Al-Hijr 15:66

Al-Hijr · from ayah 66

15:66

وَقَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ۟وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰ لِكَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۤءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We conveyed to him [the decree] of that matter: that those [sinners] would be eliminated by early morning.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:66

اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اس طرح) ہم نے لوط تک اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے لوط ؑ کو اس فیصلہ سے بذریعہ وحی آگاہ کر دیا کہ بیشک اُن کے صبح کرتے ہی اُن لوگوں کی جڑ کٹ جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اس کی طرف اس بات کی وحی کردی کہ بیشک ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جانے والی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے لوط کو اس بات کا فیصلہ سنا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کٹ جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اپنے اس فیصلہ سے اس کو آگاہ کردیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کٹ کے رہے گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے لوط کو یہ بات قطعی طور پر واضح کردی تھی کہ یقیناً جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی ان (بدبخت لوگوں) کی صبح ہوتے ہی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے لوط کے پاس (اپنا) یہ فیصلہ بھیج دیا کہ صبح ہوتے ان لوگوں کی جڑ ہی (بالکل) کٹ جائے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے لوط کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We communicated to him the decree that by the morning those people will be totally destroyed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We conveyed to him Our decision that they (the unbelievers) were to be totally uprooted when they would see the morning.

— Muhammad Taqi Usmani

We conveyed to him Our decision that they (the unbelievers) were to be totally uprooted when they would see the morning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We made this decree known to him that those (sinners) would be rooted out in the early morning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We made plain the case to him, that the root of them (who did wrong) was to be cut at early morn.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We conveyed to him [the decree] of that matter: that those [sinners] would be eliminated by early morning.

— Saheeh International

We informed him that the unbelievers would be utterly destroyed.

— Muhammad Sarwar

And We revealed to him this decree, that the roots of these shall be cut off in the morning.

— Muhammad Habib Shakir

And We decreed unto him this commandment because the last of those was to be cut off in the early morning.

— Abdul Majid Daryabadi

And We made known this decree to him, that the last remnants of those (sinners) should be cut off by the morning.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–66

لوط ؑ کو ہدایا ت حضرت لوط ؑ سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں۔ یہی سنت رسول اللہ ﷺ کی تھی کہ آپ لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔ پھر فرما دیا کہ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ہم نے پہلے ہی سے لوط ؑ سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–66

سورة الْحِجْر 37 یعنی اس غرض سے اپنے گھر والوں کے پیچھے چلو کہ ان میں سے کوئی ٹھیرنے نہ پائے۔ سورة الْحِجْر 38 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پلٹ کر دیکھتے ہی تم پتھر کے ہوجاؤ گے، جیسا کہ بائیبل میں بیان ہوا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیچھے کی آوازیں اور شور و غل سن کر تماشا دیکھنے کے لیے نہ ٹھیر جانا۔ یہ نہ تماشا دیکھنے کا وقت ہے، اور نہ مجرم قوم کی ہلاکت پر آنسو بہانے کا۔ ایک لمحہ بھی اگر تم نے معذب قوم کے علاقے میں دم لے لیا تو بعید نہیں کہ تمہیں بھی اس ہلاکت کی بارش سے کچھ گزند پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الأمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَؤُلاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ۔ قضینا کے بعد الی کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں " ابلغنا " یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس بات کا فیصلہ کرکے اس کو آگاہ کردیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 یعنی لوط ؑ کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی، یا دابِرَ سے مراد وہ آخری آدمی ہے جو باقی رہ جائے گا، فرمایا، وہ بھی صبح ہونے تک ہلاک کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–67

23: یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اس لیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کو اندیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنی ہوس کو پوری کرنے کے شوق میں خوشی مناتے ہوئے آئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–66

