Explained with ayahs 67–72
قوم لوط کی خر مستیاں
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط ؑ کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
سورة الْحِجْر 40
اس کی تشریح سورة ہود کے 87 میں بیان کی جا چکی ہے۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ یہ کلمات ایک شریف آدمی کی زبان پر ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ وہ بالکل تنگ آچکا تھا اور بدمعاش لوگ اس کی ساری فریاد فغاں سے بےپروا ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔
اس موقع پر ایک بات کو صاف کردینا ضروری ہے۔ سورة ہود میں واقعہ جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بدمعاشوں کے اس حملہ کے وقت تک یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے مہمان درحقیقت فرشتے ہیں۔ وہ اس وقت تک یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ چند مسافر لڑکے ہیں جو ان کے ہاں آکر ٹھیرے ہیں۔ انہوں نے اپنے فرشتہ ہونے کی حقیقت اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
معارف و مسائل
رسول کریم ﷺ کا خصوصی اعزازو اکرام
قولہ لَعَمْرُكَ۔ روح المعانی میں جمہور مفسرین کا قول یہ نقل کیا ہے کہ لَعَمْرُكَ کے مخاطب رسول کریم ﷺ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کی قسم کھائی ہے بہیقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابو نعیم وابن مردویہ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات و کائنات میں کسی کو محمد مصطفے ﷺ سے زیادہ عزت و مرتبہ عطا نہیں فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغبر یا فرشتے کی حیات پر کبھی قسم نہیں کھائی اور اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی عمر وحیات کی قسم کھائی ہے جو آنحضرت محمد ﷺ کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔
غیر اللہ کی قسم…
Read the full tafseer →لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ۔
اتمامِ حجت اور عذاب : جب معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ حضرت لوط کا یہ آخری حربہ بھی ان بدمستوں پر کارگر نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ ان کو نہایت پیار کے انداز میں تسلی دی کہ تمہاری جان کی قسم یہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے ہورہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اب یہ راہ پر آنے والے لوگ نہیں ہیں تو تم ان کے پیچھے ہلکان نہ ہو۔ اب خدا کا عذاب ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔
Read the full tafseer →72۔ 1 اللہ نبی سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حاکم مطلق ہے، وہ جس کی چاہے قسم کھائے، اس سے کون پوچھنے والا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح شراب کے نشے میں دھت انسان کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ اپنی بد مستی اور گمراہی میں اتنے سرگرداں تھے کہ حضرت لوط ؑ کی اتنی معقول بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ پائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
25: حضرت لوط ؑ کی بستیاں اردن کے بحیرہ مردار کے آس پاس واقع تھیں، اور عرب کے لوگ جب شام کا سفر کرتے تو ان بستیوں کے آثار ان کے راستے میں پڑتے تھے۔ آیت 72 کے بارے میں یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا کسی کی قسم کھانا انسانوں کے لیے جائز نہیں۔ دیکھئے سورة صافات کا حاشیہ نمبر 1
Read the full tafseer →آیت نمبر 72
یہ تھی ان کی اصل تصویر اور اس حالت میں وہ ہمیشہ رہتے تھے ، اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کو سعی کے باوجود ان کے بارے میں یہ امید نہ تھی کہ وہ راہ راست پر آجائیں گے ، نہ یہ امید تھی کہ ان میں شرافت اور غیرت کے جذبات جاگ اٹھیں گے یا وہ خدا سے ڈر کر راہ راست اور فطرت سلیمہ کی طرف لوٹ آئیں گے۔
اب ان کے خاتمے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور اللہ کا کلمہ سچ ہو رہا ہے۔
