Al-Hijr 15:71

Al-Hijr · from ayah 71

15:71

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۟ؕقَالَ هٰٓؤُلَاۤءِ بَنٰتِىۡۤ اِنۡ كُنۡـتُمۡ فٰعِلِيۡنَؕ‏

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Lot] said, "These are my daughters - if you would be doers [of lawful marriage]."

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:71

لوطؑ نے عاجز ہو کر کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(انہوں نے) کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں (ان سے شادی کرلو)

— مولانا فتح محمد جالندہری

(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوط نے کہا : اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو تو یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے نکاح میں ہیں، تمہارے پاس) موجود ہی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا یہ قوم کی عورتیں میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کرنا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لوط ؑ نے کہا: یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو (تو بجائے بدکرداری کے ان سے نکاح کر لو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں، اگر تم کرنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوط نے کہا : اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا اگر تم کچھ کرنے ہی پر تلے ہوئے ہو تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لوط نے کہا یہ میری (قومی) بیٹیاں (جو تمہارے گھروں میں) موجود ہیں، اگر تمہیں کچھ کرنا ہے (تو ان سے جائز طریقے سے اپنا مطلب پورا کرلو) ،

— مولانا اسحاق مدنی

لوط ؑ نے) کہا یہ میری بیٹیاں بھی تو موجود ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ نے کہا : یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری قوم کی لڑکیاں ہیں ان سے شادی کرلو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Lot exclaimed in exasperation: "If you are bent on doing something, then here are my daughters."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :These are my daughters, if you are to do something.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :These are my daughters, if you are to do something.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Lut] said: "These are my daughters, if you must act (so)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Here are my daughters, if ye must be doing (so).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Lot] said, "These are my daughters - if you would be doers [of lawful marriage]."

— Saheeh International

Lot said, "These are my daughters if you want them."

— Muhammad Sarwar

He said: These are my daughters, if you will do (aught).

— Muhammad Habib Shakir

He said: these are my daughters, if act ye must.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "There are my daughters (to marry), if ye must act (so)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–72

قوم لوط کی خر مستیاں قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط ؑ کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–73

سورة الْحِجْر 40 اس کی تشریح سورة ہود کے 87 میں بیان کی جا چکی ہے۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ یہ کلمات ایک شریف آدمی کی زبان پر ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ وہ بالکل تنگ آچکا تھا اور بدمعاش لوگ اس کی ساری فریاد فغاں سے بےپروا ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ اس موقع پر ایک بات کو صاف کردینا ضروری ہے۔ سورة ہود میں واقعہ جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بدمعاشوں کے اس حملہ کے وقت تک یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے مہمان درحقیقت فرشتے ہیں۔ وہ اس وقت تک یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ چند مسافر لڑکے ہیں جو ان کے ہاں آکر ٹھیرے ہیں۔ انہوں نے اپنے فرشتہ ہونے کی حقیقت اس وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ هَؤُلاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ۔ قوم کی اخلاقی حس بیدار کیرنے کی آخری تدبیر : ان بدمعاشوں کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے یہ حضرت لوط کا آخری حربہ تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ پاجی لوگ کسی طرح اپنی خباثت سے باز آنے ولے نہیں ہیں تو فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں جو کچھ تم کرنا چاہتے ہو ان کے ساتھ کرلو لیکن خدارا میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ سورة ہود آیت 78 کے تحت ہم یہ حقیقت واضح کرچکے ہیں کہ یہ حضرت لوط کی طرف سے کوئی پیشکش نہیں تھی بلکہ یہ اپنی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ان کی آخری تدبیر تھی۔ اگر ان لوگوں کے اندر اخلاق حس کی کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

71۔ 1 یعنی ان سے تم نکاح کرلو یا پھر اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا، تم عورتوں سے نکاح کرلو یا جن کے حبالہ عقد میں عورتیں ہیں، وہ ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–71

