Al-Hijr 15:67

Al-Hijr · from ayah 67

15:67

وَجَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۟وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡتَـبۡشِرُوۡنَ‏

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the people of the city came rejoicing.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Hijr

All translations of 15:67

اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور شہر والے خوشی مناتے ہوئے (لوط کے پاس) آپہنچے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اہلِ شہر (اپنی بد مستی میں) خوشیاں مناتے ہوئے (لوط علیہ السلام کے پاس) آپہنچے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس شہر کے رہنے والے اس حال میں آئے کہ بہت خوش ہو رہے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اتنے میں شہر والے خوشی خوشی لوط کے ہاں آپہنچے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شہر والے خوش خوش آپہنچے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپہنچے اس دوران شہر کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور شہر کے لوگ خوشیاں کرتے ہوئے آئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آئے اہل شہر خوشیاں مناتے ہوئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اہل شہر لوط کے پاس خوش خوش دوڑتے ہوئے آئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

In the meantime the people of the city came to Lot rejoicing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the people of the city came rejoicing.

— Muhammad Taqi Usmani

And the people of the city came rejoicing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the inhabitants of the city came rejoicing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the people of the city came, rejoicing at the news (of new arrivals).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the people of the city came rejoicing.

— Saheeh International

The people of the town rejoicingly

— Muhammad Sarwar

And the people of the town came rejoicing.

— Muhammad Habib Shakir

And there came the people of the city rejoicing

— Abdul Majid Daryabadi

The inhabitants of the city came in (mad) joy (at news of the young men).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 15:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–72

قوم لوط کی خر مستیاں قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ حضرت لوط ؑ کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ حضرت لوط ؑ نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود حضرت لوط ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورة ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجا نا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لئے ہوتا بھی نہیں اور خصو صاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہوجاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ کو یہ خیال تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 67–70

سورة الْحِجْر 39 “ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس قوم کی بد اخلاقی کس حد کو پہنچ چکی تھی۔ بستی کے ایک شخص کے ہاں چند خوبصورت مہمانوں کا آجانا اس بات کے لیے کافی تھا کہ اس کے گھر پر اوباشوں کا ایک ہجوم امنڈ آئے اور علانیہ وہ اس سے مطالبہ کریں کہ اپنے مہمانوں کو بدکاری کے لیے ہمارے حوالے کر دے۔ ان کی پوری آبادی میں کوئی ایسا عنصر باقی نہ رہا تھا جو ان حرکات کے خلاف آواز اٹھاتا، اور نہ ان کی قوم میں کوئی اخلاقی حس باقی رہ گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو علی الاعلان یہ زیادتیاں کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس ہوتی۔ حضرت لوط ؑ جیسے مقدس انسان اور معلم اخلاق کے گھر پر بھی جب بدمعاشوں کا حملہ اس بےباکی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–71

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ۔ " مدینہ " سے مراد یہاں قوم لوط کی بستی سدوم ہے۔ سدوم کے گنڈوں اور بدمعاشوں کو جب پتہ چلا کہ حضرت لوط کے پاس کچھ خوب رو مہمان آئے ہوئے ہیں تو وہ خوش خوش ان کے گھر پہنچے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے، آج جی بھر کے اپنے ارمان نکالیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67۔ 1 ادھر تو حضرت لوط ؑ کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط ؑ کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور خوشی خوشی حضرت لوط ؑ کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو ان کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے بےحیائی کا ارتکاب کر کے اپنی تسکین کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–67