ما ننزل الملئکۃ الا بالحق وما کانوا اذا منظرین (15 : 8) “ اور ہم فرشتوں کو نہیں بھیجتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت پھر کسی کو مہلت نہیں دی جاتی ”۔ اب ہمارے سامنے آخری منظر آتا ہے۔ یہ ہلاکت ، تباہی اور زمین میں دھنس جانے کا…
Read the full tafseer →15 ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو ہے۔ یعنی تیری جان کی قسم لوط کی قوم غفلت اور مستی کے نشہ میں بالکل اندھی ہو رہی تھی وہ بڑی لاپروائی سے حضرت لوط کی نصیحت بلکہ لجاجت کو ٹھکرا رہے تھے۔ ان کو اپنی قوت کا نشہ تھا، شہوت پرستی نے ان کے دل و دماغ مسخ کردیے تھے۔ وہ بڑے امن و اطمینان کے ساتھ پیغمبر خدا سے جھگڑ رہے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ صبح تک کیا حشر ہونے والا ہے۔ تباہی اور ہلاکت کی گھڑی ان کے سر پر منڈلا رہی تھی، وہ لوط کی باتوں پر ہنستے تھے اور موت انھیں دیکھ کر ہنس رہی تھی (تنبیہ) ابن عباس نے فرمایا خدا تعالیٰ نے دنیا میں کوئی جان محمد ﷺ کی جان سے زیادہ اکرم و اشرف…
Read the full tafseer →آیت 72 لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ
عمہ کے مادہ میں دل کے اندھے پن کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی ان لوگوں کے دل بھلائی اور برائی کی تمیز سے بالکل عاری ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
37 غنڈوں کی بدمستی :۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اللہ کی جان سے زیادہ اکرم و افضل کوئی جان پیدا نہیں کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان عزیز کے علاوہ کسی اور جان کی قسم کھائی ہو۔ یہی قسم کھا کر اللہ نے رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس وقت ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر وہ اپنی شہوت رانی کی مستی میں اندھے اور دیوانے بنے ہوئے تھے کہ ایسا شکار شاید انھیں بعد میں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔
Read the full tafseer →60۔ (اور جذبات سفلی کی بدمستی میں کوئی بات عقل وفہم کی کیوں سننے لگے تھے (آیت) ” لعمرک “۔ عمر اور عمر عربی میں ہم معنی ہیں۔ لیکن قسم کھانے کے موقع پر عمر ہی آتا ہے۔ العمر والعمر واحد لکن خص القسم بالعمر دون العمر (راغب) العمر باالضم والفتح البقاء الا ان الفتح غلب فی القسم ولا یجوز فیہ الضم (ابو البقاء) ل قسم کا ہے۔ عربی اسلوب بلاغت میں قسم ایک ادبی صنعت وفنکاری ہے۔ اور بہترین ادیب وشاعر اس سے حسب موقع آزادی سے کام لیتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی قسمیں مذاق عرب پر بالکل گراں نہیں گزریں۔ اور جو اہل زبان مخالفت میں غرق اور اعتراض ونکتہ چینی کیلئے تلے ہوئے بیٹھے رہتے تھے ان میں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون (ا اللہ نے فرمایا : اے محمد ! ) تمہاری زندگی کی قسم ! یہ لوگ درحقیقت اپنے نشہ میں سرمت ہیں۔ عَمْر اور عُمُر ہم معنی ہیں۔ عَمْر کا لفظ خفیف بھی ہے اور قسم کے موقع پر یہی لفظ بولا جاتا ہے ( عُمُرکا لفظ قسم کے موقع پر نہیں آتا) بغوی نے ابو الجوزاء کی وساطت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز اللہ نے کسی اور کی جان نہیں پیدا کی اور آپ کی زندگی کے علاوہ کسی اور کی زندگی کی قسم نہیں کھائی (عزیز ترین چیز ہی کی قسم کھائی جاتی ہے۔ تمام جانوں میں رسول اللہ ﷺ کی جان اللہ کے نزدیک عزیز تھی ‘ اسی کی قسم کھائی) ۔ یَعْمَھُوْنَ کا معنی ہے : سرگرداں…
Read the full tafseer →(72) اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ کی جان کی قسم کھا کر فرماتا ہے یا یہ کہ آپ کے دین کی قسم حضرت لوط ؑ کی قوم اپنی جہالت میں مدہوش تھی ان کو کچھ نہیں نظر آرہا تھا۔
Read the full tafseer →لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ۔۔ : ”عَمْرٌ“ عین کے فتحہ کے ساتھ ”عُمْرٌ“ ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ”عین“ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ ”عَمْرٌ“ مبتدا ہے اور اس کی خبر ”قَسْمِیْ“ یا ”یَمِیْنِیْ“ ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ ”سَکْرَۃٌ“ نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط ؑ کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 72