24: کسی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 71 حضرت لوط (علیہ السلام) ایک نبی تھے ، وہ اپنی حقیقی بیٹیاں ان اوباشوں کے سامنے پیش نہ کر رہے تھے تا کہ وہ ان کے ساتھ بدکاری کریں بلکہ وہ ان کو قوم کی خواتین کی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ اللہ نے ان خواتین کو اس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور یہ فطری اور صحت مند راہ ہے۔ خود حضرت بھی جانتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ آپ کی بیٹیوں کے ساتھ بدکار کریں بلکہ انہوں نے تو فطری راہ کو چھوڑ کر بےراہ روی کی اپنائی ہوئی تھی۔ یہ منطر پیش نظر تھا ، قوم لوط اپنی مریضانہ ذہنیت کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ، اشاروں کنایوں میں برے ارادوں کا اظہار ہو رہا تھا ، ادھر حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی بیشک تم نے مجھ کو اجنبی لوگوں کی حمایت سے روکا لیکن میں پوچھتا ہوں آخر اس روکنے کا منشاء کیا ہے ؟ یہ ہی نہ کہ میں تمہاری خلاف فطرت شہوت رانی کے راستہ میں حائل ہوتا ہوں۔ تو خود غور کرو کیا قضائے شہوت کے حلال مواقع تمہارے سامنے موجود نہیں جو ایسی بیہودہ حرام کاری کے مرتکب ہوتے ہو ؟ یہ تمہاری بیویاں (جو میری بیٹیوں کے برابر ہیں) تمہارے گھروں میں موجود ہیں، اگر تم میرے کہنے کے موافق عمل کرو اور قضائے شہوت کے مشروع و معقول طریقہ پر چلو، تو حاجت براری کے لیے وہ کافی ہیں۔ یہ کیا آفت ہے کہ حلال اور ستھری چیز کو چھوڑ کر حرام کی گندگی میں ملوث ہوتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ قبل ازیں اس فقرے کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یعنی میری قوم کی بیٹیاں جو تمہارے گھروں میں موجود ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے فطری ساتھی بنایا ہے۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اتمام حجت کے لیے ان میں سے دو سرداروں کو یہاں تک کہہ دیا ہو کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو میں اپنی بیٹیوں کا نکاح تم سے کیے دیتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 سیدنا لوط کی بیٹیاں :۔ اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو آیت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کو ان کے نکاح میں دینے پر تیار ہوگئے حالانکہ پہلے یہی لوگ ان بیٹیوں کا رشتہ طلب کرتے تھے اور آپ نے ان لوگوں کی بدکرداری دیکھ کر رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا اور دوسرا مطلب ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے لہذا آپ قوم کی بیٹیوں کے بھی روحانی باپ تھے اور آپ نے انھیں کہا یہ تھا کہ تمہارے گھروں میں جو تمہاری بیویاں ہیں وہ بھی میری بیٹیاں ہیں۔ اگر اتنی ہی تم پر شہوت غالب آرہی ہے تو ان سے پوری کرلو۔ اس آیت سے ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ آپ نے بدکاری کے لیے اپنی بیٹیاں پیش کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ بنات (بیٹیوں) پر حاشیہ سورة ہود (پ 12) میں گزر چکا۔ اہل امت کی بیٹیاں خود رسول امت کیلئے بہ منزلہ بیٹیوں ہی کے ہوتی ہیں۔ (آیت) ” ان کنتم فعلین “۔ یعنی اگر تم میری بات ماننے پر، عقل و شرافت کے مقتضا پر عمل کرنے کو تیار ہو۔ قدرۃ آپ کو بہت شک تھا کہ وہ آبروباختہ لوگ آپ (علیہ السلام) کی نصیحت پر عمل کریں گے بھی ؟۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ھولا بنتی ان کنتم فعلین لوط نے کہا : یہ میری لڑکیاں (موجود) ہیں (تم اپنی خواہش ان سے پوری کرسکتے ہو ‘ ان سے نکاح کرلو) اگر خواہش پوری کرنی چاہتے ہو تو ایسا کرلو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اگر تم میرے کہنے پر عمل کرنے والے ہو تو ان سے نکاح کرلو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(71) حضرت لوط ؑ نے فرمایا یہ میری بیٹیاں اور میری قوم کی بیٹیاں ہیں اگر تم میرے کہنے سے شادی کرو تو میں تم سب کی شادی کر دوں

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود کی آیت (78) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 67–71