آیت نمبر 61 تا 66 یہ فرشتے جلدی سے لوط (علیہ السلام) کو بتا دیتے ہیں کہ وہ فرشتے ہیں ، وہ اس کام کے لئے آگئے ہیں جس میں ان کی قوم شک میں مبتلا تھی ، یعنی یہ کہ بد اعمالیاں کر رہے ہیں اس پر ان کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے عذاب کو بروئے کار لانے کے لئے آئے ہیں اور جب فرشتے آجاتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کے نزول میں دیر نہیں ہوتی۔ وہ فوراً آتا ہے اس لیے یہاں بھی بات جلد ختم کی جا رہی ہے۔ قال انکم قوم منکرون (15 : 62) ” آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں “۔ یہ بات حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس لیے کہی کہ ان کو ان مہمانوں کے بارے میں پریشانی لاحق ہوگئی تھی ، وہ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی لوط (علیہ السلام) کو ملائکہ کے توسط سے ہم نے اپنا قطعی فیصلہ سنا دیا کہ عذاب کچھ دور نہیں۔ ابھی صبح کے وقت اس قوم کا بالکلیہ استیصال کردیا جائے گا۔ شاید یہ مطلب ہو کہ صبح ہوتے ہی عذاب شروع ہوجائے گا اور اشراق تک سب معاملہ ختم کردیا جائے گا، کیونکہ وہ دوسری جگہ " مُصْبِحِیْنَ " کے بجائے " مُشْرِقِیْنَ " کا لفظ آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ وہاں سے نکلنے سے پہلے حضرت لوط کو بتادیا گیا کہ اس پوری قوم کو تہس نہس کردیا جائے گا اور یہاں کوئی ایک متنفس بھی نہیں بچے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

33 آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم کا شہر تھا۔ اور یہ عذاب اسی شہر اور اس کے مضافات پر آیا تھا۔ ان کا علاقہ عراق اور فلسطین کے درمیان واقع تھا جہاں آج کل شرق اردن ہے۔ یہاں سے آپ کو شام کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ سورة ہود میں واقعہ کی ترتیب یہ ہے کہ جب فرشتے سیدنا لوط (علیہ السلام) کے ہاں آئے تو قوم کے بدمعاش اور غنڈے فوراً سیدنا لوط کے گھر پہنچ گئے۔ اور آپ کو اپنے ان مہمانوں کو ان غنڈوں سے بچانے کی فکر لاحق ہوگئی۔ تاآنکہ آپ نے یہ فرمایا کہ کاش ! مجھ میں ان کی مدافعت کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا تو اس وقت فرشتوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

55۔ یعنی صبح تڑکے سے ان بدبختوں پر عذاب ہلاکت نازل ہونا شروع ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقضینآالیہ “۔ یہ فیصلہ خداوندی حضرت (علیہ السلام) کے پاس انہیں فرشتوں کے ذریعہ سے پہنچا۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت میں پہلے اس فیصلہ کو مبہم رکھنا، اور پھر خود ہی اس کی تفصیل کردینا اس فیصلہ کی اہمیت و عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” وفی ابھامہ اولا وتفسیرہ ثانیا تفخیم للامر وتعظیم لہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقضینا الیہ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اور ہم نے لوط کے پاس یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوتے ہی ان کی جڑ بالکل کٹ جائے گی (سب ہلاک کر دئیے جائیں گے) یعنی حضرت لوط کے پاس ہم نے یہ قطعی حکم بھیج دیا کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے بالکل کٹ جائے گی۔ دَابِر جڑ۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ‘ سب کے سب بالکل ہلاک کر دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–67

(65۔ 66) سو آپ رات کے کسی حصہ میں یعنی سحر کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجیے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے اور صعر (شام) کی طرف سب چلے جانا اور ہم نے لوط ؑ کو صعر جانے کا حکم دیا یا اور ہم نے لوط ؑ کو اس بات سے مطلع کیا کہ صبح ہوتے ہی آپ کی قوم کی جڑ کٹ جائے گی (اور فرشتوں کی آمد کی خبر سن کر جو کہ شکل سے آدمی تھے) شہر کے لوگ حضرت لوط ؑ کے مکان پر اپنے ناپاک مقصد کے تحت خوب خوشیاں کرتے ہوئے آئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ۔۔ : ”قَضَيْنَآ“ کی و جہ سے ”دَابِرَ“ کا معنی ”ہم نے وحی کی“ کیا جاتا ہے۔ ”دَابِرَ“ سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی ”دَابِر“ کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کردیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ : ”أَصْبَحَ“ کا معنی ہے ”دَخَلَ فِي الصُّبْحِ“ کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورة ہود میں ہے : (اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ) [ ہود : 81 ] ”بیشک ان کے وعدے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 61–66

