Explained with ayahs 73–77
آل ہود کا عبرتناک انجام
سو رج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کردینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہوگیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورة ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لئے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
سورة الْحِجْر 40
اس کی تشریح سورة ہود کے 87 میں بیان کی جا چکی ہے۔ یہاں صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ یہ کلمات ایک شریف آدمی کی زبان پر ایسے وقت میں آئے ہیں جب کہ وہ بالکل تنگ آچکا تھا اور بدمعاش لوگ اس کی ساری فریاد فغاں سے بےپروا ہو کر اس کے مہمانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے۔
اس موقع پر ایک بات کو صاف کردینا ضروری ہے۔ سورة ہود میں واقعہ جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ حضرت لوط ؑ کو بدمعاشوں کے اس حملہ کے وقت تک یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے مہمان درحقیقت فرشتے ہیں۔ وہ اس وقت تک یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ چند مسافر لڑکے ہیں جو ان کے ہاں آکر ٹھیرے ہیں۔ انہوں نے اپنے فرشتہ ہونے کی حقیقت اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
معارف و مسائل
رسول کریم ﷺ کا خصوصی اعزازو اکرام
قولہ لَعَمْرُكَ۔ روح المعانی میں جمہور مفسرین کا قول یہ نقل کیا ہے کہ لَعَمْرُكَ کے مخاطب رسول کریم ﷺ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کی قسم کھائی ہے بہیقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابو نعیم وابن مردویہ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات و کائنات میں کسی کو محمد مصطفے ﷺ سے زیادہ عزت و مرتبہ عطا نہیں فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغبر یا فرشتے کی حیات پر کبھی قسم نہیں کھائی اور اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی عمر وحیات کی قسم کھائی ہے جو آنحضرت محمد ﷺ کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔
غیر اللہ کی قسم…
Read the full tafseer →فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ۔ صیحۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب الٰہی ہے جو دن نکلتے ہی ان پر آ دھمکا۔ چونکہ یہ عذاب۔ جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔ باد تند کے ساتھ رعد و برق کی صورت میں آیا تھا اس وجہ سے اس کے لیے " صیحۃ " کا لفظ نہایت موزوں ہے۔
Read the full tafseer →73۔ 1 ایک چنگھاڑ نے، جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا، ان کا خاتمہ کردیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ زوردار آواز حضرت جبرائیل ؑ کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
25: حضرت لوط ؑ کی بستیاں اردن کے بحیرہ مردار کے آس پاس واقع تھیں، اور عرب کے لوگ جب شام کا سفر کرتے تو ان بستیوں کے آثار ان کے راستے میں پڑتے تھے۔ آیت 72 کے بارے میں یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا کسی کی قسم کھانا انسانوں کے لیے جائز نہیں۔ دیکھئے سورة صافات کا حاشیہ نمبر 1
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر 73 تا 74
حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر جو عذاب آیا وہ بظاہر شدید زلزلے اور آتش فشانی کے مشابہ ہے ، جس میں گاؤں کے گاؤں دھنس جاتے ہیں ، جس میں پتھروں کی بارش بھی ہوتی ہے اور جس میں خاک آلود پتھر بھی ہوتے ہیں اور ہمہ گیر تباہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے بحیرۂ لوط اس ہمہ گیر حادثے کے بعد نمودار ہوا ، اس وقت جب سدوم کی پوری کی پوری آبادی زمین میں دھنس گئی ، اور اس جگہ اس قدر بڑا گڑھا نمودار ہوا کہ وہاں پانی جمع ہو کر بحیرہ بن گیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی یہ بستیاں حجاز سے شام جاتے ہوئے شارع عام پر واقعہ تھیں اور ان کو دیکھ کر ہر عقل مند اور ذی بصیرت شخص عبرت حاصل کرسکتا ہے لیکن…
Read the full tafseer →1 اس کے متعلق ہم قریب ہی (اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :66) کے فائدہ میں کلام کرچکے ہیں۔ ابن جریج کا قول ہے کہ ہر عذاب جس سے کوئی قوم ہلاک کی جائے " صحیحہ " اور " صاعقہ " کہلاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 73 فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ
یعنی پو پھٹتے ہی ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا ایک زبردست چنگھاڑ کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
37 غنڈوں کی بدمستی :۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اللہ کی جان سے زیادہ اکرم و افضل کوئی جان پیدا نہیں کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان عزیز کے علاوہ کسی اور جان کی قسم کھائی ہو۔ یہی قسم کھا کر اللہ نے رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس وقت ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر وہ اپنی شہوت رانی کی مستی میں اندھے اور دیوانے بنے ہوئے تھے کہ ایسا شکار شاید انھیں بعد میں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔
Read the full tafseer →61۔ گویا جو کام فجر کے وقت شروع ہوا تھا، جیسا کہ آیت 66 میں لفظ مصبحین سے واضح ہے، وہ وقت اشراق تک اپنی تکمیل کو پہنچ گیا، توریت میں ہے :۔” جس وقت لوط ضغر میں داخل ہوا سورج کی روشنی زمین پر پھیلی “ (پیدائش 19: 23)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
آیت نمبر 61 تا 79
ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…
Read the full tafseer →فاخذتھم الصیحۃ مشرقین پس سورج نکلتے نکلتے ان کو ایک سخت آواز نے آ دبایا (پکڑ لیا کہ جہاں تھے وہیں رک گئے ‘ کوئی بچنے نہ پایا۔ مترجم) ۔ الصَّیْحَۃ یعنی ہولناک ‘ ہلاکت انگیز چیز ‘ چیخ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ چیخ حضرت جبرئیل کی تھی۔ شروق الشمس سورج کا نکلنا اور روشن ہونا۔ مراد یہ ہے کہ عذاب کا آغاز تو فجر سے ہی ہوگیا تھا اور تکمیل عذاب سورج نکلنے کے وقت ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
(73۔ 74۔ 75) چناچہ سورج نکلتے نکلتے ان کو عذاب نے پکڑا اور پھر ہم نے ان بستیوں کا اوپر کا تختہ نیچے کر کردیا اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا اور پھر ان لوگوں پر اور ان مسافروں پر آسمان سے کنکر کے پتھر برسانا شروع کیے ہم نے ان لوگوں کے ساتھ جو معاملہ کیا اس میں اہل بصیرت اور متفکر اور دیکھنے اور اعتبار کرنے والوں کے لیے چند نشانیاں اور عبرتیں ہیں۔
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ :”اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ“ ”سورج طلوع ہوا“۔ اس سے پہلے آیت (66) میں ”مُصْبِحِیْن“ کا لفظ ہے، یعنی صبح کے وقت۔ سورة قمر (38) میں ”بُکْرَةً“ کا لفظ ہے، جس کا معنی دن کا پہلا حصہ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ صبح کے وقت عذاب شروع ہوا اور سورج چڑھنے تک جاری رہا۔ ایک تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ صبح نمودار ہونے سے لے کر سورج چڑھنے کے کچھ بعد تک سارے وقت کو عرف میں صبح کہہ لیتے ہیں اور ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ ”أَشْرَقَ یُشْرِقُ“ مطلقاً تاریکی میں روشنی ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ صبح کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے اور سورج نکلنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت نمبر 73 تا 74
قولہ تعالیٰ : فاخذتھم الصیحۃ مشرقین یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی سورج نکلنے کے وقت (انہیں ایک سخت کڑک نے آلیا) ۔ کہا جاتا ہے : أشرقت الشمس یعنی سورج روشن ہوگیا، اور شرقت جب وہ طلوع ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور أشرق القوم یعنی وہ سورج طلوع ہونے کے وقت داخل ہوئے۔ اور اسی کی مثل اصبحوا اور أمسوا ہیں، اور یہی آیت میں مراد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد فجر کا طلوع ہونا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ عذاب کا آغاز صبح کے وقت ہوا اور سورج کے طلوع کے وقت وہ خوب پھیل گیا، اور اس وقت ان کی ہلاکت مکمل ہوگئی۔ واللہ اعلم۔ اور الصیحۃ کا معنی عذاب ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–77
1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔
4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[فَاَخَذَتْهُمُ : پھر پکڑا ان کو ] [ الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [ مُشْرِقِيْنَ : اشراق ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
رحمتہ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا اعزاز، اللہ جل شانہ نے آپ کی جان کی قسم کھائی ہے
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) جو فرمایا ہے اس میں اپنے حبیب مصطفیٰ ﷺ کی جان کی قسم کھائی ہے صاحب روح المعانی ص 42 ج 14 نے امام بیہقی کی دلائل النبوۃ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے بڑھ کر کوئی معزز و مکرم جان پیدا نہیں فرمائی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کے علاوہ کسی بھی حیات کی قسم نہیں کھائی، یہاں سرسری طور پر جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر اللہ کی قسم کھانا تو ممنوع ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی قسم کیوں کھائی ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–77
ذکر نعمائے اہل جنت
قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔
تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