آیت نمبر 66 تا 71 قولہ تعالیٰ : وقضینا الیہ یعنی ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف وحی کردی۔ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اس کی نظیر یہ قول ہے فقطع دابر القوم الذین ظلموا (الانعام :45) (تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا) ۔ مصبحین یعنی صبح طلوع ہونے کے وقت اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وجآء اھل المدینۃ اور (اتنے میں) حضرت لوط (علیہ السلام) کے شہر والے آگئے یستبشرون مہمانوں کے سبب خوشیاں مناتے ہوئے اس حرص اور طمع میں کہ وہ ان سے برائی کا ارتکاب کریں گے۔ ان ھؤلاء ضیفی بیشک یہ میرے مہمان ہیں۔ فلا تفضحون یعنی تم مجھے شرمسار نہ کرو۔ واتقوا اللہ ولا تخزون یہ بھی جائز ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [ بَنٰتِيْٓ: میری بیٹیاں ہیں ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ہو ] [ فٰعِلِيْنَ : کام کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–71

یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–71

23:۔ واؤ مطلق جمع کے لیے ہے یہاں سے ” یَعْمَھُوْنَ “ تک ترتیب واقعہ میں ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے ہے۔ ” اَ وَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ “ جب فرشتوں کو خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں دیکھ کر قوم کے بدمعاش لوگ بری نیت سے ان کی طرف بڑھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا خدا سے ڈرو اور شرم کرو، یہ میرے مہمان ہیں اور مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کر رکھا کہ تم لوگوں کو پناہ دے کر ہم سے بچانے کی کوشش نہ کیا کرو۔ لہذا ان کی حمایت مت کرو اور ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔ ای عن اجازۃ احد منھم و حیلولتک بیننا وبینھم الخ (روح ج 14 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–79

(ربط آیات) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ، (لوط (علیہ السلام) کی پیش کش) اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنٰتِيْٓ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ 71؀ۭ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–75

ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ ھٰٓؤْلَآئِ بَنٰتِیْ ٓ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 71) (حضرت لوط نے کہا کہ اگر تم کچھ کرنے ہی پر تلے ہوئے ہو تو یہ میری بیٹیاں ہیں۔ ) نازک جذبات کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش ان کی اخلاقی حس کو بیدار کرنے کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ایک ایسی بات کہی جو وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کا دل بری طرح ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا ہو جو ایک طرف مہمانوں کی حرمت کو بچانے کی فکر میں ہو اور دوسری طرف اپنی قوم کے اخلاقی زوال کے انجام کو دیکھ رہا ہو۔ ان کے اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم اگر اپنے سفلی جذبات کے ہاتھوں ایسے ہی بےقابو ہوئے جاتے ہو تو میری بیٹیوں سے یہ آگ بجھالو، بلکہ ان کا مطلب یہ تھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اوباشوں کا مہمانوں کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یلغار کرنا۔ بڑے بڑے مفسرین نے تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے والے ملائکہ انتہائی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے۔ کیونکہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ہم جنسی کے مرض کا شکار تھے یہ لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنے اور نوجوان عورتوں سے شادی کرنے کے بجائے لڑکوں کے ساتھ بدکاری کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ دنیا میں تم پہلے لوگ ہو جو اس جرم میں ملوث ہو۔ اسی سبب جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

71: قَالَ ھٰٓؤُلَآ ئِ بَنٰتِیْ (انہوں نے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں) ان سے نکاح کرلو۔ اس وقت مومنات کا نکاح کفار سے جائز تھا۔ اور میرے ان مہمانوں کی طرف ہاتھ مت بڑھائو۔ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ (اگر تم کرنے والے ہو) اگر تم قضائے شہوت حلال مقام پر چاہتے ہو، نہ کہ حرام اس پر فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (71)” قال ھولاء بناتی “ یہ تمہارے لیے حلال بیویاں ہیں اگر تم قبول کرو تم حلال کو اختیار کرو اور حرام کو چھوڑ دو ۔ ” ان کنتم فاعلین “ جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے قوم کے مردوں کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہاں کیونکہ نبی اپنی امت کے لیے والد کی جگہ ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–72

