ان کے دلوں کو گمراہی پر ہی مضبوط کردیا ہے۔ اللہ کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ نیک فطرت کے لیے نیکی کی راہیں اور بد فطرت کے بدی کی راہیں آسان کردیتا ہے۔ نیک پر خوش ہو کر رحمت کرتا ہے اور بد سے ناراض ہو کر لعنت کرتا ہے، اس لیے کوئی بدکردار انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے تو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں جن کے معنی جاننا ضروری نہیں اور تلاوت سے ہی برکات حاصل ہوتی ہیں یہ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کے درمیان بھید ہیں ، ارشاد ہوا یہ آیات ایک کامل ومکمل کتاب اور واضح قرآن کی ہیں ایک ایسی کتاب جو ہر موضوع پر حتمی اور یقینی بات کرتی ہے اور جو قرآن ہے یعنی اپنے پڑھنے والے کو تجلیات باری سے مستفید کرتی ہے نیز مبین ہے کہ ہر بات کھول کر بیان کردیتی ہے ۔
ایک وقت آرہا ہے جب عقائد و اعمال کے نتائج سامنے آئیں گے تو کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش انہیں اسلام نصیب ہوا ہوتا مگر آج انہیں پیٹ بھرنے ، عیش کرنے اور لمبی لمبی آرزوئیں کرنے سے فرصت نہیں ، گویا یہی طرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 12 ۔ رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (رازی) ۔ ” برج “ عربی زبان میں قلعہ یا منزل کو کہتے ہیں۔ کہاں برجوں سے مراد وہ منزلیں ہیں جن سے سورج اپنی گردش کے دوران میں گزرتا ہے اور وہ تعداد میں بارہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ برج وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں فرشتے پہرا دیتے ہیں۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(15:14) فظلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ظل اور ظلول سے (باب فتح وسمع) الظل سایہ یہ الضح دھوپ کی ضد ہے ظل اور ظلول کے معنی دن میں کسی کام کو انجام دینے کے ہیں جس طرح بات یبیت کا استعمال رات گذارنے کے لئے ہوتا ہے ایسے ہی ظل یظل کا استعمال دن گذارنے کے لئے ہوتا ہے۔
یہ افعال ناقصہ میں سے ہے اور کسی کام کو دن کے وقت کرنے کے معنی میں آتا ہے کیونکہ دن کے وقت (از طلوع آفتاب تا غروب آفتاب) چیزوں کا سایہ موجود رہتا ہے۔
یہ صار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اس وقت دن کی تخصیص نہیں رہتی مثلاً لظلوا من بعدہ یکفرون۔ (30:51) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں گے۔
فظلوا فیہ یعرجون۔ پھر وہ دن دہاڑے چڑھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 15
شیع جماعتیں، گروہ یستھزء ون وہ مذاق اڑاتے ہیں نسلک ہم چلاتے ہیں خلت گذر گئی گذر گئے سنۃ الاولین گذرے ہوؤں کے طریقے فتحنا ہم نے کھول دیا یعرجون وہ چڑھتے ہیں سکرت باندھ دی گئی، روک دی گئی۔ مسحورون جادو کا اثر کئے گئے۔
تشریح : آیت نمبر 10 تا 15
کفار و مشرکین ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی سچی تعلیمات کا جواب دینے یا اس کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے اور ایسا انداز اختیار کرتے جس سے نبی کریم ﷺ کو سخت ذہنی اذیت پہنچتی تھی۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ فرشتے کیوں نہ بھیج دیئے گئے جو آپ کے آگے پیچھے چلتے اور ہم ان کو دیکھ کر آپ کو اللہ کا نبی تسلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
کفار کی گمراہی
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کفار ومشرکین کی انتہا درجے کی گمراہی کو بیان فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ معجزہ تو کیا چیز ہے اگر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیا جائے اور اپنی آنکھوں سے یہ لوگ وہاں کے عجائبات کو آسمان پر چڑھ کر دیکھ لیں، جب بھی تو کفر سے باز نہ آئیں گے۔ بلکہ ان عجائبات کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ ہماری نظر بند کی گئی ہے۔ آنکھیں اپنی اصل حالت پر نہیں ہیں ہم پر جادو کردیا گیا ہے جو ایسے ایسے تماشے ہم کو نظر آرہے ہیں۔ جب ان کے کفر وسرکشی کی یہ حالت ہے تو کوئی قدرتی نشانی ان کے ایمان لانے کا کارآمد نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
[5] یعنی جو لوگ ارتکاب جرائم سے باز نہیں آتے وہ اس ذکر کو سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں، گویا ایک گرم سلاخ ان کے دل کے پار ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
قرآن کیونکر محفوظ ہے !