25:۔ ترتیب قصہ میں یہ ” مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ “ کے بعد ہے۔ ” مُشْرِقِیْنَ “ یہ ” اَخَذْتُھُمْ “ میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی عذاب نے ان کو سورج چمکنے تک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عذاب کی ابتداء صبح صادق سے ہوئی اور سورج چمکنے تک ان کا کام تمام کردیا گیا۔ قیل اول العذاب کان عند الصبح وامتد الی شروق الشمس فکان تمام الہلاک عند ذلک (قرطبی ج 10 ص 42) ۔ ” اَلْمُتَوَسِّمِیْنَ اي الْمُتَفَکِّرِیْنَ “ یعنی دھیان دینے اور غور و فکر کرنے والے اصل میں اس کے معنی ہیں الناظرین الی سمۃ الشیء۔ یہاں سوچ بچار سے کنایہ ہے۔ ” سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ “ شاہراہ عام جرنیلی سڑک، قائم اور ثابت راستہ جو ابھی تک موجود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–79
(ربط آیات)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،
(لوط (علیہ السلام) کی پیش کش)
اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری…
Read the full tafseer →فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ 73ۙ
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ ۔ فَجَعَلْنَا عَلِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ ۔ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ ۔ وَاِنَّھَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 73۔ 74۔ 75۔ 76۔ 77)
(پس آلیا ان کو ایک سخت کڑک نے جب سورج نکل رہا تھا۔ پس ہم نے ان کی بستی کو زیروزبر کردیا اور ہم نے ان پر برسائے کھنگر کے پتھر۔ بیشک اس سرگزشت میں بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ اور یہ بستی ایک شاہراہِ عام پر ہے بیشک اس سرگزشت کے اندر اہل ایمان کے لیے بڑی نشانی ہے۔ )
نزولِ عذاب
قومِ لوط (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدمعاشوں کی بدمعاشی کا منظر پیش کرنے کے بعد ان کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
ملائکہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ صبح کے وقت آپ کی قوم کو اللہ کا عذاب آلے گا۔ جونہی عذاب کی گھڑی آپہنچی تو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے پوری بستی کو اٹھایا اور اس قدر اونچا لے جا کر اسے الٹ کر زمین پردے مارا کہ بستی والوں کے چیخنے کی آوازیں آسمان کے ملائکہ تک نے سنیں۔
جس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سورج نکلنے کے قریب ہی وہ پکڑے گئے اور ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اور پھر ان پر پتھر برسائے گئے جن پر مخصوص نشان لگے ہوئے تھے۔ (الذاریات…
Read the full tafseer →نفاذِ عذاب :
73: فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ (ان کو چیخ نے آلیا) جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ مراد ہے۔ مُشْرِقِیْنَ (سورج طلوع ہوتے ہی) کہ وہ طلوع میں داخل ہو رہے اور وہ سورج چمکنے کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(73)” فاخذتھم الصیحۃ مشرقین “ جب سورج ظاہر ہوا۔ عذاب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب صبح ہوئی، اس وقت عذاب کی ابتداء ہوئی اور اس کا اختتام جب ہوا جب سورج طلوع ہورہا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–85
73۔ 85۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو غارت کرو تو صبح ہوتے ہی جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور پھر اس بستی کی تہ میں اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جا کر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک متنفس بھی جان بر نہ ہوسکا پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت کرنے والوں اور غورو فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔ بعضے مفسروں نے للمتوسمین کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ عقلمندوں کے واسطے اس قصہ میں پتے ہیں اور ابو سعید ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–78
آیت 57
(قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
60۔ بدبختوں پر نزول عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار دن چڑھتے ہی ان کو آپکڑا اس ہولناک آواز نے جو ان کے عذاب کے لیے مقرر ہوگئی تھی، کیونکہ " مشرقین " بنا ہے " اشراق " سے۔ جو کہ ماخوذ ہے " شرق الشمس " سے۔ جس کے معنی سورج کے چڑھنے اور طلوع ہونے کے آتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد طلوع فجر ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ان کا یہ عذاب طلوع فجر سے شروع ہو کر طلوع شمس تک ممتد ہوگیا تھا۔ سو اس قصے میں تنبیہ ہے کفار قریش اور دوسرے تمام کفار و مشرکین کیلئے کہ تکذیب حق کے جس جرم کی پاداش میں یہ لوگ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچے وہ دوسرے تمام منکرین و مکذبین کو بھی لاحق ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–84
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب
تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