آیت نمبر 61 تا 65 قولہ تعالیٰ : فلما جآء ال لوط المرسلون۔ قال انکم قوم منکرون یعنی میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ جواب تھے اور آپ نے جب حسن و جمال دیکھا تو ان کے بارے میں اپنی قوم کے فتنے کا آپ کو خوف لاحق ہوا، پس یہی وہ انکار اور اجنبیت ہے۔ قالوا بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون (فرشتوں نے کہا : (ہم اجنبی نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لے آئیں گے جس میں وہ شک کیا کرتے تھے کہ وہ ان پر نازل ہوگی۔ اور وہ عذاب ہے واتینک بالحق اور ہم آپ کے پاس لے آئیں ہیں حق یعنی سچ۔ اور بعض نے کہا ہے : عذاب۔ وانا لصدقون اور بلاشبہ ہم ان کی ہلاکت کے بارے میں سچ کہہ رہے ہیں۔ فاسر باھلک بقطع من…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَضَيْنَآ : اور ہم نے فیصلہ کیا ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [ ذٰلِكَ : الْاَمْرَاس بات کا ] [ ان : کہ ] [ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ : ان لوگوں کی جڑ ] [ مَقْطُوْعٌ: کاٹی جانے والی ہے ] [ مُّصْبِحِيْنَ : صبح کرنے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–71

یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–66

22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–70

(ربط آیات) پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔ کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَضَيْنَآ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ 66؀ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–69

تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–67

فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌوَّامْضُوْا حَیْثُ تُؤْمِرُوْنَ ۔ وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَھٰٓؤْلَآئِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 65۔ 66) (تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصے میں، اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اور چلے جائیے جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے اپنے اس فیصلے سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا ہے کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایات عذاب کے آنے سے پہلے فرشتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–66

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی زندہ مثال۔ ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے الوداع ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ملائکہ کو پہچان نہ سکے۔ فرمانے لگے آپ لوگ تو بالکل اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس اس کام کے لیے آئے ہیں۔ جس کام کی آمد کے بارے میں آپ کی قوم بےیقینی کا شکار ہے۔ جس کام کے لیے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں وہ حقیقت اور ہو کر رہے گا۔ یقین جانیے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد سچ ہے۔ بس آپ جتنا جلدی ہو سکے رات کے آخری پہر اپنے اہل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

66: وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ (اور ہم نے یہ حکم ان کے پاس بھیجا) قَضَیْنَاؔ کو اِلٰی سے متعدی کیا گیا کیونکہ وہ اَوْحَیْنَا کے معنی کو متضمن ہے گویا اس طرح فرمایا۔ واوحینا الیہ مقضیا مبتوتا اور ہم نے وحی کی ان کی طرف رات کے فیصلہ شدہ حکم کی۔ الامر کی تفسیر اَنَّ دَابِرَ ھٰؤُلَائِ مَقْطُوْعٌ سے کی۔ الْاَمْرَاَنَّ دَابِرَھٰٓؤُلَآ ئِ مَقْطُوْعٌ (بیشک ان کی جڑ کٹ جائے گی) ۔ اس کے ابہام و تفسیر میں امر کی تفخیم شان ہے۔ اور دابرھمؔ کا معنی ان کا آخری یعنی ان کا استیصال کردیا جائے گا اور یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ مُّصْبِحِیْنَ (صبح سویرے) صبح کے وقت میں داخل ہوتے ہی۔ نحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(66) وقضینا الیہ ذلک الامر “ ہم نے لوط (علیہ السلام) کے پاس یہ حکم بھیجا کہ ان لوگوں کی جڑ صحیح ہونے سے پہلے ہی جڑ سے کاٹ دی جائے ہم نے اس کام کا فیصلہ کیا اور عمل کیا جو قوم لوط کے متعلق حکم دیا گیا۔ ” ان دابر ھولاء “ عبداللہ (رح) کے نزدیک یہی قرأت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں دابر ھولاء سے مراد ان کے اصول ہیں۔ یعنی ان کی جڑ کو بھی ختم کردی جائے گی۔ ” مقطوع “ جڑ سے ان کو کاٹا گیا۔ ” مصبحین “ جب صبح داخل ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–66

65۔ 66۔ اللہ پاک یہ کلام فرشتوں کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے یہ بات کہی کہ تم اپنے بال بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے ہو لو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور فرشتوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ دیکھنا کبھی تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہو رہا ہے نہیں تو رستہ طے کرنے میں دیر ہوجائے گی اور طبیعت قوم کے عذاب کی طرف مشغول رہے گی پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک شام کو چلے جاؤ پھر فرمایا کہ اللہ نے یہ بات ٹھہرا دی ہے کہ صبح ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 66–69