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قاضی ابوبکر بن عربی نے بیان کیا ہے کہ مفسرین نے بالاجماع کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے ان کی حیات مبارکہ کی قسم کھائی ہے کہ آپ کی قوم قریش (اپنی طاقت کے نشہ میں) مست ہے (اور) بہکے بہکے پھر رہے ہیں اور اپنی حیرت میں ڈوبے ہوئے ٹامک ٹوٹیاں مار رہے ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی طرح حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اس بارے میں اہل تفسیر نے اجماع کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مدت حیات کی قسم ہے۔ اور اس کی اصل عین کے ضمہ کے ساتھ ہے اور یہ العمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[لَعَمْرُكَ : آپ ﷺ کی عمر کی قسم ] [ انهُمْ : بیشک یہ لوگ ] [ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ : یقینا اپنی مدہوشی میں ] [ يَعْمَهُوْنَ : بھٹکتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
رحمتہ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا اعزاز، اللہ جل شانہ نے آپ کی جان کی قسم کھائی ہے
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں اپنے حبیب مصطفیٰ ﷺ کی جان کی قسم کھائی ہے صاحب روح المعانی ص 42 ج 14 نے امام بیہقی کی دلائل النبوۃ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے بڑھ کر کوئی معزز و مکرم جان پیدا نہیں فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کے علاوہ کسی بھی حیات کی قسم نہیں کھائی، یہاں سرسری طور پر جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا تو ممنوع ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی قسم کیوں کھائی ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →24:۔ یہ ادخال الٰہی ہے۔ جملہ قسمیہ ہے ” لَعَمْرُکَ “ مبتدا ہے اور قسمی اس کی خبر وجوبًا محذوف ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگانی کی قسم کھائی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے زیادہ مکرم و محترم کوئی شخصیت پیدا نہیں فرمائی اورحضور ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ ماخلق اللہ تعالیٰ و ما ذرا و ما برا نفساً اکرم علیہ من محمد ﷺ وما سمعت اللہ سبحانہ اقسم بحیاۃ احد غیرہ (روح) میرے پیغمبر مجھے تیری زندگانی کی قسم وہ اپنی گمراہی میں مست اور سرگرداں تھے یا یہ فرشتوں کا قول ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–79
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،
(لوط (علیہ السلام) کی پیش کش)
اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…
Read the full tafseer →لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ 72
عمر
والْعَمْرُ والْعُمُرُ : اسم لمدّة عمارة البدن بالحیاة، فهو دون البقاء، فإذا قيل : طال عُمُرُهُ ، فمعناه : عِمَارَةُ بدنِهِ بروحه، وإذا قيل : بقاؤه فلیس يقتضي ذلك، فإنّ البقاء ضدّ الفناء، ولفضل البقاء علی العمر وصف اللہ به، وقلّما وصف بالعمر . والتَّعْمِيرُ : إعطاء العمر بالفعل، أو بالقول علی سبیل الدّعاء . قال : أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ ما يَتَذَكَّرُ فِيهِ [ فاطر/ 37] ، وَما يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ [ فاطر/ 11] ، وَما هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ يُعَمَّرَ
[ البقرة/ 96] ، وقوله تعالی: وَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔
Read the full tafseer →لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 72)
(آپ کی جان کی قسم ! یہ لوگ اپنی سرمستی میں اندھے ہوئے ہیں۔ )
گناہ کا نشہ ہر چیز پر غالب آجاتا ہے
حضرت لوط (علیہ السلام) کی کسی دلیل نے ان بدبختوں پر اثر نہیں کیا۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنا خون جگر نچوڑ ڈالا لیکن ان کی بدبختی میں شگاف نہ پڑ سکا۔ پروردگار ان کی اس کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ سے فرماتے ہیں کہ اے پیغمبر ! آپ کی عمر کی قسم، وہ لوگ ایک سرمستی کے نشے میں اندھے ہوچکے تھے۔ ان پر جنسی خواہشات اور سفلی جذبات اس حد تک غالب آچکے تھے کہ کوئی نصیحت کی بات ان پر اثرانداز نہیں ہوتی تھی۔ جس طرح شراب میں مخمور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قوم لوط (علیہ السلام) کی بدمعاشی کی انتہا۔