67۔ 72۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کو خوبصورت چودہ پندرہ برس کے کم سن دیکھ کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا برا خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے در پے ہورہے ہو۔ ان کی قوم نے جواب دیا کیا ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو ساری دنیا سے تمہیں کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58۔ (ھولآء بناتی) کا مطلب ؟ اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےبسی کا عالم : یعنی (بناتی) سے یہاں پر مراد آپ کی قومی بیٹیاں ہیں، کیونکہ نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کے لوگ اس کی روحانی اولاد۔ آیت کریمہ کا یہ مفہموم سلف وخلف میں سے بہت سے حضرات اہل علم نے لیا ہے کہ آیت کریمہ میں وارد لفظ (بناتی) سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قومی بیٹیاں تھیں۔ یعنی ان بدفطرت لوگوں کی وہ بیویاں جو کہ ان کے گھروں میں موجود تھیں، نہ کہ آپ کی حقیقی اور صلبی بیٹیاں۔ جبکہ دوسرا قول اس ضمن میں حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ لفظ (بناتی) کو اپنے ظاہر اور متبادر معنی و مفہوم پر ہی رکھا جائے۔ اور اصل یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 تم ان سے فطری طریقہ پر نکاح کر کے اپنے شہوانی جذبات کی تسکین کرو۔ ظاہر ہے کہ ” بیٹیوں “ سے مراد خود ان لوگوں کی اپنی عورتیں ہیں۔ کیونکہ نبی اپنی قوم کی عورتوں کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورة )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 70–71

(15:70) اولم ننہک۔ الف استفہام انکاری کے لئے اور واو بعض کے نزدیک عبارت مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای لم نتقدم الیک ولم ننہک عن ذلک۔ کیا ہم تمہیں پہلے نہیں کہہ چکے اور تمہیں اس سے منع نہ کرچکے۔ لم ننھک مضارع نفی حجد بلم جمع متکلم۔ نھی ینھی (فتح) سے۔ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا تھا۔ عن العلمین۔ لوگوں سے یعنی دوسرے لوگوں کے پناہ دینے سے۔ دوسرے لوگوں کی مدافعت کرنے سے۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل ہونے سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–71

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کی نوعمری اور خوبصورتی کی خبر سن کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا بر خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے درپے ہورہے ہو، ان کی قوم نے جواب دیا کہ ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ لو۔ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو۔ پھر حضرت لوط (علیہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–76

قوم لوط کی ہلاکت : (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔ حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

71 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا اگر تم کو اپنی شہوت پوری ہی کرنی ہے تو یہ قوم کی لڑکیاں موجود ہیں جو میری ہی لڑکیاں ہیں ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرلو۔ یعنی اپنی لڑکیاں نکاح کے لئے پیش کیں یا بستی کی لڑکیاں کو اپنی بیٹیاں فرمایا مگر وہ کب ماننے والے تھے اللہ تعالیٰ ان کی بد مستی کی حالت بیان فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) نے دوبارہ انکی توجہ انکی عورتوں کی طرف دلائی : 71۔ لوط (علیہ السلام) نے انکو ان کی ازواج کی طرف توجہ دلائی جیسے شرم دلانے کیلئے بات کہی جاتی ہے لیکن ان کے ہاں شرم نام کی کوئی چیز تھی ہی کب ؟ ” بناتی “ سے کیا مراد ہے ؟ اس پر حایشہ پیچھے سورة ہود کی آیت 79 پر گزر چکا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اہل امت کی بیاں خود رسول امت کیلئے بہ منزلہ بیٹیوں ہی کے ہوتی ہیں ” ان کنتم فعلین “۔ یعنی اگر تم میری بات ماننے پر عقل و شرافت کے مقتضاء پر عمل کرنے کو تیار ہو شاید آپ کو خیال تھا کہ وہ آبروباختہ گو آپ کی نصیحت پر عمل کریں گے تو عذاب سے بچ جائیں گے ، تم کو اپنی مستی اور خمار جھاڑنے کیلئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–73

40. In (E.N. 87 of Surah Houd), it has been explained what Prophet Lot (peace be upon him) meant by this. It may also be added that such words as these were uttered by an honorable man like him in the last resort, when all his entreaties and earnest requests had failed to prevent those people from their evil designs towards his guests. Here it will be worthwhile to clear the significance of the words which were uttered by Prophet Lot (peace be upon him) as they occur in Surah Houd (Ayat 78). When he entreated those wicked people not to molest his guests, saying,“Here are my daughters”, he was…

Read the full tafseer →