23: یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اس لیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کو اندیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنی ہوس کو پوری کرنے کے شوق میں خوشی مناتے ہوئے آئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 67 اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فسق و فجور اور فحاشی وبے حیائی کی حدیں پار کر گئے تھے اور یہ قوم سب کی سب اخلاقی مریض تھی۔ یہ منظر کس قدر عجیب و شرمناک ہے کہ یہ لوگ گروہ در گروہ آرہے ہیں ، خوشیاں منا رہے ہیں اور اعلانیہ کہہ رہے کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے۔ ایک تو برائی اور بےراہ روی ہے ، دوسرے یہ کہ یہ اعلانیہ اور دیدہ دلیری سے کی جا رہی ہے۔ کوئی بھی صحت مند انسانی معاشرہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک فرد تو یہ رویہ کبھی کبھار اختیار کرسکتا ہے لیکن وہ بھی اپنی بیماری کو چھپاتا ہے۔ وہ یہ بےراہ لذت خفیہ طور پر حاصل کرسکتا ہے اور اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے شرمندگی سے بچا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جب سنا کہ لوط کے یہاں بڑے حسین و جمیل لڑکے مہمان ہیں تو اپنی عادت بد کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور دوڑتے ہوئے ان کے مکان پر آئے اور لوط سے مطالبہ کیا کہ انھیں ہمارے حوالہ کردو (تنبیہ) (وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :67) میں " واؤ " مطلق جمع کے لیے ہے، یہاں ترتیب واقعات بیان میں ملحوظ نہیں سورة ہود اور اعراف میں یہ قصہ گزر چکا ہے اسے دیکھ لیا جائے اور وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 67–69

آیت 67 وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ حضرت لوط کے ہاں خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر بد قماش قسم کے لوگوں نے خوشی خوشی آپ کے گھر پر یلغار کردی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–69

34 غنڈوں کا سیدنا لوط کے گھر میں گھس آنا :۔ اہل سدوم لواطت کے معاملہ میں اس قدر بےحیا اور بیباک ہوچکے تھے کہ سیدنا لوط کا بھی کچھ لحاظ نہ کرتے تھے بلکہ الٹا انھیں یہ کہتے تھے کہ اگر تم اتنے پاکباز بنتے ہو تو ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ چناچہ یہ خوبصورت لڑکے لوط کے گھر پہنچے ہی تھے کہ آپ کی بیوی نے مخبری کردی اور وہ دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوط نے ان کی منت کرتے ہوئے کہ دیکھو ! یہ میرے مہمان ہیں ان پر دست درازی کرکے مجھے رسوا نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ (یہ سمجھ کر کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا) (آیت) ” اھل المدینۃ “۔ یعنی شہر سدوم والے (آیت) ” یستبشرون “۔ مسرت حیوانی وشیطانی اس کی تھی کہ اپنی گندہ مذاقی کی تسکین جی بھر کرہوسکے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–79

آیت نمبر 61 تا 79 ترجمہ : پھر جب یہ فرستادے آل لوط یعنی لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو، میں تم کو نہیں پہچانتا، فرشتوں نے جواب دیا، نہیں، بلکہ ہم تمہارے پاس وہی چیز لے کر آئے ہیں جس (کے آنے) میں تمہاری قوم شک کر رہی تھی اور وہ عذاب ہے، اور ہم تمہارے پاس صریح حق لے کر آئے ہیں اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں، اب تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل کو لے کر نکل جانا، اور تم ان کے پیچھے رہنا، یعنی ان کے پیچھے (پیچھے) چلنا، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے تاکہ اس عظیم ہولناک (عذاب) کو نہ دیکھے جو ان پر نازل ہو رہا ہو، اور جہاں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجاء اھل المدینۃ یستبشرون اور شہر والے باہم خوش خبریاں سناتے آئے۔ یعنی سدوم بستی کے رہنے والے نووارد خوبصورت لڑکوں کی آمد کی اطلاع خوشی خوشی باہم دینے لگے۔ امرد پرست تھے ‘ خوبصورت نووارد لڑکوں کی آمد سے ان کا شیطانی جذبہ جوش میں آیا اور ایک ‘ دوسرے کو خوشخبری دینے لگا۔ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے گھر پہنچے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–67