قوم لوط (علیہ السلام) کے بدمعاشوں کی بےحیائی اور غنڈہ گردی اس قدر حد سے بڑھ چکی تھی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) انتہائی پریشان ہو کر بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش تمہارے مقابلے کے لیے میرے پاس قوت ہوتی یا پھر کوئی مضبوط پناہ گاہ۔ (ھود : 80)
اس کے باوجود غنڈوں کو شرم نہ آئی تو انہوں نے فرمایا میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ (لاعراف : 81) حالانکہ وہ لوگ کسی اعتبار سے بھی اس لائق نہ تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) انھیں اپنی دامادی میں لینے کے لیے تیار ہوتے لیکن مہمانوں کی تکریم اور اپنی بےبسی کی وجہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →گمراہی کے نشہ میں صحیح غلط کا امتیاز ہی نہیں رہتا :
72: لَعَمْرُ کَ اِنَّہُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ (تیری عمر کی قسم ! بیشک وہ اپنے نشے میں مست تھے) اپنی اس گمراہی میں جس نے ان کی عقل وتمیز میں خطأ و صواب کا فرق ختم کردیا تھا۔ اس میں لڑکیوں کو چھوڑ کر لڑکوں کو اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ یَعْمَھُوْنَ (وہ سرمست ہیں) وہ حیران ہیں کہ کس طرح تیری بات کو قبول کریں۔ اور تیری نصیحت کی طرف کان لگائیں۔ نمبر 2۔ اسمیں خطاب رسول اللہ ﷺ کو۔ فرمایا اس میں آپ کی زندگی کی قسم اٹھائی اللہ تعالیٰ نے اور کسی پیغمبر کی زندگی کی قسم نہیں اٹھائی۔ اس سے آپ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ العَمر اور العمر دونوں ہم معنی ہیں۔…
Read the full tafseer →(72)” لعمرک “ اے محمد (ﷺ) تمہاری زندگی کی قسم ” انھم لفی سکرتھم “ حیرانگی اور اپنی گمراہی میں مست ہیں۔ ” یعمھون “ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ قتادہ ؓ کا قول ہے کہ وہ لعب و لہو میں پڑے ہوئے ہیں۔
ابو الجوزاء (رح) نے ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز اللہ نے کسی اور کی جان نہیں پیدا کی اور آپ ﷺ کی زندگی کے علاوہ کسی اور کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
67۔ 72۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کو خوبصورت چودہ پندرہ برس کے کم سن دیکھ کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا برا خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے در پے ہورہے ہو۔ ان کی قوم نے جواب دیا کیا ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو ساری دنیا سے تمہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →59۔ اتمام حجت اور عذاب الہی کا وقوع۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس درد سوز بھری اپیل کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اپنی بدمستی میں اندھے ہورہے تھے۔ تو ان کے لیے عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس موقعہ پر حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی عمر مبارک کی قسم کا آپ ﷺ کا ایک منفرد اکرام واعزاز ہے جس سے آپ کو نوازا گیا۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ " عمر " اور " عمر " زبر اور پیش کے ساتھ دونوں ایک معنی و مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ سو اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کی عمر اور حیات طیبہ کی قسم کھائی گئی ہے جو کہ ایک ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →ف 7 جمہور مفسرین کا یہی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی زندگی کی قسم کھائی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کا کلام ہو اور انہوں نے حضرت لوط کی زندگی کی قسم کھائی ہو۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے۔ صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ (وحیدی و کذافی الروح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(15:72) لعمرک۔ ل قسم کے لئے ہے۔ عمرک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جان کی قسم۔ تیری زندگی کی قسم۔
