Explained with ayahs 67–72
قوم لوط کی خر مستیاں
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط ؑ کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
سورة الْحِجْر 39
“ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس قوم کی بد اخلاقی کس حد کو پہنچ چکی تھی۔ بستی کے ایک شخص کے ہاں چند خوبصورت مہمانوں کا آجانا اس بات کے لیے کافی تھا کہ اس کے گھر پر اوباشوں کا ایک ہجوم امنڈ آئے اور علانیہ وہ اس سے مطالبہ کریں کہ اپنے مہمانوں کو بدکاری کے لیے ہمارے حوالے کر دے۔ ان کی پوری آبادی میں کوئی ایسا عنصر باقی نہ رہا تھا جو ان حرکات کے خلاف آواز اٹھاتا، اور نہ ان کی قوم میں کوئی اخلاقی حس باقی رہ گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو علی الاعلان یہ زیادتیاں کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس ہوتی۔ حضرت لوط ؑ جیسے مقدس انسان اور معلم اخلاق کے گھر پر بھی جب بدمعاشوں کا حملہ اس بےباکی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–71
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…
Read the full tafseer →قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ۔
بدمعاش سے بد معاش لوگ بھی اپنی بدمعاشی کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر ہی لیتے ہیں۔ چناچہ ان گنڈوں نے بھی اپنے اس اقدام کے لیے یہ سیاسی جواز پیدا کیا کہ تم باہر کے لوگوں سے ساز باز رکھتے ہو۔ باہر کے لوگ تمہارے پاس آتے ہیں اور تم ان سے ملتے جلتے ہو۔ تمہاری یہ سازش کسی نہ کسی دن ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے اس وجہ سے ہم یہ دھوکا کھانے کے لیے تیار نہیں کہ تم مہمانوں کے پردے میں ہمارے لیے ایک دن کوئی مصیبت لا کھڑی کرو۔
Read the full tafseer →70۔ 1 انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اے لوط ! تو ان اجنبیوں کا کیا لگتا ہے ؟ اور کیوں ان کی حمایت کرتا ہے ؟ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا ہے کہ اجنبیوں کی حمایت نہ کیا کر، یا ان کو اپنا مہمان نہ بنایا کر ! یہ ساری گفتگو اس وقت ہوئی جب کہ حضرت لوط ؑ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ اجنبی مہمان اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور وہ اسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں جو ان فرشتوں کے ساتھ بدفعلی کے لئے مصر تھی، جیسا کہ سورة ہود میں یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ یہاں ان کے فرشتے ہونے کا ذکر پہلے آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
24: کسی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 70
لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو راہ فطرت سلیم بہرحال دکھاتے جا رہے ہیں۔ وہ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ خالق حیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ بقائے نسل کے علاوہ یہ راہ دونوں جنسوں کے لئے مفید ، فرحت بخش اور باعث سکون بھی ہے ۔ قانون اور فطرت کے دائرے کے اندر۔ چناچہ حضرت انہیں راہ راست پر لانے کی یوں سعی فرماتے ہیں :
Read the full tafseer →13 یعنی ہم بےآبرو نہیں کرتے آپ خود بےآبرو ہوتے ہیں۔ جب ہم منع کرچکے کہ تم کسی اجنبی کو پناہ مت دو نہ اپنا مہمان بناؤ۔ ہم کو اختیار ہے باہر سے آنے والوں کے ساتھ جس طرح چاہیں پیش آئیں۔ پھر آپ کو کیا ضرورت پیش آئی کہ خواہ مخواہ ان نوجوانوں کو اپنے یہاں ٹھہرا کر فضیحت ہوئے۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ اجنبی مسافروں کو اپنے افعال شنیعہ کا تختہ مشق بناتے ہوں گے اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے مقدور کے موافق غریب مسافروں کی حمایت اور ان اشقیاء کو نالائق حرکتوں سے باز رکھتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 70 قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ
کیا ہم آپ کو منع نہیں کرچکے کہ آپ ہر کسی کی طرف داری کرتے ہوئے ہمارے معاملے میں دخل اندازی نہ کیا کریں۔ ہم جس کے ساتھ جو چاہیں کریں آپ بیچ میں آنے والے کون ہوتے ہیں ؟