(65۔ 66) سو آپ رات کے کسی حصہ میں یعنی سحر کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجیے اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے اور صعر (شام) کی طرف سب چلے جانا اور ہم نے لوط ؑ کو صعر جانے کا حکم دیا یا اور ہم نے لوط ؑ کو اس بات سے مطلع کیا کہ صبح ہوتے ہی آپ کی قوم کی جڑ کٹ جائے گی (اور فرشتوں کی آمد کی خبر سن کر جو کہ شکل سے آدمی تھے) شہر کے لوگ حضرت لوط ؑ کے مکان پر اپنے ناپاک مقصد کے تحت خوب خوشیاں کرتے ہوئے آئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ : ”الْمَدِيْنَةِ“ کا ترجمہ ”اس شہر“ الف لام برائے عہد کی و جہ سے کیا ہے۔ مفسرین نے اس کا نام ”سدوم“ بتایا ہے۔ قوم لوط کا عمل کرنے والوں کو بہت سی زبانوں میں ”سدومی“ کہا جاتا ہے، اس لیے عربی یا اردو میں اس کے لیے ”لوطی“ کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس میں لوط ؑ کی ایک طرح سے توہین ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ بروں کے ساتھ رہنے میں بھی بدنامی ہے، خواہ کتنا نیک ہو، اب لوط ؑ کے اس بدبخت قوم کے پیغمبر ہونے کے باعث کتنے برے فعل کی نسبت ان کے مبارک نام کی طرف کی جاتی ہے۔ يَسْـتَبْشِرُوْنَ : ”بَشَرَ“ (ض، س) ، ”أَبْشَرَ“ اور ”اِسْتَبْشَرَ“ تینوں کا معنی خوش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 67–71

آیت نمبر 66 تا 71 قولہ تعالیٰ : وقضینا الیہ یعنی ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف وحی کردی۔ ذلک الامر ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین اس کی نظیر یہ قول ہے فقطع دابر القوم الذین ظلموا (الانعام :45) (تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا) ۔ مصبحین یعنی صبح طلوع ہونے کے وقت اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ وجآء اھل المدینۃ اور (اتنے میں) حضرت لوط (علیہ السلام) کے شہر والے آگئے یستبشرون مہمانوں کے سبب خوشیاں مناتے ہوئے اس حرص اور طمع میں کہ وہ ان سے برائی کا ارتکاب کریں گے۔ ان ھؤلاء ضیفی بیشک یہ میرے مہمان ہیں۔ فلا تفضحون یعنی تم مجھے شرمسار نہ کرو۔ واتقوا اللہ ولا تخزون یہ بھی جائز ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–77

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا لاتوجل “ یعنی مت ڈر۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبم تبشرون “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تعجب کیا اپنے بڑھاپے سے اور اپنی بیوی کے بڑھاپے سے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا کہ سدی (رح) سے فرمایا (آیت ) ” من القنطین “ یعنی مایوس ہونے والوں میں سے۔ 4:۔ ابوعبید اور ابن منذر نے اعمش کے طریق سے یحی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” فلا تکن من القنطین “ بغیر الف کے اور اس طرح پڑھا (آیت ) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ “ نون کے فتحہ کے ساتھ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَاۗءَ : اور آئے ] [ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ : شہر کے لوگ ] [ يَسْـتَبْشِرُوْنَ : خوشی مناتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–71

یہ مہمان فرشتے تھے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دے کر فرشتوں کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنا یہ فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد یہ کام بھی کیا تھا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کردیں ان کی ہلاکت کا قصہ سورة اعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے ان لوگوں کو یہ عادت بد پڑی ہوئی تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے سورة عنکبوت میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کی وعید سنائی جاتی تھی تو اس پر یقین نہیں کرتے تھے اور نصیحت کا الٹا اثر لیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–77

ذکر نعمائے اہل جنت قال اللہ تعالیٰ : ان المتقین فی جنت وعیون .... الیٰ .... وان عذابی ھو العذاب الالیم۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں گنہگاروں کا اور ان کے لیے جہنم کی سزا کا ذکر تھا اب ان آیتوں میں پرہیزگاروں کے ثواب اور ان کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں کہ جو بتوفیق الٰہی اور بتائید ایزدی شیطان کے اغواء اور تسلط سے محفوظ رہے اور ابلیس لعین کی تسویل و تزئین سے دنیا کی آرائش کے دلدادہ نہ بنے آخرت ہی کی فکر میں لگے رہے چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق جن لوگوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کی اور شیطان کے اغوا اور تزئین سے بچتے رہے وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے دودھ اور شراب کے چشمے ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 67–71