عمرو عمر ہم معنی لفظ ہیں لیکن قسم میں یہ اکثر مفتوح استعمال ہوتا ہے کیونکہ سہل الاداء ہے۔
سکرتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی مستی۔ ان کا نشہ۔ ان کی مدہوشی۔
یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر (باب فتح وسمع) سرگردانی۔ گمراہی میں حیرانی ۔ وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمھون۔ تیری جان کی قسم یہ لوگ اپنی طاقت کے نشے میں سرگرداں مست ہیں اور بہکے بہکے پھر رہے ہیں۔
(اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے) مدارک التنزیل میں ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن اکثر مفسرین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
[20] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 43 صفحہ 522۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
قوم لوط کی ہلاکت :
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔
حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…
Read the full tafseer →72 ۔ اے پیغمبر قسم ہے آپ کی جان کی وہ اپنی مستی اور گمراہی کے نشے میں مدہوش تھے۔ ایک پیغمبر کی آبرو کا معاملہ ہے اس لئے حضرت حق تعالیٰ نے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی جان کی قسم کھا کر فرمایا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے عرض المسلم کدمہٖ
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ حضرت ؐ کو فرمایا ہے قسم تیری جان کی دے قوم لوط (علیہ السلام) اپنی مستی میں ان کی بات نہیں سنتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ف 13۔ یعنی جو تمہارے گھروں میں ہیں۔
Read the full tafseer →تیری زندگی کے رب کی قسم یہ لوگ اپنی مستی میں بدمست ہوچکے تھے :
72۔ فرمایا یہ لوگ تو جذبات سفلی کی بدمستی میں کوئی بات عقل وفہم کی کیوں سننے لگتے ؟ ” لعمرک “ میں ل قسم ہی کا ہے ، عربی اسلوب بلاغت میں قسم ایک ادبی صنعت وفنکاری ہے اور بہترین ادیب وشاعر اس سے حسب موقع آزادی سے کام لیتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی وہی اسلوب اپنایا جو ان کے ادب کا ایک حصہ تھا اور ان لوگوں پر وہ ذرا بھی شاک نہ گزرا اور جو لوگ ہر وقت کیڑے نکالنے کیلئے تیار رہتے تھے انہوں نے بھی کبھی کوئی بات اس سلسلہ میں نہ کہی اور کبھی بھی یہ نہ پوچھا کہ خدا کے کلام میں یہ مخلوقات کی قسمیں کیسی ؟ اور قسموں کے فلسفہ یا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Commentary
A Great Honour for the Holy Prophet ﷺ
About the word of Allah: لَعَمرُکَ (la'amruk : By your life), the majority of commentators, as reported in Ruh al-Ma’ ani, have said that the addressee of 'la'amruka' is the Holy Prophet ﷺ . It is his life that Allah Ta’ ala has sworn by. Al-Baihaqi in Dala'ilun-Nubuwwah, and Abu Nu'aym, Ibn Marduwayh and others have reported from Sayyidna ` Ab-dullah ibn ` Abbas ؓ that Allah Ta’ ala has not bestowed on anyone in the whole creation an honour and rank higher than that of Sayyidna Muhammad al-Mutafa ﷺ . This is the reason why Allah Ta’ ala has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
40. In (E.N. 87 of Surah Houd), it has been explained what Prophet Lot (peace be upon him) meant by this. It may also be added that such words as these were uttered by an honorable man like him in the last resort, when all his entreaties and earnest requests had failed to prevent those people from their evil designs towards his guests.
Here it will be worthwhile to clear the significance of the words which were uttered by Prophet Lot (peace be upon him) as they occur in Surah Houd (Ayat 78). When he entreated those wicked people not to molest his guests, saying,“Here are my daughters”, he was…
Read the full tafseer →