Read the full tafseer →35 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے سیدنا لوط سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ تم مسافروں اور اجنبیوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ گویا ان کے شہر میں کسی مسافر کی بھی عزت محفوظ نہ تھی۔ پھر لواطت کے علاوہ ان میں مزید قباحتیں بھی موجود تھیں وہ مسافروں سے بدفعلی کرنے کے بعد ان کا مال اسباب ان سے چھین کر اپنی بستی سے باہر نکال دیا کرتے تھے۔ اب ان خوش شکل نوجوان کو دیکھ کر بھلا وہ اپنی حرکتوں سے کیسے باز رہ سکتے تھے ؟ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سارے جہاں کے ٹھیکیدار مت بنو اور کسی مسافر کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ اپنی ہی خیر مناؤ تو یہ بھی بڑی بات ہے۔
Read the full tafseer →58۔ (کہ اجنبیوں اور پردیسیوں کے ٹھیرانے کے ہم روا دار نہیں، سو تم نے خود ہی ہماری اس مخالفت کی پروا نہ کرکے اور مہمانوں کو ٹھہرا کر اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کرائی ! ) کسی پہلے حاشیہ میں آچکا ہے کہ قوم لوط والے باہر والوں کو اپنے ہاں آنے ہی نہیں دینا چاہتے تھے اور اگر وہ آجاتے تو ان سے ہر طرح کی بیہودگی کے ساتھ پیش آتے۔ جو اس وقت کی شریفانہ تہذیب ومعاشرت اور آئین مہمانی کے قطعا منافی تھا :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →قالوا اولم ننھک عن العلمین وہ کہنے لگے : کیا ہم تم کو دنیا بھر کے لوگوں (کی ذمہ داری لینے اور ہمارے معاملے میں دخل دینے) سے منع نہیں کرچکے تھے ؟
اَوَلَمْ نَنْھَکَ کا عطف فعل محذوف پر ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : کیا ہم ان کو تمہارے کہنے سے چھوڑ دیں باوجودیکہ ہم نے تم کو منع کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ تم ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان دخل نہ دو اور ہمارے خلاف کسی کو اپنے پاس اپنی پناہ میں نہ رکھو۔ ہم تو ان سے جو کچھ چاہتے ہیں ‘ کریں گے۔ قوم لوط والے (علاوہ امرد پرست ہونے کے) رہزن بھی تھے ‘ راہگیروں کو لوٹا کرتے تھے۔ حضرت لوط بقدر امکان اس فعل سے ان کو منع کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
(68۔ 69۔ 70) حضرت لوط ؑ نے ان سے فرمایا کہ یہ میرے مہمان ہیں، سو مجھ کو ان کے سامنے شرمندہ مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس حرام کام کے ارتکاب سے ڈرو اور ان مہمانوں کی نظر میں مجھ کو رسوا مت کرو وہ بولے اے حضرت لوط ؑ کیا ہم آپ کے مسافروں کی صیافت سے بارہا منع نہیں کرچکے۔
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : ”اَوَلَمْ نَــنْهَكَ“ ”نَہَی یَنْہٰی“ سے جمع متکلم جحد معلوم ہے، ”نَنْہٰی“ کا الف ”لَمْ“ کی و جہ سے حذف ہوگیا، کاف ضمیر مفعول بہ ہے۔ یعنی تم سارے جہان کو مہمان بنا لیا کرو گے تو کیا ہم سب ہی کو چھوڑ دیں گے، کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا کہ ہمارے ہوتے اجنبی مسافروں کو مہمان نہ بنایا کرو اور ہمارے مقابلے میں کسی کی حمایت نہ کرو۔ کیسے خبیث اور مسخ شدہ فطرت والے لوگ تھے، جو اپنے شہر میں آنے والے مہمان یا گزرنے والے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، نہ اس میں کوئی شرم محسوس کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
آیت نمبر 66 تا 71
قولہ تعالیٰ : وقضینا الیہ یعنی ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف وحی کردی۔ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اس کی نظیر یہ قول ہے فقطع دابر القوم الذین ظلموا (الانعام :45) (تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا) ۔ مصبحین یعنی صبح طلوع ہونے کے وقت اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وجآء اھل المدینۃ اور (اتنے میں) حضرت لوط (علیہ السلام) کے شہر والے آگئے یستبشرون مہمانوں کے سبب خوشیاں مناتے ہوئے اس حرص اور طمع میں کہ وہ ان سے برائی کا ارتکاب کریں گے۔ ان ھؤلاء ضیفی بیشک یہ میرے مہمان ہیں۔ فلا تفضحون یعنی تم مجھے شرمسار نہ کرو۔ واتقوا اللہ ولا تخزون یہ بھی جائز ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَوَ : تو کیا ] [لَمْ نَــنْهَكَ : ہم نے منع نہیں کیا تھا آپ (علیہ السلام) کو ] [ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان والوں (کی حمایت) سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–71
یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا
یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