23:۔ واؤ مطلق جمع کے لیے ہے یہاں سے ” یَعْمَھُوْنَ “ تک ترتیب واقعہ میں ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے ہے۔ ” اَ وَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ “ جب فرشتوں کو خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں دیکھ کر قوم کے بدمعاش لوگ بری نیت سے ان کی طرف بڑھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا خدا سے ڈرو اور شرم کرو، یہ میرے مہمان ہیں اور مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کر رکھا کہ تم لوگوں کو پناہ دے کر ہم سے بچانے کی کوشش نہ کیا کرو۔ لہذا ان کی حمایت مت کرو اور ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔ ای عن اجازۃ احد منھم و حیلولتک بیننا وبینھم الخ (روح ج 14 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–70

(ربط آیات) پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔ کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ 67؀ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–69

تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–67

فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌوَّامْضُوْا حَیْثُ تُؤْمِرُوْنَ ۔ وَقَضَیْنَآ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَھٰٓؤْلَآئِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ۔ (سورۃ الحجر : 65۔ 66) (تو چلے جائیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کسی حصے میں، اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے اور کوئی تم میں سے پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ اور چلے جائیے جہاں جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ہم نے اپنے اس فیصلے سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا ہے کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایات عذاب کے آنے سے پہلے فرشتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–71

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اوباشوں کا مہمانوں کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یلغار کرنا۔ بڑے بڑے مفسرین نے تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے والے ملائکہ انتہائی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے۔ کیونکہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ہم جنسی کے مرض کا شکار تھے یہ لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنے اور نوجوان عورتوں سے شادی کرنے کے بجائے لڑکوں کے ساتھ بدکاری کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ دنیا میں تم پہلے لوگ ہو جو اس جرم میں ملوث ہو۔ اسی سبب جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم لوط کا طرز عمل : 67: وَجَآ ئَ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ (اور آگئے شہر والے) شہر سے سدوم مراد ہے جس کے قاضی کی ظلم میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ یَسْتَبْشِرُوْنَ (خوشخبریاں سناتے ہوئے) ملائکہ کے بارے میں اس طمع میں کہ ان کا مقصد فاحشہ پورا ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(67) وجاء اھل المدینہ “ اس سے سدوم بستی مراد ہے۔ ” یستبشرون “ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں نے۔ یعنی اس بستی کے بعض لوگ بعضوں کو اپنی خواہشات کے پیش نظر ایک دوسرے کو خوشخبری دینے لگے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–72

67۔ 72۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کو خوبصورت چودہ پندرہ برس کے کم سن دیکھ کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا برا خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے در پے ہورہے ہو۔ ان کی قوم نے جواب دیا کیا ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو ساری دنیا سے تمہیں کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–78

آیت 57 (قال) خلیل نے فرشتوں سے پوچھا : (فما خطبکم ایھا المرسلون) ” پس کیا تمہاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ ؟ “ یعنی تمہارا کیا معاملہ ہے اور تمہیں کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے ؟ (قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین) ” انہوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں “ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (الا ال لوط انا لمنجوھم اجمعین) ” سوائے لوط اور انکے گھر والوں کے، ان سب کو ہم بچا لیں گے۔ “ (آیت) ’ دسوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ “ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 66–69