ف 8 یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عرقا سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی سجرمیت کے (جسے بحر لوط بھی کہتے ہیں) جنوب مشرق میں واقع تھی بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت سحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ (تنبیہ) اس عذاب کے وقت کے متعلق تین الفاظ آئے ہیں ” مشرقین، مصبحین اور بکرۃ “ صبح سے مراد صبح عرفی ہو تو یہ اشراق و بکرۃ کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے بعض نے لکھا ہے کہ صبح یعنی طلوع فجر سے عذاب شروع ہوا اور اشراق یا بکرہ تک ان کا تقصہ تمام کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(15:72) لعمرک۔ ل قسم کے لئے ہے۔ عمرک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جان کی قسم۔ تیری زندگی کی قسم۔
عمرو عمر ہم معنی لفظ ہیں لیکن قسم میں یہ اکثر مفتوح استعمال ہوتا ہے کیونکہ سہل الاداء ہے۔
سکرتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی مستی۔ ان کا نشہ۔ ان کی مدہوشی۔
یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر (باب فتح وسمع) سرگردانی۔ گمراہی میں حیرانی ۔ وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمھون۔ تیری جان کی قسم یہ لوگ اپنی طاقت کے نشے میں سرگرداں مست ہیں اور بہکے بہکے پھر رہے ہیں۔
(اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے) مدارک التنزیل میں ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) سے تھا۔ لیکن اکثر مفسرین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–79
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79
منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی ایک نہ سنی اور اپنی ہٹ دھرمی کئے گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم دے دیا کہ ان کو اپنے پر ڈال کر اکھیڑ لیا اور آسمان کی طرف لے جاکر وہاں سے الٹا گرا دیا اور پھر اوپر سے چھوٹے چھوٹے پتھر کے ریزے برسے جس سے ایک آدمی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرت حاصل کرنے والوں اور غور فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ بستی سدوم ملک شام کی طرف بدبو دار پانی کے چشمہ کی صورت میں آج تک باقی ہے، اور دوسری بستی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مدین ہے وہاں کے لوگ بھی بڑے بدکار تھے اس قوم سے انتقام لیا جو زلزلہ وغیرہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
[20] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 43 صفحہ 522۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–76
قوم لوط کی ہلاکت :
(ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔
حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…
Read the full tafseer →73 ۔ بالآخر سورج کے نکلتے ان کو ایک ہولناک آواز اور چنگھاڑنے آپکڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
ف 13۔ یعنی جو تمہارے گھروں میں ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر :
مختصر یہ کہ صبح ہوتے ہوتے ہی ان لوگوں کا سارا قصہ پاک کردیا گیا :
73۔ آخر شب ہوئی تو سب سے پہلے ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی کے پورے تختہ پر طوفان اور پتھروں کی ایسی بارش برسائی کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا اور ازیں بعد ایک زور دار آواز پیدا ہوئی کہ اس سے اردگرد کے علاقوں کے لوگوں کے دل بھی دہل گئے اور انجام کار ایک ہی بارے اتنے زور سے زلزلہ آیا کہ زمین شق ہو کر رہ گئی اور وہ ساری بستیاں جو لوط (علیہ السلام) کی بستیاں کہلاتی تھیں زمین کے اندر ہی کہیں گھس کر رہ گئیں اور دن چڑھنے تک وہاں وہی بحرمیت تھا جو آج بھی وہاں موجود ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Commentary
A Great Honour for the Holy Prophet ﷺ
About the word of Allah: لَعَمرُکَ (la'amruk : By your life), the majority of commentators, as reported in Ruh al-Ma’ ani, have said that the addressee of 'la'amruka' is the Holy Prophet ﷺ . It is his life that Allah Ta’ ala has sworn by. Al-Baihaqi in Dala'ilun-Nubuwwah, and Abu Nu'aym, Ibn Marduwayh and others have reported from Sayyidna ` Ab-dullah ibn ` Abbas ؓ that Allah Ta’ ala has not bestowed on anyone in the whole creation an honour and rank higher than that of Sayyidna Muhammad al-Mutafa ﷺ . This is the reason why Allah Ta’ ala has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
40. In (E.N. 87 of Surah Houd), it has been explained what Prophet Lot (peace be upon him) meant by this. It may also be added that such words as these were uttered by an honorable man like him in the last resort, when all his entreaties and earnest requests had failed to prevent those people from their evil designs towards his guests.
Here it will be worthwhile to clear the significance of the words which were uttered by Prophet Lot (peace be upon him) as they occur in Surah Houd (Ayat 78). When he entreated those wicked people not to molest his guests, saying,“Here are my daughters”, he was…
Read the full tafseer →