56۔ قوم لوط کے بدبختوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور آپہنچے اسی دوران شہر کے لوگ خوشیاں مناتے، بدنیتی اور برے ارادے سے کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ کہ وہ منحوس اور بدبخت قوم من حیث المجموع اس خلاف وضع فطری فعل کی عادی مجرم تھی جس کو زبان پر لاتے ہوئے بھی ایک شریف الطبع انسان کو سخت گرانی ہوتی ہے۔ مگر اس کو کیا کہیے گا کہ اس خبیث عمل کو جس کو زبان پر لانا ایک شریف الطبع انسان کو گوارا نہیں اس کو کچھ ہی عرصہ قبل بیسویں صدی عیسوی کے مادی ترقی کے چکاچوند کردینے والے اس دور میں نام نہاد جمہوریت کی چیمپئین مانی جانے والی برطانوی سرکار نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:66) قضینا۔ ماضی جمع متکلم قضاء مصدر۔ ہم نے بذریعہ وحی (اس کو) آگاہ کردیا۔ ذلک الامر۔ اس امر سے۔ ہم نے یہ فیصلہ اس کو بھیج دیا۔ القضاء کے معنی قولاً یا فعلاً کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں۔ قضی الی۔ قطعی طور پر اطلاع دینا۔ دابر۔ جڑ۔ بیخ۔ بنیا۔ پچھاڑی۔ پیچھا۔ دبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اس فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ مصبحین اسم فاعل۔ صبح کرنے والے۔ صبح کرتے کرتے۔ صبح ہوتے ہی۔ ھؤلاء سے حال ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–66

مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اپنے باپ بچوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جاؤ۔ گھر والوں کو آگے رکھو اور آپ ان کے پیچھے رہو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ کوئی عزیز پیچھے تو نہیں رہ گیا اور دیکھنا تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے کہ قوم پر کیا عذاب ہورہا ہے ورنہ رست طے کرنے میں دیر ہوجائے گی۔ پھر فرمایا کہ جہاں تم کو حکم ہوا ہے وہاں چلے جاؤ دیر نہ کرو، یعنی ملک شام کو چلے جاؤ۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے کہ بات ٹھہرادی کہ صبح ہوتے ہی اس قوم کی جڑ بنیاد بالکل نیست اور نابود ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–76

قوم لوط کی ہلاکت : (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔ حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

66 ۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کے پاس ان فرشتوں کے ذریعہ یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوئے ان سب کی بالکل ہی جڑ کٹ جائے گی ۔ یعنی لوط (علیہ السلام) کو ہم نے اس واقعہ سے با خبر کردیا کہ صبح ہوتے ان سب کی جڑ کاٹ دی جائے گی اور ان کو بالکل ختم کردیا جائے گا ، چناچہ ایسا ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 11۔ یہ فرشتوں کی گفتگو جو اوپر مذکور ہوئی وقوع میں موخر ہے اہتمام مقصود کے لئے کہ انجاء و اہلاک کی خبر دینا ہے ذکر میں مقدم فرمادیا، اور آگے جو حصہ آتا ہے وہ وقوع میں مقدم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : لوط (علیہ السلام) پر فرستادگان نے حقیقت حال واضح کردی : 66۔ آخر جب عذاب الہی کا وقت بالکل قریب آگیا تو ابتدائے شب میں لوط (علیہ السلام) کو اپنے لوگوں سمیت یہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا اور لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ازیں بعد آپ کی پوری قوم کی سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ تھے جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ۔ قرآن کریم جب بھی کوئی قصہ بیان کرتا ہے تو واقعات کو ترتیب دے کر بیان نہیں کرتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے نزدیک قصہ گوئی نہیں بلکہ نصیحت آموزی ہے ۔ یہ بات اس لئے کہی گئی کہ زیر نظر آیت میں جو کام ہونا تھا وہ تو معرض وجود میں لا کر بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

37. That is, you should walk behind your people lest anyone of them should stay behind. 38. It did not mean:“look not behind thee, lest thou be consumed,”as stated in the Bible. But it merely meant to warn them: None of you should turn round to see what was happening behind them lest you should stop to see when you heard the cries of the smitten people. For it is neither the time nor the place viewing the destruction nor shedding tears of regret. If you stop even for a minute in the territory of the smitten people you also might get hurt from the rain of stones.

Read the full tafseer →