56۔ قوم لوط کے بدبختوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور آپہنچے اسی دوران شہر کے لوگ خوشیاں مناتے، بدنیتی اور برے ارادے سے کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر میں خوبصورت نوجوان لڑکے آئے ہوئے ہیں۔ کہ وہ منحوس اور بدبخت قوم من حیث المجموع اس خلاف وضع فطری فعل کی عادی مجرم تھی جس کو زبان پر لاتے ہوئے بھی ایک شریف الطبع انسان کو سخت گرانی ہوتی ہے۔ مگر اس کو کیا کہیے گا کہ اس خبیث عمل کو جس کو زبان پر لانا ایک شریف الطبع انسان کو گوارا نہیں اس کو کچھ ہی عرصہ قبل بیسویں صدی عیسوی کے مادی ترقی کے چکاچوند کردینے والے اس دور میں نام نہاد جمہوریت کی چیمپئین مانی جانے والی برطانوی سرکار نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–84

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری، قوم لوط کا ذکر بد، ثمودیوں پر عذاب تشریح : ان تمام آیات کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی عنایت کی گئی صفات کو اعتدال، راست بازی اور خلوص و ایمان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی میں کام میں لانا چاہیے۔ کیونکہ انسان کی زندگی جانوروں جیسی نہیں بلکہ انسان کی زندگی کا عظیم مقصد ہے۔ اخلاقی فضائل کو ہم چار شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ پہلا حکمت، دوسرا شجاعت، تیسرا عفت چوتھا عدالت۔ جو قومیں اللہ کی دی ہوئی ان تمام قوتوں کو صحیح اور مناسب طریقہ سے استعمال میں لاتی ہیں وہی کامیاب و کامران اور اللہ کے مزید انعامات اور رضا کی حق دار ہوتی ہیں۔ اس میں چاہے ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–79

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف جب وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کے لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ وہ خوبصورت لڑکوں کی شکل پر تھے اور قوم لوط بچوں سے غیر فطری فعل ہی جیسے گناہ فاسد میں مبتلا تھی لہذا ان کا گھبرانا ایک قدرتی امر تھا کہ یہ کیسے خوبصورت اور شریف بچے ہیں مگر اہل شہر کو خبر ہوگی تو وہ چڑھ دوڑیں گے جس میں جہاں ان کی رسوائی ہوگی وہاں عزت بھی نہ رہے گی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اور گستاخی کا یہ فعل اللہ جل جلالہ نہ کرے کہ ہمارے گھر سے شروع ہو چناچہ وہ بہت گھبرائے اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا شہر کے لوگ چڑھ دوڑے کہ یہ خوبصورت لڑکے ہیں انہیں ہمارے سپرد کیا جائے اس کا تذکرہ یہاں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اور لوط سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو بدکاری کے لئے ہمارے حوالہ کردو۔ گویا ان کی پوری آبادی میں کوئی ایسا عنصر باقی نہ رہا تھا جو اس قسم کی غنڈہ گردی کے خلاف آواز اٹھاتا۔ اس سے ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(15:67) یستبشرون۔ مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) خوشیاں مناتے خوش خوش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–79

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 79 منکرون (منکر) ، اجنبی، نا آشنا ۔ یمترون (مترائ) ، وہ شک و شبہ کرتے ہیں۔ اسر تو چل دے، تو چل پڑ قطع ٹکڑا، حصہ ادبار صدبر) ، پیٹھ پیچھے۔ لایلتفت مڑ کر مت دیکھ۔ متوجہ نہ ہو۔ امضوا چلتے رہو، چلے جاؤ۔ حیث جیسے۔ تو مرون تمہیں حکم دیا گیا ہے ۔ قضینا ہم نے فیصلہ کردیا۔ دابر جڑ۔ ھولاء یہ سب ۔ مقطوع کاٹ دی گئی۔ مصبحین صبح ہوتے ہوئے۔ صبح صبح اھل المدینۃ شہر والے۔ یستبشرون خوش ہوتے ہیں۔ لاتفضحون تم مجھے رسوا نہ کرو۔ لاتخزون تم مجھے رنجیدہ نہ کرو ۔ ننھی ہم منع کرتے ہیں بنتی میری بیٹیاں (بڑوں کے لئے سب کی بیٹیاں اپنی بیٹیاں کہی جاتی ہیں) فعلین کرنے والے۔ لعمرک البتہ تیری جان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–71

جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو یہ خبر ہوگئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں دو تین مہمان آئے ہیں تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے مکان پر آئے اور ان مہمانوں کی نوعمری اور خوبصورتی کی خبر سن کر اپنے جی میں بہت خوش ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ لوگ میرے عزیز مہمان ہیں ان کی طرف کسی قسم کا بر خیال نہ کرو اور میری رسوائی نہ چاہو اور خدا سے ڈرو کسی کی آبرو کے پیچھے پڑنے سے کیا حاصل۔ کیوں میری عزت کے درپے ہورہے ہو، ان کی قوم نے جواب دیا کہ ہم نے تم کو منع نہیں کر رکھا ہے کہ تم کسی کی حمایت نہ لو۔ تم کسی کو کیوں اپنا مہمان بناتے ہو۔ پھر حضرت لوط (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 67–70

[19] یہ سمجھ کر کہ آج خوب شکار ہاتھ آیا ہے اور اپنی گندی عادت کی جی بھر کر تسکین ہو سکے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–76

قوم لوط کی ہلاکت : (ف 1) حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی جانب معبوث ہو کر آئے یہ وہ لوگ تھے جو حد درجہ کے شہوانی تھے ، یہ فواحش کے ارتکاب میں نہایت دلیر تھے ، اور اس درجہ پست اور ذلیل قسم کے جذبات کے مالک تھے کہ تسکین نفس کے لئے لونڈوں کو بہ نسبت عورتوں کے پسند کرتے ، قوم کی قوم اس خبیث مرض میں مبتلا تھی ، اخلاقی حس مردہ ہوچکی تھی ، ہر آن شہوت پرستی میں مشغول اور بدمست رہتے ۔ حضرت لوط کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ، انہوں نے ہرچند عفت وپاکبازی کی تلقین کی ، مگر یہ بدبخت کہاں مانتے تھے بدمعاشی رگ رگ میں سرایت کرچکی تھی ، بالآخر اللہ کی غیرت نے فیصلہ کرلیا کہ اس ناپاک قوم کو فنا کر کے گھاٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67 ۔ اور شہر کے لوگ مہمانوں کی خبر پا کر خوش ہوئے اور خوشیاں کرتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچے۔ یعنی جب شہر کے بد اطوار اور بد اعمال لوگوں کو یہ خبر لگی کہ لوط (علیہ السلام) کے ہاں خوبصورت لڑکے اور امرو مہمان آئے ہیں تو وہ بری اور فاسد نیت کے ساتھ خوشی خوشی لوط (علیہ السلام) کے گھر کی جانب چلے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–70

ف 12۔ یہ خبر سن کر کہ لوط (علیہ السلام) کے یہاں حسین حسین لڑکے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : لوط (علیہ السلام) کے پاس مہمان دیکھ کر شہر کے لوگ خوشیاں منانے حاضر ہوگئے : 67۔ جس طرح آج بھی کسی کے مہمان کے ساتھ کوئی زیادتی دراصل اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے جس کے ہاں وہ مہمان ہوتے ہیں ۔ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال معلوم کرکے آپ کے مکان کی طرف دوڑے اور جب دروازے بند دیکھے تو دیواروں سے چڑھ کر اندر داخل ہوگئے اور لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کرنے لگے کہ تم انکو ہمارے حوالے کر دو ، حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن وہ باتوں سے سمجھنے والے ہی کب تھے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–71

From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَ‌جِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–70

39. This shows that those People had gone to the lowest depths of immorality. No sooner did they hear the news of the arrival of handsome strangers in their town than they rushed rejoicing to the house of Prophet Lot (peace be upon him) and impudently demanded that he should hand over his guests to them for the gratification of their lust. The pity is that there had remained not a single person among them to make a protest against such a heinous sin. Moreover, this shows that all of them, as a community, had totally lost every sense of decency, and they felt no shame at all to make such a…

Read the full tafseer →