23:۔ واؤ مطلق جمع کے لیے ہے یہاں سے ” یَعْمَھُوْنَ “ تک ترتیب واقعہ میں ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے ہے۔ ” اَ وَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ “ جب فرشتوں کو خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں دیکھ کر قوم کے بدمعاش لوگ بری نیت سے ان کی طرف بڑھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا خدا سے ڈرو اور شرم کرو، یہ میرے مہمان ہیں اور مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کر رکھا کہ تم لوگوں کو پناہ دے کر ہم سے بچانے کی کوشش نہ کیا کرو۔ لہذا ان کی حمایت مت کرو اور ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔ ای عن اجازۃ احد منھم و حیلولتک بیننا وبینھم الخ (روح ج 14 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(ربط آیات)
پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔
کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ 70
نهى
النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10]
( ن ھ ی ) النهي
کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
عالم
العالم، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ،
( ع ل م ) العلم
اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 70)
(وہ کہنے لگے کیا ہم نے تمہیں دوسروں کے معاملات میں دخل دینے سے روکا نہ تھا۔ )
عذرِ گناہ بدتراز گناہ
اس آیت کے دو مطلب لیے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ ہم نے تمہیں کیا اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تمہارے پاس ایسے مہمان نہیں آنے چاہئیں اور اگر آئیں گے اور وہ ہمارے لیے مفید مطلب ہوں گے تو ہم اپنی مطلب براری کے لیے ان سے ضرور تعرض کریں گے کیونکہ جس طرح پھول سے ہمیشہ خوشبو سونگھی جاتی ہے اور پانی سے ہمیشہ پیاس بجھائی جاتی ہے، اسی طرح حسین لوگوں سے جنسی جذبات کی تسکین کی جاتی ہے۔ انھیں قدرت نے اسی کام کے لیے پیدا کیا ہے، تم ہمیں اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اوباشوں کا مہمانوں کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یلغار کرنا۔
بڑے بڑے مفسرین نے تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے والے ملائکہ انتہائی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے۔ کیونکہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ہم جنسی کے مرض کا شکار تھے یہ لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنے اور نوجوان عورتوں سے شادی کرنے کے بجائے لڑکوں کے ساتھ بدکاری کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ دنیا میں تم پہلے لوگ ہو جو اس جرم میں ملوث ہو۔ اسی سبب جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت لوط…
Read the full tafseer →70: قَالُوْا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ (انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں جہان والوں سے نہیں روکا) اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کو پناہ دو ۔ نمبر 2۔ ان کی طرف سے دفاع کرو۔ وہ ہر ایک کا راہ روکتے اور حضرت لوط (علیہ السلام) نہی عن المنکر کرتے اور ان کے درمیان حائل ہوتے وہ ان کو دھمکاتے اور کہتے لئن لم تنتہ یٰلوط لتکونن من المخرجین اگر تم باز نہ آئے اے لوط ! تو ضرور تمہیں نکال باہر کیا جائے گا ] الشعراء : 167[ نمبر 3۔ غر باء مسافرین کی مہمانی سے۔
Read the full tafseer →(70) ” قالو اولم ننھک عن العالمین “ کیا ہم ان کو تمہارے کہنے پر چھوڑ دیں باوجودیکہ ہم تمہیں اس معاملے میں پہلے منع کرچکے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے آپ کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ کسی اجنبی خوبصورت کو اپنے شہر میں پناہ نہ دو ۔ ہم تو ان سے جو چاہتے ہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
67۔ 72۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کو خوبصورت چودہ پندرہ برس کے کم سن دیکھ کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا برا خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے در پے ہورہے ہو۔ ان کی قوم نے جواب دیا کیا ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو ساری دنیا سے تمہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →57۔ قوم لوط کے تمردوسرکشی کی انتہاء اور اس کی عبرتناک انجام : سو انہوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس دلیل کے جواب میں کہا کہ ہم نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا مگر تم نے ہماری بات نہ مانی۔ اور آج پھر ان خوبصورت لڑکوں کو اپنے گھر مہمان بنا کر ٹھہرالیا۔ سو اگر تم ہمارے کہنے کے مطابق اور ہمارے روکنے کے بعد ان مہمانوں کو اپنے یہاں پر ٹھہراتے تو یہ نوبت نہ آتی اور آج تمہیں اپنے ان مہمانوں کی بناء پر اس طرح رسوائی اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ لہذا اس رسوائی اور فضیحت کا سبب تم خود ہو۔ سو اس سے اس منحوس قوم کے تمرد اور اس کی سرکشی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور جب کسی قوم کی تباہی کا وقت آچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ف 5 یعنی ہم تمہیں رسوا نہیں کر رہے بلکہ تم خود اپنے آپ کو رسوا کر رہے ہو۔ کیا ہم آپ کو منع نہیں کرچکے کہ ہمارے مقابلے میں کسی حمایت نہ کریں۔ یا اپنے ہاں اجنبی مسافروں کو بطور مہمان نہ ٹھہرایا کریں۔ (کنا فی الوحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(15:70) اولم ننہک۔ الف استفہام انکاری کے لئے اور واو بعض کے نزدیک عبارت مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای لم نتقدم الیک ولم ننہک عن ذلک۔ کیا ہم تمہیں پہلے نہیں کہہ چکے اور تمہیں اس سے منع نہ کرچکے۔ لم ننھک مضارع نفی حجد بلم جمع متکلم۔ نھی ینھی (فتح) سے۔ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا تھا۔ عن العلمین۔ لوگوں سے یعنی دوسرے لوگوں کے پناہ دینے سے۔ دوسرے لوگوں کی مدافعت کرنے سے۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل ہونے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کی نوعمری اور خوبصورتی کی خبر سن کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا بر خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے درپے ہورہے ہو، ان کی قوم نے جواب دیا کہ ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ لو۔ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو۔ پھر حضرت لوط (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
[19] یہ سمجھ کر کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے اور اپنی گندی عادت کی جی بھر کر تسکین ہو سکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
قوم لوط کی ہلاکت :
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔
حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…
Read the full tafseer →70 ۔ شہر کے لوگوں نے کہا کیا ہم تجھ کو دنیا بھر کے لوگوں کو مہمان بنانے اور دنیا بھر کے لوگوں کی مہمان نوازی سے منع نہیں کرچکے۔ یعنی جب ہم تجھ کو منع کرچکے ہیں ۔ یعنی جب ہم تجھ کو منع کرچکے ہیں تو تو تمام جہان کے لوگوں کو مہمان نہ بنایا کر تو تو نے ان کو مہمان کیوں بنایا جو تو اب ان کی حمایت کرتا ہے خطا تو تیری ہے اور الٹا ہم کو فاحشہ اور برے کام سے منع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ف 12۔ یہ خبر سن کر کہ لوط (علیہ السلام) کے یہاں حسین حسین لڑکے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے لوط (علیہ السلام) تو جانتا ہے کہ ہم نے تجھ کو باز آنے کا کتنی بار کہا ہے ؟ :
70۔ کیا ہم تجھ کو دنیا بھر کے لوگوں سے منع نہیں کردیا تھا ؟ کہ اجنبیوں اور پردیسیوں کے ٹھہرانے کے ہم روادار نہیں اور تم نے خود ہی ہماری اس مخالفت کی پروا نہ کر کے اور مہمانوں کو ٹھہرا کر اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کرائی ہے اور ہماری متفقہ بات کو توڑ دیا ہے اس لئے تو بذاتہ اپنی رسوائی کا خود باعث ہوچکا ہے یہ بات پیچھے بیان کی جا چکی ہے کہ قوم والے باہر سے آنے والوں کو اپنے ہاں ٹھہرنے نہیں دیتے اور اگر وہ یہ جاننے کے باوجود پھر آتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ضرور یہ بیہودگی کریں گے اور تو کون ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–71
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
39. This shows that those People had gone to the lowest depths of immorality. No sooner did they hear the news of the arrival of handsome strangers in their town than they rushed rejoicing to the house of Prophet Lot (peace be upon him) and impudently demanded that he should hand over his guests to them for the gratification of their lust. The pity is that there had remained not a single person among them to make a protest against such a heinous sin. Moreover, this shows that all of them, as a community, had totally lost every sense of decency, and they felt no shame at all to make such a…
Read the full tafseer →