(ف 1) قرآن حکیم کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ محفوظ ہے اس کی زبان محفوظ ہے ، ادب محفوظ ہے ، ترجمہ ومعانی محفوظ ہیں ، مطالب ومقاصد محفوظ ہیں ، اور وہ تمام چیزیں محفوظ ہیں ، جو قرآن کے لئے ضروری ہیں ، قرآن کے الفاظ اس باب میں نہایت حکیمانہ ہیں ارشاد یہ نہیں ہے کہ قرآن محفوظ ہے بلکہ ذمہ داری یہ ہے کہ ” ذکر “ محفوظ رہے گا یعنی قرآن مع اسباب و شدہ ہدایت کے ، کیونکہ صرف قرآن کی حفاظت الفاظ وحروف کی صورت میں بےمعنی ہے ، جب تک قرآنی تہذیب و تمدن قرآنی مفہوم ومقصد قرآنی پیغام اور قرآنی عمل محفوظ نہ ہو ، الفاظ وحروف کا مجموعہ اگر محفوظ میں رہ جائے تو دنیا کے لئے مفید نہیں ہو…
Read the full tafseer →14 ۔ ان کے انکار وعناد کی تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور اس دروازے میں سے یہ دن کے وقت آسمان پر بھی چڑھ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ف 6۔ اس لئے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا، جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے کہ باوجود کسی مخالف کے نہ ہونے کے اس کے نسخوں میں اختلاف کمی بیشی کا ہوجاتا ہے اور اس میں باوجود مخالفین کی کوششوں کے یہ بات نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →اگر ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ ان میں چڑھنے لگیں تو بھی ماننے والے نہیں :
14۔ ” یعرجون “ وہ چڑھ جائیں اور اس سے کفار مراد لئے گئے ہیں کہ وہ آسمان کے دروازے کھل جانے پر خود وہاں چڑھ جائیں تو بھی وہ یقین کرنے والے بلکہ وہ اس کے متعلق کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیں گے گویا وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ کفر انکے دلوں میں یوں جڑ پکڑ چکا ہے یا زنگ کی طرح ان پر جم چکا ہے کہ اگر ان کیلئے آسمان کے دروازے کھول بھی دیئے جائیں اور یہ دن دہاڑے وہاں چڑھ بھی جائیں جیسا کہ ان کا مطالبہ ہے اور پھر وہاں یہ لوگ ہماری نشانیوں کا سارا حال معلوم کرلیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر بھی یہ حق کو قبول کرنے کے لئے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
A Lexical Note of Explanation
The word: اَلشِيَعِ in the first verse (10) is the plural form of: شِیعہ (shah) which means the follower or helper of a person. Then, it is also used to denote a group which agrees upon particular beliefs and theoretical assumptions. So, the sense of the statement is that Allah Ta’ ala has sent messengers among every group or sect. Here, by using the word: فِی in فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ ( in place of اِلٰی : ila: to (translated as 'among the groups of earlier peoples' ), the hint given is that the messenger for every group was sent from among that particular…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7. The majority of the translators and commentators are of the opinion that the pronoun“it”(Ayat 12), refers to their mockery, occurring in (Ayat 11), and in“they would not believe in it”in (Ayat 13), refers to the admonition occurring in (Ayat 9). Then (Ayats 12-13) will be rendered like this:“Thus we cause mockery enter into the hearts of the criminals and they do not believe in the admonition”. Though grammatically there is nothing wrong with this version, yet our version of“it”will be better even grammatically. According to this (Ayat 12) will mean, when the admonition enters into the…
Read the full tafseer →